جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَکْرًا فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِيَ الرَّجُلَ بَکْرَهُ فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا خِيَارًا رَبَاعِيًا فَقَالَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ إِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَائً
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، مالک بن انس، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابورافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے جوان اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ ﷺ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے ابورافع کو حکم دیا کہ اس آدمی کا قرض اس کو واپس کردیں ابورافع نے آپ ﷺ کے پاس آکر عرض کیا کہ میں ان اونٹوں جیسا اونٹ نہیں پاتا بلکہ اس سے بہتر ساتویں سال کے اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اسے یہی دے دو لوگوں میں سے بہترین وہ ہیں جو ان سے قرض کو اچھی طرح ادا کرنے والے ہوں۔
Abu Rafi reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took from a man as a loan a young camel (below six years). Then the camels of Sadaqa were brought to him. He ordered Abu Rafi to return to that person the young camel (as a return of the loan). Abu Rafi returned to him and said: I did not find among them but better camels above the age of six. He (the Holy Propet) said: Give that to him for the best men are those who are best in paying off the debt.
جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَکْرًا بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَائً
ابوکریب، خالد بن مخلد، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابی رافع رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا باقی حدیث ویسی ہے سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں بہترین وہ ہیں جو ان میں سے قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔
Abu Rafi, the freed slave of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took as a loan (the rest of the hadith is the same), but with this variation that he (the Holy Prophet) said: Good amongst the servants of Allah is he who is best in paying off the debt.
جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ لِرَجُلٍ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَقَالَ لَهُمْ اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَقَالُوا إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا هُوَ خَيْرٌ مِنْ سِنِّهِ قَالَ فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِکُمْ أَوْ خَيْرَکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی کا رسول اللہ ﷺ کے ذمہ حق تھا اس نے سختی سے آپ ﷺ سے تقاضا کیا اصحاب النبی ﷺ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا حق والے آدمی کو گفتگو کرنے کا حق ہوتا ہے آپ ﷺ نے صحابہ سے کہا اس کے لئے ایک اونٹ خریدو اور وہ اسے دے دو تو انہوں نے کہا ہمیں اس کے اونٹ سے بہتر اونٹ ہی ملا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہی خرید کر اسے دے دو تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرض کو اچھی طرح ادا کرنے والا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) owed (something) to a person. He behaved in an uncivil manner with him. This vexed the Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who has a right is entitled to speak, and said to them (his Companions): Buy a camel for him and give that to him. They said: We do not find a camel (of that age) but one with better age than that. He said: Buy that and give that to him, for best of you or best amongst you are those who are best in paying off debt.
جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا فَأَعْطَی سِنًّا فَوْقَهُ وَقَالَ خِيَارُکُمْ مَحَاسِنُکُمْ قَضَائً
ابوکریب، وکیع، علی بن صالح، سلمہ بن کہیل، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ قرض لیا تو اسے اس سے بڑی عمر کا اونٹ عطا کیا اور فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو تم میں سے قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took a camel on loan, and then returned him (the lender) the camel of a more mature age and said: Good among you are those who are good in clearing off the debt.
جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يَتَقَاضَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَقَالَ أَعْطُوهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ وَقَالَ خَيْرُکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً
محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، سلمہ بن کہیل، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ سے اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے اس کے اونٹ سے بڑی عمر والا اونٹ دے دو اور فرمایا تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: There came a person demanding a camel from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He (the Holy Prophet) said: Give him (the camel) of that age or of more mature age, and said: Best among you is one who is best in clearing off the debt.
حیوان کو اسی حیوان کی جنس کے بدلے کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَابْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَائَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّی يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت کی بیعت کی آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے پھر اس کا مالک اسے لینے آیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا اسے مجھے فروخت کردو تو آپ ﷺ نے اسے دو سیاہ حبشی غلام دے کر خرید لیا پھر آپ ﷺ نے اس وقت تک کسی کی بیعت نہ کی یہاں تک کہ اس سے پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے ؟ (یا آزاد) ۔
Jabir (RA) reported: There came a slave and pledg- ed allegiance to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on migration; he (the Holy Prophet) did not know that he was a slave. Then there came his master and demanded him back, whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Sell him to me. And he bought him for two black slaves, and he did not afterwards take allegiance from anyone until he had asked him whether he was a slave (or a free man)
گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن العلاء، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے غلہ ادھار پر خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) bought some grain from a Jew on credit and gave him a coat-of- mail of his as a pledge.
گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) bought from a Jew grain (as loan) and pledged him his iron coat-of-mail.
گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ ذَکَرْنَا الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فَقَالَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَی مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَی أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عبدالواحد بن زیاد، اعمش، ابراہیم نخعی، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے مدت معینہ کے ادھار پر اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی لوہے کی زرہ گروی رکھ دی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) bought from a Jew grain for a specified time; and gave him iron coat-of-mail of his as a pledge.
گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ حَدِيدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے اسی حدیث کی مثل نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے لیکن اس میں لوہے کی زرہ ہونے کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Aisha (Allah be pleased with her), through another chain ol transmitters, but no mention was made of (its being made) of iron.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا وَقَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي کَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ
یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح، عبداللہ بن ابی کثیر، منہال، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ ایک اور دو سال کے ادھار پر پھلوں کی بیع کرتے تھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کھجور میں بیع سلم کرے تو مقررہ وزن اور معلوم ناپ میں مقررہ مدت تک کے لئے بیع کرے۔
Ibn Abbas (RA) reported that when Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to Madinah, they were paying one and two years in advance for fruits, so he said: Those who pay in advance for anything must do so for a specified weight and for a definite time.
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي کَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابن ابی نجیح، عبداللہ بن کثیر، ابی منہال، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگ بیع سلم کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا جس شخص نے بیع سلم کی ہے وہ بیع سلم مقررہ ناپ اور معلوم وزن میں کرے۔
Ibn Abbas (RA) reported that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to (Madinah) and the people were paying in advance (for the fruits, etc.), he said to them: He who makes an advance payment should not make advance payment except for a specified measure and weight (and for a specified period).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْکُرْ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن سالم، ابن عیینہ، ابن ابی نجیح، عبدالوارث اس حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں مقررہ مدت کا ذکر نہیں ہے۔
Ibn Abu Najih has narrated a hadith like this with the same chain of transmitters, but he has not mentioned:" for a definite period".
حدثنا أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِإِسْنَادِهِمْ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَذْکُرُ فِيهِ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ
ابوکریب، ابن ابی عمر، وکیع، محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، ابن نجیح، حضرت ابن عیینہ کی مثل ابن ابی نجیح سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں مدت مقررہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Abu Najih through another chain of transmitters mentioning in it" for a specified period".
انسان اور جانور کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ کَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ مَعْمَرًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ احْتَکَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ فَقِيلَ لِسَعِيدٍ فَإِنَّکَ تَحْتَکِرُ قَالَ سَعِيدٌ إِنَّ مَعْمَرًا الَّذِي کَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ کَانَ يَحْتَکِرُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، یحیی، ابن سعید، سعید بن مسیب، حضرت معمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ذخیرہ اندوزی کی وہ گناہ گار ہے حضرت سعید سے کہا گیا کہ آپ تو خود ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں تو سعید نے کہا معمر جو اس حدیث کو بیان کرتے تھے وہ بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔
Mamar (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who hoards is a sinner. It was said to Said (b. al-Musayyib): You also hoard. Said said: Mamar who narrated this hadith also hoarded.
انسان اور جانور کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْتَکِرُ إِلَّا خَاطِئٌ قَالَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ مُسْلِم
سعید بن عمرو اشعثی، حاتم بن اسماعیل، محمد بن عجلان، محمد بن عمرو بن عطاء، سعید بن مسیب، حضرت معمر (رض) بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گناہ گار کے علاوہ کوئی ذخیرہ اندوزنی نہیں کرتا۔
Mamar binAbdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: No one hoards but the sinner.
انسان اور جانور کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی
عمرو بن عون، خالد بن عبداللہ، عمرو بن یحیی، محمد بن عمر، سعید بن مسیب، حضرت معمر بن ابی معمر (رض) سے روایت ہے جو کہ قبیلہ عدی بن کعب میں سے ایک ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی اور حدیث بعینہ پہلے بیان ہوچکی۔
This hadith has been transmitted on the authority of Sulaiman bin Bilal (RA) from Yahya.
بیع میں قسم کھانے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ
زہیر بن حرب، ابوصفوان اموی، ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ قسم مال کو نکالنے والی ہے اور نفع کو مٹانے والی ہے۔
Abu Hurairah (RA) said he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Swearing produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing.
بیع میں قسم کھانے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِيَّاکُمْ وَکَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی شیبہ، اسحاق، ابواسامہ، ولید بن کثیر، معبد بن کعب بن مالک، حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا بیع میں قسم بکثرت کھانے سے بچو کیونکہ وہ سودا تو نکلواتی ہے پھر اس کو مٹا دیتی ہے۔
Abu Qatadah (RA) al-Ansari (RA) reported he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: Beware of swearing; it produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ لَهُ شَرِيکٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّی يُؤْذِنَ شَرِيکَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ کَرِهَ تَرَکَ
احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا زمین یا باغ میں کوئی شریک ہو تو اس کے لئے اپنے شریک سے اجازت لئے بغیر اس کو بیچنا جائز نہیں ہے اگر وہ راضی ہو تو لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who has a partner in a dwelling or a garden, it is not lawful for him to sell that until he is permitted by his partner. If he (the partner) agrees, he should go in for that, and if he disapproves of that, he should abandon (the idea of selling it).