أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ نماز ١ ؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ٢ ؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔
Khalid bin Dinar Abu Khaldah said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘When it was hot, the Messenger of Allah ﷺ would wait until it cooled down to pray, and when it was cold he would hasten to pray.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 499
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی روایت میں کسی راوی نے صلاة کی تفسیر جمعہ سے کی ہے، کیونکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ کسی سائل نے انس ؓ سے جمعہ ہی کے بارے میں پوچھا تھا (فتح الباری) مؤلف نے اس کے مطلق لفظ الصلاة سے استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ جمعہ اور ظہر کا وقت معتاد ایک ہی ہے۔ ٢ ؎: یعنی گرمی کی شدت کے سبب اس کے معتاد وقت سے اسے اتنا مؤخر کرتے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہوجاتا کہ اس میں چل کر لوگ مسجد آسکیں، اور گرمی کی شدت کم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٧ (٩٠٦)، وفیہ ” یعنی الجمعة “، (تحفة الأشراف: ٨٢٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If it is very hot, wait until it cools down before you pray, for intense heat is a breeze from Hell.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 500
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے، یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے اس لیے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو اور احتیاط کرو۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٤٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٤ (٦٧٧)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٦)، مسند احمد ٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٣٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠٠، ٤١١، ٤٦٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٤ (١٢٤٣)، والرقاق ١١٩ (٢٨٨٧)، وعن طریق أبی سلمة بن عبدالرحمن عن أبی ہریرة، (تحفة الأشراف: ١٥٢٣٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، تو انہوں نے نماز فجر اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی، اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب انہوں نے سایہ کو اپنے مثل دیکھ لیا، پھر مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہوگیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق یعنی رات کی سرخی ختم ہوگئی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن آئے، اور آپ کو فجر اس وقت پڑھائی جب تھوڑی روشنی ہوگئی، پھر ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل ہوگیا، پھر مغرب (دونوں دن) ایک ہی وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہوگیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب رات کا ایک حصہ گزر گیا، پھر کہا: نمازوں کا وقت یہی ہے تمہارے آج کی اور کل کی نمازوں کے بیچ میں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: This is ‘Jibril, peace be upon you, he came to teach you your religion. He prayed ‘ub when the dawn appeared, and he prayed uhr when the sun had (passed its zenith), and he prayed ‘Asr when he saw that the shadow of a thing was equal to its height, then he prayed Maghrib when the sun had set and it is permissible for the fasting person to eat. Then he prayed ‘Isha’ when the twilight had disappeared. Then he came to him the following day and prayed Subh when it had got a little lighter, then he prayed Zuhr when the shadow of a thing was equal to its height, then he prayed ‘Asr when the shadow of a thing was equal to twice its height, then he prayed Maghrib at the same time as before, then he prayed ‘Isha’ when a short period of the night had passed. Then he said: ‘The prayer is between the times when you prayed yesterday and the times when you prayed today.” (Hasan)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ گرمی میں رسول اللہ ﷺ کی ظہر کا اندازہ تین قدم سے پانچ قدم کے درمیان، اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم کے درمیان ہوتا۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Prophet ﷺ prayed Zuhr when the length of (a person’s shadow) was between three and five feet in summer, and between five and seven feet in winter.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 503
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: تم میرے ساتھ نماز پڑھو ، تو آپ ﷺ نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہوگیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہوگیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔
It was narrated that Jabir said: “A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the times of prayer. He said: ‘Pray with me.’ So he prayed Zuhr when the sun had passed its zenith, ‘Asr when the shadow of a thing was equal to its height, Maghrib when the sun had set and ‘Isha’ when the twilight had disappeared.” He said: “Then he prayed Zuhr when the shadow of a man was equal in length to his height, ‘Asr when the length of a man’s shadow was twice his height, and Maghrib just before the twilight disappeared.” (One of the narrators) ‘Abdullah bin Al-Harith said: “Then he said: ‘With regard to ‘Isha’ I think it is up to one-third of the night.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 504
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed ‘Asr when the sun was in her room and the shadow had not appeared on her wall. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 505
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢)، ١٣ (٥٤٥)، الخمس ٤ (٣١٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ ٦ (١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٥)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٢) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر پڑھتے تھے، پھرجانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔
It was narrated from Anas (RA) : “The Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr, then a person could go to Quba’.” One of them said: “And he would come to them when they were praying.” The other said: “And the sun was still high.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 506
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٣ (٥٤٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr when the sun was still high and bright, and a person could go to Al-‘Awali when the sun was still high.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 507
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤٠٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، مسند احمد ٣/ ٢٢٣ (صحیح )
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے، یہاں تک کہ انس بن مالک ؓ کے پاس آئے، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے پوچھا: میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی، یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے۔
It was narrated that Abu Bakr (RA) bin ‘Uthman bin Sahl bin Hunaif said: “I heard Abu Umamah bin Sahl say: ‘We prayed Zuhr with ‘Umar bin ‘ Abdul Aziz (RA) , then we went out and entered upon Anas bin Malik (RA), and we found him praying ‘Asr.” I said: “uncle, what is this prayer that you prayed?” He said: “Asr; this is the prayer of the Messenger of Allah ﷺ that we used to pray with him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 509
