Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 207 of 379

4128Sahih Muslimصحیح

شفعہ استحقاق کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي کُلِّ شِرْکَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّی يُؤْذِنَ شَرِيکَهُ فَإِنْ شَائَ أَخَذَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن ادریس، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مشترک زمین یا باغ میں جس کی تقسیم نہ کی گئی ہو شفعہ کا فیصلہ کیا کہ اس کے لئے اس کا بیچنا جائز نہیں یہاں تک کہ اپنے شریک سے اجازت لے لے اگر وہ چاہے تو لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے اگر اس نے اپنے شریک کی اجازت کے بغیر اسے فروخت کردیا تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) decreed pre-emption in every joint ownership and not divided-the one-it may be a dwelling or a garden. It is not lawful for him (for the partner) to sell that until his partner gives his consent. He (the partner) is entitled to buy it when he desires and he can abandon it if he so likes. And if he (the one partner) sells it without getting the consent of the (other partner), he has the greatest right to it.

4129Sahih Muslimصحیح

شفعہ استحقاق کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي کُلِّ شِرْکٍ فِي أَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّی يَعْرِضَ عَلَی شَرِيکِهِ فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ فَإِنْ أَبَی فَشَرِيکُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّی يُؤْذِنَهُ

ابوطاہر، ابن وہب، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شفعہ ہر قسم کے مشترکہ مال میں ہے زمین ہو یا گھر یا باغ اس کو بیچنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کو اپنے شریک پر پیش نہ کرے وہ لے لے یا چھوڑ دے پس اگر وہ انکار کر دے تو اس کا شریک زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ اسے خبر دی جائے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is pre-emption in everything which is shared, be it land, or a dwelling or a garden. It is not proper to sell it until he informs his partner; he may go in for that, or he may abandon it; and it he (the partner intending to sell his share) does not do that, then his partner has the greatest right to it until he permits him.

4130Sahih Muslimصحیح

ہمسایہ کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعْ أَحَدُکُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ قَالَ ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاکُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَکْتَافِکُمْ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے پھر ابوہریرہ (رض) نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تم کو اس سے اعراض کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اللہ کی قسم ! میں اس لکڑی کو تمہارے کندھوں کے درمیان رکھ دوں گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None among you should prevent his neighbour from fixing a beam in his wall. Abu Hurairah (RA) then said: What is this that I see you evading (this injunction of the Holy Prophet)? By Allah, I will certainly throw it between your shoulders (narrate this to you.)

4131Sahih Muslimصحیح

ہمسایہ کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transrmitters.

4132Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، العلاء بن عبدالرحمن، عباس بن سہیل، سعد بن سعید، حضرت سعید بن زید عمرو بن نفیل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے زمین سے ایک بالشت بھی ظلما لے لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے۔

Said bin Zaid bin Amr bin Nufail (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who wrongly took a span of land, Allah shall make him carry around his neck seven earths.

4133Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ أَرْوَی خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا قَالَ فَرَأَيْتُهَا عَمْيَائَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَی بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَوَقَعَتْ فِيهَا فَکَانَتْ قَبْرَهَا

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، عمر بن محمد، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) سے روایت ہے کہ ارویٰ نے ان سے گھر کے بعض حصہ کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو اور زمین اسے دے دو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے حق کے بغیر ایک بالشت بھی زمین لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے اے اللہ ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر میں بنا راوی کہتے ہیں کہ میں نے اسے اندھا اور دیواروں کو ٹٹولتے دیکھا اور کہتی تھی مجھے سعید بن زید کی بد دعا پہنچی ہے اس دوران کہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر میں کنوئیں کے پاس سے گزری تو اس میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر بن گئی۔

Said bin Zaid bin Amr bin Nufail (RA) reported that Arwi (bint Uwais) disputed with him (in regard to a part of the land) of his hodse. He said: Leave it and take off your claim from it, for I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who took a span of land without his right would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection. He (Said bin Zaid) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and make her grave in her house. He (the narrator) said: I saw her blind groping (her way) by touching the walls and saying: The curse of Said bin Zaid has hit me. And it so happened that as she was walking in her house, she passed by a well in her house and fell therein and that be- came her grave.

