ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش (فاطمہ بنت ابوحبیش) ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the daughter of Abu Hubaish said: “Messenger of Allah ﷺ , I do not become pure, so should I stop praying?” He said: “No, that is a vein.” Khalid said, in what I read from him, “And it is not menstruation, so when your period comes, stop praying, and when it goes, wash the blood from yourself and pray.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 219
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر یہ کہ اسی سے غسل بھی کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should urinate into still water and then perform Ghusl from it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 221
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ٹھہرا ہوا پانی اگر تھوڑا ہے تو پیشاب کرنے سے نجس (ناپاک) ہوجائے گا، اور اگر زیادہ ہے تو نجس (ناپاک) تو نہیں ہوگا لیکن پانی خراب ہوجائے گا، اور اس کے پینے سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا، اس لیے اگر پانی تھوڑا ہو تو نہی تحریمی ہے اور زیادہ ہو تو تنزیہی۔ یعنی تھوڑے پانی میں پیشاب کے ممانعت کا مطلب اس فعل کا حرام ہونا ہے، اور زیادہ پانی ہو تو اس ممانعت کا مطلب نزاہیت و صفائی و ستھرائی مطلوب ہے، حرمت نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩٢)، مسند احمد ٢/٣٩٤، ٤٦٤ ویأتی عند المؤلف برقم: ٣٩٩ (صحیح )
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ رات کے کس حصہ میں غسل کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: کبھی آپ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کیا، اور کبھی آخری حصہ میں کیا، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے معاملہ میں وسعت اور گنجائش رکھی ہے۔
It was narrated from Ghudaif bin Al-Harith that he asked Aishah (RA) in which part of the night would the Messenger of Allah ﷺ perform Ghusl? She said: “Some times he performed Ghusl at the beginning of the night and sometimes he performed Ghusl at the end.” I said: “Praise be to Allah Who has made the matter flexible.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 222
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٩٠ (٢٢٦) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٧٩ (١٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٩)، مسند احمد ٦/١٣٨، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٠٥ (صحیح )
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں وقتوں میں کرتے تھے، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔
It was narrated that Ghudaif bin Al-Harith said: “I entered upon Aishah (RA) and asked her: ‘Did the Messenger of Allah ﷺ perform Ghusl at the beginning of the night or at the end?’ She said: ‘Both. Sometimes he performed Ghusl at the beginning and sometimes at the end.’ I said: ‘Praise be to Allah Who has made the matter flexible.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 223
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، فَأَسْتُرُهُ بِهِ.
ابو سمح (ایاد) ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، تو جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف اپنی گدی کرلو تو میں اپنی گدی آپ ﷺ کی طرف کر کے آپ کو آڑ کرلیتا تھا۔
Abu As-Samh said: “I used to serve the Messenger of Allah ﷺ and when he wanted to perform Ghusl he said: ‘Turn your back.’ So I turned my back to him and concealed him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 224
ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں، تو آپ ﷺ انہیں غسل کرتے ہوئے ملے، فاطمہ ؓ آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے آڑ کیے ہوئے تھیں، (ام ہانی کہتی ہیں) میں نے سلام کیا ١ ؎، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ام ہانی ہوں، تو جب آپ غسل سے فارغ ہوئے، تو کھڑے ہوئے اور ایک ہی کپڑے میں جسے آپ لپیٹے ہوئے تھے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔
It was narrated from Umm Hani’ that she went to the Prophet ﷺ on the day of the Conquest (of Makkah) and found him performing Ghusl while Fatimah was concealing him with a garment. She gave him Salams and he said: “Who is this?” She said: “Umm Hani’.” When he had finished his Ghusl he stood up and prayed eight Rak’ahs wrapped in a garment. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 225
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے جو غسل کر رہا ہو اسے سلام کرنے کا جواز ثابت ہوا۔
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ مجاہد کے پاس ایک برتن لایا گیا، میں نے اس میں آٹھ رطل پانی کی سمائی کا اندازہ کیا، تو مجاہد نے کہا: مجھ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسی قدر پانی سے غسل فرماتے تھے۔
It was narrated that MusaAl-Juhani said: “A vessel was brought to Mujahid, which I estimated to be eight Ratls, and he said: Aishah (RA) told me that the Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl using such a vessel.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 226
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور ان کے رضائی بھائی بھی آئے، تو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے غسل کے متعلق پوچھا؟، تو آپ ؓ نے ایک برتن منگایا جس میں ایک صاع کے بقدر پانی تھا، پھر ایک پردہ ڈال کر غسل کیا، اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا۔
It was narrated from Abu Bakr bin Hafs (RA) : “I heard Abu Salamah say: ‘I entered upon Aishah (RA) and her foster-brother was with her. He asked her about the Ghusl of the Prophet ﷺ . She called for a vessel in which was a Sa’ of water, then she concealed herself and performed Ghusl and poured water over her head three times.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 227
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قدح (ٹب) سے غسل کرتے تھے، اور اس کا ١ ؎ نام فرق ہے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl from a vessel which was the size of a Faraq and he and I used to perform Ghusl using a single vessel.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 228
