ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، (کبھی) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی، یہاں تک کہ آپ ﷺ فرماتے: میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to perform Ghusl —the Messenger of Allah ﷺ and I — from one vessel. He would compete with me and I would with him until he would say: ‘Leave me some’ and I would say: ‘Leave me some.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 239
ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ام المؤمنین میمونہ ؓ دونوں نے ایک ہی برتن سے غسل کیا، ایک ٹب سے جس میں گندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا۔
It was narrated from Umm Hani’ that the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl, he and Maimunah from a single vessel, a bowl in which there were traces of dough. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 240
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٥ (٣٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٢)، مسند احمد ٦/٣٤٢ (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کی چوٹی مضبوط باندھتی ہوں، تو کیا اسے غسل جنابت کے وقت کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو ۔
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet ﷺ said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ , I am a woman with tightly braided hair; should I undo it when performing Ghusl from Janabah?’ He said: ‘No, it is sufficient for you to pour three handfuls of water on your head, then pour water over your body.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 241
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہوگئی، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کرسکی، نہ صفا ومروہ کے بیچ سعی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کرلو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرہ چھوڑ دو ، چناچہ میں نے (ایسا ہی) کیا، تو جب ہم نے حج پورا کرلیا، تو آپ ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر ؓ کے ساتھ تنعیم بھیجا (وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور) میں نے عمرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے (جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا) ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی (رح)) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ in the year of the Farewell Pilgrimage. I (said the Talbiyah) for ‘Umrah and I arrived in Makkah while I was menstruating, so I did not perform Tawaf around the House nor between As-Safa and Al-Marwah. I complained about that to the Messenger of Allah ﷺ , and he said: ‘Undo your braids and comb your hair, and enter (begin the Talbiyah) for Hajj, and leave the ‘Umrah.’ So I did that, and then when we had completed Hajj, he sent me with ‘Abdur-Rahman bin Abi Bakr to At-Tan’im, and I performed ‘Umrah. He said: ‘This is in place of your ‘Umrah.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: This Hadith is Gharib as a narration of Malik from Hisham, from ‘Urwah. No one except Ashhab reported it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 242
Takhrij · تخریج
حدیث مالک عن بن شہاب أخرجہ، صحیح البخاری/١٨ (٣١٩)، الحج ٣١ (١٥٥٦)، ٧٧ (١٦٣٨)، المغازي ٧٧ (٤٣٩٥)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/فیہ ٢٣ (١٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٨ (٣٠٠٠)، موطا امام مالک/ الحج ٧٤ (٢٢٣)، مسند احمد ٦/ ٨٦، ١٦٤، ١٦٨، ١٦٩، ٧٧ ا، ١٩١، ٢٤٦، وحدیث مالک عن ہشام بن عروة، تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٧١٧٥)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٧٦٥ (صحیح )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہوجاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے، پھر تین بار کلی کرتے، اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر (پانی) بہاتے۔
Aishah (RA) narrated that when the Messenger of Allah ﷺ , performed Ghusl from Janabah, the vessel (of water) would be placed before him, and he would pour water over his hands before putting them into the vessel. When he had washed his hands, he would put his right hand in the vessel then pour water with his right hand and wash his private parts with his left hand. When he had finished, he would pour water with his right hand over his left hand and wash them both. Then he would rinse his mouth and nose three times, then he would pour water filling both of his hands over his head three times, then he would pour water over his body. (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 243
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔
It was narrated that Abu Salamah said: “I asked Aishah (RA) about how the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah. She said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to pour water onto his hands three times, then he would wash his private part, then he would wash his hands, then rinse his mouth and nose, then pour water onto his head three times, then pour water over the rest of his body.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 244
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٧) (صحیح الإسناد )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئے، اور رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (پانی کا) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے، اور انہیں دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، پھر ناک میں پانی ڈالتے، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔
Abu Salamah (narrated) that he entered upon Aishah (RA) and asked her about the Ghusl of the Messenger of Allah ﷺ from Janabah. She said: “A vessel would be brought to the Prophet ﷺ then he would pour water on his hand three times and wash them, then he would pour water with his right hand onto his left and wash off whatever was on his thighs. Then he would wash his hands, rinse his mouth and nose, pour water on his head three times, then pour water over the rest of his body.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 245
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٧) (صحیح الإسناد )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، کہتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے، عمر بن عبید کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے (عطا بن سائب) کہا: آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے، پھر تین بار کلی کرتے، تین بار ناک میں پانی ڈالتے، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman said: Aishah (RA) described how the Prophet ﷺ performed Ghusl for Janabah. She said: ‘He used to wash his hands three times, then pour water with his right hand onto his left and wash his private part and whatever was on it.’ — (One of the narrators) ‘Umar said: “I think he said: ‘He would pour water with his right hand onto his left hand three times.” — “Then he would rinse his mouth three times and his nose three times, and wash his face and hands three times, then he would pour water over his head three times, then pour water over himself.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 246
