Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 204 of 379

4068Sahih Muslimصحیح

بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا

ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، ابن ابی نعم، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سونا سونے کے عوض وزن وزن کے ساتھ برابر برابر ہو اور چاندی چاندی کے ساتھ وزن وزن کے ساتھ برابر برابر ہو جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کو طلب کیا تو یہ سود ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Gold is to be paid for by gold with equal weight, like for like, and silver is to be paid for by silver with equal weight, like for like. He who made an addition to it or demanded an addition dealt in usury.

4069Sahih Muslimصحیح

بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، سلیمان ابن بلال، موسیٰ بن ابی تمیم، سعید بن یسار، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دینار دینار کے بدلے اور زیادتی ان میں جائز نہیں اور درہم درہم کے بدلے اور ان میں زیادتی نہیں ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Let dinar be exchanged for dinar, with no addition on either side and dirham be exchanged for dirham with no addition on either side.

4070Sahih Muslimصحیح

بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ أَبِي تَمِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، موسیٰ بن ابی تمیم اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Musa bin Abu Tamim with the same chain of transmitters.

4071Sahih Muslimصحیح

چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ بَاعَ شَرِيکٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَی الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَی الْحَجِّ فَجَائَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي فَقُلْتُ هَذَا أَمْرٌ لَا يَصْلُحُ قَالَ قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ فَأَتَيْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ مَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَا کَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ

محمد بن حاتم بن میمون، سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میرے شریک نے چاندی حج کے موسم یا حج تک کے ادھار میں فروخت کی۔ میرے پاس آکر اس نے مجھے اس کی خبر دی تو میں نے کہا یہ معاملہ تو درست نہیں اس نے کہا اسے میں نے بازار میں فروخت کیا اور کسی نے مجھے اس پر منع نہیں کیا تو میں نے براء بن عازب کے پاس جا کر ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا جو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو وہ سود ہے اور تو زید بن ارقم کے پاس جا کیونکہ وہ تجارت میں مجھ سے بڑے ہیں میں نے ان کے پاس جا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔

Abu Minhal reported: My partner sold silver to be paid in the (Hajj) season or (in the days of) Hajj. He (my partner) came to me and informed me, and I said to him: Such transaction is not desirable. He said: I sold it in the market (on loan) but nobody objected to this. I went to al-Bara bin Azib (RA) and asked him, and he said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to Madinah and we made such transaction, whereupon he said: In case the payment is made on the spot, there is no harm in it, and in case (it is sold) on loan, it is usury. You better go to Zaid bin Arqam, for he is a greater trader than I; so I went to him and asked him, and he said like it.

4072Sahih Muslimصحیح

چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلْ الْبَرَائَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا

عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، حبیب، حضرت ابوالمنہال سے روایت ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب (رض) سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا زید بن ارقم (رض) سے پوچھو وہ زیادہ جاننے والے ہیں پھر دونوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو سونے کے عوض ادھار بیع کرنے سے منع فرمایا۔

Habib reported that he heard Abu Minhal as saying: I asked al-Bara bin Azib (RA) about the exchange of (gold for silver or vice versa), whereupon he said: you better ask Zaid bin Arqam for he knows more than I. So I asked Zaid but he said: You better ask al-Bara for he knows more than I. Then both of them said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the sale of silver for gold when payment is to be made in future.

4073Sahih Muslimصحیح

چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ کَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ کَيْفَ شِئْنَا قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَکَذَا سَمِعْتُ

ابوربیع عتکی، عباد بن عوام، یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالرحمن بن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ برابر برابر ہوں اور ہمیں حکم دیا کہ ہم چاندی کو سونے کے ساتھ جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کو چاندی کے عوض جیسے چاہیں خریدا کریں ایک آدمی نے سوال کیا کہ نقد بہ نقد تو فرمایا میں نے اسی طرح سنا۔

Abdul Rabman bin Abia Bakra reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the sale of gold for gold, and silver for silver except equal for equal, and commanded us to buy silver for gold as we desired and buy gold for silver as we desired. A person asked him (about the nature of payment), whereupon he said: It is to be made on the spot. This is what I heard (from Allahs Messenger (may peace be upon him ).

