Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 208 of 379

4148Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ فَصَبُّوا عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا يَرِثُنِي کَلَالَةٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ قَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ

محمد بن حاتم، بہز، شعبہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں مریض تھا اور ہوش میں نہ تھا آپ ﷺ نے وضو کیا تو لوگوں نے آپ ﷺ کے وضو سے مجھ پر پانی ڈالا مجھے ہوش آیا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کہ رسول ﷺ ! میرا وارث کلالہ ہوگا تو آیت میراث نازل ہوئی راوی کہتے ہیں میں نے محمد بن منکدر سے عرض کیا انہوں نے کہا اسی طرح نازل کی گئی۔

Jabir binAbdullah (RA) reported: Whilo I was ill Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to me and found me unconscious. He (the Holy Prophet) performed ablution, and sprinkled over me the water of his ablution. I regained my consciousness and said: Allahs Messenger, my case of inheritance is that of Kalala. Then the verse pertaining to the inheritance (of Kalala) was revealed. I (one of the narrators) said: I said to Muhammad bin Munkadir: (Do you mean this verse) "They ask you; say: Allah gives you decision in regard to Kalala" (iv. 177)? He said: Yes, it was thus revealed.

4149Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ وَالْعَقَدِيِّ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ شُعْبَةَ لِابْنِ الْمُنْکَدِرِ

اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، ابوعامر عقدی، محمد بن مثنی، وہب بن جریر، حضرت شعبہ (رح) سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے حضرت وہب بن جریر (رح) کی حدیث میں ہے آیت فرائض نازل ہوئی نضر اور عقدی کی حدیث میں ہے آیت الفرض اور ان کی حدیث میں شعبہ (رح) کا قول ابن منکدر سے سوال کا نہیں ہے۔

This hadith is transmitted on the authority of Shubah but with a slight variation of words.

4150Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَذَکَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ الْکَلَالَةِ مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْئٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْکَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْئٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ حَتَّی طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ يَا عُمَرُ أَلَا تَکْفِيکَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَائِ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ

محمد بن ابی بکر مقدمی، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام، قتادہ، سالم بن ابی جعد، حضرت معدان بن ابوطلحہ (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اللہ کے نبی ﷺ کا ذکر کیا اور حضرت ابوبکر (رض) کا ذکر فرمایا : پھر فرمایا میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا جو میرے نزدیک کلالہ سے زیادہ اہم ہو اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے کسی مسئلہ کہ بارے میں اتنا رجوع نہیں کیا جو میں نے کلالہ میں آپ ﷺ سے رجوع کیا اور آپ ﷺ نے میرے لئے جیسی سختی اس میں کی کسی مسئلہ میں نہیں فرمائی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے میرے سینہ میں اپنی انگلی چبھو کر فرمایا اے عمر ! کیا تیرے لئے سورت النساء کی آخری آیت صیف کافی نہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا اگر میں زندہ رہا اس آیت کے فیصلہ کے مطابق ایسا فیصلہ دوں گا کہ جو قرآن پڑھے یا نہ پڑھے وہ بھی اسی کہ مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔

Abu Talha reported: Umar bin al-Khattab (RA) delivered a sermon on Friday and made a mention of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he also made a mention of Abu Bakr (RA) and then said: I do not leave behind me any problem more difficult than that of Kalala. I did not refer to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) more repeatedly than in case of the problem of Kalala, and he (the Holy Prophet) never showed more annoyance to me than in regard to this problem, so much so that he struck my chest with his fingers and said: Umar, does the verse revealed in summer season, at the end of Sura al-Nisa not suffice you? Hadrat Umar (then) said: If I live I would give such verdict about (Kalala) that everyone would be able to decide whether he reads the Quran or he does not.

4151Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میراث کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ شُعْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن رافع، شبابہ بن سوار، شعبہ، حضرت قتادہ سے بھی اسی طرح ان اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters.

4152Sahih Muslimصحیح

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ مِنْ الْقُرْآنِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ

علی بن خشرم، وکیع، ابن ابی خالد، ابی اسحاق، حضرت براء (رض) روایت ہے قرآن میں جو سب سے آخر میں آیت نازل کی گئی وہ ہے۔

Al-Bara (RA) reported that the last verse revealed in the Holy Quran is: "They ask thee for a religious verdict; say: Allah gives you a religious verdict about Kalala (the person who has neither parents nor children)" (iv 177).

