Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 25 of 289

480Sunan An Nasai

نماز سفر میں نماز عصر کی کتنی رکعت ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّنَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ. خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ.

نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہوجائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: یہ عصر کی نماز ہے ۔ محمد بن اسحاق نے (آنے والی روایت میں) لیث کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Irak bin Malik that he heard that Nawfal bin Muawiyah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Among the prayers is a prayer which, if a person misses it, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘It is ‘Asr prayer.” (Sahih) Muhammad bin Ishaq contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 479
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بھی سند اور متن دونوں میں مخالفت ہے، سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے سنا ہے، اور لیث کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا ہے، اور متن میں اس طرح کہ محمد بن اسحاق نے اسے موقوف قرار دیا ہے، اور لیث نے مرفوع قرار دیا ہے، اور وقف اور رفع میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ صحابی کبھی مرفوع روایت کو بصورت فتوی بیان کرتا ہے، اور اسے نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب نہیں کرتا، اور کبھی اسے مرفوعاً روایت کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٩ (صحیح )
481Sunan An Nasai

نماز مغرب سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قال: سَمِعْتُ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ.

نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہوجائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ عصر کی نماز ہے ۔

It was narrated that ‘Irak bin Malik said: “I heard Nawfal bin Muawiyah say: ‘There is a prayer which if a person misses it, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘It is ‘Asr prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 480
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٩ (صحیح )
482Sunan An Nasai

نماز مغرب سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قال: رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى يَعْنِي الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ.

سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی، اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ابن عمر ؓ نے ان کے ساتھ اسی جگہ میں ایسا ہی کیا، اور ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (بھی) اس جگہ میں ایسا ہی کیا تھا۔

It was narrated that Salamah bin Kuhail said: “I saw Saeed bin Jubair in Jam’. He stood and prayed Maghrib, three Rak’ahs, then he stood and prayed ‘Isha’, two Rak’ahs. Then he mentioned that Ibn ‘Umar had done the same thing in that place, and he mentioned that the Messenger of Allah ﷺ had done the same thing in that place. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 481
Notes · وضاحت
١ ؎: مزدلفہ کو جمع اس لیے کہتے ہیں کہ آدم و حوّا جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو اسی مقام پر دونوں جمع ہوئے، یا مغرب اور عشاء دونوں نمازیں یہاں جمع کی جاتی ہیں اس لیے اسے جمع کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٨)، سنن ابی داود/الحج ٦٥ (١٩٣٠، ١٩٣١)، سنن الترمذی/الحج ٥٦ (٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٢)، مسند احمد ١/٢٨٠، ٢/٣، ٣٣، ٥٩، ٦٢، ٧٩، ٨١، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٣ (١٥٥٩، ١٥٦٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٨٤، ٤٨٥، ٦٠٧، ٦٥٨، ٣٠٣٣ (صحیح )
483Sunan An Nasai

نماز عشاء کے فضائل

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ. وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ عمر ؓ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کو (اس وقت) پڑھ رہا ہو ، ان دنوں اہل مدینہ کے سوا کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں تھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ delayed ‘Isha’ until ‘Umar called him and said: ‘The women and children have gone to sleep.’ Then the Messenger of Allah ﷺ came out and said: ‘There is no one who is offering this prayer but you.’ And at that time no one used to pray except the people of Al-Madinah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 482
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٢) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: ١٦٦٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٨)، مسند احمد ٦/٣٤، ١٩٩، ٢١٥، ٢٧٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩ (١٢٤٩) (صحیح )
484Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز عشائ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، قال: صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.

حکم کہتے ہیں کہ ہمیں سعید بن جبیر نے مزدلفہ میں ایک اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھائی، پھر ذکر کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے ایسا ہی کیا، اور انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (بھی) ایسا ہی کیا تھا۔

Al-Hakam said: “Saeed bin Jubair led us in prayer in Jam’. (He prayed) Maghrib, three Rak’ahs with an Iqamah, then he said the Taslim, then he prayed ‘Isha’, two Rak’àhs. Then he mentioned that ‘Abdullah bin ‘Umar had done that, and he mentioned that the Messenger of Allah ﷺ had done that.” (Sahih)

صحيح ق بلفظ ثم أقام فصلى العشاء وهو المحفوظصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 483
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ بلفظ ” ثم اقام فصلی یعنی العشاء “ وھو المحفوظ (صحیح )
485Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز عشائ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قال: سَمِعْتُسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قال: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَصَلَّى بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي هَذَا الْمَكَانِ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جگہ ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔

Salamah bin Kuhail narrated: “I heard Saeed bin Jubair say: ‘I saw ‘Abdullah bin ‘Umar pray in Jam’; he made the Iqamah and prayed Maghrib, three Rak’ahs, then he prayed ‘Jsha’, two Rak’ahs, then he said: ‘This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ do in this place.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 484
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (صحیح )
486Sunan An Nasai

