Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 100 of 379

1988Sahih Muslim

جمعہ کا خطبہ سننے اور خاموش رہنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَی فَقَدْ لَغَا

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی وضو کرے اور خوب اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی گناہ معاف کردیئے گئے اور جو آدمی کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who performed ablution well, then came to Friday prayer, listened (to the sermon), kept silence, all (his sins) between that time and the next Friday would be forgiven with three days extra, and he who touched pebbles caused an interruption.

1989Sahih Muslim

جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا قَالَ حَسَنٌ فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ فِي أَيِّ سَاعَةٍ تِلْکَ قَالَ زَوَالَ الشَّمْسِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن دم، حسن بن عیاش، جعفربن محمد، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر ہم واپس لوٹ کر اپنے اونٹوں کو آرام دلاتے تھے راوی حسن نے کہا کہ میں نے جعفر سے پوچھا کہ کس وقت تک تو انہوں نے فرمایا کہ سورج ڈھلنے تک۔

Jabir bin Abdullah reported: We used to observe (Jumua) prayer with the Messenger of Allah ﷺ and then we returned and gave rest to our camels used for carrying water. Hassan (one of the narrators) said: I asked Jafar what time that was. He said.. It is the time when the sun passes the meridian.

1990Sahih Muslim

جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَتَی کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ قَالَ کَانَ يُصَلِّي ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَی جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ يَعْنِي النَّوَاضِحَ

قاسم بن زکریا، خالد بن مخلد، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، سلیمان بن بلال، حضرت جعفر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت جابر ؓ بن عبداللہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب آپ ﷺ جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تھے پھر ہم اپنے اونٹوں کو آرام دلانے کے لئے لے جاتے تھے راوی عبداللہ نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ سورج کے ڈھلنے تک۔

Jafar reported on the authority of his father that he asked Jabir bin Abdullah when the Messenger of Allah ﷺ observed Jumua prayer. Re said: He used to observe prayer, and we then went (back) to our camels and gave them rest. Abdullah made this addition in his narration:" Till the sun passed the meridian. and the camels used for carrying water (took rest)."

1991Sahih Muslim

جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ قَالَ مَا کُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّی إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، یحییٰ بن یحیی، علی بن حجر، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل فرماتے ہیں کہ ہم قیلولہ اور دوپہر کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد کھاتے تھے ابن حجر نے اتنا اضافہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں۔

Sahl bin Said said: We did not have a siesta or lunch till after the Friday prayer. (Ibn Hujr added: )" During the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ ."

1992Sahih Muslim

جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ يَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَيْئَ

یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، یعلی بن حارث محاربی، ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے واپس آتے تھے۔

Iyas bin Salama bin al-Akwa reported on the authority of his father: We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah ﷺ when the sun passed the meridian. and we then returned and tried to find out afternoon shadow (of the walls for protecting themselves from the heat of the sun).

1993Sahih Muslim

جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا يَعْلَی بْنُ الْحَارِثِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ

اسحاق بن ابراہیم، ہشام بن عبدالملک، یعلی بن حارث، ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے پھر ہم واپس ہوتے تو ہم دیواروں کا سایہ نہ پاتے جس کی وجہ سے ہم سایہ حاصل کرتے۔

Iyas bin Salama bin Akwa reported on the authority of his father, saying: We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah ﷺ , and when we returned we did not find the shadow of the walls in which we could take protection (from the heat of the sun).

1994Sahih Muslim

نماز جمعہ سے پہلے دو خطبون کے ذکر اور ان کے درمیان بیٹھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ قَالَ کَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ

عبیداللہ بن عمر قواریری، ابوکامل جحدری، خالد، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر آپ ﷺ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے انہوں نے کہا جیسا کہ آج تم کرتے ہو۔

Ibn Umar said that the Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon on Friday while standing. He would then sit and then stand (for the second sermon) as they (the Muslims) do nowadays.

1995Sahih Muslim

نماز جمعہ سے پہلے دو خطبون کے ذکر اور ان کے درمیان بیٹھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ کَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَکِّرُ النَّاسَ

یحییٰ بن یحیی، حسن بن ربیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی، ابوالاحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے اور ان دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے ان خطبوں میں آپ ﷺ قرآن پڑھا کرتے اور لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے۔

Jabir bin ahadeeth said: The Apostle of Allah ﷺ gave two sermons between which he sat, recited the Quran and exhorted the people.

1996Sahih Muslim

نماز جمعہ سے پہلے دو خطبون کے ذکر اور ان کے درمیان بیٹھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ أَنْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّهُ کَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ کَذَبَ فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، سماک، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے پھر آپ ﷺ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے جس آدمی نے تجھے بتایا کہ آپ ﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے جھوٹ بولا اللہ کی قسم میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔

Jabir bin Abdullah (RA) said that the Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon while standing. He would then sit down and then stand up and address in a standing posture; and whoever informed you that he (the Holy Prophet) delivered the sermon while sitting told a lie. By Allah. I prayed with him more than two thousand times

1997Sahih Muslim

اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَجَائَتْ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّی لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عثمان، جریرعن حصین بن عبدالرحمن، سالم بن ابی الجعد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک مرتبہ ملک شام سے اونٹوں کا قافلہ آیا تو لوگ اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ بارہ آدمیوں کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں رہا تو سورت الجمعہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور جب ان لوگوں نے تجارت یا تماشہ وغیرہ کی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ گئے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that the Apostle ﷺ was delivering the sermon on Friday in a standing posture when a caravan from Syria arrived. The people flocked towards it till no one was left (with the Holy Prophet) but twelve persons, and it was on this occasion that this verse in regard to Jumua was revealed."And when they see merchandise or sport. They break away to it and leave thee standing."