4153Sahih Muslimصحیح

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْکَلَالَةِ وَآخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ بَرَائَةُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی اسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ سب سے آخری میں نازل کی جانے والی آیت، آیت کلالہ ہے اور آخری سورت مبارکہ سورت برأت (التوبہ) ہے۔

Abu Ishaq said that he heard al-Bara bin Azib (RA) say: The last verse revealed (in the Holy Quran) is that pertaining to Kalala, and the last sura revealed is Sura al-Baraat.

4154Sahih Muslimصحیح

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ أَنَّ آخِرَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ تَامَّةً سُورَةُ التَّوْبَةِ وَأَنَّ آخِرَ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْکَلَالَةِ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عیسیٰ بن یونس، زکریا، ابی اسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے جو پوری سورت سب سے آخر میں نازل کی گئی وہ سورت توبہ ہے اور آخری آیت، آیت کلالہ ہے۔

Abu Ishaq said that he heard al-Bara bin Azib (RA) say: The last complete sura revealed (in the Holy Quran) is Sura Tauba (i e. al-Baraat, ix.), and the last verse revealed is that pertaining to Kalala.

4155Sahih Muslimصحیح

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ کَامِلَةً

ابوکریب، یحییٰ بن آدم، عمار، ابن رزیق، ابی اسحاق، حضرت براء (رض) سے اسی طرح حدیث مروی ہے اس میں یہ نہیں کہ آخری پوری سورت نازل کی جانے والی۔

Aba Ishaq reported this hadith on the authority of al-Bara (RA) with a slight variation of words, viz. the last sura that was revealed complete.

4156Sahih Muslimصحیح

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ يَسْتَفْتُونَکَ

عمرو ناقد، ابواحمدزبیری، مالک بن مغول، ابی السفر، حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ آخر آیت جو نازل کی گئی وہ ہے۔

Al-Bara (RA) reported that the last verse revealed was: "They ask of thee religious verdict.." (iv. 177).

4157Sahih Muslimصحیح

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ

زہیر بن حرب، ابوصفوان اموی، یونس ایلی، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہ پاس کسی آدمی کی میت لائی جاتی اور اس پر قرض ہوتا تو آپ ﷺ پوچھتے کیا اس نے اپنے قرض کے لئے مال چھوڑا ہے جو قرضہ کو کافی ہو پس اگر بات کی جاتی کہ اس نے قرض کو پورا کرنے کہ لئے ترکہ چھوڑا ہے تو آپ ﷺ اس پر جنازہ پڑھاتے ورنہ فرماتے اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو جب آپ ﷺ پر اللہ عزوجل نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں مومنوں کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں جو فوت ہوا اور اس پر قرض ہو تو اس کا ادا کرنا مجھ پر ہے اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے ورثاء کے لئے ہے

Abu Hurairah (RA) reported that when the body of a dead person having burden of debt upon him was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he would ask whether he had left property enough to clear off his debt, and if the property left had been sufficient for that (purpose), he observed funeral prayer for him, otherwise he said (to his companions): You observe prayer for your companion. But when Allah opened the gateways of victory for him, he said: I am nearer to the believers than themselves, so if anyone dies leaving a debt, its payment is my responsibility, and if anyone leaves a property, it goes to his heirs.

4158Sahih Muslimصحیح

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن ابی اخی ابن شہاب، ابن نمیر، ابن ابی ذئب، حضرت زہری سے حدیث اسی طرح ان اسناد کے ساتھ یہ مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of al-Zuhri through another chain of transmitters.

4159Sahih Muslimصحیح

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ قَالَ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنْ عَلَی الْأَرْضِ مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِهِ فَأَيُّکُمْ مَا تَرَکَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَأَنَا مَوْلَاهُ وَأَيُّکُمْ تَرَکَ مَالًا فَإِلَی الْعَصَبَةِ مَنْ کَانَ

محمد بن رافع، شبابہ، ورقاء، ابی الزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کہ قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے زمین پر کوئی ایسا مومن نہیں مگر میں تمام لوگوں سے زیادہ اس کے قریب ہوں۔ پس تم میں سے جو قرض یا بچے چھوڑ گیا تو میں اس کا مدد کرنے والا ہوں (ادائیگی قرض و پرورش یتامی) اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں میں سے جو بھی ہو اس کا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said this: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, there is no believer on the earth with whom I am not the nearest among all the people. He who amongst you (dies) and leaves a debt, I am there to pay it, and he who amongst you (dies) leaving behind children I am there to look after them. And he who amongst you leaves behind property, that is for the inheritor whoever he is.

