حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَی لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيَهَا لَا تَرْجِعُ إِلَی الَّذِي أَعْطَاهَا لِأَنَّهُ أَعْطَی عَطَائً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ
یحییٰ بن یحیی، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخض کو اس کے لئے اور اس کے ورثاء کے لئے عمر بھر کے لئے ہبہ کی گئی تو یہ ہبہ اس کے لئے ہے جسے دیا گیا ہے۔ جس نے اسے دیا ہے اس کی طرف نہیں لوٹے گا کیونکہ اس نے ایسی عطا کی ہے جس میں وراثت جاری ہوگئی۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Whoever a person is gifted a life grant, then it is for him (belongs to him and to his posterity, for it belongs to him who has been gven it). It would not return to him who gave it for he conferred it as a gift (it becomes the property of the donee and as such) rules of inheritance will apply to it.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَی لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا وَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ غَيْرَ أَنَّ يَحْيَی قَالَ فِي أَوَّلِ حَدِيثِهِ أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَی فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، ابن شہاب، ابی سلمہ، حضرت جابر (رض) بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ جس نے کسی آدمی اور اس کہ ورثاء کو کوئی چیز تاعمر کے لئے ہبہ کی تو اس کے قول نے اس چیز میں اس کے حق کو ختم کردیا اور یہ اسی اور اس کے ورثاء کے لئے ہے جس کو ہبہ کی گئی ہے اور یحییٰ کی حدیث میں یہ اس کے لئے ہے جس کو کوئی چیز عمر بھر کے لئے ہبہ کی گئی تو یہ اس کے لئے اور اس کے ورثاء کہ لئے ہے
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger (may peace be upan him) as saying: He who conferred a life grant upon a person, it becomes his possession and that of his successors, for he surrendered his right in that by his declaration. (This property) now belongs to one to whom this lifelong grant has been made, and to his successors. Yahya narrated in the beginning of his narration: Whatever man is given a life grant, then it belongs to him and his posterity.
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الْعُمْرَی وَسُنَّتِهَا عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَی لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَالَ قَدْ أَعْطَيْتُکَهَا وَعَقِبَکَ مَا بَقِيَ مِنْکُمْ أَحَدٌ فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَی صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَی عَطَائً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ
عبدالرحمن ابن بشر عبدی، عبدالرزاق، ابن جریج، شہاب، عمری، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی کو اس کے لئے اور اس کے ورثاء کے لئے کوئی چیز عمر بھر کے لئے ہبہ کی تو اسے کہا میں نے یہ چیز تجھے اور تیرے ورثاء کو ہبہ کی جب تک تم میں سے کوئی بھی باقی رہے تو یہ اسی کی ہے جسے عطا کی گئی ہے اور چیز اپنے مالک کی طرف اس وجہ سے نہیں لوٹے گی کیونکہ اس نے جب کوئی چیز ہبہ کردی تو اس میں وراثت جاری ہوگئی۔
Jabir bin Abdullah al-Ansari (RA) said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Whoever a person conferred Umrah (life grant) upon a person and he says: I confer upon you this and upon your descendants and anyone who survives you, and that becomes his possession and that of his posterity. It would become (a permanent possession) of those who were conferred upon this gift, and it would not return to its owner (donor), for he gave that as a gift in which accrued the right of inheritance.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ إِنَّمَا الْعُمْرَی الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ هِيَ لَکَ وَلِعَقِبِکَ فَأَمَّا إِذَا قَالَ هِيَ لَکَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَی صَاحِبِهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَکَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی سلمہ، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے وہ تاعمر ہبہ جسے رسول اللہ ﷺ نے جائز رکھا یہ ہے کہ ہبہ کرنے والا کہے : یہ تیرے لئے اور ورثاء کے لئے اور جب اس نے یہ کہا کہ تیری زندگی میں تیرے لئے ہے تو پھر وہ چیز اپنے اصل مالک کی طرف لوٹ جائے گی معمر نے کہا امام زہری اسی کہ مطابق فتوی دیتے تھے
Jabir (RA) said: The Umrah for which Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave sanction that a person way say: This (property) is for you and for your descendants. And when he said: That is for you as long as you live, then it will return to its owner (after the death of the donee). Mamar said: Zuhri used to give religious verdict according to this.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَی لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ بَتْلَةً لَا يَجُوزُ لِلْمُعْطِي فِيهَا شَرْطٌ وَلَا ثُنْيَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ لِأَنَّهُ أَعْطَی عَطَائً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ فَقَطَعَتْ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ
محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے اور وہ حضرت عبداللہ کے بیٹے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کہ بارے میں فیصلہ فرمایا جسے اس کے لئے اور اس کہ ورثا کے لئے تاعمر ہبہ کیا گیا وہ یقینی طور پر اسی کے لئے ہے ہبہ کرنے والے کے لئے اس میں شرط لگانا اور استثنیٰ کرنا جائز نہیں ابوسلمہ نے کہا کیونکہ اس کی شرط منقطع کردی۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded that whoever is conferred upon a life grant along with his descendants is entitled to make use of the property conferred so long as he lives and his successors (also enjoy this privilege). That (property) becomes the their defect belonging. The donor cannot (after declaring Umrah) lay down any condition or make any exception. Abu Salama said: For he conferred a grant and as such it becomes heritage. and the right of inheritance abrogated his condition.
