کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَکَّأُ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ هَذَا قَالَ ابْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْکَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْکَ وَعَنْ نَذْرِکَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَابْنِ حُجْرٍ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، عمرو، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بوڑھے کو اپنے بیٹوں پر ٹیک لگا کر چلتے ہوئے پایا تو ارشاد فرمایا اسے کیا ہوا ؟ تو اس کے بیٹوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس پر ایک نذر تھی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے بوڑھے ! سوار ہوجا کیونکہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے بےپرواہ ہے
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) found an old man walking between his two sons supported by them, whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What is the matter with him? He (the narrator) said: Allahs Messenger, they are his sons and there is upon him the (fulfilment) of the vow, whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Ride, old man, for Allah is not in need of you and your vow.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، حضرت عمر بن ابی عمرو سے بھی ان اسناد سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Abu Amr with the same chain of transmitters.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ حَافِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ لِتَمْشِ وَلْتَرْکَبْ
زکریا بن یحییٰ ابن صالح مصری، مفضل ابن فضالہ، عبداللہ بن عیاش، یزید بن ابی حبیب، حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ میری بہن نے بیت اللہ کی طرف ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے رسول اللہ ﷺ سے فتوی طلب کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا چاہیے کہ وہ پیدل چلے اور سوار بھی ہو۔
Uqba bin Amir reported: My sister took a vow that she would walk bare foot to the house of Allah (Ka’bah). She asked me to inquire from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about it. I sought his decision and he said: She should walk on foot and ride also.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُفَضَّلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ حَافِيَةً وَزَادَ وَکَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سعید بن ابی ایوب، یزید بن ابی حبیب، حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) سے روایت ہے کہ میری بہن نے نذر مانی باقی حدیث مفضل کی حدیث ہی کی طرح ذکر کی اور حدیث میں ننگے پاؤں کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ بھی کیا کہ ابوالخیر عقبہ سے جدا نہیں ہوئے تھے
This hadith has been narrated on the authority of Uqba bin Amir Juhani but in this no mention has been made of "barefoot".
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
محمد بن حاتم، ابن ابی خلف، روح بن عبادہ، ابن جریج، یحییٰ بن ایوب، حضرت یزید بن حبیب نے اس اسناد کے ساتھ عبدالرزاق کی حدیث نقل کی ہے
This hadith has been narrated on the authority of Uqba b. Amir Juhani. but in this no mention has been made of" barefoot".
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ يُونُسُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ کَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَفَّارَةُ النَّذْرِ کَفَّارَةُ الْيَمِينِ
ہارون بن سعید ایلی، یونس بن عبدالاعلی، احمد بن عیسی، یونس، ابن وہب، عمر بن حارث، کعب بن علقمہ، عبدالرحمن ابن شماسہ، ابی الخیر، حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
Uqba. bin Amir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The expiation of the (breach of) a vow is the same as that of the (breach of an oath).
غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کہ رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا اللہ کی قسم ! جب سے میں نے رسول ﷺ سے اس کی ممانعت سنی ہے۔ میں نے اس کی قسم نہیں اٹھائی۔ اپنی طرف سے ذکر کرتے ہوئے اور نہ کوئی حکایت نقل کرتے ہوئے۔
Umar bin al-Khattab reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Great and Majestic, forbids you to swear by your fathers. Umar said: By Allah. I have never sworn (by my father) since I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbidding it mentioning them "on my behalf" nor on behalf of someone else.
غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهَا وَلَا تَکَلَّمْتُ بِهَا وَلَمْ يَقُلْ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) کی سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے حضرت عقیل (رض) کی حدیث میں ہے کہ میں نے جب سے نبی کریم ﷺ کو قسم سے منع کرتے ہوئے سنا ہے تو میں نے نہ تو اس کے ساتھ کوئی گفتگو کی اور نہ ذکر کے طور پر کہی اور نہ حکایت کے طور پر۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri except that in the hadith narrated on the authority of Uqail the words are: "I did not take oath by (anyone else except Allah) since I heard Allahs Messenger forbidding it, nor did I speak in such terms," and the narrator did not say, "on my own behalf or on behalf of someone else".
غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ بِمِثْلِ رِوَايَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم (رض) کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر (رض) کو اپنے باپ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا۔ باقی حدیث یونس و معمر کی روایت کی طرح ہے۔
Salim reported on the authority of his father that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard Umar while he was taking oath by his father. The rest of the hadith is the same.
غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَدْرَکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَکْبٍ وَعُمَرُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب (رض) کو ایک قافلہ میں اس حال میں پایا کہ عمر بن خطاب (رض) اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکار کر فرمایا آگاہ رہو کہ اللہ عزوجل تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں اٹھاؤ۔ جو قسم اٹھانے والا ہو تو وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے۔
Abdullah (b. Umar) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) found, Umar bin al-Khattab amongst the riders and he was taking oath by his father Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called them (saying): Our Allah, the Exalted and Majestic, has forbidden that you take oath by your father. He who has to take an oath, he must take it by Allah or keep quiet.
غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْکَرِيمِ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن عبداللہ ابن نمیر، محمد بن مثنی، یحیی، عبیداللہ، بشر بن ہلال، عبدالوارث، ایوب، ابوکریب، ابواسامہ، ولید ابن کثیر، ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، ابن ابی ذئب، اسحاق بن ابراہیم، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبدالکریم، نافع، ابن عمر اسی حدیث کی مختلف اسناد ذکر کی ہیں جن سب نے حضرت ابن عمر (رض) سے یہ قصہ اسی طرح روایت کیا ہے
This hadith is narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters.
غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ وَکَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل، ابن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قسم اٹھانے والا ہو تو وہ اللہ کے علاوہ کسی کی قسم نہ کھائے اور قریش اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں اٹھاتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں نہ اٹھاؤ۔
Ibn Umar heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who has to take an oath, he must not take oath but by Allah. The Quraish used to take oath by their fathers. So he (the Holy Prophet) said: Do not take oath by your fathers.
جس نے لات اور عزی کی قسم کھائی اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ مِنْکُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْکَ فَلْيَتَصَدَّقْ
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، حرملہ ابن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس نے قسم اٹھائی اور اپنی قسم میں لات کہا اسے چاہیے کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا آؤ میں تجھ سے جوا کھیلوں تو اسے چاہیے کہ وہ صدقہ کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who takes an oath in the course of which he says: By Lat (and al-Uzza), he should say: There is no god but Allah; and that if anyone says to his friend: "Come and I will gamble with you," he should pay sadaqa.
جس نے لات اور عزی کی قسم کھائی اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ مِثْلُ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْئٍ وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّی قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ هَذَا الْحَرْفُ يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَی أُقَامِرْکَ فَلْيَتَصَدَّقْ لَا يَرْوِيهِ أَحَدٌ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَلِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشَارِکُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ
سوید بن سعید، ولید بن مسلم، اوزاعی، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری اسی حدیث کی دوسری اسناد ہیں حضرت معمر (رض) کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اسے چاہیے کہ وہ کسی چیز کا صدقہ کرے اور اوازعی کی حدیث میں ہے جس نے لاۃ اور عزی کی قسم اٹھائی ابوالحسین امام مسلم نے کہا کہ یہ حرف یعنی اس کا قول آؤ میں تجھ سے جوا کھیلوں تو اسے چاہئے کہ وہ صدقہ کرے اسے زہری کہ علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور امام زہری کہ بارے میں فرمایا کہ روایت کی ہیں جن میں ان کا کوئی شریک نہیں جید اسناد کے ساتھ۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri.
جس نے لات اور عزی کی قسم کھائی اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، ہشام، حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بتوں کی قسم نہ اٹھاؤ اور نہ اپنے اجداد کی۔
Abdul Rahman bin ahadeeth reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not swear by idols, nor by your fathers.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ قَالَ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِکُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ حَمَلَکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ أَرَی خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا کَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
خلف بن ہشام، قتیبہ بن سعید، یحییٰ بن حبیب حارثی، حماد بن زید، غیلان ابن جریر، ابی بردہ، حضرت ابوموسی اشعری (رض) لوگوں کے قافلہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ آپ سے سواری مانگنے کے لئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سوار نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے پاس وہ چیز ہے جس پر تمہیں سوار کروں۔ ہم ٹھہرے رہے جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے تین سفید کوہان والے اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے کہا یا ہمارے بعض نے بعض سے کہا ہمیں اللہ برکت نہ دے گا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر آپ ﷺ سے سواری طلب کی تو آپ ﷺ نے ہمیں سوار نہ کرنے کی قسم اٹھائی۔ پھر ہمیں سواری دے دی تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس آکر آپ کو اس کی خبر دی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے چاہا تو میں کسی بات پر قسم نہ اٹھاؤں گا پھر میں اسے بہتر دیکھوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کروں گا اور وہی کام بجا لاؤں گا جو بہتر ہے