4074Sahih Muslimصحیح

چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرَةَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

اسحاق بن منصور، یحییٰ بن صالح، معاویہ، یحیی، ابن ابی کثیر، یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالرحمن بن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح منع فرمایا۔

Abdul Rabman bin Abu Bakra (RA) said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) prohibited us. The rest of the hadith is the same.

4075Sahih Muslimصحیح

سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنْ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، ابوہانی، علی بن رباح، حضرت فضالہ بن عبید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا اور آپ ﷺ خبیر میں تھے اس میں پتھر کے نگ اور سونا تھا اور یہ مال غنیمت میں سے تھا جو بیچا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہار میں موجود سونے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے علیحدہ کرلیا جائے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے کو سونے کے برابر وزن کر کے فروخت کرو۔

Fadala bin Ubaid al-Ansari reported: A necklace having gold and gems in it was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in Khaibar and it was one of the spoils of war and was put to sale. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The gold used in it should be separated, and then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) further said: (Sell) gold for gold with equal weight.

4076Sahih Muslimصحیح

سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَکْثَرَ مِنْ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تُبَاعُ حَتَّی تُفَصَّلَ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابی شجاع، سعید بن یزید، خالد بن ابی عمران، حنش صنعانی، حضرت فضالہ بن عبید (رض) سے روایت ہے کہ میں نے خبیر کے دن ایک ہار بارہ دینار میں خریدا اس میں سونا اور پتھر کے نگ تھے جب میں نے اس سے سونا جدا کیا تو میں نے اس میں سونا بارہ دینا سے زیادہ پایا تو میں نے اس بات کا نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سونے کو فروخت نہ کیا جائے جب تک کہ اسے جدا نہ کیا جائے۔

Fadila bin Ubaid (RA) reported: I bought on the day (of the Victory of Khaibar) a necklace for twelve dinars (gold coins). It was made of gold studded with gems. I separated (gold from gems) in it, and found (gold) of more (worth) than twelve dinars. I made a mention of it to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon he said: It should not be sold unless it is separated.

4077Sahih Muslimصحیح

سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن المبارک، حضرت سعید (رض) بن زید (رض) سے بھی اسی طرح حدیث اس سند کے ساتھ مروی ہے۔

A hadith like this is narrated on the authority of Said bin Yazid with the same chain of transmitters.

4078Sahih Muslimصحیح

سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ

قتیبہ، لیث، ابن ابی جعفر، جلاح، حنش صنعانی، حضرت فضالہ بن عبید (رض) سے روایت ہے کہ ہم خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم یہود سے ایک اوقیہ سونے کے بدلے دو یا تین دینار کے ساتھ بیع کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے سوائے وزن کے مت فروخت کرو۔

Fadala bin Ubaid reported: We were in the company of Allahs Messenger ( may peace be upon him) on the day (of the Victory of) Khaibar, and made transaction with the Jews for the uqiya of gold for the dinars or three (gold coins), whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Do not sell gold for gold but for equal weight

4079Sahih Muslimصحیح

سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَی الْمَعَافِرِيَّ أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلِأَصْحَابِي قِلَادَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي کِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَکَ فِي کِفَّةٍ ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ

ابوطاہر، ابن وہب، قرہ بن عبدالرحمن معافری، عمر بن حارث، حضرت حنش سے روایت ہے کہ ہم حضرت فضالہ بن عبید (رض) کے ساتھ ایک جنگ میں تھے میرے اور میرے ساتھی کے حصہ میں ایک ایسا ہار آیا جس میں سونا اور چاندی اور جواہر تھے میں نے اس کے خریدنے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت فضالہ بن عبید (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس کا سونا جدا کر کے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنے سونے کو دوسرے پلڑے میں رکھ پھر برابر برابر کے سواء تم حاصل نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ برابر برابر کے سوا حاصل نہ کرے۔

Hanash reported: We were along with Fadala bin Ubaid (RA) in an expedition. There fell to my and my friends lot a necklace made of gold, silver and jewels. I decided to buy that. I asked Fadala bin Ubaid, whereupon he said: Separate its gold and place it in one pan (of the balance) and place your gold in the other pan, and do not receive but equal for equal, for I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who believes in Allah and the Hereafter should not take but equal for equal.

