کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْئٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
محمد بن عباد، محمد بن حاتم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابن عباد، سفیان، عمرو، ابی صالح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ کہ دینار دینار کے ساتھ اور درہم درہم کے ساتھ برابر برابر فروخت ہو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو یہ سود ہوا راوی کہتے ہیں میں نے ان سے عرض کیا ابن عباس (رض) تو اس کے خلاف کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں ابن عباس (رض) سے ملا تو میں نے کہا جو آپ کہتے ہیں اس کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کیا اس بارے میں آپ نے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اسے آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی کتاب میں پایا ہے تو انہوں نے کہا میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنا نہیں اور نہ اللہ کی کتاب میں پایا لیکن مجھے اسامہ بن زید (رض) نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود ادھار میں ہے۔
Abu Salih reported: I heard Abu Said al-Khudri (RA) said: Dinar (gold) for gold and dirham for dirham can be (exchanged) with equal for equal; but he who gives more or demands more in fact deals in interest. I sald to him: Ibn Abbas (RA) says otherwise, whereupon he said: I met Ibn Abbas (RA) and said: Do you see what you say; have you heard it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , or found it in the Book of Allah, the Glorious and Majestic? He said: I did not hear it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . and I did not find it in the Book of Allah (Glorious and Majestic), but Usama bin Zaid narrated it to me that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There can be an element of interest in credit.
کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔
Ubaidullah bin Abu Yazid heard Ibn Abbas (RA) as saying: Usama bin Zaid reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There can be an element of interest in credit (when the payment is not equal).
کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ
زہیر بن حرب، عفان، محمد بن حاتم، بہز، وہیب، ابن طاو س، ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نقد بہ نقد میں سود نہیں ہے۔
Ibn Abbas; (RA) reported on the authority of Usama bin Zaid Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as having said this: There is no element of interest when the money or commodity is exchanged hand to hand.
کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ قَوْلَکَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَلَّا لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا کِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
حکم بن موسی، ہقل، اوزاعی، حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری (رض) نے ابن عباس (رض) سے ملاقات کی تو ان سے عرض کیا آپ اپنے قول بیع صرف کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا اس بارے میں اللہ کی کتاب میں اس کی وضاحت پائی ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا ہرگز نہیں، میں کچھ نہیں کہتا۔ رہا اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد تو آپ ﷺ اس کو زیادہ جاننے والے ہیں اور رہی اللہ کی کتاب تو میں اس کا علم نہیں رکھتا لیکن مجھے اسامہ بن زید (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔
Ata bin Abu Rabah reported: Abu Said al-Khudri (RA) met Ibn Abbas (RA) and said to him: What do you say in regard to the conversion (of commodities or money) did you hear it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , or is it something which you found In Allahs Book, Majestic and Glorious? Thereupon Ibn Abbas (RA) (Allah be pleated with them) said: I dont say that. So far at Allahs Massenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is concerned, you know him better, and to far as the Book of Allah to concerned, I do not know it (more than you do), but Usama bin Zaid (RA) narrated to me Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as having said this: Beware, there can be an element of interest in credit.
سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَأَلَ شِبَاکٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ قَالَ قُلْتُ وَکَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ قَالَ إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، مغیرہ، شباک، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے یا کھلانے والے پر لعنت فرمائی۔ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا اس کے لکھنے والا اور اس کے گواہ تو کہا ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنا۔
Abdullah (b. Masud) (RA) said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) cursed the one who accepted interest and the one who paid it I asked about the one who recorded it, and two witnesses to it. He (the narrator) said: We narrate what we have heard.
سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ وَکَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَائٌ
محمد بن صباح، زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، ہشیم، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ سب گناہ میں برابر شریک ہیں۔
Jabir said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) cursed the accepter of interest and its payer, and one who records it, and the two witnesses, and he said: They are all equal.
حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَأَهْوَی النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَی أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ کَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَی الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ کَالرَّاعِي يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی، زکریا، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور حضرت نعمان (رض) نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ فرماتے تھے حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑگیا تو وہ حرام میں پڑگیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں خبردار رہو ہر بادشاہ کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں آگاہ رہو جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جب وہ بگڑ کیا تو سارا ہی بدن بگڑ کیا آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔
Numan bin Bashir (RA) reported: I heard Allahs Messenger (may peace be upon himn) as having said this (and Numan) pointed towards his ears with his fingers): What is lawful is evident and what is unlawful is evident, and in between them are the things doubtful which many people do not know. So he who guards against doubtful things keeps his religion and honour blameless, and he who indulges in doubtful things indulges in fact in unlawful things, just as a shepherd who pastures his animals round a preserve will soon pasture them in it. Beware, every king has a preserve, and the things God his declaced unlawful are His preserves. Beware, in the body there is a piece of flesh; if it is sound, the whole body is sound and if it is corrupt the whole body is corrupt, and hearken it is the heart.
حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zakariya with the same chain of transmitters.
حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ وَأَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَکَرِيَّائَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَکْثَرُ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، مطرف، ابی فروہ ہمدانی، قتیبہ، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابن عجلان، عبدالرحمن بن سعید، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) ہی سے یہ حدیث دوسرے راویوں سے بھی مروی ہے لیکن زکریا کی حدیث ان تمام روایات میں سے زیادہ مکمل اور پوری ہے۔
AI-Numan bin Bashir reported it from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The hadith narrated by Zakariya is, however, more complete and lengthy than the other ones.
حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ إِلَی قَوْلِهِ يُوشِکُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ
عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد، خالد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، عون بن عبداللہ بن عامر شعبی، حضرت نعمان بن بشیر بن سعد (رض) صحابی رسول ﷺ سے روایت ہے کہ وہ حمص میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے باقی حدیث مبارکہ زکریا شعبی کے واسطہ سے ان کے قول " قریب ہے کہ وہ اس حرام میں واقع ہوجانے تک " ذکر کی ہے۔
Numan bin Bashir bin Sad, a Companion of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was heard delivering a sermon at Hims and was saying: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The lawful is evident and the unlawful is evident, the rest of the hadith is the same as related by Zakariya.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ کَانَ يَسِيرُ عَلَی جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ قَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ قُلْتُ لَا ثُمَّ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَی أَهْلِي فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَقَالَ أَتُرَانِي مَاکَسْتُکَ لِآخُذَ جَمَلَکَ خُذْ جَمَلَکَ وَدَرَاهِمَکَ فَهُوَ لَکَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زکریا، عامر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے وہ چلتے چلتے تھک گیا انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا کہتے ہیں مجھے نبی کریم ﷺ ملے آپ ﷺ نے میرے لئے دعا کی اور اونٹ کو مارا تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہ چلا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ پر بیچ دو میں نے کہا نہیں پھر فرمایا اس کو مجھے فروخت کردو تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ پر فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل و عیال تک جانے کا استثناء کیا جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت نقد ادا کردی پھر میں واپس آگیا تو آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ میں نے تم سے کم قیمت لگوائی ہے تاکہ تجھ سے تیرا اونٹ لے لوں اپنا اونٹ بھی لے جا اور دراہم بھی تیرے ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that he was travelling on his camel which had grown jaded, and he decided to let it off. When Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met him and prayed for him and struck it, so it trotted as it had never trotted before. He said: Sell it to me for an uqaya. I said: No. He again said: Sell it to me. So I sold it to him for an uqaya, but made the stipulation that I should be allowed to ride back to my family. Then when I came to (my place) I took the camel to him and he paid me its price in ready money. I then went back and he sent: (someone) behind me (and as I came) he said: Do you see that I asked you to reduce price for buying your camel. Take your camel and your coins; these are yours.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، زکریا، عامر، جابر بن عبداللہ اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَکَادُ يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي مَا لِبَعِيرِکَ قَالَ قُلْتُ عَلِيلٌ قَالَ فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيْ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي کَيْفَ تَرَی بَعِيرَکَ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَکَتُکَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَکُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَی أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّی أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَی الْمَدِينَةِ حَتَّی انْتَهَيْتُ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنْ الْبَعِيرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ مَا تَزَوَّجْتَ أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا تُلَاعِبُکَ وَتُلَاعِبُهَا فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوْ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، مغیرہ، شعبی، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ کیا آپ ﷺ مجھ سے ملے اور میری سواری پانی لانے والا ایک اونٹ تھا جو تھک گیا اور چلنے سے عاجز آگیا تھا آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تیرے اونٹ کو کیا ہوگیا میں نے عرض کیا بیمار ہوگیا ہے تو رسول اللہ ﷺ پیچھے ہوئے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں سے آگے ہی چلتا رہا آپ ﷺ نے مجھ سے کہا اب اپنے اونٹ کو تو کیسا خیال کرتا ہے میں نے عرض کیا بہت اچھا تحقیق اسے آپ ﷺ کی برکت پہنچی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اسے مجھے فروخت کرتا ہے میں نے شرم کی اور میرے پاس اس اونٹ کے علاوہ کوئی دوسرا پانی لانے والا نہ تھا میں نے عرض کیا جی ہاں پھر میں نے اس شرط پر آپ ﷺ کو وہ اونٹ بیچ دیا کہ میں مدینہ کے پہنچنے تک اس پر سواری کروں گا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے میں نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی میں لوگوں سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گیا جب میں پہنچا میرے ماموں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں اس کی خبر دی جو میں کرچکا تھا تو اس نے مجھے اس بارے میں ملامت کی حضرت جابر (رض) کہتے ہیں جب میں نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے کنورای سے شادی کی ہے یا بیوہ سے تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے بیوہ سے شادی کی ہے تو آپ ﷺ نے کہا تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد فوت یا شہید ہوچکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں میں نے ان کی ہم عمر لڑکی سے نکاح کرنا پسند نہ کیا جو انہیں ادب نہ سکھائے اور نہ ان کی نگرانی کرے بیوہ سے شادی میں نے اس لئے کی ہے تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو میں صبح صبح ہی آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا آپ ﷺ نے اس کی قیمت ادا کردی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس کردیا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: I went on an expedition with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He overtook me and I was on a water-carrying camel who had grown tired and did not walk (trot). He (the Holy Prophet) said to me: What is the matter with your camel? I said: It is sick. He (the Holy Prophet) stepped behind and drove it and prayed for it, and then it always moved ahead of other camels. He (then) said: How do you find your camel? I said: It is, by the grace of your prayer, all right. He said: Would you sell this (camel) to me? I felt shy (to say him," No") as we had no other camel for carrying water, but (later on) I said: Yes, and to I sold it to him on the condition that (I would be permitted) to ride it until I reached Madina. I said to him: Allahs Messenger, I am newly married, so I asked his permission (to go ahead of the caravan). He permitted me, and I reached Madinah well in advance of other people, until I reached my destination. There my maternal uncle met me and asked me about the camel, and I told him what I had done with regard to it. He reproved me in this connection. He (Jabir) said: When I asked his permission (to go ahead of the caravan) Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) inquired of me whether I had married a virgin or a non-virgin. I said to him: I have married a non-virgin. He said: Why did you not marry a virgin who would have played with you and you would have played with her? I said to him: Allahs Messenger, my father died (or he fell as a martyr), and I have small sisters to (look after), so I did not like the idea that I should marry a woman who is like them and thus be not able to teach them manners and look after them properly. So I have married a non-virgin so that she should be able to look after them and teach them manners, When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to Madinah, I went to him in the morning with the camel. He paid me its price and returned that (the camel) to me.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ثُمَّ قَالَ لِي بِعْنِي جَمَلَکَ هَذَا قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَکَ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَکَ بِهَا قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ قَالَ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا قَالَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَانَ فِي کِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، سالم بن ابی جعد، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم مکہ سے مدینہ کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو میرا اونٹ بیمار ہوگیا اور باقی حدیث کو اسی قصہ کے ساتھ بیان کیا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تو اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے ؟ میں نے کہا : بلکہ وہ آپ ﷺ کے لئے (ہدیہ) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ اسے مجھے فروخت کردے۔ میں نے کہا : بلکہ وہ تو آپ ﷺ ہی کے لئے ہے، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ اسے مجھے فروخت کردے۔ تو میں نے عرض کیا میرے ذمہ ایک آدمی کا ایک اوقیہ سونا قرض ہے تو یہ اس کے عوض آپ ﷺ لے لیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے خرید لیا اور اسی اونٹ پر مدینہ چلے جانا جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دو تو انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دیا میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی یہ زیادتی (ازراہ محبت کہا) کبھی مجھ سے جدا نہ ہوگی فرماتے ہیں کہ وہ سونا میرے پاس ایک تھیلی میں رہا حتی کہ حرہ کے دن اسے مجھ سے شام والوں نے لے لیا۔
Jabir reported: We went from Makkah to Madinah with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when my camel fell ill, and the rest of the hadith is the same. (But it in also narrated in it:) He (the Holy Prophet) said to me: Sell your camel to me. I said: No, but it is yours. He said: No. (it cant be), but sell it to me. I said: No, but, Allahs Messenger, it is yours. He said: No, it cant be, but sell it to me. I said: Then give me an uqaya of gold for I owe that to a person and then it would be yours. He (the Holy Prophet) said: I take it (for an uqiya of gold) and you reach Madinah on it. As I reached Madinah, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Bilal (RA) : Give him an uqiya of gold and make some extra payment too. He (Jabir) said: He gave me an uqiya of gold and made an addition of a qirat. He (Jabir) said: The addition made by Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was with me (as a sacred trust for belssing) and lay with me in a pocket until the people of Syria took it on the Day of Harra.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي ارْکَبْ بِاسْمِ اللَّهِ وَزَادَ أَيْضًا قَالَ فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ
ابوکامل جحدری، عبدالواحد بن زیاد، جریری، ابی نضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو میرا اونٹ پیچھے رہ گیا اور باقی حدیث گزر چکی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ٹھونکا دیا پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اللہ کا نام لے کے سوار ہوجاؤ اور مزید یہ اضافہ کیا کہ آپ ﷺ مجھے زیادہ دیتے جاتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تجھے معاف کر دے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: We were with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a journey and my camel meant for carrying water lagged behind. The rest of the hadith is the same and it is mentioned also: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pricked it and then said to me: Ride in the name of Allah. He constantly made addition (in prayers for me) and went on saying. May Allah forgive you!
