حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ مَوْلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی وَهَلْ أَتَاکَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ قَالَ وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق، جریر، ابراہیم بن محمد بن منتشر، حبیب بن سالم، حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں سورةِ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی اور ھَلْ أَتَاکَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ) پڑھتے تھے اور جب عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھی ہوجاتیں تو پھر ان دونوں نمازوں میں بھی یہی سورتیں پڑھتے تھے۔ قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، ابراہیم بن محمد بن منتشر، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Numan bin Bashir reported that the Messenger of Allah ﷺ used to recite on two Ids and in Friday prayer:" Glorify The name of Thy Lord, the Most High" (Surah lxxxvii.), and:" Has there come to thee the news of the overwhelming event" (lxxxviii.). And when the Id and Jumua combined on a day he recited these two (surah) in both the prayers.
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَتَبَ الضَّحَّاکُ بْنُ قَيْسٍ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ أَيَّ شَيْئٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَی سُورَةِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ کَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاکَ
عمروناقد، سفیان بن عیینہ، ضمرہ بن سعید، عبیداللہ بن عبداللہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے، حضرت ضحاک بن قیس ؓ نے حضرت نعمان بن بشیر کو لکھا اور ان سے یہ پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن سورت الجمعہ کے علاوہ اور کونسی سورت پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ سورت (ھَلْ أَتَاکَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ) پڑھتے تھے۔
Dahhak bin Qais wrote to Numan bin Bashir asking him what the Messenger of Allah ﷺ recited on Friday besides Surah Jumua He said that he recited:" Has there reached..." (Surah lxxxviii, ).
جمعہ کے دن نماز فجر میں کیا پڑھے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَهَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، سفیان، مخول، مسلم بطین، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت (الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ اور سورت هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ ) پڑھا کرتے تھے اور نبی ﷺ جمعہ کی نماز میں سورت جمعہ اور سورت منافقوں پڑھا کرتے تھے۔
Ibn Abbas (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ used to recite in the morning prayer on Friday Surah" Alif-Lam-Mim, Tanzil ul-Sajda" (Surah xxxii.): Surely there came over the man a time" (Surah lxxvii) and he used to recite in Jumua prayer Surahs Jumua and al-Munafiqin.
جمعہ کے دن نماز فجر میں کیا پڑھے ؟
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن نمیر، ح، ابوکریب، وکیع، سفیان سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Sufyan with the same chain of transmitters.
جمعہ کے دن نماز فجر میں کیا پڑھے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُخَوَّلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الصَّلَاتَيْنِ کِلْتَيْهِمَا کَمَا قَالَ سُفْيَانُ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، مخول اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Mukhawwil has narrated this hadith on the authority of Sufyan.
جمعہ کے دن نماز فجر میں کیا پڑھے ؟
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَی
زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، سعد بن ابراہیم، عبدالرحمن بن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ اور هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ ) پڑھا کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ used to recite in the dawn prayer on Friday" Alif-Lam-Meem, Tanzil" and" Surely there came."
جمعہ کے دن نماز فجر میں کیا پڑھے ؟
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِ الم تَنْزِيلُ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی وَفِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا
ابوطاہر، ابن وہب، ابراہیم بن سعد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں سورت (الم تَنْزِيلُ اور دوسری رکعت میں سورت هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا) پڑھا کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ used to recite in the dawn prayer on Friday:" Alif-Lam-Mim, Tanzil" in the first rakah, and in the second one:" Surely there came over the man a time when he was nothing that could be mentioned."
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں نماز پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you observes the Jumua prayer (two obligatory rakahs in congregation), he should observe four (rakahs) afterwards.
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سُهَيْلٌ فَإِنْ عَجِلَ بِکَ شَيْئٌ فَصَلِّ رَکْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَکْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، عبداللہ بن ادریس، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو حضرت عمر ؓ نے اپنی روایت میں اتنا زائد کہا کہ اگر تجھے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھو اور دو رکعتیں جب واپس (گھر) جاؤ تو پڑھو۔
Suhail reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: When you observe prayer after (the two obligatory rakahs) of Jumua, you should observe four rakahs (and Amr in his narration has made this addition that Ibn Idris said this on the authority of Suhail): And if you are in a hurry on account of something, you should observe two rakahs in the mosque and two when you return (to your house).
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنْکُمْ
زہیر بن حرب، جریر، ح، عمرو ناقد، ابوکریب، وکیع، سفیان، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو آدمی جمعہ کی نماز کے بعد پڑھے تو اسے چاہئے کہ چار رکعتیں پڑھے اور جریر کی حدیث میں مِنْکُمْ کا لفظ نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one amongst you observes prayer after Jumua, he should observe four rakahs. (In the hadith transmitted by Jarir the word minkum is not recorded.)
