حائضہ عورت کے ساتھ ایک چادر میں لپٹنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ قَالَتْ وَکَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ فِي الْإِنَائِ الْوَاحِدِ مِنْ الْجَنَابَةِ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، زینب بنت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آگیا تو میں چپکے سے بستر سے نکل گئی پس میں نے اپنے حیض والے کپڑے لئے رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تجھے حیض آگیا ہے میں نے کہا جی ہاں تو آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔ فرماتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ جنابت میں ایک ہی برتن میں غسل کرلیا کرتے تھے۔
Umm Salamah reported: While I was lying with the Messenger of Allah ﷺ in a bed cover I menstruated, so I slipped away and I took up the clothes (which I wore) in menses. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Have you menstruated? I said: Yes. He called me and I lay down.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَکَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَکَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، عمرہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اعتکاف بیٹھتے تو اپنا سر مبارک میرے قریب کردیتے اور میں اس میں کنگھی کرتی اور نبی ﷺ بشری حاجت کے علاوہ گھر میں داخل نہ ہوتے تھے۔
It is reported from Aisha that she observed: When the Messenger of Allah ﷺ was in Itikaf, he inclined his head towards me and I combed his hair, and he did not enter the house but for the natural calls (for relieving himself).
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنْ کُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَکَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا و قَالَ ابْنُ رُمْحٍ إِذَا کَانُوا مُعْتَکِفِينَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، عروہ، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ اگر میں حالت اعتکاف میں ہوتی تو گھر میں حاجت کے لئے داخل ہوتی اور چلتے چلتے مریض کی عیادت کرلیتی اور اگر رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں ہوتے تو مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف کردیتے تو میں اس میں کنگھی کرتی اور آپ ﷺ جب معتکف ہوتے تو گھر میں سوائے حاجت کے داخل نہ ہوتے تھے۔
Amra daughter of Abdul Rahman reported: Aisha, wife of the Apostle of Allah ﷺ observed: When I was (in Itikaf), I entered the house for the call of nature, and while passing I inquired after the health of the sick (in the family), and when the Messenger of Allah ﷺ was (in Itikaf), he put out his head towards me, while he himself was in the mosque, and I combed his hair; and he did not enter the house except for the call of nature so long as he was in Itikaf; and Ibn Rumh stated: As long as they (the Prophet ﷺ and his wives) were among the observers of Itikaf.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حار ث، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ زوجہ نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں اپنا سر مبارک میری طرف نکال دیتے اور میں آپ ﷺ کے سر کو دھو دیتی اس حال میں کہ میں حائضہ ہوتی۔
Aisha, the wife of the Apostle ﷺ (may peace he upon him), reported: The Messenger of Allah ﷺ put out from the mosque his head for me as he was in Itikaf, and I washed it in the state that I was menstruating.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مبارک میرے قریب فرما دیتے اور میں حجرہ میں ہوتی میں آپ ﷺ کے سر میں اس حال میں کنگھی کرتی کہ میں حائضہ ہوتی۔
Urwa reported it from Aisha that she observed: The Messenger of Allah ﷺ inclined his head towards me (from the mosque) while I was in my apartment and I combed it in a state of menstruation.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حالت حیض میں رسول اللہ ﷺ کا سر دھویا کرتی تھی۔
Al-Aswad narrated it from Aisha that she observed: I used to wash the head of the Messenger of Allah ﷺ, while I was in a state of menstruation.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَکِ لَيْسَتْ فِي يَدِکِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ثابت بن عبید، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے مسجد سے جائے نماز اٹھا کردو تو میں نے کہا میں تو حائضہ ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Get me the mat from the mosque. I said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ حَجَّاجٍ وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ تَنَاوَلِيهَا فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِکِ
ابوکریب، ابن ابی زائدہ، حجاج بن عیینہ، ثابت بن عبید، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں آپ ﷺ کو مسجد سے جائے نماز اٹھا کر دوں میں نے کہا میں تو حائضہ ہوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ ordered me that I should get him the mat from the mosque. I said: I am menstruating. He (the Holy Prophet) said: Do get me that, for menstruation is not in your hand.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَکِ لَيْسَتْ فِي يَدِکِ فَنَاوَلَتْهُ
زہیر بن حرب، ابوکامل، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، زہیر، یحیی، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ مجھے کپڑا دیدے سیدہ عائشہ نے عرض کیا میں حائضہ ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تیر احیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: While the Messenger of Allah ﷺ was in the mosque, he said: O Aisha, get me that garment. She said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand, and she, therefore, got him that.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَی مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَی مَوْضِعِ فِيَّ وَلَمْ يَذْکُرْ زُهَيْرٌ فَيَشْرَبُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، مسعر، سفیان، مقدام بن شریح، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حالت حیض میں پانی پیتی پھر میں نبی کریم ﷺ کو دے دیتی تو آپ ﷺ اپنا منہ مبارک اس جگہ رکھتے جہاں میرا منہ ہوتا تھا پھر نوش فرماتے اور میں ہڈی چوستی حالت حیض میں پھر میں نبی کریم ﷺ کو دے دیتی آپ ﷺ اپنا منہ مبارک میرے منہ کی جگہ پر رکھتے زہیر نے (فیشرب) ذکر نہیں کیا۔
Aisha reported: I would drink when I was menstruating, then I would hand it (the vessel) to the Apostle ﷺ and he would put his mouth where mine had been, and drink, and I would eat flesh from a bone when I was menstruating, then hand it over to the Apostle ﷺ and he would put his mouth where mine had been. Zuhair made no mention of (the Holy Prophets) drinking.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَکِّيُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّکِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
یحییٰ بن یحیی، داؤد بن عبدالرحمن مکی، منصور، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں تکیہ لگاتے جبکہ میں حائضہ ہوتی اور آپ ﷺ قرآن شریف پڑھتے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ would recline in my lap when I was menstruating, and recite the Quran.