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمْرَی لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ
عبیداللہ بن عمر قواریری، خالد بن حارث، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تاعمر ہبہ اس کے لئے ہے جس کو ہبہ کیا گیا ہو۔
Jabir (b. Abdullah) (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Life grant is for one upon whom it is bestowed.
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اسی طرح فرمایا۔
Jabir bin Abdullah reported a hadith like this through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ يَرْفَعُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے جسے انہوں نے نبی ﷺ سے مرفوعاً بیان ہے۔
Jabir reported this hadith directly from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِکُوا عَلَيْکُمْ أَمْوَالَکُمْ وَلَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَی فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابی زبیر، جابر (رض) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے اموال کو روکے رکھو اور اس میں فساد نہ کرو کیونکہ جس شخص نے عمر بھر ہبہ کیا تو اسی کے لئے ہے جسے ہبہ کیا گیا اور اس کے وارثوں کا ہے خواہ زندہ ہو یا مرجائے۔
Jabir (b. Abdullah) (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: Keep your property to yourselves and do not squander it, for he who conferred a life grant upon another that property will belong to him upon whom it is conferred whether he lives or dies, and (would pass on) to his successors (as heritage).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَکِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ وَفِي حَدِيثِ أَيُّوبَ مِنْ الزِّيَادَةِ قَالَ جَعَلَ الْأَنْصَارُ يُعْمِرُونَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِکُوا عَلَيْکُمْ أَمْوَالَکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، حجاج بن ابی عثمان، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، عبدالوارث بن عبدالصمد، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اسی طرح جیسے ابی خیثمہ کی حدیث میں ہے اور ایوب کی حدیث میں یہ زیادتی انصار مہاجرین کو تاعمر ہبہ کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مالوں کو اپنے پاس روک رکھو۔
This hadith is narrated on the authority of Jabir through other chains of transmitters, but (with this addition of words) that thehadith transmitted on the authority of Ayyub (these words are found):" The Helpers (Ansar) conferred the benefit of Umrah, upon the Emigrants (Muhajirin), whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Keep your property to yourselves.
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْمَرَتْ امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابْنًا لَهَا ثُمَّ تُوُفِّيَ وَتُوُفِّيَتْ بَعْدَهُ وَتَرَکَتْ وَلَدًا وَلَهُ إِخْوَةٌ بَنُونَ لِلْمُعْمِرَةِ فَقَالَ وَلَدُ الْمُعْمِرَةِ رَجَعَ الْحَائِطُ إِلَيْنَا وَقَالَ بَنُو الْمُعْمَرِ بَلْ کَانَ لِأَبِينَا حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَی طَارِقٍ مَوْلَی عُثْمَانَ فَدَعَا جَابِرًا فَشَهِدَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَی لِصَاحِبِهَا فَقَضَی بِذَلِکَ طَارِقٌ ثُمَّ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ فَأَخْبَرَهُ ذَلِکَ وَأَخْبَرَهُ بِشَهَادَةِ جَابِرٍ فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ صَدَقَ جَابِرٌ فَأَمْضَی ذَلِکَ طَارِقٌ فَإِنَّ ذَلِکَ الْحَائِطَ لِبَنِي الْمُعْمَرِ حَتَّی الْيَوْمِ
محمد بن رافع، اسحاق بن منصور، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت نے اپنا باغ اپنے بیٹے کو ہبہ کیا پھر وہ فوت ہوگیا اور اس کہ بعد وہ عورت بھی فوت ہوگئی اور اولاد چھوڑی جو اس مرنے والے کے بیٹے اور بھائی تھے جو عمر ہبہ کرنے والی عورت کے بیٹے تھے تو ہبہ کرنے والی عورت کی اولاد نے کہا باغ ہماری طرف لوٹ آیا اور جسے عمر بھر کے لئے ہبہ کیا گیا اس کے بیٹے نے کہا بلکہ یہ ہمارے باپ ہی کے لئی ہے اس کی زندگی اور موت میں انہوں نے حضرت طارق کے پاس اپنا جھگڑا پیش کیا جو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام تھے تو انہوں نے حضرت جابر (رض) کو بلوایا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے قول پر گواہی دیتے ہوئے کہا کہ یہ باغ اسی کا ہے جسے تاعمر کے لئے ہبہ کیا گیا ہے تو طارق نے اسی پر فیصلہ کردیا پھر عبدالملک کو لکھ کر اس کی خبر دی اور اسے حضرت جابر (رض) کی شہادت و گواہی کی بھی خبر دی تو عبدالملک نے کہا جابر نے سچ کہا ہے طارق نے اس کے مطابق حکم جاری کردیا اور وہ باغ آج تک ہبہ کئے ہوئے کے لڑکوں کے پاس ہے۔
Jabir (RA) reported that a woman gave her garden as a life grant to her son. He died and later on she also died and left a son behind and brothers also, The sons of the woman making life grant said (to those who had been conferred upon this Umrah): This garden has returned to us. The sons of the one who had been given life grant said: This belonged to our father, during his lifetime and in case of his death. They took their dispute to Tariq, the freed slave of Uthman. He called Jabir and he gave testimony of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: Life grant belongs to one who is conferred upon this (privilege). Tariq gave this decision and then wrote to Abdul Malik and informed him, Jabir bearing witness to it. Abdul Malik said: Jabir has told the truth. Then Tariq gave a decree and, as a result thereof, it is to this day that the garden belongs to descendants of one who was conferred upon the life grant.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ طَارِقًا قَضَی بِالْعُمْرَی لِلْوَارِثِ لِقَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابی بکر، اسحاق، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طارق نے عمر بھر کے ہبہ کا فیصلہ وراث کے لئے کیا حضرت جابر (رض) کے رسول اللہ ﷺ سے قول کی وجہ سے۔
