جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ قُلْتُ فَکَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قُلْتُ کَيْفَ کُتِبَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، مالک بن مغول، اسی حدیث کی دو اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت وکیع (رح) کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ میں نے کہا لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں دیا گیا اور ابن نمیر کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ میں نے کہا مسلمان پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے ؟
This hadith has been narrated on the authority of Malik bin Mighwal with the same chain of transmitters but with a slight variation of words. In the hadith related by Waki (the words are) "I said: How have the people been ordered about the will"; and in the hadith of Ibn Numair (the words are): "How has the will been prescribed for the Muslims, .
جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَی بِشَيْئٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، ابی وائل، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دینار نہ چھوڑا نہ درہم۔ بکری نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔
Aisha reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) left neither dinar nor dirham (wealth in the form of cash), nor goats (and sheep), nor camels. And he made no will about anything (in regard to his material possessions, as he had none)
جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیربن حرب و عثمان بن ابی شیبہ و اسحاق بن ابراہیم، جریر، علی بن خشرم، عیسیٰ و ہو ابن یونس، اعمش سے بھی یہ حدیث ان اسناد سے مروی۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ ذَکَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا کَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ فَقَدْ کُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَی صَدْرِي أَوْ قَالَتْ حَجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیۃ، ابن عون، ابراہیم، حضرت اسود بن یزید سے روایت ہے کہ لوگوں نے سیدہ عائشہ (رض) کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی (رض) وصی تھے۔ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا آپ ﷺ نے انہیں کب وصی بنایا ؟ حالانکہ آپ ﷺ نے میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی یا میری گود میں اور آپ ﷺ نے ایک طشت منگوایا پھر آپ ﷺ میری گود میں گرپڑے اور مجھے آپ ﷺ کے وصال کا علم بھی نہ ہوا تو آپ ﷺ نے سیدنا علی (رض) کے لئے کب وصیت کی۔
Aswad bin Yazid reported: It was mentioned before Aisha that will had been made (by the Holy Prophet) in favour of Ali (as the Prophets first caliph), whereupon she said: When did he make will in his favour? I had been providing support to him (to the Holy Prophet) with my chest (or with my lap). He asked for a tray, when he fell in my lap (relaxing his body), and I did not realise that he had breathed his last. When did he make any will in his (Alis) favour?
جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَکَی حَتَّی بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَی فَقُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ وَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ قَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ أُوصِيکُمْ بِثَلَاثٍ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهُمْ قَالَ وَسَکَتَ عَنْ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، سلیمان، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے جمعرات کے دن فرمایا جمعرات کا دن کیا ہے ؟ پھر رو دئیے یہاں تک کہ آنسوؤں نے کنکریوں کو تر کردیا میں نے عرض کیا اے ابن عباس (رض) جمرات کا دن کیا ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے درد میں شدت ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس (قلم وغیرہ) لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے ایسی کتاب لکھ دوں کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو گے۔ لوگوں نے جھگڑا کیا حالانکہ نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑا مناسب نہ تھا اور صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا آپ ﷺ کا کیا حال ہے کیا آپ ﷺ جدا ہو رہے ہیں ؟ پھر آپ ﷺ سے سمجھ لو۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو اور جس امر میں میں مشغول ہوں وہ بہتر ہے میں تمہیں تین باتوں کی وصیت کرتا ہوں مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور وفود کو پورا پورا اسی طرح دو جس طرح میں انہیں پورا پورا ادا کرتا ہوں اور ابن عباس (رض) تیسری بات سے خاموش ہوگئے یا آپ نے فرمایا لیکن میں اسے بھول گیا۔
Said bin Jubair reported that Ibn Abbas said: Thursday, (and then said): What is this Thursday? He then wept so much that his tears moistened the pebbles. I said: Ibn Abbas, what is (significant) about Thursday? He (Ibn Abbas) said: The illness of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took a serious turn (on this day), and he said: Come to me, so that I should write for you a document that you may not go astray after me. They (the Companions around him) disputed, and it is not right to dispute in the presence of the Apostle. They said: How is he (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? Has he lost his consciousness? Try to learn from him (this point). He (the Holy Prophet) said: Leave me. I am better in the state (than the one in which you are engaged). I make a will about three things: Turn out the polytheists from the territory of Arabia; show hospitality to the (foreign) delegations as I used to show them hospitality. He (the narrator) said: He ( Ibn Abbas (RA) ) kept silent on the third point, or he (the narrator) said: But I forgot that.
جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّی رَأَيْتُ عَلَی خَدَّيْهِ کَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ
اسحاق بن ابراہیم، وکیع، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے جمعرات کے دن کہا، جمعرات کا دن کیا ہے ؟ پھر ان کے آنسو جاری ہو گے۔ یہاں تک کہ میں نے آنسو ان کے رخساروں پر موتیوں کی لڑیوں کی طرح دیکھے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس ہڈی اور دوات یا تختی اور دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں ایسی کتاب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ صحابہ (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ (دنیا) چھوڑ رہے ہیں۔
Said bin Jubair reported from Ibn Abbas (RA) that he said: Thursday, and what about Thursday? Then tears began to flow until I saw them on his cheeks as it they were the strings of pearls. He (the narrator) said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Bring me a shoulder blade and ink-pot (or tablet and inkpot), so that I write for you a document (by following which) you would never go astray. They said: Allahs Messenger (may peace upon him) is in the state of unconsciousness.
جس کے پاس وصیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمْ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کِتَابُ اللَّهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُا إِنَّ الرَّزِيَّةَ کُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَکْتُبَ لَهُمْ ذَلِکَ الْکِتَابَ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت آیا تو آپ ﷺ کے گھر میں کئی صحابہ تھے ان میں سے عمر بن خطاب (رض) بھی تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایسی کتاب لکھ دوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے اور ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے تو اہل بیت میں اختلاف اور جھگڑا ہوا ان میں سے بعض وہ تھے جو کہتے تھے کہ نزدیک کرو تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لئے ایسی کتاب لکھ دیں کہ اس کہ بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگئے اور ان میں سے بعض نے وہی کہا جو حضرت عمر (رض) نے کہا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس بحث اور اختلاف زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ عبیداللہ نے کہا کہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پریشانیوں میں سب سے بڑی پریشانی کی بات جو رسول اللہ ﷺ اور اس کتاب کے لکھنے کے درمیان حائل ہوئی وہ بحث اور اختلاف تھا۔
Ibn Abbas (RA) reported: When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was about to leave this world, there were persons (around him) in his house, Umar bin al-Kbattab being one of them. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Come, I may write for you a document; you would not go astray after that. Thereupon Umar said: Verily Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is deeply afflicted with pain. You have the Quran with you. The Book of Allah is sufficient for us. Those who were present in the house differed. Some of them said: Bring him (the writing material) so that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) may write a document for you and you would never go astray after him. And some among them said what Umar had (already) said. When they indulged in nonsense and began to dispute in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , he said: Get up (and go away) Ubaidullah said: Ibn Abbas (RA) used to say: There was a heavy loss, indeed a heavy loss, that, due to their dispute and noise. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) could not write (or dictate) the document for them.
نذر کو پورا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ کَانَ عَلَی أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْضِهِ عَنْهَا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، محمد بن رمح ابن مہاجر، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اس نذر کے بارے میں فتوی طلب کیا جو ان کی والدہ پر تھی اور وہ اسے پورا کرنے سے قبل فوت ہوگئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تو اس کی طرف سے ادا کر دے۔
Ibn Abbas (RA) reported that Sad bin Ubida asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for a decision about a vow taken by his mother who had died before fulfilling it. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Fulfil it on her behalf.
نذر کو پورا کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَمَعْنَی حَدِيثِهِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبد ابن حمید، عبدالرزاق، معمر، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، بکر بن وائل، زہری اسی حدیث بالا کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ ان سب نے بھی اسی معنی کی حدیث ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chains of transmitters.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَنْهَانَا عَنْ النَّذْرِ وَيَقُولُ إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الشَّحِيحِ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، عبداللہ بن مرہ، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول ﷺ ہمیں نذر سے منع فرمانے لگے اور فرمانے لگے کہ وہ کسی چیز کو نہیں ٹالتی۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: Allahs Messenger (may peace he upon him) singled out one day forbidding us to take vows and said: It would not avert anything; it is by which something is extracted from the miserly person.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
محمد بن یحیی، یزید بن ابی حکیم، سفیان، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کرسکتی ہے نہ پیچھے۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The vow neither hastens anything nor defers anything, but is the means whereby (something) is extracted from the miserly person.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، عبداللہ بن مرہ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نذر ماننے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ وہ کوئی نہیں لاتی اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade (people) taking vows, and said: It does not (necessarily) bring good (in the form of substantial, and tangible results), but it is the meant whereby something is extracted from the miserly persons.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالرحمن، سفیان، منصور، جریر اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنْ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، العلاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نذر نہ مانو کیونکہ نذر سے تقدیر کو کچھ فائدہ نہیں۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not take vows, for a vow has no effect against Fate; it is only from the miserly that something is extracted.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَرُدُّ مِنْ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، العلاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نذر سے منع فرمایا اور فرمایا وہ تقدیر کو نہیں بدل سکتی۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbidding taking of vows, and said: It does not avert Fate, but is the means by which something is extracted from the miser.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنْ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَکُنْ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ وَلَکِنْ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِکَ مِنْ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَکُنْ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن سعید، علی بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، عمرو، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نذر کوئی ایسی چیز ابن آدم کے قریب نہیں کرسکتی جسے اللہ نے اس کی تقدیر میں نہ کیا ہو لیکن نذر تو تقدیر ہی کی موافقت کرتی ہے اور یہ بخیل سے وہ چیز نکالنے کا ذریعہ ہے جسے وہ نکالنے کا ارادہ نہ رکھتا تھا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The vow does not bring anything near to the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامwhich Allah has not ordained for him, but (at times) the vow coincides with Destiny, and this is how something is extracted from the miserly person, which that miser was not willing to give.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، عبدالعزیز در اور دی، عمرو بن ابی عمرو اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amr bin Abu Amr.