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہاتھ دو بار دھوئے، ایک تو شروع میں دوسرے نجاست صاف کرنے کے بعد۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٧) (صحیح الاسناد )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔
It was narrated from Aishah (RA) that when the Prophet ﷺ performed Ghusl from Janabah he would start by washing his hands, then he would perform Wudu’ as for prayer, then he would dip his fingers in the water, then run them through his hair, then he would pour water over his head three times, then he would pour water over his entire body. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 247
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ (پانی) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔
‘Aishab narrated concerning the Ghusl of the Prophet ﷺ from Janabah, that he used to wash his hands and perform Wudu’, then he would run (his fingers) through his (hair on his) head so that it reaches all of his hair, then he would pour water over his entire body. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 248
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٧٣٣١)، مسند احمد ٦/٥٢، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦) (صحیح )
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا: میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں ۔
It was narrated that Jubair bin Mut’im said: “They argued about Ghusl in the presence of the Messenger of Allah ﷺ One of the people said: ‘I perform Ghusl in such-and-such a manner.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘As for me, I pour three handfuls of water over my head.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 250
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا: (غسل کے بعد) مشک لگا ہوا (روئی کا) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ، (عورت بولی) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے اس طرح پردہ کرلیا (یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کرلی) پھر فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو ، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا، اور (چپکے سے اس کے کان میں) کہا: اسے خون کے نشان پر پھیرو ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that a woman asked the Prophet ﷺ about performing Ghusl following menstruation and he told her how to perform Ghusl. Then he said: “Take a piece of cloth perfumed with musk and purify yourself with it.” She said: “How should I purify myself with it?” He covered his face then said: “Subhan Allah! Purify yourself with it.” Aishah (RA) said: “I took the woman aside and said: ‘Wipe away the traces of blood with it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 251
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ بدبو چلی جائے، یہ حکم استحبابی ہے اگر مشک نہ ملے تو اور خوشبو استعمال کرے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used not to perform Wudu’ after Ghusl.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 252
Notes · وضاحت
١ ؎: غسل سے غسل جنابت مراد ہے کیونکہ ابن ماجہ کی روایت لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث الحسن بن صالح عن أبی إسحاق تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٠١٩)، مسند احمد ٦/٢٣٥، حدیث شریک بن عبداللہ، عن أبی إسحاق قد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ ٧٩ (١٠٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩٦ (٥٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة ٩٩ (٢٥٠)، مسند احمد ٦/٦٨، ١١٩، ١٥٤، ١٩٢، ٢٥٣، ٢٥٨، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٣٠ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ ﷺ نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں: پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “My maternal aunt Maimunah told me: ‘I brought the Messenger of Allah ﷺ water for his Ghusl from Janabah, and he washed his hands two or three times, then he put his right hand in the vessel and poured water over his private part, then he washed it with his left hand. Then he put his left hand on the ground and rubbed it hard. Then he performed Wudu as for prayer, then he poured three scoops with his two hands full of water over his head, then he washed his entire body, then he moved away from where he had been standing and washed his feet.’ She said: ‘Then I brought him a towel but he refused it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 253
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غسل کیا، تو آپ کے لیے تولیہ لایا گیا تو آپ نے اسے نہیں چھوا ١ ؎ اور پانی کو ہاتھ سے پونچھ کر اس طرح جھاڑنے لگے ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ performed Ghusl and a cloth was brought to him, but he did not touch it, and he started doing like this with the water. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 254
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے آپ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو، یا تولیہ صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن پوچھنے کو ناپسند کیا ہو، لہٰذا یہ عائشہ ؓ کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں ہے: كان للنبي رسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوئ اور معاذ ؓ کی روایت کے بھی منافی نہیں جس میں ہے: رأيت رسول الله رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ مسح وجهه بطرف ثوبه اگرچہ ان دونوں حدیثوں میں کلام ہے لیکن ایک دوسرے سے تقویت پا رہی ہیں۔ ٢ ؎: اس سے ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے کا جواز ثابت ہوا، اور جس روایت میں ہاتھ سے پانی جھاڑنے کی ممانعت آئی ہے وہ ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ٦٣٥١) (صحیح): یقول المزی: المحفوظ حدیث ابن عباس، عن میمونة (وحدیث میمونة قد تقدم برقم: ٢٤٥ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (اور عمرو کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ) جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “If the Prophet ﷺ “ — (one of the narrators) ‘Amr said: “If the Messenger of Allah ﷺ “ — “wanted to eat or sleep while he was Junub, he would perform Wudu’.” In his narration, ‘Amr (one of the narrators) added: “Wudu’ was for prayer.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 255
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that if the Messenger of Allah ﷺ wanted to sleep while he was Junub, he would perform Wudu’, and if he wanted to eat he would wash his hands. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 256
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کبھی تو بیان جواز کے لیے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر کھاتے یا پیتے۔
It was narrated from Abu Salamah that Aishah (RA) said: “If the Messenger of Allah ﷺ wanted to sleep while he was Junub, he would perform Wudu’, and if he wanted to eat or drink,” she said: “he would wash his hands and then eat or drink.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 257
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “If the Messenger of Allah ﷺ wanted to sleep while he was Junub, he would perform Wudu as for prayer before sleeping.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 258