فضیلت جماعت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے ١ ؎ باری باری آتے جاتے ہیں، اور فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھا ہوجاتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے پاس رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، ٢ ؎ ہمارے بندوں کو تم کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انہیں نماز کی حالت میں چھوڑا ہے، اور ہم ان کے پاس آئے تھے تو بھی وہ نماز ہی میں مصروف تھے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Angels come to you in succession by night and day, and they meet at Fajr prayer and ‘Asr prayer. Then those who spent the night among you ascend, and He (Allah) will ask them, although He knows best: ‘In what condition did you leave My slaves.’ They will say: ‘We left them when they were praying and we came to them when they were praying.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 485
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں، اور جنہیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے، وہ فرشتوں سے اپنے بندوں کی بابت اس لیے پوچھتا ہے تاکہ فرشتوں پر بھی اہل ایمان کا فضل وشرف واضح ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مواقیت ١٦ (٥٥٥)، بدء الخلق ٦ (٣٢٢٣)، التوحید ٢٣ (٧٤٢٩)، ٣٢ (٧٤٨٦)، صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٦٣٢)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٩)، مسند احمد ٢/٢٥٧، ٣١٢، ٤٨٦ (صحیح )
487Sunan An Nasai

فضیلت جماعت

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماعت کی نماز تمہاری تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے ١ ؎ رات اور دن کے فرشتے نماز فجر میں اکٹھا ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو آیت کریمہ وقرآن الفجر إن قرآن الفجر کان مشهودا ٢ ؎ پڑھ لو (الاسراء: ٢٨ ) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of any one of you offered on his own. The angels of the night and the day meet at Fajr prayer. Recite if you wish: Verily, the recitation of the Qur’an in the early dawn is ever witnessed.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 486
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ٢٥ گنا کا ذکر ہے، اور صحیحین کی ایک روایت میں ٢٧ گنا وارد ہے، اس کی توجیہ اس طرح کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٢٥ گنا بتایا گیا پھر ٢٧ گنا، تو جیسے جیسے آپ کو بتایا گیا آپ نے صحابہ کرام ؓ کو بھی اسی طرح بتلایا، اور بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ کمی و بیشی صلاۃ کے خشوع و خضوع اور صلاۃ کی ہیئت و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: ١٣٢٥٩)، کلہم مقتصرا إلی قولہ ” خمس وعشرین جزائ “ إلا البخاری وأحمد (صحیح )
488Sunan An Nasai

فضیلت جماعت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ.

عمارہ بن رویبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا ١ ؎۔

Abu Bakr (RA) bin ‘Umarah bin Ruwaibah narrated that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘No one will enter the Fire who prays before the sun rises and before it sets.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 487
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کی محافظت کرے گا کیونکہ جو ان دونوں نمازوں کی محافظت کرے گا وہ دیگر فرائض کی بدرجہ اولیٰ محافظت کرے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٢ (صحیح )
489Sunan An Nasai

بیت اللہ شریف کی جانب رخ کرنا فرض ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قال: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا شَكَّ سُفْيَانُ، وَصُرِفَ إِلَى الْقِبْلَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ ﷺ قبلہ (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔

It was narrated that Al-Bara’ said: “We prayed toward Bait Al Maqdis (Jerusalem) with the Messenger of Allah ﷺ for sixteen or seventeen months — Safwan was not sure — then it was changed to the Qiblah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 488
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر البقرة ١٨ (٤٤٩٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٤٩)، مسند احمد ٤/ ٢٨٨ (صحیح )
490Sunan An Nasai

بیت اللہ شریف کی جانب رخ کرنا فرض ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَفَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ إِنَّهُ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، تو ایک آدمی جو آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں، (لوگوں نے یہ سنا) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھرگئے ١ ؎۔

It was narrated that Al-Barabin ‘ Azib (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah and prayed toward Bait Al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to face toward the Ka’bah. A man who had prayed with the Prophet ﷺ passed by some of the Ansar and said: ‘I bear witness that the Messenger of Allah ﷺ has been commanded to face toward the Ka’bah’ so they turned to face the Ka’bah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 489
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے خبر واحد جو ظنی ہے سے قرآن سے ثابت حکم قطعی کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نسخ کے علم سے پہلے منسوخ کے مطابق جو عمل کیا گیا ہو وہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ٣٠ (٤٠)، الصلاة ٣١ (٣٩٩)، تفسیر البقرة ١٢ (٤٤٨٦)، أخبار الآحاد ١ (٧٢٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (٣٤٠)، تفسیر البقرة (٢٩٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٦ (١٠١٠)، مسند احمد ٤/٢٨٣، ویأتي عند المؤلف في القبلة ١ (برقم: ٧٤٣) (صحیح )
491Sunan An Nasai