اللہ کی نا فرمانی کی نذر پورا نہ کرے اور جس پر قادر نہ ہو اسے پورا نہ کرنے کا بیان
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ کَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَائَ فَأَتَی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَلِکَ أَخَذْتُکَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِکَ ثَقِيفَ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَأَسْقِنِي قَالَ هَذِهِ حَاجَتُکَ فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ قَالَ وَأُسِرَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتْ الْعَضْبَائُ فَکَانَتْ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ وَکَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَيْ بُيُوتِهِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ الْوَثَاقِ فَأَتَتْ الْإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنْ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُکُهُ حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی الْعَضْبَائِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ وَنَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا الْعَضْبَائُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَمَا جَزَتْهَا نَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِکُ الْعَبْدُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
زہیر بن حرب، علی بن حجر سعدی، زہیر، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، ابی قلابہ، ابی المہلب، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ثقیف، بنوعقیل کے حلیف تھے ثقیف نے اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے دو آدمیوں کو قید کرلیا اور اصحاب رسول اللہ ﷺ نے بنی عقیل میں سے آدمی کو قید کرلیا اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی گرفتار کیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ بندھا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کیا بات ہے ؟ تو اس نے عرض کیا آپ ﷺ نے مجھے کیوں پکڑا اور کس وجہ سے حاجیوں (کی اونٹنیوں) پر سبقت لے جانے والی (او نٹنی) کو گرفتار کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس بڑے قصور کی وجہ سے میں نے تجھے تمہارے حلیف ثقیف کے بدلے گرفتار کیا ہے۔ پھر آپ اس سے لوٹے تو اس نے آپ ﷺ کو اے محمد ! اے محمد ! کہہ کر پکارا اور رسول اللہ ﷺ مہربان اور نرم دل تھے آپ اس کی طرف لوٹے تو پھر فرمایا کیا بات ہے تو اس نے کہا میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا کاش تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملہ کا مکمل طور پر مالک تھا تو تو پوری کامیابی حاصل کرچکا ہوتا یہ کہہ کر آپ ﷺ پھر لوٹے تو اس نے آپ ﷺ کو یا محمد ! یا محمد کہہ کر پکارا۔ آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا کیا بات ہے ؟ تو اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھلائیے اور میں پیاسا ہو مجھے پلائے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تیری حاجت و ضرورت ہے یعنی اسے کھلایا اور پلایا۔ پھر اسے ان دو آدمیوں کا فدیہ بنایا گیا۔ (جنہیں ثقیف نے گرفتار کیا تھا) راوی کہتا ہے کہ انصار میں سے ایک عورت اور عضباء (اونٹنی) گرفتار کرلی گئی اور وہ عورت بندھی ہوئی تھی اور قوم کے لوگ اپنے گھروں کے سامنے اپنے جانوروں کو آرام دے رہے تھے ایک دن وہ گرفتاری سے بھاگ نکلی اور اونٹوں کے پاس آئی جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اسے چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ عضباء تک پہنچی تو اس نے آواز نہ کی اور وہ اونٹنی نہایت مسکین تھی تو وہ عورت اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی پھر اسے ڈانٹا تو چل دی۔ کافروں کو خبر ہوئی۔ وہ اس کی تلاش میں نکلے تو عضباء نے ان کو عاجز کردیا۔ راوی کہتا ہے اور اس نے اللہ کے لئے نذر مانی کہ اگر اس عضباء نے اسے نجات دلا دی تو وہ اس ناقہ کو قربان کر دے گی جب وہ مدینہ آئی اور لوگوں نے اسے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ عضباء تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ہے۔ تو اس عورت نے کہا کہ اس (میں) نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی کے ساتھ نجات دے تو اسے نحر کرے گی۔ صحابہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اللہ پاک ہے اس عورت نے اس اونٹنی کو برا بدلہ دیا کہ اس نے اللہ کے لئے نذر مانی اگر اللہ اسے اس پر سوار ہونے کی صورت میں نجات دے تو وہ اسے نحر کرے گی۔ نافرمانی کے لئے مانی جانے والی نذر کا پورا کرنا ضر روی نہیں اور نہ ہی اس چیز کی نذر جس کا انسان مالک نہیں ہے اور ابن حجر کی روایت میں ہے اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔
Imran bin Husain reported that the tribe of Thaqif was the ally of Banu Uqail. Thaqif took two persons from amongst the Companions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as prisoners. The Campanions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took one person at Banu Uqail as prisoner, and captured al-Adbi (the she-camel of the Holy Prophet) along with him. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to him and he was tied with ropes. He said: Muhammad. He came near him and said: What is the matter with you? Thereupon he (the prisoner) said: Why have you taken me as prisoner and why have you caught hold of one proceeding the pilgrims (the she-camel as she carried the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on her back and walked ahead of the multitude)? He (the Holy Prophet) said: (Yours is a great fault). I (my men) have caught hold of you for the crime of your allies, Banu Thaqif. He (the Holy Prophet) then turned away. He again called him and said: Muhammad, Muhammad, and since Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was very compassionate, and tenderhearted, he returned to him, and said: What is the matter with you? He said: I am a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had you said this when you had been the master of yourself, you would have gained every success. He then turned away. He (the prisoner) called him again saying: Muhammad, Muhammad. He came to him and said: What is the matter with you? He said: I am hungry, feed me, and I am thirsty, so provide me with drink. He (the Holy Prophet) said: That is (to satisfy) your want. He was then ransomed for two persons (who had been taken prisoner by Thaqif). He (the narrator) said: A woman of the Ansar had been taken prisoner and also al-Adbi was caught. The woman had been tied with ropes. The people were giving rest to their animals before their houses. She escaped one night from the bondage and came to the camels. As she drew near the camels, they fretted and fumed and so she left them until she came to al-, Adbi. It did not fret and fume; it was docile She rode upon its back and drove it away and she went off. When they (the enemies of Islam) were warned of this, they went in search of it, but it (the she-camel) exhausted them. She (the woman) took vow for Allah, that in case He would save her through it, she would offer that as a sacrifice. As she reached Madinah, the people saw her and they said: Here is al-Adbi, the she-camel of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . She (the woman) said that she had taken a vow that if Allah would save her on its back, she would sacrifice it. They (the Prophets Companions) came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and made a mention of that to him, whereupon he said: Hallowed be Allah, how ill she rewarded it that she took vow to Allah that if He saves her on its back, she would sacrifice it! There is no fulfilment of the vow in an act of disobedience, nor in an act over which a person has no control. In the version of Ibn Hujr (the words are): "There is no vow in disobedience to Allah."
اللہ کی نا فرمانی کی نذر پورا نہ کرے اور جس پر قادر نہ ہو اسے پورا نہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ
ابوربیع عتکی، حماد ابن زید، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، اسی حدیث کی دو اسناد مزید ذکر کی ہیں اور حضرت حماد کی حدیث میں ہے کہ عضباء بنی عقیل میں سے ایک آدمی کی تھی اور حاجیوں کی آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی اور مزید ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت ایسی اونٹنی پر آئی جو مسکین تھی اور (اس کے گلے میں) گھنٹی ڈالی ہوئی تھی ثقفی کی حدیث میں ہے کہ وہ اونٹنی سکھائی ہوئی تھی۔
This hadith is narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters and a slight variation of words.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی شَيْخًا يُهَادَی بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْکَبَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یزید بن زریع، حمید، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بوڑھے کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ٹیک لگائے (چلتے) ہوئے دیکھا تو فرمایا اس کا کیا حال ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس کے نفس کو عذاب دینے سے بےپرواہ ہے اور اسے سوار ہونے کا حکم دیا
Anas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw an old man being supported between his two sons. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with him? They said: He had taken the vow to walk (on foot to the Ka’bah). Thereupon he (Allahs Apoitle) said: Allah is indifferent to his inflicting upon himself chastisement, and he commanded him to ride.