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی، پھر انس بن مالک ؓ کے پاس آئے تو انہیں (بھی) نماز پڑھتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا: تم نماز پڑھ چکے ہو؟ ہم نے کہا: (ہاں) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو عصر پڑھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے جلدی پڑھ لی، انہوں نے کہا: میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Abu Salamah said: “We prayed at the time of ‘Umar bin ‘ Abdul Aziz, then we went to Anas bin Malik (RA) and found him praying. When he finished he said to us: ‘Have you prayed?’ We said: ‘We prayed Zuhr.’ He said: ‘I prayed ‘Asr.’ They said: ‘You have prayed early.’ He said: ‘Rather I prayed as I saw my companions pray.” (Hasan)
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 510
علاء کہتے ہیں کہ وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک ؓ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں، تو انہوں نے کہا: تو عصر پڑھ لو، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی، جب ہم پڑھ چکے تو انس ؓ کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوجائے، (غروب کے قریب ہوجائے) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے ۔
Al-’Ala’ narrated to us that he entered upon Anas bin Malik (RA) in his house in Al-Basrah, when he had finished Zuhr, and his house was beside the Masjid. “When we entered upon him, he said: ‘Have you prayed ‘Asr?’ We said: ‘No, we have just finished Zuhr.’ He said: ‘Pray ‘Asr.’ So we got up and prayed, and when we finished he said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “That is the prayer of the hypocrite: he sits and delays ‘Asr prayer until (the sun) is between the horns of the Shai then he gets up and pecks four (Rak’ahs) in which he only remembers Allah a little.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 511
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “The one who misses Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 512
أخبرنا قتيبة عن مالك عن نافع عن ابن عمر - رضى الله عنهما - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالالذي تفوته صلاة العصر فكأنما وتر أهله وماله.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that Jibril came to the Prophet ﷺ to teach him the times of prayer. Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ and he prayed Zuhr when the sun had passed its zenith. Then he came to him when the shadow of a person was equal to his height, and did as he had done before; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed Asr. Then Jibril came to him when the sun had set; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed Maghrib. Then he came to him when the twilight had disappeared; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed ‘Isha’. Then he came to him when dawn broke; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed Al-Ghadah) Then he came to him on the second day when a man’s shadow was equal to his height, and did as he had done the day before, he prayed Zuhr. Then he came to him when the shadow of a man was twice his height, and did what he had done the day before, and prayed ‘Asr. Then he came to him when the sun had set and did what he had done the day before, and prayed Maghrib. Then we slept and got up, and slept and got up again. Then he came to him and did what he had done the day before and prayed ‘lsha’. Then he came to him when the (the light of) dawn was spread (on the horizon) and the stars were still clear in the sky, and he did the same as he had done the day before, and prayed Al-Ghadah. Then he said: ‘The time between these two is the time for prayer.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 512
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے وہ آپ ﷺ کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل (علیہ السلام) آگے بڑھے، اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے، تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہوگیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہوگئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل (علیہ السلام) دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا، چناچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہوگیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہوگئی، اور ستارے نمودار ہوگئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) h, may Allah be pleased with him, that the Prophet ﷺ said: “Whoever catches up with two Rak’ahs of ‘Asr prayer before the sun sets, or one Rak’ah of the Subh prayer before the sun rises, has caught it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 513
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ٢ ؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے (نماز کا وقت) پا لیا ٣ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever catches up with one Rak’ah of ‘Asr prayer before the sun sets, or catches up with one Rak’ah of Fajr before the sun rises, has caught it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 514
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نسخوں میں اس باب میں ركعة کا لفظ ہے۔ ٢ ؎: اکثر روایتوں میں ہے ایک رکعت پالی۔ ٣ ؎: یعنی اس کی یہ دونوں صلاتیں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضاء۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے (پوری نماز) پالی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “If any one of you catches the first prostration of ‘Asr prayer before the sun sets, let him complete his prayer, and if he catches up with the first prostration of Fajr prayer before the sun rises, let him complete his prayer.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 515
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١١ (٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧٤)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٥)، مسند احمد ٢/٢٥٤، ٢٦٠، ٢٨٢، ٣٩٩، ٤٦٢، ٤٧٤ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سورج ڈوبنے سے پہلے جب تم میں سے کوئی نماز عصر کا پہلا سجدہ پالے تو اپنی نماز مکمل کرلے، اور جب سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا پہلا سجدہ پالے تو اپنی نماز مکمل کرلے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever catches up with a Rak’ah of the Subh prayer before the sun rises, then he has caught up with Subh, and whoever catches up with a Rak’ah of ‘Asr prayer before the sun sets, then he has caught up with ‘Asr.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 516
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever catches up with a Rakah of the Subh prayer before the sun rises, then he has caught up with Subh, and whoever catches up with a Rakah of Asr prayer before the sun sets, then he has caught up with Asr".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 517
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٨ (٥٧٩)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣ (١٨٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١١ (٦٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٠٦)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٥)، مسند احمد ٢/ ٤٦٢، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٨) (صحیح )