4080Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ فَقَالَ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِکَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ قَالَ وَکَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ قِيلَ لَهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ

ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، عمرو، ابوطاہر، ابن وہب، عمر بن حارث، بسربن سعید، معمر بن عبداللہ، حضرت عمر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کا ایک صاع دے کر بھیجا تو اسے کہا اس کو بیچ دینا پھر اس کی قیمت سے جو خرید لینا غلام گیا تو اس نے ایک صاع اور کچھ زیادہ لے لئے اور جب معمر کے پاس آیا تو انہیں اس کی خبر دی معمر (رض) نے اسے کہا تو نے ایسا کیوں کیا جاؤ اور اسے واپس کر کے آؤ اور برابر سے زیادہ نہ لو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے غلہ غلہ کے بدلے برابر برابر ہو اور ان دنوں میں ہمارا اناج جو تھا آپ ﷺ سے کہا گیا کہ یہ اس کی مثل تو نہیں ہے کہا میں ڈرتا ہوں کہ یہ اس کی مثل نہ ہوجائے۔

Mamar binAbdullah reported that he sent his slave with a sa of wheat and said to him: Sell it, and then buy with it barley. The slave went away and he got a sa (of barley) and a part of sa over and above that. When he came to Mamar he informed him about that, whereupon Mamar said to him: Why did you do that? Go back and return that, and do not accept but weight, for weight, for I used to hear from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Wheat for wheat and like for like. He (one of the narrators) said: Our food in those days consisted of barley. It was said to him (Mamar) that (wheat) is not like that (barley). He replied: I am afraid these may not be similar

4081Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَی خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنْ الْجَمْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلُوا وَلَکِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَکَذَلِکَ الْمِيزَانُ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی عدی انصاری میں سے ایک شخص کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا وہ عمدہ کھجور لے کر حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح ہیں اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ﷺ ہم ایک صاع دو صاع کے بدلے خریدتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ برابر برابر بیچ دو یا اس کی قیمت سے دوسری خرید لو اور اسی طرح تول اور وزن میں بھی برابری کرو۔

Abu Hurairah (RA) and Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) deputed a person from Banu Adi al-Ansari to collect revenue from Khaibar. He came with a fine quality of dates, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Are all the dates of Khaibar like this? He said: Allahs Messenger, it is not so. We buy one sa of (fine quality of dates) for two sas out of total output (including even the inferior quality of dates), whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dont do that, but like for like, or sell this (the inferior quality and receive the price) and then buy with the price of that, and that would make up the measure.

4082Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا تو وہ عمدہ کھجور لے کر حاضر ہوا تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں اس نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے اور دو صاع تین صاع کے بدلے لیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا مت کرو گھیٹا دراہم کے بدلے فروخت کر اور پھر عمدہ کھجور ان دراہم کے عوض خرید لے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) deputed a person to collect revenue from Khaibar. He brought fine quality of dates, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Are all the dates of Khaibar like this)? He said: No. We got one sa (of fine dates) for two sas (of inferior dates), and (similarly) two sas for three sas. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dont do that rather sell the inferior quality of dates for dirhams (money), and then buy the superior quality with the help of dirhams.