Abu Musa al-Ashari reported: I came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) along with a group of Asharites requesting to give us a mount. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with a mount, and there is nothing with me which I should give you as a ride. He (the narrator) said: We stayed there as long as Allah willed. Then there were brought to him (to the Holy Prophet) camels. He (the Holy Prophet) then ordered to give us three white humped camels, We started and said (or some of us said to the others): Allah will not bless us. We came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) begging him to provide us with riding camels. He swore that he could not provide us with a mount, but later on he provided us with that. They (some of the Prophets Companions) came and informed him about this (rankling of theirs), whereupon he said: It was not I who provided you with a mount, but Allah has provided you with that. So far as I am concerned, by Allah, if He so wills, I would not swear, but if, later on, I would see better than it, I (would break the vow) and expiate it and do that which is better.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمْ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوکَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْکَ لِتَحْمِلَهُمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ عَلَی شَيْئٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَی أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمْ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوکَ فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَی أَصْحَابِکَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُکُمْ عَلَی هَؤُلَائِ فَارْکَبُوهُنَّ قَالَ أَبُو مُوسَی فَانْطَلَقْتُ إِلَی أَصْحَابِي بِهِنَّ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُکُمْ عَلَی هَؤُلَائِ وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُکُمْ حَتَّی يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُکُمْ إِلَی مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَکُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ثُمَّ إِعْطَائَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِکَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُکُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ إِنَّکَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَی بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّی أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ ثُمَّ إِعْطَائَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَی سَوَائً
عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن العلاء ہمدانی، ابواسامہ، برید، ابی بردہ، حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے سا تھیوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ ﷺ سے ان کے لئے سواری مانگوں۔ جس وقت وہ جیش العسرہ یعنی غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ﷺ میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ آپ ان کو سواری دے دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا اور میں نے آپ ﷺ کے غصہ کی حالت میں آپ سے موافقت (بات) کی اور مجھے علم نہ تھا تو میں رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ سے ڈر کی وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں مجھ پر اپنے دل میں کچھ بوجھ محسوس کریں غمگین لوٹا میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ کر انہیں اس بات کی خبر دی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہا اچانک میں نے حضرت سعد (رض) کے پکارنے کی آواز اے عبداللہ بن قیس سنی۔ میں نے اسے جواب دیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ وہ تجھے بلا رہے ہیں جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ ان دونوں کا جوڑا اور یہ ان دونوں کا جوڑا اور یہ ان دونوں کا جوڑا لے لو چھ اونٹوں کے لئے جو آپ ﷺ نے اسی وقت حضرت سعد (رض) سے خریدے تھے اور انہیں اپنے سا تھیوں کے پاس لے جا اور کہہ بیشک اللہ یا فرمایا رسول اللہ ﷺ تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں تو تم ان پر سوار ہوجاؤ ابومو سی (رض) نے کہا انہیں لے کر میں اپنے سا تھیوں کی طرف چلا تو میں نے کہا بیشک اللہ کے رسول تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں لیکن اللہ کی قسم میں تمہیں نہ چھوڑوں گا جب تک کہ تم میں سے چند لوگ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نہ چلیں جنہوں نے رسول اللہ کا قول اور آپ ﷺ کا منع کرنا اس وقت سنا جب میں نے آپ ﷺ سے تمہارے لئے سوال کیا تھا پہلی مرتبہ میں پھر اس کے بعد وہی اونٹ آپ ﷺ نے عطا کردئیے اور تم اس بات کا گمان بھی نہ کرنا کہ میں نے تم سے وہ حدیث بیان کی جسے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم تم ہمارے نزدیک البتہ تصدیق کئے ہوئے ہو اور ہم اسی طرح کریں گے جیسے تم نے پسند کیا ابوموسی (رض) ان میں سے بعض آدمیوں کو لے چلے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان اور آپ ﷺ کا انکار سنا پھر انہیں اس کے بعد عطا کردیا تو تم بھی انہیں اس طرح حدیث بیان کرو جیسے ابوموسی نے انہیں برابر برابر بیان کردی۔
Abu Musa reported: My friends sent me to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asking him to provide them with mounts as they were going along with him in jaish al-Usrah (the army of destitutes or of meagre means or army setting out during the hard times and that is the occasion of the expedition of Tabuk) I said: Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , my friends have sent me to you so that you may provide them with mounts. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with anything to ride. And it so happened that he was at that time much perturbed. I little knew of it, so I came back with a heavy heart on account of the refusal of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and the fear that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) might have some feelings against me. I returned to my friends and informed them about what Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said. I had hardly stayed for a little that I heard Bilal (RA) calling: Abdullah bin Qais (RA) . I responded to his call. He said: Hasten to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , he is calling you. When I came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he said: Take this pair, this pair, and this pair (i. e. six camels which he had bought from Sad), and take them to your friends and say: Verily Allah (or he said: Verily Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has provided you with these