Sunan An Nasai 239

پاکی کا بیان

239Sunan An Nasai

جنبی شخص کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا.

حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ ؓ کی طرح چار سال رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا تھا، اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ١ ؎، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ٢ ؎، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں۔

It was narrated that Humaid bin ‘Abdur-Rahman said: “I met a man who accompanied the Prophet ﷺ as Abu Hurairah (RA) , accompanied him for four years. He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ forbade any one of us to comb his hair each day, or to urinate in the place where he performs Ghusl, or for a man to perform Ghusl using the leftover water of a woman, or a woman to perform Ghusl using the leftover water of a man — they should scoop it out together.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 238
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ترفّہ اور تنعم کے قبیل کی ہیں، اس لیے ان سے بچنا چاہیئے اور اگر ضرورت اس کی متقاضی ہو تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابوقتادہ کی روایت ہے کہ ان کے بال بہت گھنے تھے، تو نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے پوچھا، تو انہیں روزانہ اپنے بالوں کو سنوارنے اور کنگھی کرنے کا حکم دیا۔ ٢ ؎: یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ خود نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ ؓ کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے، نیز دیکھیں حدیث ما بعد۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٥ (٢٨)، ٤٠ (٨١)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٥٤، ١٥٥٥٥)، مسند احمد ٤/١١٠، ١١١، ٥/٣٦٩ و یأتي عند المؤلف برقم: ٥٠٥٧ (صحیح )