ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I would drink when I was menstruating, then I would hand it to the Prophet ﷺ , and he would put his mouth where mine had been and drink. And I would nibble at a bone on which some bits of meat were left when I was menstruating, then I would give it to the Prophet ﷺ and he would put his mouth where my mouth had been.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 380
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The head of the Messenger of Allah ﷺ would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur’an.” (Sahih)
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ١ ؎ (خارجیہ) ہے؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
It was narrated that Muadhah Al-’Adawiyyah said: “A woman asked Aishah (RA) : ‘Should a menstruating Woman make up the Salah she misses?’ She said: ‘Are you a Haruri? We used to menstruate during the time of Allah’s Messenger ﷺ but we did not make up the missed Salah nor were we commanded to do so.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 382
Notes · وضاحت
١ ؎: خوارج کا ایک گروہ ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ حروراء کی طرف منسوب ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے، ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضاء کرے گی، اسی وجہ سے عائشہ ؓ نے اس عورت کو ان لوگوں سے تشبیہ دی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو ، تو انہوں نے کہا: میں (آج کل) نماز نہیں پڑھ رہی ہوں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ (حیض) تمہارے ہاتھ میں نہیں ، تو انہوں نے کپڑا اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کو دے دیا۔
Abu Hurairah (RA) said: “While the Messenger of Allah ﷺ was in the Masjid, he said: ‘Aishah (RA) , hand me the garment.’ She said: ‘I am not praying.’ He said: ‘It is not in your hand.’ So she gave it to him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 383
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو ، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Give me the mat from the Masjid.’ She said: ‘I am menstruating.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Your menstruation is not in your hand.” (Sahih) (Another chain) with similarity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 384
المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ١ ؎ وہ حائضہ ہوتی۔
Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to lay his head in the lap of one of us and recite Qur’an while she was menstruating, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out when she was menstruating.”(Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سر میں کنگھی کرتیں وہ حائضہ ہوتیں، اور آپ معتکف ہوتے، (اس طرح کہ) آپ اپنا سر (مسجد سے نکال کر) ان کے پاس کردیتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں۔
It was narrated from Aishah (RA) that she used to comb the hair of the Messenger of Allah ﷺ when she was menstruating and he was performing I’tikaf. He would put his head out to her while she was in her room. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 386
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر میرے قریب کردیتے اور آپ معتکف ہوتے، تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out while he was performing ﷺ and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 387
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مسجد سے نکالتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔
It was narrated from Aishah (RA) : “The Messenger of Allah ﷺ used to put his head out of the Masjid while he was performing I’tikaf, and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 388
حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں ۔
It was narrated that Hafsah said: “Umm ‘Atiyah would never mention the Messenger of Allah ﷺ without saying: ‘May my father be ransomed for him.’ I said: ‘Did you hear the Messenger of Allah ﷺ say such and such?’ And she said: ‘Yes, may my father be ransomed for him.’ He said: ‘Let the mature girls, virgins staying in seclusion, and menstruating women go out and witness the good occasions and the supplications of the Muslims, but let the menstruating women keep away from the prayer place.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 390
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ کو حیض آگیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور کیا تھا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر تو نکلو ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that she said to the Messenger of Allah ﷺ : “Safiyyah bint Huyai began menstruating.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Perhaps she has detained us. Did she not circumambulate the House with you?” She said: “Yes.” He said: “Then you can leave.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 391
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہوچکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہوگا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کرلے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
جابر بن عبداللہ ؓ اسماء بنت عمیس ؓ کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: انہیں حکم دو کہ غسل کرلیں، اور احرام باندھ لیں ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah concerning Asma’ bint Umais that when she gave birth at Dhul-Hulaifah, the Messenger of Allah ﷺ said to Aba Bakr: “Tell her to perform Ghusl and (begin the Talbiyah).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 392
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ حیض یا نفاس کا آجانا احرام کے لیے مانع نہیں ہے، جس عورت کو اس قسم کا عارضہ پیش آجائے وہ غسل کر کے احرام باندھ لے، اور طواف کے علاوہ باقی سارے ارکان ادا کرے۔
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام کعب ؓ کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی نفاس میں وفات پا گئی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ صلاۃ میں ان کے بیچ میں (کمر کے پاس) کھڑے ہوئے۔
It was narrated that Samurah said: “I offered the funeral prayer with the Messenger of Allah ﷺ for Umm Ka’b who had died during childbirth, and during the prayer, the Messenger of Allah ﷺ stood at her middle.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 393
فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت کرتی ہیں (جو ان کے زیر پرورش تھیں) کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے مسئلہ پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے رگڑ دو، اور ناخن سے مل لو، اور پانی سے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھو ۔
It was narrated from Asma’ bint AbI Bakr that a woman asked the Messenger of Allah ﷺ , about menstrual blood that gets on clothes. He said: “Scratch it, then rub it with water, then sprinkle water over it, and pray in it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 394
ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو ڈالو ۔
It was narrated that ‘Adi bin Dinar said: “I heard Umm Qais bint Mihsan say that she asked the Messenger of Allah ﷺ about menstrual blood that gets on one’s clothes. He said: ‘Scratch it with a stick and wash it with water and lotus leaves.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 395
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should urinate into standing water and then perform Ghusl or Wudu’ with it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 397
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water and then performing Ghusl from Janabah in it. (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 398