4134Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَرْوَی بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَی سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَخَاصَمَتْهُ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا کُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَی سَبْعِ أَرَضِينَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ لَا أَسْأَلُکَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّی ذَهَبَ بَصَرُهَا ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ

ابوربیع عتکی، حماد بن زید، حضرت ہشام بن عروہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اروی بنت اویس نے سعید بن زید (رض) پر دعوی کیا کہ اس نے اس کی زمین سے کچھ لے لیا ہے وہ یہ مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں لے گئی تو سعید نے کہا کیا میں رسول اللہ ﷺ سے سننے کے بعد اس کی زمین میں سے کچھ حصہ لے سکتا ہوں مروان نے کہا تو نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے لے لی تو اسے ساتوں زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا تو ان سے مروان نے کہا میں آپ سے اس کے بعد گواہ نہ مانگوں گا تو سعید (رض) نے کہا اے اللہ اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کی زمین میں ہی اسے مار تو وہ بینائی جانے سے پہلے نہ مری پھر اچانک وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے (پرانے کنوئیں) میں گر کر مرگئی۔

Hisham bin Urwa reported on the authority of his father (RA) that Arwa bint Uwais disputed with Said bin Zaid that he had seized some of the land belonging to her. She brought this dispute before Marwan bin al-Hakam. Said said: How could I take a part of her land, after what I heard from Allahs Messenger (may peace be uponhim)? He (Marwan) said: What did you hear from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: He who wrongly took a span of land would be made to wear around his neck seven earths. Marwan said: I do not ask any evidence from you after this. He (Said) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and kill her in her own land. He (the narrator) said: She did not die until she had lost her eyesight, and (one day) as she was walking in her land, she fell down into a pit and died.

4135Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن زکریابن ابی زائدہ، ہشام، حضرت سعید بن زید (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے ظلما کسی سے ایک بالشت زمین بھی لے لی تو اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے طوق ڈالا جائے گا۔

Said bin Zaid reported: I heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: He who took a span of earth wrongly would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection.

4136Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَی سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی بغیر حق کے زمین میں سے ایک بالشت نہیں لیتا مگر یہ کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق ڈالے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: One should not take a span of land without having legitimate right to it, otherwise Allah would make him wear (around his neck) seven earths on the Day of Resurrection.

4137Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَکَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالصمد بن عبدالوارث، حرب ابن شداد، یحییٰ ابن کثیر، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین میں جھگڑا تھا اور وہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس حاضر ہوا اور آپ (رض) سے اس جھگڑے کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا اے ابوسلمہ ! زمین سے پرہیز کر کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بالشت بھر زمین کے برابر بھی ظلم کرے تو اسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔

Muhammad bin Ibrahim said that Abu Salama reported to him that there was between him and his people dispute over a piece of land, and he came to Aisha and mentioned that to her, whereupon she said: Abu Salama, abstain from getting this land, for Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who usurps even a span of land would be made to wear around his neck seven earths.

4138Sahih Muslimصحیح

ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَخْبَرَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ

اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، یحیی، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس حاضر ہوئے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ذکر کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with another chain of transmitters.

4139Sahih Muslimصحیح

جب راستہ میں اختلاف ہوجائے تو اس کی مقدار کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ

ابوکامل فضیل بن حسین جحدری، عبدالعزیز بن مختار، خالد حذاء، یوسف بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم راستہ میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ رکھ لو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When you disagree about a path, its breadth should be made seven cubits.

4140Sahih Muslimصحیح

فرائض کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، زہری، علی بن حسین، عمرو بن عثمان، حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے۔

Usama bin Zaid reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A Muslim is not entitled to inherit from a non-Muslim, and a non-Muslim is not entitled to inherit from a Muslim.

4141Sahih Muslimصحیح

فرائض کو انکے حقداروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ

عبدالاعلی بن حماد، وہیب، ابن طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معین حصہ والوں کو ان کا حصہ دے دو اور جو بچ جائے وہ اس مرد کے لئے ہے جو اس کا زیادہ قریبی ہوگا۔

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Give the shares to those who are entitled to them, and what remains over goes to the nearest male heir.

