Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 20 of 289

380Sunan An Nasai

حائضہ عورت کا جوٹھا استعمال کرنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْقَدَحِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ مِنْهُ، وَأَتَعَرَّقُ مِنَ الْعَرْقِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I would drink when I was menstruating, then I would hand it to the Prophet ﷺ , and he would put his mouth where mine had been and drink. And I would nibble at a bone on which some bits of meat were left when I was menstruating, then I would give it to the Prophet ﷺ and he would put his mouth where my mouth had been.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 380
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
381Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص اپنی حائضہ بیوی کی گود میں سر رکھ کر تلاوت قرآن کرے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The head of the Messenger of Allah ﷺ would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur’an.” (Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 381
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٥ (حسن )
382Sunan An Nasai

حالت حیض میں عورت سے نماز معاف ہوجاتی ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌعَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قَدْكُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ.

معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ١ ؎ (خارجیہ) ہے؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔

It was narrated that Muadhah Al-’Adawiyyah said: “A woman asked Aishah (RA) : ‘Should a menstruating Woman make up the Salah she misses?’ She said: ‘Are you a Haruri? We used to menstruate during the time of Allah’s Messenger ﷺ but we did not make up the missed Salah nor were we commanded to do so.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 382
Notes · وضاحت
١ ؎: خوارج کا ایک گروہ ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ حروراء کی طرف منسوب ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے، ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضاء کرے گی، اسی وجہ سے عائشہ ؓ نے اس عورت کو ان لوگوں سے تشبیہ دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٠ (٣٢١)، صحیح مسلم/فیہ ١٥ (٣٣٥)، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٥ (٢٦٢)، سنن الترمذی/فیہ ٩٧ (١٣٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١١٩ (٦٣١)، (تحفة الأشراف ١٧٩٦٤)، مسند احمد ٦/٣٢، ٩٤، ٩٧، ١٢٠، ١٤٣، ١٨٥، ٢٣١، /الطھارة ١٠٢، ١٠٢٠، ١٠٢١، ١٠٢٨ ویأتي عند المؤلف في الصوم ٣٦ (برقم ٢٣٢٠) (صحیح )
383Sunan An Nasai

حائضہ خاتون سے خدمت لینا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ قَالَ: يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أُصَلِّي، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ، فَنَاوَلَتْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو ، تو انہوں نے کہا: میں (آج کل) نماز نہیں پڑھ رہی ہوں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ (حیض) تمہارے ہاتھ میں نہیں ، تو انہوں نے کپڑا اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کو دے دیا۔

Abu Hurairah (RA) said: “While the Messenger of Allah ﷺ was in the Masjid, he said: ‘Aishah (RA) , hand me the garment.’ She said: ‘I am not praying.’ He said: ‘It is not in your hand.’ So she gave it to him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 383
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حائضہ ہوں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١ (صحیح )
384Sunan An Nasai

حائضہ خاتون سے خدمت لینا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: قالت عَائِشَةُ، قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ. قَالَ إِسْحَاقُ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو ، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Give me the mat from the Masjid.’ She said: ‘I am menstruating.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Your menstruation is not in your hand.” (Sahih) (Another chain) with similarity.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 384
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢ (صحیح )
385Sunan An Nasai

اگر حائضہ عورت مسجد میں بوریہ بچھائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ.

المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ١ ؎ وہ حائضہ ہوتی۔

Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to lay his head in the lap of one of us and recite Qur’an while she was menstruating, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out when she was menstruating.”(Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 385
Notes · وضاحت
١ ؎: بغیر مسجد میں داخل ہوئے اور یہ ممکن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٤ (حسن )
386Sunan An Nasai

اگر کوئی خاتون بحالت حیض شوہر کے سر میں کنگھا کرے اور شوہر مسجد میں معتکف ہو

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْتُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سر میں کنگھی کرتیں وہ حائضہ ہوتیں، اور آپ معتکف ہوتے، (اس طرح کہ) آپ اپنا سر (مسجد سے نکال کر) ان کے پاس کردیتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں۔