کونسی صورت میں بیت اللہ شریف کی علاوہ کسی دوسری جانب رخ کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَتَوَجَّهُ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نفل پڑھتے تھے، وہ چاہے جس طرف متوجہ ہوجاتی، نیز آپ اس پر وتر (بھی) پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔

It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray voluntary prayers (Usabbih) while riding his mount, facing whatever direction it was facing, and he would pray Witr likewise, but he would not offer the prescribed prayers on it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 490
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٦ (١٠٠٠)، تقصیر الصلاة ٩ (١٠٩٧) تعلیقاً ١٢ (١١٠٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٧ (١٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ٦٩٧٨)، مسند احمد ٢/١٣٢ ویأتي عند المؤلف برقم: ٧٤٥ (صحیح )
492Sunan An Nasai

کونسی صورت میں بیت اللہ شریف کی علاوہ کسی دوسری جانب رخ کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَفِيهِ أُنْزِلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر (نفل) نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے، اسی سلسلہ میں یہ آیت کریمہ: فأينما تولوا فثم وجه اللہ تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے (البقرہ: ١١٥ ) نازل ہوئی۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray while on his animal when he was coming back from Makkah to Madinah. Concerning this, the verse was revealed: So wherever you turn (yourselves or your faces) there is the Face of Allah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 491
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صلاة المسافرین ٤ (٧٠٠)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٧)، مسند احمد ٢/٢٠، ٤١ (صحیح )
493Sunan An Nasai

کونسی صورت میں بیت اللہ شریف کی علاوہ کسی دوسری جانب رخ کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جس طرف بھی وہ متوجہ ہوتی، مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار نے کہا: اور ابن عمر ؓ بھی ایسا کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray on his mount while on a journey, no matter what direction it was facing.” Malik said: “Abdullah bin Dinar said: ‘And Ibn ‘Umar used to do likewise.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 492
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، موطا امام مالک/سفر ٧ (٢٦)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٨)، مسند احمد ٢/١٣ (٦٦)، ویأتي عند المؤل برقم: ٧٤٤ (صحیح )
494Sunan An Nasai

کسی نے قصدا ایک جانب چہرہ کیا پھر صیحح علم ہوا تو بھی نماز ہوجائے گی

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ. فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ پر آج رات (وحی) نازل کی گئی ہے، اور آپ کو حکم ملا ہے کہ (نماز میں) کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اسی کی طرف رخ کرلو، (اس وقت) ان کے چہرے شام (بیت المقدس) کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “While the people were in Quba’, praying the Subh prayer, someone came to them and said that revelation had come to the Messenger of Allah ﷺ the night before, and he had been commanded to face the Ka’bah. So they turned around, and they had been facing toward Ash-Sham, but now they turned to face toward the Ka’bah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 493
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح پھرجانے سے لوگ آگے ہوجائیں گے، اور امام لوگوں کے پیچھے ہوجائے گا، إلا یہ کہ یہ کہا جائے کہ پہلے امام مسجد کے پچھلے حصہ میں چلا گیا ہوگا پھر لوگ اپنی جگہ پر گھوم گئے ہوں گے، اس طرح پہلے جو اگلی صف تھی اب وہ پچھلی ہوگئی ہوگی، اور حدیث کا مستفاد یہ ہے کہ جس کو حالت نماز میں صحیح قبلہ کے بارے میں علم ہوجائے وہ بھی اسی طرح قبلہ رخ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٢ (٤٠٣)، تفسیر البقرة ١٤ (٤٤٨٨)، ١٦ (٤٤٩٠)، ١٧ (٤٤٩١)، ١٩ (٤٤٩٣)، ٢٠ (٤٤٩٤)، خبر الآحاد ١ (٧٢٥١)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٦)، موطا امام مالک/قبلة ٤ (٦)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٨)، مسند احمد ٢/١١٣، ویأتي عند المؤلف برقم: ٧٤٦ (صحیح )
495Sunan An Nasai

کسی نے قصدا ایک جانب چہرہ کیا پھر صیحح علم ہوا تو بھی نماز ہوجائے گی

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُعُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کردی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائی ١ ؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود ؓ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔

It was narrated from Ibn Shihab that ‘Umar bin ‘ Abdul Aziz delayed the ‘Asr prayer a little. ‘Urwah said to him: “Jibril came down and led the Messenger of Allah ﷺ in prayer.” ‘Umar said: “Watch what you are saying, ‘Urwah!” He said: “I heard Bashir bin Abi Mas’ud say: ‘I heard Abi Mas’ud say: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Jibril came down and led me in prayer, and I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him — and he counted off five prayers on his fingers.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 494
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے عروہ کا مقصود یہ تھا کہ نماز کے اوقات کا معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے، اس کے اوقات کی تحدید کے لیے جبرائیل (علیہ السلام) آئے، اور انہوں نے عملی طور پر نبی اکرم ﷺ کو اسے سکھایا، اس لیے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢١)، بدء الخلق ٦ (٣٢٢١)، المغازي ١٢ (٤٠٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢ (٣٩٤)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١ (٦٦٨)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٧)، مسند احمد ٤/١٢٠، ٥/٢٧٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢ (١٢٢٣) (صحیح )
496Sunan An Nasai

ظہر کا اول وقت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ: كَمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ، فَقَالَ: أَبِي يَسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَلَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا. قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، قَالَ: كَانَيُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: وَكَانَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُهُ فَيَعْرِفُهُ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.

سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ ابوبرزہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے (سیار بن سلامہ سے) پوچھا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: (میں نے اسی طرح سنا ہے) جس طرح میں اس وقت آپ کو سنا رہا ہوں، میں نے اپنے والد سے سنا وہ (ابوبرزہ سے) رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ آدھی رات تک عشاء کی تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر سیار سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ ظہر اس وقت پڑھتے جس وقت سورج ڈھل جاتا، اور عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی (عصر پڑھ کر) مدینہ کے آخری کنارہ تک جاتا، اور سورج زندہ رہتا ١ ؎ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے مغرب کا کون سا وقت ذکر کیا، اس کے بعد میں پھر ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ فجر پڑھتے تو آدمی پڑھ کر پلٹتا اور اپنے ساتھی کا جسے وہ پہچانتا ہو چہرہ دیکھتا تو پہچان لیتا، انہوں نے کہا: آپ ﷺ فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے تھے۔

Shu’bah said: “Sayyar bin Salamah, narrated to us, he said: ‘I heard my father ask Abu Barzah about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ .’ I said: ‘Did you really hear him?’ He said: ‘As I can hear you now.’ He said: ‘I heard my father ask about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ .‘ He said: ‘He would not mind if he delayed it — meaning ‘Isha’ until midnight, and he did not like to sleep before it or speak after it.” Shu’bah said: “Then I met him later on and asked him. He said: ‘He used to pray Zuhr when the sun had passed its zenith, and (he would pray) ‘Asr and a man could walk to the farthest point in Al-Madinah and the sun would still be clear and hot. And Maghrib, I do not know the time he mentioned.’ After that I met him and asked him, and he said: ‘He used to pray Fajr then after the prayer a man could regarding it, sitting next to him, look at the face of someone he knew and he could recognize it.’ He said: ‘And he used to recite in it between sixty and one hundred (verses).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 495
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زرد نہیں پڑتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١١ (٥٤١)، ١٣ (٥٤٧)، ٢٣ (٥٦٨)، ٣٨ (٥٩٩)، الأذان ١٠٤ (٧٧١)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣ (٣٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣ (٦٧٤) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١١٦٠٥)، مسند احمد ٤/٤٢٠، ٤٢١، ٤٢٣، ٤٢٤، ٤٢٥، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٢٦، ٥٣١ (صحیح )
497Sunan An Nasai

ظہر کا اول وقت

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے انہیں ظہر پڑھائی۔

It was narrated from Az Zuhri he said: “Anas told me that the Messenger of Allah ﷺ went out when the sun had passed its zenith, and led them in Zuhr prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 496
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥)، وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری عن أنس بن مالک: صحیح البخاری/المواقیت ١١ مطولاً (٥٤٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٧ (٢٣٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣ (١٢٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣) (صحیح )
498Sunan An Nasai

ظہر کا اول وقت

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا. قِيلَ لِأَبِي إِسْحَاقَ: فِي تَعْجِيلِهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.

خباب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ١ ؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی) ۔

It was narrated that Khabbab said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about how hot the sand was, but he did not respond to our complaint.” It was said to Abu Is (one of the narrators): “Did they complain regarding his praying it early?” He said: “Yes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 497
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظہر تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی، جیسا کہ مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٩)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٣٥١٣)، مسند احمد ٥/١٠٨، ١١٠ (صحیح )
499Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز ظہر میں جلدی کرنے کا حکم

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ.

حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ (ظہر سے پہلے) جب کسی جگہ اترتے ١ ؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ٢ ؎۔

Hamzah Al-’A’idhi said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘When the Prophet ﷺ halted, he would not move on until he had prayed Zuhr.’ A man said: ‘Even if it was the middle of the day?’ He said:‘Even if it was the middle of the day.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 498
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے اترتے، جیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ ٢ ؎: مراد زوال کے فوراً بعد ہے، کیونکہ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٣ (١٢٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥)، مسند احمد ٣/١٢٠، ١٢٩ (صحیح )