4160Sahih Muslimصحیح

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَيُّکُمْ مَا تَرَکَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّکُمْ مَا تَرَکَ مَالًا فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ کَانَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کی رسول اللہ ﷺ سے روایت کردہ احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کی کتاب میں مومینن کو تمام لوگوں میں سے زیادہ قریب ہوں تم میں سے جو قرض یا بچے چھوڑ جائے تو مجھے اطلاع دو میں اس کا ولی ہوں اور تم میں سے جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے ساتھ اس کے ورثا کو ترجیح دی جائے ان میں سے جو بھی ہو۔

Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) narrated to us from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And he narrated many ahadith, and one was this: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I am, according to the Book of Allah, the Exalted and Majestic, nearest to the believers of all the human beings. So whoever amongst you dies in debt or leaves behind destitute children, you should call me (for help) ), for I am his guardian. And who amongst you leaves property, his inheritor is entitled to get it, whoever he is.

4161Sahih Muslimصحیح

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَکَ کَلًّا فَإِلَيْنَا

عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عدی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کے لئے ہے اور جس نے بوجھ چھوڑا تو وہ ہماری طرف ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who leaves property, that is for the inheritors; and he who leaves behind destitute children, then it is my responsibility (to look after them).

4162Sahih Muslimصحیح

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمَنْ تَرَکَ کَلًّا وَلِيتُهُ

ابوبکر بن نافع عبدی، غندر، زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابن مہدی، شعبہ، حضرت شعبہ سے بھی یہ حدیث ان اسناد کہ ساتھ مروی ہے صرف غندر کی حدیث میں ہے جو بوجھ چھوڑ جائے تو اس کا ولی ہوں۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters

4163Sahih Muslimصحیح

صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ حَمَلْتُ عَلَی فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ کَالْکَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک بن انس، زید بن اسلم، حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے راستہ میں عمدہ گھوڑا دیا تو اس کے مالک نے اسے ضائع کردیا میں نے گمان کیا کہ وہ اسے سستے داموں پر فروخت کرنے والا ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے مت خرید اور اپنے صدقہ میں مت لوٹ کیونکہ اپنے صدقہ میں لوٹنے والا ایسا ہے جیسا کہ کتا اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔

Umar bin Khattab (RA) reported: I donated a pedigree horse in the path of Allah. Its possesser made it languish. I thought that he would sell it at a cheap price. I asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about it, whereupon he said: Dont buy it and do not get back your charity, for one who gets back the charity is like a dog who swallows its vomit.

4164Sahih Muslimصحیح

صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ لَا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاکَهُ بِدِرْهَمٍ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابن مہدی، حضرت مالک بن انس (رض) سے بھی یہ حدیث ان اسناد سے مروی ہے اور اس میں اضافہ یہ ہے تو اسے مت خرید اگرچہ وہ تجھے ایک درہم ہی میں دیدے۔

This hadith has been narrated on the authority of Malik bin Anas with the same chain of transmitters but with this addition: "Dont buy that even if he gives you for one dirham."

4165Sahih Muslimصحیح

صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ وَکَانَ قَلِيلَ الْمَالِ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ

امیہ بن بسطام، یزید ابن زریع، روح ابن قاسم، زید بن اسلم، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دے دیا پھر آپ نے اسے اس کے مالک کے پاس پایا تو اس نے اسے ضائع کردیا تھا اور وہ غریب آدمی تھا آپ نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ تجھے ایک درہم میں بھی دیا جائے تو بھی نہ خرید کیونکہ اپنے صدقہ میں لوٹنے والے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کتے کی مثال جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔

Zaid bin Aslam reported on the authority of his father that Umar (RA) donated a horse in the path of Allah. He found that it had languished in the hand of its possessor, and he was a man of meagre resources He (Hadrat Umar) intended to buy it. He came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and made a mention of that to him, whereupon he said: Dont buy that even if you get it for a dirham for he who gets back the charity is like a dog which swallows its vomit.

4166Sahih Muslimصحیح

صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِکٍ وَرَوْحٍ أَتَمُّ وَأَکْثَرُ

ابن ابی عمر، سفیان، حضرت زید بن اسلم سے بھی یہ حدیث مبارکہ مروی ہے لیکن حضرت مالک و روح کی حدیث زیادہ مکمل اور پوری ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters but with this (change) that the hadith transmitted on the authority of Malik and Rauh (he was the son of Qisirn) is more complete and lengthy.

4167Sahih Muslimصحیح

صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیدیا اسے فروخت ہوتے پایا تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے مت خرید اور اپنے صدقہ میں نہ لوٹ۔

Ibn Umar reported that Umar bin al-Khattib (RA) donated a horse in the path of Allah and (later on) he found it being sold, and he decided to buy that. He asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about it, whereupon he (the Holy prophet) said: Dont buy that and do not get back what you gave in charity.