معاذ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے معاذ بن عفراء ؓ کے ساتھ طواف کیا، تو انہوں نے نماز (طواف کی دو رکعت) نہیں پڑھی، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ١ ؎ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک سورج نکل آئے ۔
It was narrated from Nasr bin Abdur-Rahman, from his grandfather Muadh, that he performed Tawaf with Muadh bin Afra but he did not pray. "I said: Are you not going to pray? He said: The Messenger of Allah ﷺ said: There is no prayer after Asr until the sun has set, nor after Subh until the sun has risen".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 518
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نفی نہی کے معنی میں ہے جیسے لارفث ولا فسوق میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: ١١٣٧٤)، مسند احمد ٤/٢١٩، ٢٢٠ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” نصر بن عبدالرحمن کنانی “ لین الحدیث ہیں، لیکن معنی دوسری روایات سے ثابت ہے، دیکھئے حدیث رقم ٥٦٢، ٥٦٩ )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو ، آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی، آپ ﷺ نے نماز فجر پڑھائی، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ١ ؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہوگیا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ٢ ؎ غائب ہوگئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہوجانے پر کہی، پھر ظہر کو آپ ﷺ نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید (روشن) تھا، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہوگئی تھی، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، پھر بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی، تو آپ ﷺ نے عشاء پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him about the times of prayer. He said: Stay with us for these two days. Then he told Bilal (RA) to say the Iqamah at dawn and he prayed Fajr. Then he told him to do that when the sun had passed its zenith and he prayed Zuhr. Then he told him to do that when the sun was still bright, and he said the Iqamah for Asr. Then he told him to do that when the last part of the sun had dissapeared, and he said the Iqamah for Maghrib. Then he told him to do that when the twilight had disappeared and he said the Iqamah for Isha. The following day, he prayed Fajr when there was light, then he delayed Zuhr until it was cooler, and waited until it was much cooler before praying Asr but the sun was still clear, so he prayed Asr later than on the first day. Then he prayed Maghrib before the twilight disappeared. Then he told him to say the Iqamah for Isha when one-third of the night had passed, and he prayed, then he said: Where is the one who was asking about the times of prayer? The times of your prayer are between the times you have seen".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 519
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی۔ ٢ ؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے۔
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی ؓ سے روایت ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ اجمعین نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مغرب پڑھتے، پھر اپنے گھروں کو مدینہ کے آخری کونے تک لوٹتے، اور تیر مارتے تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتے ١ ؎۔
It was narrated from a man of Aslam, who was one of the Companions of the Prophet ﷺ, that they used to pray Maghrib with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), then they would go back to their families in the furthest part of Al-Madinah, shooting arrows and seeing where they landed. Because it was still bright enough.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 520
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کی نماز آپ جلدی پڑھتے تھے، افضل یہی ہے، بعض حدیثوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لیے ہے۔
ابو بصرہ غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مخمص ١ ؎ میں عصر پڑھائی، اور فرمایا: یہ نماز تم سے پہلے جو لوگ گزرے ان پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کردیا، جو اس پر محافظت کرے گا اسے دہرا اجر ملے گا، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ شاہد طلوع ہوجائے ٢ ؎،شاہد ستارہ ہے۔
It was narrated that Abu Basrah Al-Ghifari said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in praying Asr in Al-Mukhammas. He said: This prayer was enjoined upon those who came before you, but they neglected it. Whoever prays it regularly will have a two-fold reward, and there is no prayer after it until the Shahid appears." And the Shahid is "the star". This is a statement of one of the narrators, and Allah knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 521
Notes · وضاحت
