حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دوھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرأت قرآن کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مبارک میرے قریب فرما دیتے اور میں حجرہ میں ہوتی میں آپ ﷺ کے سر میں اس حال میں کنگھی کرتی کہ میں حائضہ ہوتی۔
Urwa reported it from Aisha that she observed: The Messenger of Allah ﷺ inclined his head towards me (from the mosque) while I was in my apartment and I combed it in a state of menstruation.