ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مستحاضہ عورت سے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں کہا گیا کہ یہ ایک نہ بند ہونے والی رگ ہے، اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، عشاء کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔
It was narrated from Aishah (RA) that a woman who suffered from Istihadah at the time of the Messenger of Allah ﷺ was told that it was a stubborn vein (i.e., one that would not stop bleeding). She was told to delay uhr and bring ‘Asr forward, and to perform one Ghusl for both, and to delay Maghrib and bring ‘Isha’ forward, and to perform one Ghusl for both, and she would perform one Ghusl for Subh. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 360
زینب بنت جحش ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ (نماز نہ پڑھو) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے (دونوں کو ایک ساتھ) پڑھو، اور فجر کے لیے (الگ ایک) غسل کرو ۔
It was narrated that Zainab bint Jahsh said: “I said to the Prophet ﷺ that I was suffering from Istihadah. He said: ‘Do not pray during the days of your period, then perform Ghusl and delay Zuhr and bring ‘Asr forward and pray; then delay Maghrib and bring ‘Isha’ forward and pray them together, and perform Ghusl for Fajr.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 361
فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ آتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ خون ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو تم نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے ۔ محمد بن مثنی کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی ہے۔
It was narrated from Fátimah bint Abi Hubaish that she suffered from Istihadah and the Messenger of Allah ﷺ said to her: “If it is menstrual blood then it is blood that is black and recognizable, so stop praying, and if it is other than that then perform Wudu for it is just a vein.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 362
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated from Aishah (RA) that Fatimah bint Abi Hubaish suffered from Istihadah. The Messenger of Allah ﷺ said to her: “Menstrual blood is blood that is black and recognizable, so if it is like that, then stop praying, and if it is otherwise, then perform Wudu and pray.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: Others reported this Hadith, and none of them mentioned what Ibn ‘Adi mentioned, and Allah knows best.
حسن صحيح
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 363
ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 363
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ مستحاضہ ہوئیں، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہوجائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو اور وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ تو بس رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، (راوی سے) پوچھا گیا غسل کرے؟ تو اس نے کہا: اس میں کسی کو شک نہیں ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں وتوضئي کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “Fatimah bint Abi Hubaish suffered from Istihadah and she asked the Prophet ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , I suffer from Istihadah and I do not become pure; should I stop praying?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when it goes wash the traces of blood from yourself and do Wudu’. That is a vein and is not menstruation.” It was said to him (one of the narrators): “What about Ghusl?” He said: “No one is in doubt about that.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 364
ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں وتوضئي کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 364
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک مرتبہ تو غسل ضروری ہے ہی۔
١ ؎: یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک مرتبہ تو غسل ضروری ہے ہی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب ختم ہوجائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “Fatimah bint Abi Hubaish said to the Messenger of Allah ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , I do not become pure. Should I stop praying?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when it has passed, then wash the blood from yourself and pray.” (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 365
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب اس کے بق درگزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: Fatimah bint Abi Hubaish said to the Messenger of Allah ﷺ : “Messenger of Allah ﷺ , I do not become pure. Should I stop praying?” The Messenger of Allah ﷺ said: “That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when the same amount of time as your regular period has passed, then wash the blood from yourself and pray.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 366
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ (کا خون) ہے، (خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے وليست بالحيضة کا جملہ نہیں ہے) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہوجائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔
It was narrated from Aishah (RA) that the daughter of Abu Hubaish said: “Messenger of Allah ﷺ , I do not become pure, so should I stop praying?” He said: “No, that is a vein.” — (One of the narrators) Khalid said, in what I read from him — “and it is not menstruation, so when your period comes, stop praying, and when it goes, wash the blood from yourself and pray.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 367
انس ؓ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوجاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے (اس کے متعلق) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: ويسألونک عن المحيض قل هو أذى آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے (البقرہ: ٢٢٢ ) نازل فرمائی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ؓ دونوں اٹھے، اور جا کر رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی، اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ سخت متغیر ہوگیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہوگئے ہیں، (اسی دوران) آپ ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، تو آپ نے ان کے پیچھے (آدمی) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا، آپ نے ان کو دودھ پلایا، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔
It was narrated that Anas said: “When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, or mix with them in their houses. They (the Companions) asked the Prophet of Allah ﷺ about that, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed the Ayah: They ask you concerning menstruation. Say: “That is an Adha (a harmful thing). So the Messenger of Allah ﷺ commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix with them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: ‘The Messenger of Allah ﷺ does not leave anything of our affairs except he goes against it.’ Usaid bin Hudair and ‘Abbad bin Bishr went and told the Messenger of Allah ﷺ and they said: ‘Should we have intercourse with them when they are menstruating?’ The expression of the Messenger of Allah ﷺ changed greatly until we thought that he was angry with them, and they left. Then the Messenger of Allah ﷺ received a gift of milk, so he sent someone to bring them back and he gave them some to drink, so we knew that he was not angry with them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 369
عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے ١ ؎ اور وہ حائضہ ہو تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas from the Prophet ﷺ , concerning a man who has had intercourse with his wife while she was menstruating: “Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 370
Notes · وضاحت
١ ؎: آنے سے کنایہ جماع کرنے کی طرف ہے۔ ٢ ؎: یہ حکم استحبابی ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آگیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہوگئی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ ﷺ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔
Umm Salamah narrated: “While I was lying down with the Messenger of Allah ﷺ , under a blanket, my period came, so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Are you menstruating?’ I said: ‘Yes.’ Then he called me to lie down with him under the blanket.” This is the wording of ‘Ubaidullah bin Saeed.(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 371
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ and I would sleep under a single blanket when I was menstruating. If anything got on him from me, he would wash that spot and no more, and pray in it, then come back. If anything got on it again from me, he would do likewise and no more, and he would pray in it.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 372
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں شعار کا لفظ آیا ہے شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے لگا ہوتا ہے اور دثار اس کپڑے کو جو شعار کے اوپر ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم بیویوں میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ اپنا ازار باندھ لے، پھر آپ اس سے چمٹتے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would tell one of us, if she was menstruating, to tie her Izar (waist wrap) tightly then he would fondle her.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 373
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تہبند باندھنے کی جگہ سے اوپر کے حصے سے لذت حاصل کرتے یعنی جماع کے علاوہ سب کچھ کرتے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم سے کوئی جب حائضہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس سے چمٹتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “If one of us was menstruating, the Messenger of Allah ﷺ , would tell her to put on an Izar (waist wrap) then he would fondle her.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 374
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، تو ان دونوں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: جب آپ میں سے کوئی حائضہ ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے؟ کہا: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوجاتی تو آپ ہمیں کشادہ تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر آپ اس کے سینہ اور چھاتی سے چمٹتے۔
Jumai’ bin ‘Umair said: “I entered upon Aishah (RA) with my mother and maternal aunt, and we asked her what the Prophet ﷺ , used to do when one of (his wives) was menstruating. She said: He would tell us, when one of us menstruated, to wrap a wide Izar around herself then he would embrace her chest and breasts. (Da‘if)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 375
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي و انظرماقبلہ، (تحفة الأشراف ١٦٠٥٥)، مسند احمد ٦/١٢٣ (منکر) (اس کے راوی ” صدقہ “ لین الحدیث ہیں، اور ” جمیع “ سے روایت میں غلطی ہوجایا کرتی تھی، لیکن پچھلی حدیث سے اس کا معنی ثابت ہے )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی حائضہ بیوی سے چمٹتے جب وہ تہبند باندھے ہوتی جو کبھی اس کے دونوں رانوں کے نصف تک پہنچتا، اور کبھی گھٹنوں تک۔ لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی۔
It was narrated that Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ would fondle one of his wives when she was menstruating, if she wore an Izar (waist wrap) that reached halfway down her thighs or to her knees.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 376
شریح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟، تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ مجھے بلاتے، تو میں آپ کے ساتھ کھاتی، اور میں حائضہ ہوتی، آپ ہڈی لیتے تو مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اس سے اپنے دانتوں سے نوچتی پھر رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے، اور اس سے اپنے دانتوں سے نوچتے، آپ ہڈی پر اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی، اور آپ پانی مانگتے تو پینے سے پہلے مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اسے اٹھا لیتی اور اس میں سے پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے اور اس میں سے پیتے، آپ پیالہ میں اسی جگہ اپنا منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی۔
It was narrated from Shuraih that he asked Aishah (RA) : “Can a woman eat with her husband while she is menstruating?’ She said: ‘Yes. The Messenger of Allah ﷺ would call me to eat with him while I was menstruating. He would take a piece of bone on which some bits of meat were left and insist that I take it first, so I would nibble a little from it, then put it down. Then he would take it and nibble from it, and he would put his mouth where mine had been on the bone. Then he would call for a drink and insist that I take it first before he drank from it. So I would take it and drink from it, then put it down, then he would take it and drink from it, putting his mouth where mine had been on the cup.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 377
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں سے میں پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا پانی پیتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی۔
It was narrated from Al Miqdam bin Shuraih from his father, that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would put his mouth on the place from which I had drunk, and he would drink from my leftovers when I was menstruating.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 378
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے برتن دیتے، تو میں اس سے پیتی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں اسے آپ کو دے دیتی تھی تو آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاشتے اور اسی (جگہ) کو اپنے منہ پر رکھتے۔
It was narrated from Al-Miqdam bin Shuraih that his father said: “I heard Aishah (RA) say: ‘The Messenger of Allah ﷺ , would give me the vessel and I would drink from it, when I was menstruating, then I would give it to him and he would look for the place where I had put my mouth and put that to his mouth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 379