و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن ابی عمر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری سے مختلف اسانید کے ساتھ یہ حدیث کی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَی الْمَوْتِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي مَا تَرَی مِنْ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قَالَ قُلْتُ أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ لَا الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّی اللُّقْمَةُ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّکَ تُخَلَّفُ حَتَّی يُنْفَعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ قَالَ رَثَی لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَکَّةَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، عامر بن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت ایسے درد میں کی جس میں موت کے قریب ہوگیا تھا۔ عرض کیا اے اللہ کہ رسول ! آپ ﷺ جانتے ہیں کہ جیسا درد مجھے پہنچا ہے میں مالدار ہوں اور میرا، میری ایک بیٹی کہ سوا کوئی وارث نہیں۔ کیا میں اپنے مال سے دو تہائی خیرات کردوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا کیا میں نصف خیرات کردوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ تہائی اور تہائی بہت ہے بیشک اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑے یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں تنگ دست لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا چھوڑے اور تو جو مال بھی خرچ کرتا ہے کہ اس سے اللہ کی رضا کا طالب ہوتا ہے تو اس پر تجھے اجر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد پیچھے رہ جاؤں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو ہرگز پیچھے نہ رہے گا اگر تو کوئی بھی عمل کرے گا جس سے اللہ کی رضا کا طالب ہوگا تو اس سے تیرا ایک درجہ بلند ہوگا اور بڑھے گا اور شاید تو پیچھے رہے یہاں تک کہ تیرے ذریعے لوگوں کو نفع دیا جائے گا اور دوسروں کو نقصان۔ اے اللہ ! میرے صحابہ (رض) کے لئے ان کی ہجرت کو پورا فرما دے اور ان کو اپنی ایڑھیوں پر واپس نہ لوٹا لیکن سعد بن خولہ نقصان اٹھانے والا ہے اور آپ ﷺ نے اس کے لئے افسوس کا اظہار فرمایا اس وجہ سے مکہ میں فوت ہوا۔
Amir bin Sad reported on the authority of his father (Sad bin Abi Waqqas): Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited me in my illness which brought me near death in the year of Hajjat-ul-Wada (Farewell Pilgrimage). I said: Allahs Messenger, you can well see the pain with which I am afflicted and I am a man possessing wealth, and there is none to inherit me except only one daughter. Should I give two-thirds of my property as Sadaqa? He said: No. I said: Should I give half (of my property) as Sadaqa? He said: No. He (further) said: Give one-third (in charity) and that is quite enough. To leave your heirs rich is better than to leave them poor, begging from people; that you would never incur an expense seeking therewith the pleasure of Allah, but you would be rewarded therefore, even for a morsel of food that you put in the mouth of your wife. I said: Allahs Messenger would I survive my companions? He (the Holy Prophet) said: If you survive them, then do such a deed by means of which you seek the pleasure of Allah, but you would increase in your status (in religion) and prestige; you may survive so that people would benefit from you, and others would be harmed by you. (The Holy Prophet) further said: Allah, complete for my Companions their migration, and not cause them to turn back upon their heels. Sad bin Khaula is, however, unfortunate. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) felt grief for him as he had died in Makkah.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، حرملہ، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری سے مختلف اسناد کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ يَعُودُنِي فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَانَ يَکْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا
اسحاق بن منصور، ابوداود، سفیان، سعد بن ابراہیم، عامربن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔ باقی حدیث زہری کی حدیث کی طرح ذکر کی ہے لیکن سعد بن خولہ (رض) کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا قول ذکر نہیں کیا لیکن یہ فرمایا کہ حضرت سعد (رض) اس زمین میں مرنا ناپسند کرتے تھے جہاں سے انہوں نے ہجرت کی تھی۔
Amir bin Sad reported from Sad (b. Abu Waqqas): Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited me to inquire after my health, the rest of the hadith is the same as transmitted on the authority of Zuhri, but he did not make mention of the words of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in regard to Sad bin Khaula except this that he said: "He (the Holy Prophet) did not like death in the land from which he had migrated."