animals. So ride upon them. Abu Musa said: I went along with them to my friends and said: Verily Allahs messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has provided you with these animals for riding; but by Allah, I shall not leave you until some of you go along with me to him who had heard the talk of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when I asked him for you, and his refusal for the first time, and then his granting them to me subsequently; so you should not think that I narrated to you something which he did not say. They said to me: By Allah, in our opinion you are certainly truthful, and we would do as you like. So Abu Musa went along with some of the men from them until they came to those who had heard the words of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his refusal to (provide) them with (animals); and subsequently his granting (the animals) to them; and they narrated to them exactly as Abu Musa had narrated to them.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي فَقَالَ لَهُ هَلُمَّ فَتَلَکَّأَ فَقَالَ هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْکُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ فَقَالَ هَلُمَّ أُحَدِّثْکَ عَنْ ذَلِکَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَکُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَتَيْنَاکَ نَسْتَحْمِلُکَ وَإِنَّکَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَکُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ابوربیع عتکی، حماد یعنی ابن زید، ایوب، ابی قلابہ، قاسم بن عاصم، حضرت زہدم جرمی سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوموسی (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے دسترخوان منگوایا اور اس میں مرغ کا گوشت تھا بنی تیم اللہ میں سے ایک آدمی سرخ رنگ غلام کی مشابہت رکھنے والا آیا ابوموسی (رض) نے کہا : آؤ اس نے تکلف کیا تو ابوموسی (رض) نے کہا آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بھی اس سے کھاتے ہوئے دیکھا تو اس آدمی نے کہا میں نے اسے (مرغیوں کو) کوئی چیز (گندگی) کھاتے دیکھا تو مجھے اس سے گھن آئی میں نے اسے نہ کھانے کی قسم اٹھائی تو ابوموسی (رض) نے کہا آؤ میں تجھے اس بارے میں حدیث بیان کروں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اشعری قبیلہ میں آپ ﷺ سے سواری طلب کرنے کے لئے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سوار نہ کروں گا نہ ہی میرے پاس ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں پس ہم ٹھہرے رہے جتنا اللہ نے چاہا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس مال غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں بلوایا اور ہمارے لئے سفید کوہان والے پانچ اونٹوں کا حکم دیا کہتے ہیں جب ہم چلے تو بعض نے ایک دوسرے سے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کی قسم سے غافل کردیا ہمارے لئے برکت نہ ہوگی ہم نے آپ ﷺ کے پاس لوٹ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ سے سواری طلب کرنے کے لئے آئے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم اٹھائی پھر آپ بھول گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر اللہ نے چاہا تو میں قسم نہ اٹھاؤں گا کسی چیز کی پھر میں اس کے علاوہ میں خیر دیکھوں تو میں وہی کام کروں گا جو بہتر ہوگا اور قسم کا کفارہ دوں گا پس تم جاؤ بیشک اللہ نے تمہیں سواری دی ہے۔
Ayyub said: We were sitting in the company of Abu Musa that he called for food and it consisted of flesh of fowl. It was then that a person from Banu Tamim visited him. His complexion was red having the resemblance of a slave. He said to him: Come and (join me in food). He showed reluctance. He (Abu Musa) said: Come on, for I saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) eating it (fowls meat), whereupon that person said: I saw it eating something (of filth and rubbish) and I found it repugnant and took an oath that I would never eat that. He (Abu Muds) said: Come, so that I would narrate to you about that (the incident pertaining to vow). (And he narrated thus): I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) along with a group of people belonging to the tribe of Ashari, asking him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with riding animals. And there is nothing with me with which I can provide you a mount. We stayed (for some time) there as Allah willed, and there was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) booty of camels. He called us and commanded that we should be given five white humped camels. As we were about to go back, some of us said to the other: As we made Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forget oath, there would be no blessing for us (in his gift). We went back to him and said: Allahs Messenger, we came to you to provide us with riding animals and you took an oath that you would never equip us with mounts and then you have provided us with the riding beasts Allalis Messenger, have you forgotten? Thereupon he said: I swear by Allah that if Allah so wills, I shall not swear an oath, and then consider something else to be better than it without making atonement for my oath and doing the thing that is better. So you go; Allah, the Exalted and Glorious, has given you riding animals.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ کَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَائٌ فَکُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابی قلابہ، قاسم تمیمی، حضرت زہدم جرمی سے روایت ہے کہ جرم کے اس قبیلہ اور شعروں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ تھا ہم حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس تھے تو کھانا ان کے قریب کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا باقی اسی طرح حدیث ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Musa al-Ashari with a slight variation of words.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، ابن نمیر، اسماعیل بن علیہ، ایوب، قاسم تمیمی، زہدم الجرمی اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں ان سب نے حماد بن زید کی طرح حدیث بیان کی ہے۔
Zahdam al-Jarmi reported: We were in the company of Abu Musa. The rest of the hadith is the same.