4142Sahih Muslimصحیح

فرائض کو انکے حقد اروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا تَرَکَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ

امیہ بن بسطام عیشی، یزید بن زریع، روح بن قاسم، عبداللہ بن طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حصہ والوں کو ان کا حصہ دے دو اور ذوی الفروض جو مال چھوڑے تو قریبی مرد زیادہ حقدار ہے۔

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Give the shares to those who are entitled to them, and what is left from those who are entitled to it goes to the nearest male heir.

4143Sahih Muslimصحیح

فرائض کو انکے حقد اروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَکَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، ابی طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اصحابِ فرائض میں اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق مال تقسیم کردو۔ ذوی الفروض جو ترکہ چھوڑیں قریبی مرد ہی اس ترکہ کا زیادہ حقدار ہوگا۔

Tawus reported on the authority of his father Ibn Abbas (RA) narrating that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Distribute the property amongst Ahl al-Faraid, according to the Book of Allah, and what is left out of them goes to the nearest male heir.

4144Sahih Muslimصحیح

فرائض کو انکے حقد اروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ وَرَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ

محمد بن العلاء، ابوکریب ہمدانی، زید بن حباب، یحییٰ بن ایوب، ابن طاو س، حضرت وہیب اور مروح بن قاسم (رح) کی طرح ان اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔

There is another chain of Tawus reporting like the reports that were mentioned before the previous hadith chain through Tawus (the chains of Wuhaib and Rowh bin Qasim).

4145Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میر اث کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ يَعُودَانِي مَاشِيَيْنِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ

عمر بن محمد بن بکیر ناقد، سفیان بن عیینہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) میرے پاس میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔ مجھ پر بیہوشی طاری ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے سے مجھ پر پانی ڈالا۔ مجھے افاقہ ہوا۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں اپنے مال میں کیسے فیصلہ کروں ؟ آپ ﷺ نے مجھے اس کا کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ آیت میراث يستفتونک قل اللہ يفتيکم في الکلالہ نازل ہوئی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I fell sick and there came to me on foot Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Abu Bakr (RA) for inquiring after my health. I fainted. He (the Holy Prophet) performed ablution and then sprinkled over me the water of his ablution. I felt some relief and said: Allahs Messenger, how should I decide about my property? He said nothing to me in response until this verse pertaining to the law of inheritance was revealed: "They ask you for a decision; say: Allah gives you a decision concerning the person who has neither parents nor children" (iv. 177).

4146Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ يَمْشِيَانِ فَوَجَدَنِي لَا أَعْقِلُ فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَزَلَتْ يُوصِيکُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ

محمد بن حاتم ابن میمون، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) بنو سلمہ میں عیادت کے لئے پیدل تشریف لائے۔ انہوں نے مجھے بیہوش پایا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا پھر اس میں سے مجھ پر پانی چھڑکا۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں اپنے مال میں کیسے کروں ؟ تو آیت (میراث) يوصيکم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثيين الخ نازل ہوئی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Abi Bakr (RA) visited me on foot in Banu Salama, and found me unconscious. He (the Holy Prophet) called for water and performed ablution and sprinkled out of it (the water) over me. I felt relieved. I said: Allahs Messenger, what should I do with my property? And this verse was revealed: "Allah enjoins you concerning your children: for the male is equal of the portion of two females."

4147Sahih Muslimصحیح

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ مَاشِيَيْنِ فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ

عبیداللہ بن عمر قواریری، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، محمد بن منکدر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی جبکہ میں مریض تھا اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) بھی تھے اور آپ ﷺ پیدل تشریف لائے مجھے بیہوشی میں پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا۔ مجھے ہوش آیا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں اپنے مال میں (تقسیم) کیسے کروں ؟ آپ ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: While I had been ill Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited me and Abu Bakr (RA) was with him, and they both came walking on foot. He (the Holy Prophet) found me unconscious. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) performed ablution and then sprinkled over me the water of his ablution. I felt relieved regained my consciousness) and found Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) there. I said: Allahs Messenger, what should I do with my property? He gave me no reply until the verse (iv. 177) relating to the law of inheritance was revealed.