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ فَأَبَی قُلْتُ فَالنِّصْفُ فَأَبَی قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ فَسَکَتَ بَعْدَ الثُّلُثِ قَالَ فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا
زہیر بن حرب، حسن بن موسی، زہیر، سماک بن حرب، مصعب بن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ میں بیمار ہوا تو میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس پیغام بھیجا۔ میں نے عرض کیا مجھے آپ اپنے مال کے تقسیم کرنے کی اجازت دے دیں۔ جیسے میں چاہوں۔ آپ ﷺ نے انکار فرمایا۔ میں نے نصف کے لئے عرض کیا تو بھی آپ ﷺ نے انکار فرمایا میں نے تہائی کے لئے عرض کیا تو تہائی کے بعد آپ ﷺ خاموش رہے کہتے ہیں تو اس کے بعد ایک تہائی جائز ہوگیا۔
Musab bin Sad reported on the authority of his father. I was ailing. I sent message to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: Permit me to give away my property as I like. He refused. I (again) said: (Permit me) to give away half. He (again refused). I (again said): Then one-third. He (the Holy Prophet) observed silence after (I had asked permission to give away) one-third. He (the narrater) said: It was then that endowment of one-third became permissible.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک، حضرت سماک سے روایت ہے کہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد تہائی جائز ہوگیا کو ذکر نہیں کیا
This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters. But he did not mention: "It was then that one-third became permissible."
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُوصِي بِمَالِي کُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالنِّصْفُ قَالَ لَا فَقُلْتُ أَبِالثُّلُثِ فَقَالَ نَعَمْ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ
قاسم بن زکریا، حسین بن علی، زائدہ، عبدالملک بن عمیر، مصعب بن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ میں نے آدھے کے لئے عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا کیا تہائی کے لئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور تہائی کے لئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور تہائی بہت ہے۔
Ibn Sad reported his father as saying: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited me during my illness. I said: I am willing away the whole of my property. He said: No. I said: Then half? He said: No. I said: Should I will away one-third? He said: Yes, and even one-third is enough.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ کُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَکَّةَ فَبَکَی قَالَ مَا يُبْکِيکَ فَقَالَ قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا کَمَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا کَثِيرًا وَإِنَّمَا يَرِثُنِي ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي کُلِّهِ قَالَ لَا قَالَ فَبِالثُّلُثَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَالنِّصْفُ قَالَ لَا قَالَ فَالثُّلُثُ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّ صَدَقَتَکَ مِنْ مَالِکَ صَدَقَةٌ وَإِنَّ نَفَقَتَکَ عَلَی عِيَالِکَ صَدَقَةٌ وَإِنَّ مَا تَأْکُلُ امْرَأَتُکَ مِنْ مَالِکَ صَدَقَةٌ وَإِنَّکَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَکَ بِخَيْرٍ أَوْ قَالَ بِعَيْشٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَقَالَ بِيَدِهِ
محمد بن ابی عمرم کی، ثقفی، ایوب سختیانی، عمرو بن سعید، حمید بن عبدالرحمن حمیری، حضرت سعد (رض) کے تینوں بیٹوں نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے نبی کریم ﷺ مکہ میں حضرت سعد (رض) کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو وہ رو نے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کس چیز نے رلا دیا تو عرض کیا میں ڈرتا ہو کہ میں اس زمین میں مرجاؤں جہاں سے میں نے ہجرت کی جیسا کہ سعد بن خولہ فوت ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ ! سعد کو شفاء دے۔ سعد نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ میرے پاس بہت کثیر مال و دولت ہے اور میری وارث میری بیٹی ہے کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے عرض کی دو تہائی کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے عرض کی آدھے کی آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے عرض کی ایک تہائی کی آپ ﷺ نے فرمایا تہائی کی اور تہائی بہت ہے اور تیرے اپنے مال سے صدقہ کرنا بھی صدقہ ہے اور تیرا اہل و عیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اور یہ کہ تو اپنے اہل و عیال کو خوشحالی میں چھوڑے تو یہ بہتر ہے اس سے کہ تو انہیں اس حال میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوں اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کہ یہ ارشاد فرمایا۔
Humaid bin Abdul Rahman al-Himyari reported from three of the sons of Sad all of whom reported from their father that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited Sad as he was ill in Makkah. He (Sad) wept. He (the Holy Prophet) said: What makes you weep? He said: I am afraid I may die in the land from where I migrated as Sad bin Khaula had died. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, grant health to Sad. O Allah, grant health to Sad. He repeated it three times. He (Sad) said: Allahs Messenger, I own a large property and I have only one daughter as my inheritor. Should I not will away the whole of my property? He (the Holy Prophet) said: No. He said: (Should I not will away,) two-thirds of the property? he (the Holy Prophet) said: No. He (Sad) (again) said: (Should I not will away) half (of my property)? He said: No. He (Sad) said: Then one-third? Thereupon he (the Holy Prophet) said: (Yes), one-third, and one-third is quite substantial. And what you spend as charity from your property is Sadaqa and flour spending on your family is also Sadaqa, and what your wife eats from your property is also Sadaqa, and that you leave your heirs well off (or he said: prosperous) is better than to leave them (poor and) begging from people. He (the Holy Prophet) pointed this with his hands.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ قَالُوا مَرِضَ سَعْدٌ بِمَکَّةَ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ
ابوربیع عتکی، حماد، ایوب، عمرو بن سعد، حمید بن عبدالرحمن حمیری، حضرت سعد (رض) کہ تین بیٹوں سے روایت ہے کہ حضرت سعد (رض) مکہ میں بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ باقی حدیث ثقفی کی حدیث کی طرح ہے۔
Humaid bin Abdul Rahmin al-Himayri reported on the authority of the three of the sons of Sad: They said: Sad fell ill in Makkah. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited him to inquire after his health. The rest of the hadith is the same.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ کُلُّهُمْ يُحَدِّثُنِيهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ صَاحِبِهِ فَقَالَ مَرِضَ سَعْدٌ بِمَکَّةَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ہشام، محمد، حمید بن عبدالرحمن، حضرت سعد بن مالک (رض) کہ بیٹوں نے ایک دوسرے کی طرح حدیث روایت کی ہے کہ حضرت سعد مکہ میں بیمار ہوگئے تو نبی کریم ﷺ ان کی تیمارداری کے لئے تشریف لائے۔ باقی حدیث حمید حمیری کی حدیث کی طرح ہے۔
Humaid bin Abdul Rahman reported this hadith on the authority of three of Sads sons: Sad fell ill in Makkah and Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited him. The rest of the hadith is the same.
تہائی مال کی وصیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنْ الثُّلُثِ إِلَی الرُّبُعِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ وَفِي حَدِيثِ وَکِيعٍ کَبِيرٌ أَوْ کَثِيرٌ
ابراہیم بن موسیٰ رازی، عیسیٰ یعنی ابن یونس، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، عروہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ کاش لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی میں وصیت کریں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ثلث کی اجازت دی اور ارشاد فرمایا ثلث (تہائی) بہت ہے وکیع کی حدیث میں ہے کہ بہت ہے اور کثیر ہے۔
Ibn Abbas (RA) said: (I wish) if people would reduce from third to fourth (part for making a will of their property), for Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: So far as the third (part) is concerned it is quite substantial. In the hadith transmitted on the authority of Waki (the words are) "large" or "much".
میت کو صدقات کا ثواب پہنچنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَکَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُکَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل ابن جعفر، الاعلاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میرا باپ فوت ہوگیا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے لیکن وصیت نہیں کی تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کے گناہ معاف کئے جائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔
Abu Hurairah (RA) reported that a person said to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : My father died and left behind property without making any will regarding it. Would he be relieved of the burden of his sin if I give sadaqa on his behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes.
میت کو صدقات کا ثواب پہنچنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَلِي أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں اچانک فوت ہوگئی ہے اور میرا اس کے بارے میں گمان ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو صدقہ کرتی تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں تو مجھے ثواب ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that a man said to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : My mother died all of a sudden, and I think if she (could have the opportunity) to speak she would have (made a will) regarding Sadaqa. Will I be entitled to reward if I give charity on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes.
میت کو صدقات کا ثواب پہنچنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا ہے لیکن اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور میرا اس کے بارے میں گمان ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو صدقہ کرتی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کے لئے ثواب ہوگا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that a man came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, my mother died all of a sudden without making any will. I think if (she could have the opportunity) to speak she would have made a Sadaqa. Would there be any reward for her if I give charity on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes.
میت کو صدقات کا ثواب پہنچنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ وَرَوْحٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا فَهَلْ لِي أَجْرٌ کَمَا قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَأَمَّا شُعَيْبٌ وَجَعْفَرٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا أَفَلَهَا أَجْرٌ کَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ
ابوکریب، ابواسامہ، حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، امیہ بن بسطام، یزید یعنی ابن زریع، روح، ابن قاسم، ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، ہشام بن عروہ، یحییٰ بن سعید، شعیب، جعفر مختلف اسانید کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے۔ معنی اور مفہوم ایک ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham bin Urwa with the same chain of transmitters.