It was narrated from Aishah (RA) that she used to comb the hair of the Messenger of Allah ﷺ when she was menstruating and he was performing I’tikaf. He would put his head out to her while she was in her room. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 386
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإعتکاف ١٩ (٢٠٤٦)، (تحفة الأشراف ١٦٦٤١)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن ابی داود/الصوم ٧٩ (٢٤٦٧)، سنن الترمذی/فیہ ٨٠ (٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٠ (٦٣٣)، موطا امام مالک/الطھارة ٢٨ (١٠٢)، مسند احمد ٦/١٠٤، ٢٠٤، ٢٣١، ٢٣٤، ٢٤٧، ٢٦٢، ٢٧٢، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٨، ١٠٩٨ (صحیح )
387Sunan An Nasai

حائضہ کا اپنے خاوند کے سر کو دھونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر میرے قریب کردیتے اور آپ معتکف ہوتے، تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out while he was performing ﷺ and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 387
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٦ (صحیح )
388Sunan An Nasai

حائضہ کا اپنے خاوند کے سر کو دھونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مسجد سے نکالتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated from Aishah (RA) : “The Messenger of Allah ﷺ used to put his head out of the Masjid while he was performing I’tikaf, and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 388
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٦٣٣٤)، مسند احمد ٦/٣٢، ٢٣٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٨ (١١٠٦، ١١٠٩) (صحیح )
389Sunan An Nasai

حائضہ کا اپنے خاوند کے سر کو دھونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر میں کنگھی کرتی، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to comb the hair of the Messenger of Allah ﷺ while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 389
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨ (صحیح )
390Sunan An Nasai

اگر حائضہ خواتین عید گاہ میں داخل ہوں اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرنا چاہیں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قالت: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي، فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي، قَالَ: لِتَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى.

حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں ۔

It was narrated that Hafsah said: “Umm ‘Atiyah would never mention the Messenger of Allah ﷺ without saying: ‘May my father be ransomed for him.’ I said: ‘Did you hear the Messenger of Allah ﷺ say such and such?’ And she said: ‘Yes, may my father be ransomed for him.’ He said: ‘Let the mature girls, virgins staying in seclusion, and menstruating women go out and witness the good occasions and the supplications of the Muslims, but let the menstruating women keep away from the prayer place.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 390
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٣ (٣٢٤)، والصلاة ٢ (٣٥١)، والعیدین ١٥ (٩٧١)، ٢٠ (٩٨٠)، ٢١ (٩٨١)، والحج ٨١ (١٦٥٢)، (تحفة الأشراف ١٨١١٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العیدین ١ (٨٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٧ (١١٣٦)، سنن الترمذی/فیہ ٢٧١ (٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٦٥ (١٣٠٨)، مسند احمد ٥/٨٤، ٨٥، ویأتي عند المؤلف في العیدین ٢ (برقم ١٥٥٩) (صحیح )
391Sunan An Nasai

اگر کسی خاتون کو طواف زیارت کے بعد ماہواری آجائے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ؟قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجْنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ کو حیض آگیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور کیا تھا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر تو نکلو ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA) that she said to the Messenger of Allah ﷺ : “Safiyyah bint Huyai began menstruating.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Perhaps she has detained us. Did she not circumambulate the House with you?” She said: “Yes.” He said: “Then you can leave.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 391
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہوچکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہوگا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کرلے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٦٧ (١٢١١)، موطا امام مالک/فیہ ٧٥ (٢٢٦)، مسند احمد ٦/٣٨، ٣٩، ٨٢، ٩٩، ١٢٢، ١٦٤، ١٧٥، ١٧٧، ١٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧، ٢١٣، ٢٢٣، ٢٥٣ (تحفة الأشراف ١٧٩٤٩) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ ٥٨ (٢٠٠٣)، سنن الترمذی/فیہ ٩٩ (٩٤٣)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٣ (٣٠٧٢)، (صحیح )
392Sunan An Nasai

بوقت احرام حائضہ کو کیا کرنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مُرْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ.

