خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّةَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ وَکَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَائَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ يَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَی يَدَيَّ قَالَ فَلَقِيَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَی يَدِي مَنْ شَائَ فَهَلْ لَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ قَالَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَيَّ کَلِمَاتِکَ هَؤُلَائِ فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَائِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ هَؤُلَائِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ قَالَ فَقَالَ هَاتِ يَدَکَ أُبَايِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ قَالَ فَبَايَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی قَوْمِکَ قَالَ وَعَلَی قَوْمِي قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَائِ شَيْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلَائِ قَوْمُ ضِمَادٍ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ابوہمام، داؤد، عمرو بن سعید، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ میں آیا اس کا تعلق قبیلہ ازد شنوء سے تھا اور جنون اور آسیب وغیرہ کے لئے جھاڑ پھونک کرتا تھا اور اس نے مکہ کے بیوقوفوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد (العیاذ باللہ) مجنون ہیں تو اس نے کہا کہ میں اس آدمی کو دیکھتا ہوں شاید کہ اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے شفا دے دے اس حماد نے آپ ﷺ سے ملاقات کی اور کہا کہ اے محمد میں جنوں وغیر کے لئے جھاڑ پھونک کرتا ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ سے شفا دیتا ہے تو آپ ﷺ کیا چاہتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) بعد! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں بعد حمد وصلوہ کہنے لگے کہ اپنے ان کلمات کو دوبارہ پڑھیئے رسول اللہ ﷺ نے ان کلمات کو تین مرتبہ دہرایا ضماد نے کہا کہ میں نے کاہنوں کا کلام سنا جادو گروں کا کلام سنا شاعروں کا کلام سنا لیکن آپ ﷺ کے کلام کی طرح کا کلام نہیں سنا یہ کلام تو سمندر کی بلا غت تک پہنچ گیا ہے ضماد نے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرتا ہوں پھر اس نے بیعت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے اور تمہاری قوم کی طرف سے بھی بیعت لیتا ہوں ضماد نے کہا کہ میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹا سالشکر بھیجا وہ لشکر اس کی قوم میں سے گزرا تو اس لشکر کے سردار نے کہا کہ کیا تم نے اس قوم والوں سے کچھ لیا ہے تو جماعت کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے ان سے لیا ہے، اس لشکر کے سردار نے کہا جاؤ اسے واپس کرو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کا ہے (اور یہ لوگ ضماد کی بیعت کی وجہ سے اس میں آگئے ہیں)۔
Ibn Abbas reported: Dimad came to Makkah and he belonged to the tribe of Azd Shanua, and he used to protect the person who was under the influence of charm. He heard the foolish people of Makkah say that Muhammad ﷺ was under the spell. Upon this he said: "If I were to come across this man, Allah might cure him at my hand.". He met him and said: Muhammad, I can protect (one) who is under the influence of charm, and Allah cures one whom He so desires at my hand. Do you desire (this)? Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: "Praise is due to Allah, we praise Him, ask His help; and he whom Allah guides aright there is none to lead him astray, and he who is led astray there is none to guide him, and I bear testimony to the fact that there is no god but Allah, He is One, having no partner with Him, and that Muhammad is His Servant and Messenger". Now after this he (Dimad) said: "Repeat these words of yours before me", and the Messenger of Allah ﷺ repeated these to him thrice; and he said: "I have heard the words of soothsayers and the words of magicians, and the words of poets, but I have never heard such words as yours, and they reach the depth (of the ocean of eloquence) ; bring forth your hand so that I should take oath of fealty to you on Islam". So he took an oath of allegiance to him. The Messenger of Allah ﷺ said: "It (this allegiance of yours) is on behalf of your people too". He said: It is on behalf of my people too. The Messenger of Allah ﷺ sent an expedition and the flying column passed by his people. The leader of the flying column said to the detachment: Did you find anything from these people? One of the people said: I found a utensil for water. Upon this he (the commander) said: Return it, for he is one of the people of Dimad.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ کُنْتَ تَنَفَّسْتَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا
سریج بن یونس، عبدالرحمن بن عبدالملک بن ابجر، واصل بن حیان نے کہا کہ ہمارے سامنے حضرت عمار ؓ نے خطبہ دیا جو مختصر اور نہایت بلیغ تھا جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا اے ابوالیقطان آپ نے نہایت مختصر اور نہایت بلیغ خطبہ دیا اگر میں خطبہ دیتا تو ذرا لمبا دیتا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کا لمبی نماز اور خطبہ کو مختصر پڑھنا یہ اس کی سمجھداری کی علامت ہے پس نماز کو لمبا کرو اور خطبہ کو مختصر کرو کیونکہ بعضے بیان جادو جیسے اثر رکھتے ہیں۔
Abu Wail reported: Ammar delivered to us the sermon. It was short and eloquent. When he (Ammar) descended (from the pulpit) we said to him: O Abdul Yaqzn, you have delivered a short and eloquent sermon. Would that you had lengthened (the sermon). He said: I have heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: The lengthening of prayer by a man and the shortness of the sermon is the sign of his understanding (of faith). So lengthen the prayer and shorten the sermon, for there is charm (in precise) expression.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ غَوِيَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، سفیان، عبدالعزیزبن رفیع، تمیم بن طرفہ، عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے سامنے خطبہ دیا اور کہا کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہوجائے گا اور جو ان دونوں کی نافرنانی کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو برا خطیب ہے تو کہہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا ابن نمیر نے کہا کہ وہ گمراہ ہوجائے گا۔
Adi bin Hatim reported that a person recited a sermon before the Apostle of Allah ﷺ thus: He who obeys Allah and His Apostle, he in fact follows the right path, and he who disobeys both of them, he goes astray. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: "What a bad speaker you are; say: He who disobeys Allah and His Apostle". Ibn Numair added: He in fact went astray.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ عَطَائً يُخْبِرُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا يَا مَالِکُ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق حنظلی، ابن عیینہ سفیان، عمرو، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے منبر پر پڑھتے ہوئے سنا۔ (وَنَادَوْا يَا مَالِکُ لِیَقضِ عَلَینَا رَبُکَ ) اور وہ دوزخی پکاریں گے اے مالک داروغہ جہنم تیرا پروردگار ہمارا کام تمام کر دے
Safwan bin Yala reported on the authority of his father that he heard the Apostle of Allah ﷺ reciting (verses of the Quran) on the pulpit. and" They cried: O Malik."
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ قَالَتْ أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِهَا عَلَی الْمِنْبَرِ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ حضرت عمرہ ؓ کی بہن سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے سورت ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيد رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ہی جمعہ کے دن سن کر یاد کی ہے اور آپ ﷺ ہر جمعہ میں منبر پر پڑھا کرتے تھے۔
Amrah daughter of Abdul Rahman reported on the authority of the sister of Amra, I memorised (surah) Qaf Surah "By the glorious Quran" from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ on Friday for he recited it on the pulpit on-every Friday."
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَتْ أَکْبَرَ مِنْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
ابوطاہر، ابن وہب، یحییٰ بن ایوب، یحییٰ بن سعید، عمرہ بنت عبدالرحمن کی بہن سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
The daughter of Haritha b. Numan said:
I did not memorise (Surah) Qaf but from the mouth of the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as he used to deliver the. sermon along with it on every Friday. She also added: Our oven and that of the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) was one.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبٍ عَنْ عَبدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا کُلَّ جُمُعَةٍ قَالَتْ وَکَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، خبیب، عبداللہ بن محمد بن معن، حضرت حارثہ ؓ بن نعمان کی بیٹی سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے سورت " ق " رسول اللہ ﷺ سے سن کر حفظ کی آپ ﷺ ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے وہ کہتی ہیں کہ ہمارا تنور اور رسول اللہ ﷺ کا تنور ایک ہی تھا۔
Umm Hisham bint Haritha b. Numan said:
Our oven and that of the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) was one for two years, or for one year or for a part of a year; and I learnt" Qaf. By the Glorious Quran" from no other source than the tongue of Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) who used to recite it every Friday on the pulpit when he delivered the sermon to the people.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ لَقَدْ کَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ وَمَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا کُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ
عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، محمد بن اسحاق، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن عمرو بن حزم انصاری، یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ، حضرت ام ہشام ؓ بن حارثہ بن نعمان ؓ فرماتی ہیں کہ ہمارا تنور اور رسول اللہ ﷺ کا تنور دو سال یا ایک سال یا سال کے کچھ حصہ تک ایک ہی تھا اور میں نے سورت ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِید رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک ہی سے سن کر یاد کی ہے آپ ﷺ اس سورة کو ہر جمعہ کو منبر پر جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو پڑھا کرتے تھے۔
Umm Hisham bint Haritha bin Numan said: Our oven and that of the Messenger of Allah ﷺ was one for two years, or for one year or for a part of a year; and I learnt "Qaf. By the Glorious Quran" from no other source than the tongue of Allahs Messenger ﷺ who used to recite it every Friday on the pulpit when he delivered the sermon to the people.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، حصین، عمارہ بن رویبہ نے فرمایا کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو خراب کرے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کہنے کے علاوہ نہ فرماتے اور انہوں نے اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔
Umara bin Ruwaiba said he saw Bishr bin Marwan on the pulpit raising his hands and said: Allah, disfigure these hands! I have seen Allahs Messenger ﷺ gesture no more than this with his hands, and he pointed with his forefinger.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، حصین بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھا پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر فرمائی۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of Husain bin Abdul Rahman.
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَارْکَعْ
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، ابن زید، عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک آدمی آیا نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے فلاں کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اٹھ کھڑا ہو کردو رکعت پڑھ۔
Jabir bin Abdullah reported that while Allahs Messenger ﷺ was delivering the sermon on Friday a person came there, and the Apostle of Allah ﷺ said to him: So and so, have you prayed (two rakahs)? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Then stand and pray.
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَلَمْ يَذْکُرْ الرَّکْعَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یعقوب دورقی، ابن علیہ، ایوب، عمرو، حضرت جابر نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کی ہے لیکن اس میں دو رکعتوں کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith is narrated by Jabir through another chain of transmitters but Hammad (one of the narrators) made no mention of the two rakahs.
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ الرَّکْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ صَلِّ رَکْعَتَيْنِ
قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، عمرو، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کھڑا ہو اور دو رکعتیں نماز پڑھو اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ دو رکعتیں پڑھو۔
Jabir bin Abdullah said that a person entered the Mosque while the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon on Friday. Upon this he (the Holy Prophet) said: Have you observed prayer? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Stand and offer the two rakahs. According to Qutaiba, the words are:" He said: Offer two rakahs."
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا جَائَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ أَرَکَعْتَ رَکْعَتَيْنِ قَالَ لَا فَقَالَ ارْکَعْ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور نبی ﷺ منبر پر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نے دو رکعتیں پڑھ لیں ہیں؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا دو رکعت پڑھ لے۔
Jabir bin Abdullah reported that a person came (in the Mosque) while the Apostle of Allah ﷺ was delivering the sermon on Friday (standing) on the pulpit. He (the Holy Prophet) said to him: "Have you offered two rakahs?" He said: "No". Upon this he said: "Then observe (them)".
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَکْعَتَيْنِ
محمد بن بشار، ابن جعفر، شعبہ، عمرو بن دینار، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام بھی (منبر کی طرف) نکل گیا ہے تو اسے چاہئے کہ دو رکعتیں پڑھ لے۔
Jabir bin Abdullah said that the Apostle of Allah ﷺ delivered the sermon and said: When any one of you comes for the Friday (prayer) and the Imam comes out (from his apartment), (even then) should one observe two rakahs (of prayer).