مر نے کے بعد کو انسان کو کس چیز کا ثواب ملتا رہتا ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، العلاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When a man dies, his acts come to an end, but three, recurring charity, or knowledge (by which people) benefit, or a pious son, who prays for him (for the deceased).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُبْتَاعُ وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ قَالَ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَائِ وَفِي الْقُرْبَی وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْکُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَکَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْکِتَابَ أَنَّ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا
یحییٰ بن یحیی، تمیمی، سلیم بن اخضر، ابن عون، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو خبیر میں زمین ملی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس اس کا مشورہ کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔ آپ ﷺ مجھے اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو۔ تو حضرت عمر (رض) نے اسے اس شرط پر وقف کیا کہ اس کی ملکیت نہ فروخت کی جائے نہ خریدی جائے اور نہ میراث بنے اور نہ ہبہ کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اسے فقراء اور رشتہ داروں اور آزاد کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مہمانوں میں صدقہ کردیا اور جو اس کا منتظم ہو وہ اس میں سے نیکی کے ساتھ کھائے یا اپنے دوستوں کو جمع کئے بغیر کھلائے راوی نے کہا میں نے یہ حدیث جب محمد بن سیرین کے سامنے بیان کی تو جب میں غیر متمول فیہ میں پہنچا تو محمد (رح) نے غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ فرمایا ابن عون نے کہا مجھے اس نے خبر دی جس نے یہ کتاب پڑھی کہ اس میں غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا تھا
Ibn Umar (RA) reported: Umar acquired a land at Khaibar. He came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and sought his advice in regard to it. He said: Allahs Messenger, I have acquired land in Khaibar. I have never acquired property more valuable for me than this, so what do you command me to do with it? Thereupon he (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If you like, you may keep the corpus intact and give its produce as Sadaqa. So Umar gave it as Sadaqa declaring that property must not be sold or inherited or given away as gift. And Umar devoted it to the poor, to the nearest kin, and to the emancipation of slaves, aired in the way of Allah and guests. There is no sin for one, who administers it if he eats something from it in a reasonable manner, or if he feeds his friends and does not hoard up goods (for himself). He (the narrator) said: I narrated this hadith to Muhammad, but as I reached the (words) "without hoarding (for himself) out of it." he (Muhammad said: "without storing the property with a view to becoming rich." Ibn Aun said: He who read this book (pertaining to Waqf) informed me that in it (the words are) "without storing the property with a view to becoming rich."
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَأَزْهَرَ انْتَهَی عِنْدَ قَوْلِهِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ وَلَمْ يُذْکَرْ مَا بَعْدَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فِيهِ مَا ذَکَرَ سُلَيْمٌ قَوْلُهُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا إِلَی آخِرِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی زائدہ، اسحاق، ازہر السمان، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں جو کہ ازہر کی روایت کے مطابق غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فیہ تک ختم ہوگئی ہے اور ابن عدی سے روایت ہے کہ اس بارے میں سلیم نے ذکر کیا کہ میں نے یہ حدیث محمد بن سیرین سے آخر تک بیان کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Aun with the same chain of transmitters up to the words: "Or he may feed the friend without hoarding from it" and he made no mention of what follows.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا أَحَبَّ إِلَيَّ وَلَا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ فَحَدَّثْتُ مُحَمَّدًا وَمَا بَعْدَهُ
اسحاق بن ابراہیم، ابوداود، عمر بن سعد، سفیان، ابن عون، نافع، ابن عمر، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے زمین خیبر سے زمین ملی تو رسول اللہ ﷺ کہ پاس آیا اور میں نے عرض کیا مجھے ایسی زمین ملی جیسا کوئی مال مجھے نہ پسند ہے اور نہ ہی میرے نزدیک عمدہ ہے باقی حدیث گزر چکی ہے۔
Umar reported: I acquired land from the lands of Khaibar. I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have acquired a piece of land. Never have I acquired land more loved by me and more cherished by me than this. The rest of the hadith is the same, but he made no mention of this: "I narrated it to Muhammad" and what follows.
جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی هَلْ أَوْصَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا قُلْتُ فَلِمَ کُتِبَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَی بِکِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبدالرحمن بن مہدی، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی تو انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تو پھر مسلمان پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے یا انہیں وصیت کا حکم کیوں دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کہ آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی وصیت کی
Talha bin Musarrif reported: I asked Abdullah bin Abu Aufa whether Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had made any will (in regard to his property). He said: No. I said: Then why has making of will been made necessary for the Muslims, or why were they commanded to make will? Thereupon he said: He made the will according to the Book of Allah, the Exalted and Majestic.