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ کَانَ إِذَا صَلَّی الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِکَ
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ جب جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے پھر فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Nafi reported that when Abdullah (b. Umar) observed the Friday prayer and came back he observed two rakahs in his house, and then said: The Messenger of Allah ﷺ used to do this.
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّی يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ قَالَ يَحْيَی أَظُنُّنِي قَرَأْتُ فَيُصَلِّي أَوْ أَلْبَتَّةَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نبی ﷺ کی نفل نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جمعہ کی نماز کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ واپس تشریف لاتے پھر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے راوی یحییٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے حدیث کے یہ الفاظ (امام مالک ؓ کے سامنے) پڑھے کہ پھر ان کو ضرور پڑھے۔
Abdullah bin Umar, while describing the Nafl prayer of the Messenger of Allah ﷺ , said: He did not observe (Nafl) prayer after Jumua till he went back and observed two rakahs in his house. Yahya said: I guess that I uttered these words (before Imam Malik) that he of course observed (them).
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَکْعَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، عمرو، زہری، حضرت سالم ؓ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
Salim narrated on the authority of his father that the Apostle of Allah ﷺ used to observe two rakahs after Jumua.
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَی السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْئٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّی تَکَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِکَ أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّی نَتَکَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، ابن جریج، عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ نافع ؓ بن جبیر ؓ نے انہیں سائب بن اخت نمر کی طرف کچھ ایسی باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت معاویہ ؓ سے نماز میں دیکھیں سائب نے کہا کہ ہاں میں نے حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ مقصورہ میں جمعہ پڑھا ہے جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھی تو حضرت معاویہ ؓ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تم دوبارہ ایسے نہ کرنا جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی نماز نہ پڑھو جب تک کہ کوئی بات نہیں کرلو یا اس جگہ سے جب تک نکل نہ جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملائیں جب تک کہ ہم درمیان میں کوئی بات نہ کرلیں یا کسی جگہ نکل نہ جائیں۔
Umar bin Ata bin Abu Khuwar said that Nafi bin Jubair sent him to al- Saib the son of Namirs sister with a view to asking him about what he had seen in the prayer of Muawiyah. He said: Yes, I observed the Jumua prayer along with him in Maqsura and when the Imam pronounced salutation I stood up at my place and observed (Sunan rakahs). As he entered (the apartment) he sent for me and said: Do not repeat what you have done. Whenever you have observed the Jumua prayer, do not observe (Sunan prayer) till you, have talked or got out for the Messenger of Allah ﷺ had ordered us to do this and not to combine two (types of) prayers without talking or going out.
نماز جمعہ کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَائٍ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَی السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَمْ يَذْکُرْ الْإِمَامَ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، حضرت عمر بن عطاء ؓ فرماتے ہیں کہ نافع بن جبیر ؓ نے انہیں سائب بن یزید بن اخت نمر کی طرف بھیجا باقی حدیث اسی طرح ہے فرق صرف یہی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اور اس میں امام کا ذکر نہیں۔
The same hadith is narrated on the authority of Umar bin Ata but with this modification: When he (the Imam) pronounced salutation I stood up at my place. No mention was made of the Imam in it.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّی جَائَ النِّسَائَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَکَ عَلَی أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی فَرَغَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا أَنْتُنَّ عَلَی ذَلِکِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يُدْرَی حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ فِدًی لَکُنَّ أَبِي وَأُمِّي فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، حسن بن مسلم، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عثمان ؓ کے ساتھ عیدالفطر کی نماز میں حاضر ہوا سب نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اللہ کے نبی ﷺ منبر سے اترے گویا کہ میں اب ان کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما کر لوگوں کو بٹھا رہے تھے پھر ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال تھے اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَا ءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰ ي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَ يْ ً ا) 60۔ الممتحنہ: 12) جب اس آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم سب اس کا اقرار کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت کے علاوہ کسی نے جواب نہ دیا، اس نے کہا جی ہاں اے اللہ کے نبی ﷺ! اور راوی نہیں جانتا کہ وہ اس وقت کون عورت تھی فرماتے ہیں پھر انہوں نے صدقہ دینا شروع کیا بلال ؓ نے اپنا کپڑا بچھا یا اور کہا لے آؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں پس انہوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں بلال ؓ کے کپڑے میں ڈالنا شروع کردیں۔
Ibn Abbas reported: I participated in the Fitr prayer with the Apostle of Allah ﷺ and Abu Bakr, Umar and Uthman, and all of them observed this prayer before the Khutbah, and then he (the Holy Prophet) delivered the sermon. Then the Apostle of Allah ﷺ descended (from the pulpit) and I (perceive) as if I am seeing him as he is commanding people with his hand to sit down. He then made his way through their (assembly) till he came to the women. Bilal (RA) was with him. He then recited (this verse): O Prophet, when believing women come to thee giving thee a pledge that they will not associate aught with Allah" (lx. 12) till he finished (his address to) them and then said: Do you conform to it (what has been described in the verse)? Only one woman among them replied: Yes, Apostle of Allah ﷺ , but none else replied. He (the narrator) said: It could not be ascertained who actually she was. He (the Holy Prophet) exhorted them to give alms. Bilal (RA) stretched his cloth and then said: Come forward with alms. Let my father and mother be taken as ransom for you. And they began to throw rings and ringlets in the cloth of Bilal (RA) .