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَ سُلَيْکٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَعَدَ سُلَيْکٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَکَعْتَ رَکْعَتَيْنِ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَارْکَعْهُمَا
قتیبہ بن سعید، لیث، ح، محمد بن رمح، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیک غطفانی ؓ جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے تو سلیک ؓ نماز پڑھنے سے پہلے بیٹھ گئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تو نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھ لو۔
Jabir reported that Sulaik Ghatafani came on Friday (for prayer) while the Messenger of Allah ﷺ was sitting on the pulpit. Sulaik also sat down before observing prayer. The Apostle of Allah ﷺ said: Have you observed two rakahs? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Stand and observe them
خطبہ کے دوران دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ کِلَاهُمَا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ سُلَيْکٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ يَا سُلَيْکُ قُمْ فَارْکَعْ رَکْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْکَعْ رَکْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں سلیک غطفانی ؓ جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے وہ آکر بیٹھ گئے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا اے سلیک کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھو اور اس میں اختصار کرو پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہے کہ دو رکعتیں پڑھے اور ان دونوں میں اختصار کرے۔
Jabir bin Abdullah reported: Sulaik Ghatafani came on Friday when the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon. He (Sulaik) sat down. He (the Holy Prophet) said to him: O Sulaik I stand and observe two rakahs and make them short, and then said: When any one of you comes on Friday, while the Imam delivers the sermon, he should observe two rakahs and should make them short.
دوران خطبہ دین کی تعلیم دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَائَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَکَ خُطْبَتَهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَيَّ فَأُتِيَ بِکُرْسِيٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا قَالَ فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ أَتَی خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال، ابورفاعہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ایک مسافر آدمی ہے وہ اپنے دین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے تو آپ ﷺ نے خطبہ چھوڑ دیا اور میری طرف متوجہ ہوئے پھر ایک کرسی لائی گئی میرا گمان ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے نبی ﷺ اس کرسی پر بیٹھ گئے اور مجھے علوم سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سکھلائے پھر آئے اور آخر تک اپنا خطبہ پورا کیا۔
Abu Rifaa reported: I came to the Holy Prophet ﷺ when he was delivering the sermon, and I said: Messenger of Allah, here is a stranger and he wants to learn about this religion and he does not know what this religion is. The Messenger of Allah ﷺ looked at me and left his sermon till he came to me, and he was given a chair and I thought that its legs were made of iron. The Messenger of Allah ﷺ sat in it and he began to teach me what Allah had taught him. He then came (to the pulpit) for his sermon and completed it to the end.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَی الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَی مَکَّةَ فَصَلَّی لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي الرَّکْعَةِ الْآخِرَةِ إِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ فَأَدْرَکْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّکَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ کَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْکُوفَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، ابن بلال، جعفر، ابن ابی رافع فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ مکہ مکرمہ نکل گیا حضرت ابوہریرہ ؓ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو انہوں نے سورت الجمعہ کے بعد دوسری رکعت میں سورت (إِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ ) پڑھی جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ؓ نے دو سورتیں ملا کر پڑھی ہیں جیسا کہ حضرت علی ؓ بن ابی طالب کوفہ میں پڑھتے تھے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن یہی سورتیں پڑھتے سنا۔
Ibn Abu Rafi said: Marwan appointed Abu Hurairah (RA) as his deputy in Madinah and he himself left for Makkah. Abu Hurairah (RA) led us in the Jumua prayer and recited after Surah Jumua in the second rakah: " When the hypocrites came to thee" (Surah lxiii.). I then met Abu Hurairah (RA) as he came back and said to him: You have recited two surahs which Ali bin Abu Talib used to recite in Kufah. Upon this Abu Hurairah (RA) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ (may peace: be upon him) reciting these two in the Friday (prayer).
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ کِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ حَاتِمٍ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَی وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، حاتم بن اسماعیل، ح، قتیبہ، عبدالعزیز در اور دی، جعفر، عبیداللہ بن ابورافع سے روایت ہے کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو اپنا نائب مقرر کیا پھر اسی طرح روایت نقل کی، صرف اتنا فرق ہے کہ حاتم کی روایت میں ہے کہ آپ نے پہلی رکعت میں سورت الجمعہ اور دوسری رکعت میں (إِذَا جَاءَکَ الْمُنَافِقُونَ ) پڑھی اور عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی روایت کی طرح ہے۔
This hadith is narrated by Abdullah bin Abu Rafi with the same chain of transmitters but with this modification:" That he recited Surah Jumuaھ (lxii.) in the first rakah and" The hypocrites came" in the second rakah.