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا أَتَی عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي قَالَ فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ فَکُنْتُ بَعْدَ ذَلِکَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ قَالَ قُلْتُ عَلَی أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ وَلَکَ ظَهْرُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي
ابوربیع عتکی، حماد، ایوب، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے جب نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا آپ ﷺ نے اسے ایک ٹھونکا دیا تو وہ کودنے لگا اور میں اس کے بعد آپ ﷺ کی بات سننے کے لئے اس کی لگام کھینچتا تھا لیکن میں اس پر قادر نہ ہوسکا آخر کار نبی کریم ﷺ مجھ سے آملے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مجھے فروخت کردو میں نے آپ ﷺ کو یہ اونٹ پانچ اوقیہ پر بیچ دیا اور عرض کی کہ مدینہ تک اس کی سواری میرے لئے ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا اس کی سواری مدینہ تک تیرے لئے ہے جب میں مدینہ آیا تو میں نے اس اونٹ کو آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے ایک اوقیہ مجھے زیادہ دیا پھر وہ اونٹ بھی مجھے ہبہ کردیا۔
Jabir (RA) reported: My camel had grown tired as Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to me. He goaded it and it began to jump. After that I tried to restrain its rein so that I could listen to his (Prophets) words, but I could not do that. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met me and said: Sell it to me, and I sold it for five uqiyas. I said: On the condition that I may use it as a ride (for going back) to Madinah. He (the Holy Prophet) said: Well, you may use it as a ride up till Madinah. When I came to Madinah I handed over that to him and he made an addition of an uqiya (to that amount which had been agreed upon) and then presented that (camel) to me.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ قَالَ غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَ يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَکَ الثَّمَنُ وَلَکَ الْجَمَلُ لَکَ الثَّمَنُ وَلَکَ الْجَمَلُ
عقبہ بن مکرم عمی، یعقوب بن اسحاق، بشیربن عقبہ، ابی المتوکل ناجی، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اسفار میں سے کسی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت جابر (رض) نے کہا جہاد کا سفر کیا اور باقی قصہ بیان کیا اور اس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے آپ نے کہا اے جابر ! کیا تو نے قیمت پوری لے لی میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا قیمت بھی تیرے لئے اور اونٹ بھی تیرے ہی لئے ہے
Abd Mutawakkil al-Najl reported from Jabir bin Abdullah (RA) who said: I accompanied Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in one of his journeys (the narrator says, he said in Jihad), and he narrated the rest of the hadith, and made this addition: He (the Holy Prophet) said: Jabir, have you received the price? I said: Yes, whereupon he said: Yours is the price as well as the camel; yours is the price as well as the camel.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا اشْتَرَی مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَکَلُوا مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَکْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ فَأَرْجَحَ لِي
عبداللہ بن معاذعنبری، شعبہ، محارب، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کے مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک یا دو درہم میں خریدا کہا جب ہم مقام صرار پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا وہ ذبح کی گئی تو سب نے اس کا گوشت کھایا جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھے مسجد میں آنے اور دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور میرے لئے اونٹ کی قیمت وزن کردی اور زیادہ دی
Jabir bin Abdullah (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) bought a camel from me for two uqiyas and a dirham or two dirhams. As he reached Sirar (a village near Madinah), he commanded a cow to be slaughtered and it was slaughtered, and they ate of that, and as he (the Holy Prophet) reached Madinah he ordered me to go to the mosque and offer two rakahs of prayer, and he measured for me the price of the camel and even made an excess payment to me.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ وَقَالَ أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، محارب، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہ قصہ سوائے اس کے بیان کیا کہ آپ نے مجھ سے ایک معین قیمت پر اونٹ خریدا اور دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کا ذکر نہیں کیا اور فرمایا آپ ﷺ نے ایک گائے کے نحر کرنے کا حکم دیا وہ نحر کی گئی پھر اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported this narration from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) but with this variation that he said: He (the Holy Prophet) bought the camel from me on a stipulated price. And he did not mention two uqiyas and a dirham or two dirhams, and he comanded a cow (to be slaughtered) and it was slaughtered, and he then distributed its flesh.
اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَکَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَکَ ظَهْرُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی زائدہ، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تیرا اونٹ چار دینار میں لے لیا اور تیرے لئے مدینہ تک اس کی سواری ہے
Jabir (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: I have taken your camelfor four dinars, and you may ride upon it to Madinah.