١ ؎: مخمص ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: سورج ڈوبنے کے تھوڑی دیر بعد ہی شاہد طلوع ہوتا ہے، مصنف نے اس سے مغرب کی تاخیر پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے ظاہر ہے، یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ مغرب کی تعجیل نصوص سے ثابت ہے یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے (شعبہ کہتے ہیں: قتادہ اسے کبھی مرفوع کرتے تھے اور کبھی مرفوع نہیں کرتے تھے ١ ؎) آپ ﷺ نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ آجائے، اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہوجائے، اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق کی سرخی چلی نہ جائے، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج نکل نہ جائے۔
It was narrated from Abdullah bin Amr - and (one of the narrators) Shubah said: "Sometimes he (Qatadah, his teacher) narrated it as a Marfu report and sometimes he did not" - "The time for Zuhr prayer is until Asr comes, and the time for Asr prayer is until the sun turns yellow. the time for Maghrib is until the twilight disappears, and the time for Isha is until the night is halfway through, and the time for Subh is until the sun rises".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 522
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں دیگر دو سندوں سے مرفوعاً ہی ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک سائل آیا وہ آپ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھ رہا تھا، آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، اور بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جس وقت فجر کی پو پھٹ گئی، پھر آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا، اور کہنے والے نے کہا: کیا دوپہر ہوگئی؟ حالانکہ وہ خوب جانتا ہوتا، پھر آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی تکبیر کہی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب شفق غائب ہوگئی، پھر دوسرے دن آپ نے فجر کو مؤخر کیا جس وقت پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل آیا، پھر ظہر کو کل کے عصر کی وقت کے قریب وقت تک مؤخر کیا، پھر آپ ﷺ نے عصر کو دیر سے پڑھی یہاں تک کہ پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا سورج سرخ ہوگیا ہے، پھر آپ نے مغرب دیر سے پڑھی یہاں تک کہ شفق کے ڈوبنے کا وقت ہوگیا، پھر عشاء کو آپ نے تہائی رات تک مؤخر کیا، پھر فرمایا: نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے ۔
Abu Bakr bin Abi Musa narrated that his father said: "A man came to the Prophet ﷺ asking him about the times of prayer, and he did not answer him. He told Bilal (RA) to say the Iqamah at dawn broke, then he told him to say the Iqamah for Zuhr when the sun had passed its zenith and a person would say: It is the middle of the day, but he (the Prophet ﷺ) knew better. Then he told him to say the Iqamah for Asr when the sun was still high. Then he told him to say the Iqamah for Maghrib when the sun had set. Then he told him to say the Iqamah for Isha when the twilight had dissapeared. Then the next day he told him to say the Iqamah for Fajr, at a time such that when after he had finished one would say: The sun has risen. Then he delayed Zuhr until it was nearly the time of Asr compared to the day before. Then he delayed Asr, to a time such that when he finished one would say: The su has turned red. Then he delayed Maghrib until the twilight was about to disappear. Then he delayed Isha until one-third of the night had passed. Then he said: The time (for prayer) is between these times".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 523
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢ (٣٩٥)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٩١٣٧)، مسند احمد ٤/٤١٦، ٥/٣٤٩ (صحیح )
بشیر بن سلام کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی دونوں جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کے پاس آئے اور ان سے ہم نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق بتائیے (یہ حجاج بن یوسف کا عہد تھا) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نکلے اور آپ نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، اور فىء (زوال کے بعد کا سایہ) تسمے کے برابر ہوگیا، پھر آپ ﷺ نے عصر پڑھائی جس وقت فىء تسمے کے اور آدمی کے سایہ کے برابر ہوگیا، پھر آپ نے مغرب پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ ﷺ نے عشاء پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی، پھر آپ ﷺ نے فجر پڑھائی جس وقت فجر طلوع ہوگئی، پھر دوسرے دن آپ نے ظہر پڑھائی جب سایہ آدمی کی لمبائی کے برابر ہوگیا، پھر آپ ﷺ نے عصر پڑھائی جب آدمی کا سایہ اس کے دوگنا ہوگیا، اور اس قدر دن تھا جس میں سوار متوسط رفتار میں ذوالحلیفہ تک جاسکتا تھا، پھر آپ ﷺ نے مغرب پڑھائی جس وقت سورج ڈوب گیا، پھر تہائی رات یا آدھی رات کو عشاء پڑھائی (یہ شک زید کو ہوا ہے) پھر آپ ﷺ نے فجر پڑھائی تو آپ نے خوب اجالا کردیا۔