عبداللہ بن جبر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ایک مکوک سے وضو کرتے اور پانچ مکاکی سے غسل کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Jabr said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to perform Wudu with a Makkak and Ghusl with five Makkaks.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 229
Notes · وضاحت
١ ؎: مکاکی، مکوک کی جمع ہے جو اصل میں مکاکک ہے، اس کا کاف یا سے بدل دیا گیا ہے، یہ ایک پیمانہ کا نام ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے معنی مد کے ہیں، اور کچھ لوگوں کے نزدیک اس سے مراد صاع ہے۔
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے، جابر ؓ نے کہا: غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے، اس پر ہم نے کہا: ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہوگا، تو جابر ؓ نے کہا: اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ١ ؎ جو تم سے زیادہ اچھے، اور زیادہ بالوں والے تھے۔
It was narrated that Abu Ja’far said: “We argued about Ghusl in the presence of Jabir in ‘Abdulláh, and Jabir said: ‘One Sa’ of water is sufficient for Ghusl from Janabah.’ We said: ‘One Sa’ is not enough and neither is two.’ Jabir said: ‘It was sufficient for one who was better than you and had more hair.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 230
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور وہ فرق کے بقدر ہوتا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to perform Ghusl with the Messenger of Allah ﷺ , from one vessel, which was the size of a Faraq.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 231
Notes · وضاحت
١ ؎: فرق ایک پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل کی سمائی ہوتی ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ١٢ مد یا تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٣، ١٦٦٦٦)، من طریق معمر وحدہ، مسند احمد ٦/١٢٧، ١٧٣، ومن طریق معمر وابن جریج مقرونین، مسند احمد ٦/١٩٩ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور میں (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم دونوں اس سے لپ سے ایک ساتھ پانی لیتے۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl; he and I from a single vessel, both of us scooping water from it. (Sahih)
صحيح خ م دون الاغتراف واللفظ لقتيبةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 232
شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔
‘Abdur-Rahman bin Al Qasim said: “I heard Al-Qasim narrating that Aishah (RA) said: ‘I used to perform Ghusl, the Messenger of Allah ﷺ , and I from a single vessel, from Janabah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 233
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے (پانی کے) برتن کے سلسلہ میں جھگڑ رہی ہوں (میں اپنی طرف برتن کھینچ رہی ہوں اور آپ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں) میں اور آپ (ہم دونوں) اسی سے غسل کرتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember competing over the vessel with the Messenger of Allah ﷺ when he and I were using it to perform Ghusl.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 234
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ ؓ نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “My maternal aunt Maimunah told me that she and the Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl from one vessel.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 236
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے مولیٰ ناعم نے بیان کیا کہ ام سلمہ ؓ سے دریافت کیا گیا کہ کیا بیوی شوہر کے ساتھ غسل کرسکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، جب سلیقہ مند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ ہم ایک لگن سے غسل کرتے تھے، ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے یہاں تک کہ انہیں صاف کرلیتے، پھر اپنے بدن پر پانی بہاتے۔ اعرج (كيّسة کی تفسیر کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ سلیقہ مند وہ ہے جو نہ تو شوہر کے ساتھ غسل کرتے وقت شرمگاہ کا خیال ذہن میں لائے، اور نہ بیوقوفی (پھوہڑپن) کا مظاہرہ کرے۔
‘Abdur-Rahman bin Hurmuz Al-A’raj said: “Na’im the freed slave of Umm Salamah narrated to me that Umm Salamah was asked: ‘Can a woman perform Ghusl with a man?’ She said: ‘Yes, if she is well-mannered. I remember the Messenger of Allah ﷺ and I performing Ghusl from a single wash tub. We would pour water on our hands until they were clean then pour water over them.” Al-A’raj said: “Not mentioning the private area nor paying attention to it.”(Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 237
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ ؓ کی طرح چار سال رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا تھا، اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ١ ؎، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ٢ ؎، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں۔
It was narrated that Humaid bin ‘Abdur-Rahman said: “I met a man who accompanied the Prophet ﷺ as Abu Hurairah (RA) , accompanied him for four years. He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ forbade any one of us to comb his hair each day, or to urinate in the place where he performs Ghusl, or for a man to perform Ghusl using the leftover water of a woman, or a woman to perform Ghusl using the leftover water of a man — they should scoop it out together.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 238
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ترفّہ اور تنعم کے قبیل کی ہیں، اس لیے ان سے بچنا چاہیئے اور اگر ضرورت اس کی متقاضی ہو تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابوقتادہ کی روایت ہے کہ ان کے بال بہت گھنے تھے، تو نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے پوچھا، تو انہیں روزانہ اپنے بالوں کو سنوارنے اور کنگھی کرنے کا حکم دیا۔ ٢ ؎: یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ خود نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ ؓ کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے، نیز دیکھیں حدیث ما بعد۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٥ (٢٨)، ٤٠ (٨١)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٥٤، ١٥٥٥٥)، مسند احمد ٤/١١٠، ١١١، ٥/٣٦٩ و یأتي عند المؤلف برقم: ٥٠٥٧ (صحیح )