4083Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُا جَائَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا فَقَالَ بِلَالٌ تَمْرٌ کَانَ عِنْدَنَا رَدِيئٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِکَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِکَ

اسحاق بن منصور، یحییٰ بن صالح، معاویہ، ابن سلام، محمد بن سہیل تمیمی، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، ابن کثیر، عقبہ بن عبدالغافر، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ حضرت بلال (رض) کھجور لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو حضرت بلال (رض) نے عرض کیا ہمارے پاس ردی کھجوریں تھیں میں ان میں سے دو صاع کو ایک صاع کے بدلے نبی کریم ﷺ کے کھانے کے لئے فروخت کر کے لایا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افسوس یہ تو عین سود ہے ایسا مت کرو البتہ جب تم کھجور خریدنے کا ارادہ کرو دوسری بیع کے ساتھ پھر اس قیمت کے بدلے یہ خرید لو ابن سہم نے اپنی حدیث میں عِنْدَ ذَلِکَ ذکر نہیں کیا۔

Abd Said reported: Bilal (RA) came with fine quality of dates. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: From where (you have brought them)? Bilal (RA) said: We had inferior quality of dates and I exchanged two sas (of inferior quality) with one sa (of fine quality) as food for Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Woe! it is in fact usury; therefore, dont do that. But when you intend to buy dates (of superior quality), sell (the inferior quality) in a separate bargain and then buy (the superior quality). And in the hadith transmitted by Ibn Sahl there is no mention of" whereupon"

4084Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی قزعہ باہلی، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کھجوریں ہماری کھجوروں کی نسبت کتنی عمدہ ہیں تو اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے بدلے فروخت کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سود ہے ان کو واپس کردو تم ہماری کھجوروں کو فروخت کرو اور ان میں سے اس رقم سے ہمارے لئے خریدو۔

Abu Said (RA) reported: Dates were brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and he said: These dates are not like our dates, whereupon a man said: We sold two sas of our dates (in order to get) one sa, of these (fine dates), whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: That is interest; so return (these dates of fine quality), and get your (inferior dates) ; then sell our dates (for money) and buy for us (with the help of money) such (fine dates).

4085Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنْ التَّمْرِ فَکُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ

اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، ابی سلمہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں تو ہم دو صاع ایک صاع کے بدلے فروخت کرتے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو فرمایا دو صاع کھجور کے بدلے ایک صاع کھجور اور دو صاع گندم کے بدلے ایک صاع گندم اور ایک درہم دو درہم کے برابر نہیں یعنی ایسی بیع نہ کرو۔

Abu Said (RA) reported: We were given to eat, during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , dates of different qualities mixed together, and we used to sell two sas of these for one sa, (of fine quality of dates). This reached Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon he said: There should be no exchange of two sas of (inferior) dates for one sa (of fine dates) and two sas of (inferior) wheat for one sa of (fine) wheat. and one dirham for two dirharms.

4086Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا بَأْسَ بِهِ قَالَ أَوَ قَالَ ذَلِکَ إِنَّا سَنَکْتُبُ إِلَيْهِ فَلَا يُفْتِيکُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَائَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَنْکَرَهُ فَقَالَ کَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا قَالَ کَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا أَوْ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْئِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ فَقَالَ أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَکَ مِنْ تَمْرِکَ شَيْئٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنْ التَّمْرِ

عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، سعید الجریری، حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس (رض) سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کیا ہاتھوں ہاتھ میں نے کہا ہاں تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں میں نے ابوسعید (رض) کو اس کی خبر دی میں نے کہا میں نے ابن عباس (رض) سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کیا ہاتھوں ہاتھ ؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ابوسعید (رض) نے فرمایا کیا انہوں نے اسی طرح فرمایا ہے ؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تم کو ایسا فتوی نہ دیں گے اور کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے پاس بعض جوان کھجور لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اس پر تعجب کیا اور فرمایا ہماری زمینوں کی کھجوریں تو ایسی نہیں ہیں اس نے کہا ہماری زمین کی کھجوروں یا ہمارے اس سال کی کھجوروں کو کچھ عیب آگیا تھا میں نے یہ کھجوریں لیں اور اس کے عوض میں کچھ زیادہ کھجوریں دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے زیادہ دیا اور سود دیا اب ان کے قریب نہ جانا جب تجھے اپنی کھجوروں میں کچھ عیب معلوم ہو تو ان کو بیچ ڈال پھر کھجور میں سے جس کا تو ارادہ کرے خرید لے۔

Abu Nadra reported: I asked Ibn Abbas (RA) about the conversion (of gold and silver for silver and gold). We said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes. whereupon he said: There is no harm in it. I informed Abu Said about it, telling him that I had asked Ibn Abbas about it and he said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes, whereupon he said: There is no harm in it. He (the narrator) said, or he said like it: We will soon write to him, and he will not give you this fatwa (religious verdict). He said: By Allah, someone of the boy-servants of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) brought dates, but he refused to accept them (on the plea) that those did not seem to be of the dates of our land. He said: Something had happened to the dates of our land, or our dates. So I got these dates (in exchange by giving) excess (of the dates of our land), whereupon he said: You made an addition for getting the fine dates (in exchange) which tantamounts, to interest; dont do that (in future). Whenever you find some doubt (as regards the deteriorating quality of) your dates, sell them, and then buy the dates that you like.

4087Sahih Muslimصحیح

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا فَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ لِقَوْلِهِمَا فَقَالَ لَا أُحَدِّثُکَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَکَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّی لَکَ هَذَا قَالَ انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ کَذَا وَسِعْرَ هَذَا کَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَکَ أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَکُونَ رِبًا أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَائِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَکَّةَ فَکَرِهَهُ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالاعلی، داود، حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) سے اور ابن عباس (رض) سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہ کیا میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ان سے میں نے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا جو زیادتی کی وہ سود ہے میں نے ابن عمر اور ابن عباس (رض) کے قول کی وجہ سے اس کا انکار کیا تو ابوسعید نے فرمایا میں تجھ سے سوائے اس کے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کچھ بھی بیان نہیں کرتا ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا اور نبی کریم ﷺ کی کھجور بھی اس رنگ کی تھیں اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے پاس یہ کھجور کہاں سے آئی تو اس نے کہا میں دو صاع کھجور لے گیا اور اس کے عوض یہ ایک صاع کھجور خرید کر لایا کیونکہ اس کا نرخ بازار میں اسی طرح ہے اور اس کا بھاؤ اسی طرح ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو تو نے سود دیا جب تو اس کا ارادہ کرے تو اپنی کھجور کو کسی چیز کے بدلے فروخت کر دے پھر تو اپنے سامان کے عوض جو کھجور چاہئے خرید لے ابوسعید (رض) نے کہا کھجور کھجور کے بدلے زیادہ حقدار ہے کہ وہ سود ہوجائے یا چاندی چاندی کے عوض ابونضرہ کہتے ہیں اس کے بعد میں ابن عمر کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے منع کردیا اور حضرت ابن عباس (رض) کے پاس میں نہ جاسکا ابوصہبا (رح) نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے ابن عباس (رض) سے مکہ میں اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا۔

Abu Nadra reported: I asked Ibn Umar (RA) and Ibn Abbas (RA) about the conversion of gold with gold but they did not find any harm in that. I was sitting in the company of Abd Said al-Khudri (RA) and asked him about this exchange, and he said: Whatever is addition is an interest. I refused to accept it on account of their statement (statement of Ibn Abbas and Ibn Umar). He said: I am not narrating to you except what I heard from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . There came to him the owner of a date-palm with one sa of fine dates, and the dates of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were of that colour. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Where did you get these dates? I went with two sas of (inferior dates) and bought one sa of (these fine dates), for that is the prevailing price (of inferior dates) in the market and that is the price (of the fine quality of dates in the market), whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Woe be upon you! You have dealt in interest, when you decide to do it (i. e. exchange superior quality of dates for inferior quality) ; so you should sell your dates for another commodity (or currency) and then with the help of that commodity buy the dates you like. Abu Saad said: When dates are exchanged for dates (with different qualities) there is the possibility (of the element of) interest (creeping into that) or when gold is exchanged for gold having different qualities. I subsequently came to Ibn Umar and he forbade me (to do it), but I did not come to Ibn Abbas; (RA) . He (the narrator) said: Abu as-Sahba narrated to me: He asked Ibn Abbas (RA) in Makkah, and he too disapproved of it.