جابر بن عبداللہ ؓ اسماء بنت عمیس ؓ کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: انہیں حکم دو کہ غسل کرلیں، اور احرام باندھ لیں ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah concerning Asma’ bint Umais that when she gave birth at Dhul-Hulaifah, the Messenger of Allah ﷺ said to Aba Bakr: “Tell her to perform Ghusl and (begin the Talbiyah).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 392
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ حیض یا نفاس کا آجانا احرام کے لیے مانع نہیں ہے، جس عورت کو اس قسم کا عارضہ پیش آجائے وہ غسل کر کے احرام باندھ لے، اور طواف کے علاوہ باقی سارے ارکان ادا کرے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٥ (صحیح )
393Sunan An Nasai

جس خاتون کو نفاس آرہا ہو اس کی نماز جنازہ

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَا.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام کعب ؓ کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی نفاس میں وفات پا گئی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ صلاۃ میں ان کے بیچ میں (کمر کے پاس) کھڑے ہوئے۔

It was narrated that Samurah said: “I offered the funeral prayer with the Messenger of Allah ﷺ for Umm Ka’b who had died during childbirth, and during the prayer, the Messenger of Allah ﷺ stood at her middle.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 393
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٩ (٣٣٢)، والجنائز ٦٢ (١٣٣١)، ٦٣ (١٣٣٢)، صحیح مسلم/فیہ ٢٧ (٩٦٤)، سنن ابی داود/فیہ ٥٧ (٣١٩٥)، سنن الترمذی/فیہ ٤٥ (١٠٣٥)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢١ (١٤٩٣)، (تحفة الأشراف ٤٦٢٥)، مسند احمد ٥/١٤، ١٩، ویأتي عند المؤلف في الجنائز ٧٣ (برقم: ١٩٧٨) (صحیح )
394Sunan An Nasai

اگر ماہواری کا خون کپڑے میں لگ جائے؟

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَتْ تَكُونُ فِي حَجْرِهَا، أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: حُتِّيهِ وَاقْرُصِيهِ وَانْضَحِيهِ وَصَلِّي فِيهِ.

فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت کرتی ہیں (جو ان کے زیر پرورش تھیں) کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے مسئلہ پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے رگڑ دو، اور ناخن سے مل لو، اور پانی سے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھو ۔

It was narrated from Asma’ bint AbI Bakr that a woman asked the Messenger of Allah ﷺ , about menstrual blood that gets on clothes. He said: “Scratch it, then rub it with water, then sprinkle water over it, and pray in it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 394
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٤ (صحیح )
395Sunan An Nasai

اگر ماہواری کا خون کپڑے میں لگ جائے؟

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضَةِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ: حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.

ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو ڈالو ۔

It was narrated that ‘Adi bin Dinar said: “I heard Umm Qais bint Mihsan say that she asked the Messenger of Allah ﷺ about menstrual blood that gets on one’s clothes. He said: ‘Scratch it with a stick and wash it with water and lotus leaves.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 395
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٣ (صحیح )
396Sunan An Nasai

جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْبُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے، اور وہ جنبی ہو ۔

Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘None of you should perform Ghusl in standing water while he is Junub.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 396
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢١ (صحیح )
397Sunan An Nasai

جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ الرَّجُلُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should urinate into standing water and then perform Ghusl or Wudu’ with it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 397
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٤٦٩١) (صحیح )
398Sunan An Nasai

جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يُغْتَسَلَ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water and then performing Ghusl from Janabah in it. (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 398
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٣٨٧٠) (حسن صحیح )
399Sunan An Nasai

جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، پھر اسی سے غسل کیا جائے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water then performing Ghusl with it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 399
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٢ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )