صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعید، مقدمی، محمد بن مثنی، یحییٰ قطان، ابن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، نافع، حضرت مالک (رض) کی طرح حضرت ابن عمر (رض) کہ واسطہ سے نبی ﷺ یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters.
صدقہ کی ہوئی چیز کو جسے صدقہ کیا گیا ہو اس سے خر ید نے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ يَا عُمَرُ
ابن ابی عمر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک گھوڑا اللہ کے راستہ میں دے دیا پھر اسے فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا اور نبی ﷺ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر اپنے صدقہ میں مت لوٹ۔
Salim reported from Ibn Umar (RA) that Umar donated a horse in the path of Allah and then found it being sold, and he decided to buy that. He asked Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about it, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Umar, do not get back what you gave as charity.
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ يَقِيئُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْکُلُهُ
ابراہیم بن موسیٰ رازی، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، ابی جعفر، محمد بن علی، ابن مسیب، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی اپنے صدقہ کو لوٹاتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی قے کو لوٹائے اور اسے کھالے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said this: He who gets back his charity is like a dog which vomits, and then returns to that and eats it.
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ يَذْکُرُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوکریب، محمد بن العلاء، ابن مبارک، اوزاعی، حضرت محمد بن علی حسین سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this is reported on the authority of Muhammad son of Fatima (Allah be pleased with her) daughter of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ مُحَمَّدَ ابْنَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
حجاج بن شاعر، عبدالصمد، حرب، یحییٰ ابن کثیر، عبدالرحمن بن عمرو، حضرت محمد بن فاطمہ (رض) بنت رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی طرح یہ حدیث روایت کی ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: The similitude of one who gives a charity and then gets it back is like that of a dog which vomits and then eats its vomit.
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ يَقِيئُ ثُمَّ يَأْکُلُ قَيْئَهُ
ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، بکیر، سعید بن مسیب، حضرت عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کی مثال جو اپنے مال سے صدقہ کرے پھر اپنا صدقہ لوٹائے ایسی ہے جیسے کہ کتے کی مثال جو قے کر کے پھر اپنی قے کھالے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: One who gets back the gift is like one who eats vomit.
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ کَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، سعید بن مسیب، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا اپنے ہبہ کو لوٹانے والا اپنی قے کو لوٹانے والے کی طرح ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: One who gets back the gift is like one who eats vomit.
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ، حضرت قتادہ (رض) سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters.
صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ کَالْکَلْبِ يَقِيئُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
اسحاق بن ابراہیم، مخزومی، وہیب، عبداللہ بن طاو س، حضرت ابن عباس (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے ہبہ کو لوٹانے والا ایسا ہے کہ کتا قے کرے پھر اپنی قے کو لوٹائے۔
Abdullah bin Tawus reported on the authority of his father who reported from Ibn Abas (RA) who reported from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: One who gets back his gift is like a dog which vomits and then swallows that vomit.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِهِ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ أَتَی بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا کَانَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْجِعْهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، محمد بن نعمان بن بشیر، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ اسے اس کے والد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے تو عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام ہبہ کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح ہبہ کیا ہے اس نے کہا نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے لوٹالے
Numan bin Bashir reported that his father brought him to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have donated this slave of mine to my son. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Have you donated to every one of your sons (a slave) like this? He said: No. Thereupon Allahs Messenger (may peace he upon him) said: Then take him back.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَتَی بِي أَبِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَقَالَ أَکُلَّ بَنِيکَ نَحَلْتَ قَالَ لَا قَالَ فَارْدُدْهُ
یحییٰ بن یحیی، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، محمد بن نعمان، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام ہبہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اپنے تمام بیٹوں کو ہبہ کیا اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس سے واپس لے لو۔
Numan bin Bashir reported: My father brought me to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have donated this slave to my son, whereupon he said: Have you made (such) donation to every one of your sons? He said: No. Thereupon he (the-Holy Prophet) said: Then take him back.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا يُونُسُ وَمَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا أَکُلَّ بَنِيکَ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَکُلَّ وَلَدِکَ وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ بَشِيرًا جَائَ بِالنُّعْمَانِ
ابوشیبہ، اسحاق بن ابراہیم ابن ابی عمر، ابن عیینہ، قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری یہ حدیث ان مختلف اسناد سے مروی بھی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with different chains of transmitters and a slight variation of words.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْغُلَامُ قَالَ أَعْطَانِيهِ أَبِي قَالَ فَکُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ کَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَرُدَّهُ
قتیبہ بن سعید، جریر، ہشام بن عروہ، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک غلام عطا کیا تو انہیں نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا یہ غلام کیا ہے ؟ عرض کیا میرے باپ نے اسے مجھے ہبہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کے بھائیوں میں سے سب کو اسی طرح دیا ہے جیسا انہیں عطا کیا ؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے لوٹالے۔
Numan bin Bashir reported that his father had donated a slave to him. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) said: Who is this slave (how have you come to possess it)? Thereupon he (Numan bin Bashir) said: My father has donated it to me, whereupon he said: Have all brothers (of yours) been given this gift as given to you? He said: No. Then he (the Holy Prophet) said: Then return him.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَی صَدَقَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِکَ کُلِّهِمْ قَالَ لَا قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِکُمْ فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْکَ الصَّدَقَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، حصین، شعبی، نعمان بن بشیر، یحییٰ بن یحیی، ابوالاحوص، حصین، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے باپ نے اپنا کچھ مال ہبہ کیا تو میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تو رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنالے میرے والد مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے چلے تاکہ آپ ﷺ کو میرے ہبہ پر گواہ بنائیں۔ تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اپنے سب بیٹوں کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔ میرے والد لوٹے اور ہبہ واپس کرلیا۔
Numan bin Bashir reported: My father donated to me some of his property. My mother Amra bint Rawaha said: I shall not be pleased (with this act) until you make Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a witness to it. My father went to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in order to make him the witness of the donation given to me. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Have you done the same with every son of yours? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Fear Allah, and observe equity in case of your children. My father returned and got back the gift.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا فَالْتَوَی بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ فَقَالَتْ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَا وَهَبْتَ لِابْنِي فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَکَ عَلَی الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَشِيرُ أَلَکَ وَلَدٌ سِوَی هَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَکُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَی جَوْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابی حیان، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ اس کی ماں بنت رواحہ نے اس کے باپ سے اس کے مال میں سے کچھ مال ہبہ کرنے کا سوال کیا۔ انہوں نے ایک سال تک التواء میں رکھا پھر اس کا ارادہ ہوگیا اس کی ماں نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تو رسول اللہ ﷺ کو میرے بیٹے کے ہبہ پر گواہ نہ بنالے۔ تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور ان دنوں میں لڑکا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس کی ماں بنت رواحہ پسند کرتی ہے کہ میں آپ ﷺ کو اس کے بیٹے کے ہبہ پر گواہ بناؤں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بشیر ! کیا اس کے علاوہ بھی تیری اولاد ہے ؟ انہوں نے کہا : انہوں نے کہا جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اسی طرح سب کو ہبہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو مجھے گواہ مت بنا کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔
Numan bin Bashir reported that his mother bint Rawaha asked his (Numans) father about donating some gifts from his property to his son. He deferred the matter by one year, and then set forth to do that. She (Numans mother) said: I shall not be pleased unless you call Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as witness to what you confer as a gift on your son. (Numan said): So father took hold of my hand and I was at that time a boy, and came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . and said: Allahs Messenger, the mother of this son (of mine), daughter of Rawaha wishes that I should call you witness to what I confer as gift to her son. Allahs Messenger (may pease be upon him) said: Bashir, have you any other son besides this (son of yours)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Have you given gifts to all of them like this? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Then call me not as witness, for I cannot be witness to an injustice.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَکَ بَنُونَ سِوَاهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَکُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا أَشْهَدُ عَلَی جَوْرٍ
ابن نمیر، اسماعیل، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے اس بیٹے کے علاوہ بھی بیٹے ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان سب کو بھی تو نے اسی طرح عطا کیا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔
Numan bin Bashir, reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said: Have you, besides him, other sons? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Have you given gifts to all of them like this (as you have given to Numan)? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: I cannot bear witness to an injustice.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِيهِ لَا تُشْهِدْنِي عَلَی جَوْرٍ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، عاصم، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے باپ سے ارشاد فرمایا مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔
Numan bin Bashir (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to his father: Call me not as witness to an injustice.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ وَعَبْدُ الْأَعْلَی ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ کَذَا وَکَذَا مِنْ مَالِي فَقَالَ أَکُلَّ بَنِيکَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا قَالَ فَأَشْهِدْ عَلَی هَذَا غَيْرِي ثُمَّ قَالَ أَيَسُرُّکَ أَنْ يَکُونُوا إِلَيْکَ فِي الْبِرِّ سَوَائً قَالَ بَلَی قَالَ فَلَا إِذًا
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عبدالاعلی، اسحاق بن ابراہیم، یعقوب دورقی، ابن علیہ، اسماعیل بن ابراہیم، داؤد بن ابی ہند، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ گواہ بن جائیں اس پر کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے اتنا اتنا ہبہ کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے نعمان کی طرح اپنے بیٹوں کو ہبہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس پر میرے علاوہ کسی دوسرے کو گواہ بنا۔ پھر فرمایا کیا تو خوش ہے اس بات پر کہ وہ سب تیرے لئے نیکی میں برابر ہوں ؟ تو انہوں (والد) نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر ایسا مت کر۔
Numan bin Bashir (RA) reported: My father took me to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, bear witness that I have given such and such gift to Numan from my property, whereupon he (the Holy Prophet) said: Have you conferred upon all of your sons as you have conferred upon Numan? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Call someone else besides me as a witness. And he further said: Would it, please you that they (your children) should all behave virtuously towards you? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then dont do that (i e. dont give gift to one to the exclusion of others).
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا ثُمَّ أَتَی بِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ فَقَالَ أَکُلَّ وَلَدِکَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا قَالَ لَا قَالَ أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمْ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا قَالَ بَلَی قَالَ فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا فَقَالَ إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا أَنَّهُ قَالَ قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ
احمد بن عثمان نوفلی، ازہر، ابن عون، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ہبہ کیا۔ پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے تاکہ آپ ﷺ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ عطا کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو جیسے اس سے نیکی کا ارادہ کرتا ہے کہ اسی طرح ان سے نیکی کا ارادہ نہیں کرتا ؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں گواہ نہیں بنتا۔ ابن عون نے کہا میں نے حدیث محمد سے بیان کی۔ انہوں نے کہا مجھے یہ حدیث اسی طرح بیان کی گئی کہ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بیٹوں میں برابری کرو۔
Numan bin Bashir reported: My father conferred a gift upon me, and then brought me to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to make him a witness (to it). He (the Holy Prophet) said: Have you given such gift to every son of yours (as you have given to Numan)? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Dont you expect goodness from them as you expect from him? He said: Yes. of course. He (the Holy Prophet) said: I am not going to bear witness to it (as it is injustice). Ibn Aun (one of the narrators) said: I narrated this hadith to Muhammad (the other narrator) who said: Verily we narrated that lie (the Holy Prophet) had said: Observe equity amongst your children.
ہبہ میں بعض اولا کو زیادہ دینے کی کر اہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَتْ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَکَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَکُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَی حَقٍّ
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ بشیر کی بیوی نے کہا میرے بیٹے کے لئے اپنا غلام ہبہ کردو اور اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنالو۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے کہا ہے کہ میں اپنا غلام اس کے بیٹے کو ہبہ کردوں اور اس نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا اس کے اور بھائی ہیں اس نے کہا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا ان سب کو تو نے دیا ہے جس طرح تو نے اسے عطا کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ درست نہیں ہے اور میں حق کے علاوہ کسی بات پر گواہ نہیں بنتا۔
Jabir (RA) reported that the wife of Bashir said (to her husband): Give to my son your slave as a gift, and make for me Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a witness He came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: The daughter of so and so (his wife Amra bint Rawaha) asked me to give my slave as a gift to her son, and call for me Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a witness. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Has he (Numan) brothers? He (Bashir) said: Yes. He (further) said: Have you given to all others as you have given to him? He said: No. He said: Then it is not fair; and verily I cannot bear witness but only to what is just.