Al-Husain bin Bashir bin Sallam narrated that his father said: "Muhammad bin Ali and I entered upon Jabir (RA) bin Abdullah Al-Ansari. We said to him: Tell us about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ. That was at the time of Al-Hajjaj bin Yusuf. He said: The Messenger of Allah ﷺ came out and prayed Zuhr when the sun had passed its zenith and the shadow (of a thing) was the length of a sandal-strap. Then he prayed Asr when the shadow of a man was the length of a sandal-strap plus his height. Then he prayed Maghrib when the sun had set. Then he prayed Isha when the twilight disappeared. Then he prayed Fajr when dawn broke. The next day he prayed Zuhr when a mans shadow was equal to his height. Then he prayed Asr when a mans shadow was twice his height, and (the time between the prayer and sunset) lasted as long as it takes a swift rider to reach Dhul-Hulaifah. Then he prayed Maghrib when the sun set, then he prayed Isha when one-third or one-half of the night had passed" - (One of the narrators) Zaid, was not sure - "then he prayed Fajr when it had become bright".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 524
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٢١٧) (صحیح) بما تقدم برقم: ٥٠٥ وما یأتی بأرقام ٥٢٧، ٥٢٨ (اس کے راوی ” حسین “ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے )
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں ابوبرزہ ؓ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا، اور عصر پڑھتے جب ہم میں سے مدینہ کے آخری کونے پر رہنے والا آدمی اپنے گھر لوٹ کر آتا، تو سورج تیز اور بلند ہوتا، مغرب کے سلسلہ میں جو انہوں نے کہا میں اسے بھول گیا، اور آپ ﷺ عشاء کو جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہو مؤخر کرنا پسند کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا ناپسند فرماتے تھے، اور آپ ﷺ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، اور آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
Sayyar bin Salamah said: "I entered upon Abu Barzah, and my fatehr asked him: How did the Messenger of Allah ﷺ pray the prescribed prayers? He said: He used to pray Zuhr, which you call Al-Uula (the first) when the sun passed its zenith; he used to pray Asr when one of us could go back to his hoome in the farthest part of Al-Madinah while the sun was still bright. I forgot what he said about Maghrib. And he used to like to delay Isha, which you call Al-Atamah, and he did not like to sleep before it nor talk after it. And he used to finish the Al-Ghadah (Fajr) prayer when a man could recognize his neighbor, and he used to recite (in it) between sixty and one hundred verses".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 525
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا، اور کہا: محمد ﷺ ! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہوگیا، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا: محمد ﷺ ! اٹھیں اور عصر پڑھیں، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: محمد ﷺ ! اٹھیں اور مغرب پڑھیں، چناچہ آپ ﷺ نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہوگئی تو جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس آئے، اور کہا: اٹھیں اور عشاء پڑھیں، چناچہ آپ ﷺ نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہوگئی، اور کہنے لگے: محمد ﷺ ! اٹھیں اور نماز پڑھیں، چناچہ آپ ﷺ نے نماز فجر ادا فرمائی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا، اور کہا: محمد ﷺ ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چناچہ آپ ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا، اور کہنے لگے: محمد ﷺ ! اٹھیں اور نماز پڑھیں چناچہ آپ ﷺ نے عصر پڑھی، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے، اور کہا: محمد ﷺ ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چناچہ آپ ﷺ نے مغرب پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہوگیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چناچہ آپ ﷺ نے عشاء پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہوگیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چناچہ آپ ﷺ نے نماز فجر ادا کی، پھر انہوں نے کہا: ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے۔
Jabir bin Abdullah said: "Jibril علیہ السلام, came to the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)when the sun had passed its zenith and said: Get up, O Muhammad, and pray Zuhr when the sun has passed its zenith. Then he waited until a mans shadow was equal to his height. Then he came to him for Asr and said: Get up, O Muhammad, and pray Asr. Then he waited until the sunset, then he came to him and said: Get up, O Muhammad, and pray Maghrib. So he got up and prayed it when the sun had set. Then he waited until the twilight disappeared, then he came to him and said: Get up, O Muhammad, and pray Isha. So he got up and prayed it. Then he came to him when dawn broke and said: Get up, O Muhammad, and pray. So he got up and prayed Subh. So he got up and prayed Subh. Then he came to him the next day when a mans shadow was equal to his height, and said: Get up, O Muhammad, and pray. So he prayed Zuhr. Then Jibril came to him when a mans shadow was equal to twice his length and said: Get up, O Muhammad, and pray. So he prayed Asr. Then he came to him for Maghrib when the sun set, at exactly the same time as the day before, and said: Get up, O Muhammad, and pray. So he prayed Maghrib. Then he came to him for Isha when the first third of the night had passed, and said: Get up and pray. So he prayed Isha. Then he came to him for Subh when it had become very bright, and said: Get up and pray. So he prayed Subh. Then he said: The times of prayer one between those two (limits)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 526