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ کَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاکِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِي الْمَحِيضِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا کُلَّ شَيْئٍ إِلَّا النِّکَاحَ فَبَلَغَ ذَلِکَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَائَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ کَذَا وَکَذَا فَلَا نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، حماد، بن سلمہ، ثابت، انس سے روایت ہے کہ یہود میں سے جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس کو نہ تو اپنے ساتھ کھلاتے اور نہ ان کو گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا (وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِي الْمَحِيضِ )، آپ ﷺ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیں کہ وہ گندگی ہے پس جدا رہو عورتوں سے حیض میں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جماع کے علاوہ ہر کام کرو یہود کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ یہ آدمی (نبی) کا کیا ارادہ ہے ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، یہ سن کر حضرت اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ؓ حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول یہودی اس اس طرح کہتے ہیں کیا ہم عورتوں سے جماع ہی نہ کریں تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہوگیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ کو ان دونوں پر غصہ آیا ہے وہ دونوں اٹھ کر باہر نکل گئے اتنے میں نبی کریم ﷺ کی طرف دودھ کا ہدیہ ان دونوں کے ہاں سے آیا تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور ان کو دودھ پلایا تو ہم نے معلوم کیا کہ آپ کو ان پر غصہ نہ تھا۔
Thabit narrated it from Anas (RA) : Among the Jews, when a woman menstruated, they did not dine with her, nor did they live with them in their houses; so the Companions of the Apostle ﷺ asked The Apostle ﷺ , and Allah, the Exalted revealed: "And they ask you about menstruation; say it is a pollution, so keep away from woman during menstruation" to the end (Quran, ii. 222). The Messenger of Allah ﷺ said: Do everything except intercourse. The Jews heard of that and said: This man does not want to leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr came and said: Messenger of Allah, the Jews say such and such thing. We should not have, therefore, any contact with them (as the Jews do). The face of the Messenger of Allah ﷺ underwent such a change that we thought he was angry with them, but when they went out, they happened to receive a gift of milk which was sent to the Apostle of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) called for them and gave them drink, whereby they knew that he was not angry with them
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُشَيْمٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَی وَيُکْنَی أَبَا يَعْلَی عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً وَکُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَکَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَغْسِلُ ذَکَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابومعاویہ، ہشیم، اعمش، منذر بن یعلی، ابن حنفیہ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ مجھے کثرت سے مذی آتی تھی اور میں حیاء کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کروں آپ ﷺ کی صاحبزادی کے میرے نکاح میں ہونے کی وجہ سے، تو میں نے حضرت مقداد بن اسود کو حکم دیا انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے آلہ تناسل کو دھولے اور وضو کرے۔
Ali reported: I was one whose prostatic fluid flowed readily and I was ashamed to ask the Apostle ﷺ about it, because of the position of his daughter. I, therefore, asked Miqdad bin al-Asad and he inquired of him (the Holy Prophet). He (the Holy Prophet) said: He should wash his male organ and perform ablution.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ قَالَ سَمِعْتُ مُنْذِرًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِنْهُ الْوُضُوئُ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد، ابن حارث، شعبہ، سلیمان، منذر، محمد بن علی، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت فاطمہ کی وجہ سے مذی کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کرنے سے شرم محسوس کرتا تھا اس لئے میں نے مقداد کو حکم دیا انہوں نے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے وضو لازم ہے۔
Ali reported: I felt shy of asking about prostatic fluid from the Apostle ﷺ because of Fatimah. I, therefore, asked al-Miqdad (to ask on my behalf) and he asked. He (the Holy Prophet) said: Ablution is obligatory in such a case.
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنْ الْإِنْسَانِ کَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَکَ
ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، سلیمان بن یسار، ابن عباس ؓ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مقداد بن اسود ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ ﷺ سے مذی کے بارے میں حکم معلوم کریں جو انسان سے خارج ہو تو وہ کیا کرے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھولے۔
Ibn Abbas reported it from Ali (RA) : We sent al-Miqdad bin al-Aswad to the Messenger of Allah ﷺ to ask him what must be done about prostatic fluid which flows from (the private part of) a person. The Messenger of Allah ﷺ said: Perform ablution and wash your sexual organ.
جب نیند سے بیدار ہو تو منہ اور دونوں ہاتھوں کے دھونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَضَی حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، سفیان، سلمہ بن کہیل، کریب، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو اٹھے قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر آپ ﷺ اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھو کر سوئے۔
Ibn Abbas reported: The Apostle ﷺ woke up at night; relieved himself, and then washed his face and hands and then again slept.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، ابوسلمہ ابن عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنبی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو سونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو فرما لیتے۔
Aisha reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ intended to sleep after having sexual intercourse, he performed ablution as for the prayer before going to sleep.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَوَکِيعٌ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْکُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، وکیع، غندر، شعبہ، حکم، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنبی ہوتے اور کھانے یا سونے کے ارادہ فرماتے تو آپ ﷺ نماز کی طرح وضو فرما لیتے۔
Aisha reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ had sexual intercourse and intended to eat or sleep, he performed the ablution of prayer.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ، حضرت شعبہ ؓ سے بھی دوسری اسناد سے یہی حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted by Shubah with the same chain of transmitters. Ibn at-Muthanna said in his narration: AI-Hakam narrated to us who heard from Ibrahim narrating that.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ
محمد بن ابی بکر مقدامی، زہیر بن حرب، یحییٰ ابن سعید، عبیداللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں جب وضو کرلے۔
Ibn Umar reported: Umar said: Is one amongst us permitted to sleep in a state of impurity (i. e. after having sexual intercourse)? He (the Holy Prophet) said: Yes, after performing ablution.