پانی کی کس قدر مقدار سے غسل کیا جا سکتا ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قال: تَمَارَيْنَا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ: يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ مِنْ مَاءٍ، قُلْنَا: مَا يَكْفِي صَاعٌ وَلَا صَاعَانِ، قَالَ جَابِرٌ: قَدْ كَانَ يَكْفِي مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ وَأَكْثَرَ شَعْرًا.
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے، جابر ؓ نے کہا: غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے، اس پر ہم نے کہا: ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہوگا، تو جابر ؓ نے کہا: اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ١ ؎ جو تم سے زیادہ اچھے، اور زیادہ بالوں والے تھے۔
It was narrated that Abu Ja’far said: “We argued about Ghusl in the presence of Jabir in ‘Abdulláh, and Jabir said: ‘One Sa’ of water is sufficient for Ghusl from Janabah.’ We said: ‘One Sa’ is not enough and neither is two.’ Jabir said: ‘It was sufficient for one who was better than you and had more hair.” (Sahih)