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَشْهَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَی أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَائَ فَأَتَاهُنَّ فَذَکَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْئَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ایوب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی بعد میں خطبہ دیا اور خیال کیا کہ آپ ﷺ نے عورتوں کو نہیں سنایا پھر آپ ﷺ عورتوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال ؓ اپنا کپڑا بچھانے والے تھے اور عورتوں میں سے کسی نے انگوٹھی، کسی نے چھلا اور کسی نے کوئی اور چیز ڈالنا شروع کیا۔
Ibn Abbas reported: I bear testimony to the Messenger of Allah ﷺ offering prayer before Kbutba. He (after saying prayer) delivered the Kutba, and he found that the women could not hear it, so he came to them and exhorted them and preached them and commanded them to give alms, and Bilal (RA) had stretched his cloth and the women were throwing rings, earrings and other things.
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع زہرانی، حماد، ح، یعقوب دورقی، اسماعیل بن ابراہیم، حضرت ایوب سے اسی حدیث کی سند ذکر کردی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَکَّأُ عَلَی يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَائُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَائٍ زَکَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لَا وَلَکِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَحَقًّا عَلَی الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَائَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَکِّرَهُنَّ قَالَ إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِکَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور نماز سے ابتداء کی خطبہ سے پہلے پھر لوگوں کو خطبہ دیا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو منبر سے اتر آئے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے حضرت بلال کے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ان کو نصیحت کی اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلانے والے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈالتی تھیں راوی کہتے ہیں میں نے عطاء سے عرض کیا کہ عیدالفطر کے دن کا صدقہ؟ فرمایا نہیں یہ اور صدقہ تھا جو وہ اس وقت دیتی تھیں ایک عورت پہلے ڈالتی تھی اور پھر مزید ڈالتی تھیں اور دوسرے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کیا اب بھی امام کے لئے فارغ ہونے کے بعد عورتوں کو نصیحت کرنے کے لئے جانے کا حق ہے؟ فرمایا مجھے اپنی جان کی قسم یہ ان پر حق ہے اور ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
Jabir bin Abdullah reported: The Apostle of Allah ﷺ stood up on the day of Id al-Fitr and observed prayer. And he commenced the prayer before the sermon. He then delivered the sermon. When the Apostle of Allah ﷺ had finished (the sermon) he came down from (the pulpit), and made his way to the women and exhorted them (to do good acts), and he was leaning on the hand of Bilal (RA) . Bilal (RA) had stretched his cloth in which women were throwing alms. I (one of the narrators) said to Ata (the other narrator): It must be Zakat on the day of Fitr. He (Ata) said: No. It was alms (which) they were giving on that occasion, and a woman gave her ring, and then others gave, and then others gave. I said to Ata: Is it right now for the Imam to come to the women when he has finished (his address to the men) that he should exhort them (to good deeds)? He said: (Why not) by my life, it is right for them (to do so). What is the matter with them that they do not do it now?
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللَّهِ وَحَثَّ عَلَی طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَهُمْ ثُمَّ مَضَی حَتَّی أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّيْنِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاةَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ قَالَ فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابوسلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید کے دن نماز کے لئے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی خطبے سے پہلے پھر بلال ؓ پر ٹیک لگائے کھڑے ہوگئے، اللہ پر تقوی کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی پھر عورتوں کے پاس جا کر ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں، عورتوں کے درمیان سے ایک سرخی مائل سیاہ رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر عرض کیا کیوں یا رسول اللہ ﷺ؟ فرمایا: کیونکہ تم شکوہ زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری، حضرت جابر فرماتے ہیں وہ اپنے زیوروں کو صدقہ کرنا شروع ہوگئیں حضرت بلال ؓ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
Jabir bin Abdullah reported: I observed prayer with the Messenger of Allah ﷺ on the Id day. He commenced with prayer before the sermon without Adhan and Iqama. He then stood up leaning on Bilal (RA) , and he commanded (them) to be on guard (against evil for the sake of) Allah, and he exhorted (them) on obedience to Him, and he preached to the people and admonished them. He then walked on till he came to the women and preached to them and admonished them, and asked them to give alms, for most of them are the fuel for Hell. A woman having a dark spot on the cheek stood up and said: Why is it so, Messenger of Allah? ﷺ He said: For you grumble often and show ingratitude to your spouse. And then they began to give alms out of their ornaments such as their earrings and rings which they threw on to the cloth of Bilal (RA) .