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١ (١٥٠) نحوہ، (تحفة الأشراف: ٣١٢٨)، مسند احمد ٣/٣٣٠، ٣٣١ (صحیح )
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہوگئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔
It was narrated that Muhammad bin Amr bin Hasan said: "Al-Hajjaj arrived, and we asked Jabir bin Abdullah, who said: The Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr at the time of intense heat, and Asr when the sun was white and clear, and Maghrib when the sun set, and with Isha it would depend - if he saw that the people had gathered, he would pray early, and if he saw that they had not come yet, he would delay it". Meaning, at the earliest time.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 527
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی عشاء آخرہ کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے ١ ؎۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir said: “By Allah, I am the most knowledgeable of people about the time of the ‘Isha’ prayers. The Prophet ﷺ used to pray it when the moon set on the third night of the month.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 528
Notes · وضاحت
١ ؎: تیسری رات کا چاند دو گھنٹے تک رہتا ہے لہٰذا اگر چھ بجے سورج ڈوبے تو آٹھ بجے عشاء پڑھنی چاہیئے۔
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں اس نماز یعنی عشاء کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir said: "By Allah, I am the most knowledgeable of people about the time of the Isha prayers. The Prophet ﷺ used to pray it when the moon set on the third night of the month".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 529
Notes · وضاحت
١ ؎: باب سے حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ عشاء کا وقت شفق کے غائب ہونے پر ہی شروع ہوتا ہے، گویا شفق تیسرے دن کے چاند کے غائب ہونے تک رہتی ہے۔
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی ؓ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ ﷺ عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں (اسے) بھول گیا، اور کہا: اور آپ ﷺ عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ ﷺ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
Sayyar bin Salamah said: "My father and I entered upon Abu Barzah, and my father said to him: How did the Messenger of Allah ﷺ pray the prescribed prayers? He said: He used to pray Zuhr, which you call Al-Uala (the first) when the sun passed its zenith; he used to pray Asr then one of us could go back to his home in the farthest part of Al-Madinah when the sun was still bright". He said: "I forgot what he said to me about Maghrib". "And he used to like to delay Isha, which you call Al-Atamah, and he did not like to sleep before it nor speak after it. And he used to finish the Al-Ghadah (Fajr) prayer when a man could recognize his neighbor, and he used to recite between sixty and one hundred verses".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 530
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، (پھر) بیدار ہوئے (پھر) سو گئے، (پھر) بیدار ہوئے، تو عمر ؓ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم ﷺ نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی (ابن جریج) کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ ﷺ کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے - پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں ۔
It was narrated that Ibn Juraij said: "I said to Ata: What is the best time you think I should pray Al-Atamah, either in congregation or on my own? He said: I heard Ibn Abbas (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ delayed Al-Atamah one night until the people had slept and woken up, then slept and woken up again. Then Umar (RA) got up and said: The prayer, the prayer"! Ata said: Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came out, and it is as if I can see him now, with water dripping from his head, putting his hand on the side of his head. [He said: "And he indicated (how)"]". I checked with Ata how the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) put his hand on his head, and he showed me the same way as Ibn Abbas (RA) had done. Ata spread his fingers a little, then placed them with the tips of his fingers on his forehead, then he drew his fingers together on his head until his thumb touched the edge of the ear that is next to the face, then moved it to his temple and forehead, then he said: Were it not that I would impose too much difficulty for my Ummah, I would have commanded them to offer this prayer only at this time".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 531