Sulaiman bin Yasir reported that Jabir gave this verdict. The inheritor has a right (to inherit) the life grant according to the statement of Jabir (b. Abdullah) (RA) which he narrated from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَی جَائِزَةٌ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تاعمر ہبہ جائز ہے۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Life grant is permissible.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعُمْرَی مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، سعید بن قتادہ، عطاء، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تاعمر ہبہ اس اہل و عیال کے لئے میراث ہے جسے ہبہ کیا گیا ہے۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Life grant is permissible.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَی جَائِزَةٌ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، نضرا بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تاعمر ہبہ کرنا جائز ہے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Life grant is the heritage of one upon whom it is conferred.
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا أَوْ قَالَ جَائِزَةٌ
یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث، سعید، حضرت قتادہ (رض) سے بھی اس سند سے یہ حدیث مروی ہے کہ تاعمر ہبہ اس اہل و عیال کے لئے میراث ہے یا فرمایا عمری جائز ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Life grant is permissible. This ha: dith is narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَکْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
ابوخیثمہ، زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، ابن سعید قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس مسلمان کے لئے مناسب نہیں جس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہو کہ وہ دو راتیں گزار دے سوائے اس کے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is the duty of a Muslim who has something which is to be given as a bequest not to have it for two nights without having his will written down regarding it.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا وَلَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ وَلَمْ يَقُولَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، حضرت عبیداللہ (رض) سے بھی دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مبارکہ مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اس کے کوئی چیز ہو جس میں وصیت ہوسکتی ہو۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس میں وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters. but with a slight variation of words.
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَقَالُوا جَمِيعًا لَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ فَإِنَّهُ قَالَ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ کَرِوَايَةِ يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
ابوکامل حجدری، حماد ابن زید، زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، ایوب، ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ بن زید لیثی، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ہشام ابن سعد، نافع، ابن عمران مختلف اسانید سے حضرت ابن عمر (رض) کی نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث مروی ہے کہ اس کے پاس قبل وصیت کوئی چیز ہو۔ ایوب کی حدیث میں ہے کہ وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو یحییٰ عن عبیداللہ کی روایت کی طرح۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Nafi, who based his narrations of the words of Ibn Umar but with a slight variation of words.
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَکْتُوبَةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِکَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، ابن شہاب، سالم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ کسی مسلمان مرد کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی چیز قابل وصیت ہو اور وہ وصیت اپنے پاس لکھ کر رکھے بغیر تین راتیں گزار دے۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے فرمایا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری کہ جس میں میری وصیت میرے پاس موجود نہ ہو
Salim reported on the authority of his father (Abdullah bin Umar (RA) ) that he (his father) had heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is not proper for a Muslim who has got something to bequeathe to spend even three nights without having his will written down with him regarding it. Abdullah bin Umar (RA) said: Ever since I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say this I have not spent a night without having my will (written) along with me.