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا (ایک حصہ) گزر گیا، تو عمر ؓ کھڑے ہوئے، اور آواز دی: اللہ کے رسول! صلاۃ! عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے: یہی (مناسب اور پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا (تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا) ۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delayed Isha one night until part of the night had passed. Then Umar (RA) got up and called out: The prayer, O Messenger of Allahصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! The women and children have gone to sleep. Then the Messenger of Allah ﷺ came out with water dripping from his head, saying: This is (the best) time (for Isha), were it not that this would be too difficult for my Ummah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 532
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء کو مؤخر کرتے تھے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to delay the later Isha". It is described as the later Isha prayer because the Maghrib prayer is sometimes called Isha prayer, but it is the first Isha. Some scholars are of the opinion that it is disliked to call Maghrib Isha without qualifying it as the first Isha. See Fath Al-Bari.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 533
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have commanded them to delay Isha and to use the Siwak for every prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 534
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٢) مختصراً، سنن ابی داود/الطھارة ٢٥ (٤٦) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧ (٢٨٧) مختصراً، الصلاة ٨ (٦٩٠) مختصراً، موطا امام مالک/الطھارة ٣٢ (١١٤)، مسند احمد ٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٢٥٩، ٢٨٧، ٤٠٠، ٤٢٩، ٤٣٣، ٤٦٠، ٥٠٩، ٥١٧، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٨ (١٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء میں تاخیر کی، تو عمر ؓ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے ١ ؎، اور (اس وقت) صرف مدینہ ہی میں نماز پڑھی جا رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اسے شفق غائب ہونے سے لے کر تہائی رات تک پڑھو ۔ اور اس حدیث کے الفاظ ابن حمیر کے ہیں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ delayed Atamah one night, and Umar (RA), called out to him: The women and children have gone to sleep. The Messenger of Allah ﷺ came out and said: No one is waiting for it except you. At that time no prayer was offered except in Al-Madinah. Then he said: Pray it between the time when the twilight disappears and when one-third of the night has passed".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 535
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ یہ شرف فضیلت صرف تم ہی کو حاصل ہے، اس لیے اس انتظار کو تم اپنے لیے باعث زحمت نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے شرف اور رحمت کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث شعیب بن أبي حمزة عن الزہري عن عروة أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٢)، ١٦٢ (٨٦٤)، مسند احمد ٦/ ٢٧٢، (تحفة الأشراف: ١٦٤٦٩)، وحدیث إبراہیم بن أبي عبلة عن الزہري عن عروة قد تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ ﷺ نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا: یہی (اس نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا (تو اسے اس کا حکم دیتا) ۔
It was narrated that Aishah (RA) the Mother of the Believers said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delayed the prayer one night until most of the night had passed and the people in the Masjid had gone home to sleep, then he went out and prayed, and said: This is indeed its (prayer) time, were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 536
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے، جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزر گئی تو آپ نکل کر ہمارے پاس آئے، اور جس وقت نکل کر آئے آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کسی اور دین کا ماننے والا اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے، اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو انہیں اسی وقت نماز پڑھاتا ، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "We stayed in the Masjid one night waiting for the Messenger of Allah ﷺ to pray Isha. He came out to us when one-third of the night or more had passed, and he said when he came out: You are waiting for a prayer for which the followers of no other religion are waiting. Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have led them in prayer at this time. Then he commanded the Muadhdhin to say the Iqamah and he prayed".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 537
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٧ (٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٩)، مسند احمد ٢/ ١٢٦ (صحیح )