1998Sahih Muslim

اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، حصین یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے جس میں کہا کہ رسول اللہ خطبہ دے رہے تھے اور یہ نہیں کہا کہ کھڑے ہو کر۔

This hadith has been narrated by Husain with the same chain of transmitters but with this alteration that he did not make mention of the standing position.

1999Sahih Muslim

اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔

حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ وَأَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ قَالَ فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

رفاعہ بن ہیثم واسطی، طحان، حصین، سالم، ابوسفیان، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم جمعہ کے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھے بازار میں ایک قافلہ (سامان تجارت) لے کر آیا لوگ اس کی طرف نکل گئے اور بارہ آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا میں بھی ان میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل وغیرہ کی کوئی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ گئے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I was along with the Apostle of Allah ﷺ on Friday when a caravan arrived. The people went to it, and none but twelve persons were left behind and I was one of them; and it was on this occasion that this verse was revealed:" And when they see merchandise or sport they break away to it, and leave thee standing" (lxii. 1 1).

2000Sahih Muslim

اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَی الْمَدِينَةِ فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا

اسماعیل بن سالم، ہشیم، حصین، ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر ہمیں بیان فرما رہے تھے تو مدینہ منورہ کی طرف ایک قافلہ آیا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس کی طرف بڑھے یہاں تک کہ بارہ آدمیوں کے سوا ان میں کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ باقی نہ رہا ان بارہ آدمیوں میں حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی تھے اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور جب کوئی تجارت یا کھیل وغیرہ کی چیز دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: While the Apostle of Allah ﷺ was delivering (a sermon) on Friday, a caravan of merchandise came to Madinah. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ rushed towards it till only twelve persons were left with him including Abu Bakr (RA) and Umar; and it was at this occasion that this verse was revealed." And when they see merchandise or sport, they break away to it."

2001Sahih Muslim

اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَکَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوا إِلَی هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، عمرو بن مرہ، ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت عبدالرحمن ابن ام حکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو حضرت کعب ؓ فرمانے لگے اس خبیث کی طرف دیکھو بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب انہوں نے تجارت کے قافلے یا کھیل وغیرہ کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ گئے۔

Kab bin Ujra reported that he entered the mosque and saw Abdul Rahman bin Umm Hakam delivering the sermon in a sitting posture. Upon this he said: Look at this wretched person; he delivers the sermon while sitting, whereas Allah said:" And when they see merchandise or sport, they break away to it and leave thee standing."

2002Sahih Muslim

جمعہ کی نماز چھوڑنے کی وعید کے بیان میں

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مِينَائَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَکُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ

حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ، ابن سلام، زید، حکم بن میناء بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمعہ کی نماز چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔

Abdullah bin Umar (RA) and Abu Hurairah (RA) said that they heard Allahs Messenger ﷺ say on the planks of his pulpit: People most cease to neglect the Friday prayer or Allah will seal their hearts and then they will be among the negligent.

2003Sahih Muslim

خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا

حسن بن ربیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھیں آپ ﷺ کی نمازیں درمیانی ہوتی تھیں اور آپ ﷺ کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔

Jabir bin ahadeeth reported: I used to pray with the Messenger of Allah ﷺ and both his prayer and sermon were of moderate length.

2004Sahih Muslim

خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ حَدَّثَنِي سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ فَکَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ زَکَرِيَّائُ عَنْ سِمَاکٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن بشر، زکریا، سماک بن حرب، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھیں آپ ﷺ کی نمازیں درمیانی ہوتی تھیں اور آپ ﷺ کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا اور ابوبکر کی روایت میں زکریا بن سماک کا ذکر ہے۔

Jabir bin ahadeeth reported: I used to observe prayer with the Apostle of Allah ﷺ and his prayer was of moderate length and his sermon too was of moderate length.

2005Sahih Muslim

خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّی کَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ صَبَّحَکُمْ وَمَسَّاکُمْ وَيَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ کَهَاتَيْنِ وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی وَيَقُولُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَی هُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَکَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب بن عبدالمجید، جعفربن محمد، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آپ ﷺ کی آواز بلند ہوجاتی اور غصہ شدید ہوجاتا (اور یوں معلوم ہوتا) گویا کہ آپ ﷺ کسی ایسے لشکر سے ڈرا رہے ہوں کہ وہ صبح یا شام حملہ کرنے والا ہے اور فرماتے ہیں کہ قیامت کو اور مجھے اس طرح بھیجا گیا جس طرح یہ دو انگلیاں اور شہادت والی اور درمیانی انگلی ملا کر فرماتے اما بعد کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور سارے کاموں میں بدترین کام نئے نئے طریقے ہیں (یعنی دین کے نام سے نئے طریقے جاری کرنا) اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر فرماتے ہیں کہ میں ہر مومن کو اس کی جان سے زیادہ عزیز ہوں جو مومن مال چھوڑ کر مرا وہ اس کے گھر والوں کے لئے ہے اور جو مومن قرض یا بچے چھوڑ جائے اس کی تر بیت و پرورش اور ان کے خرچ کی ذمہ داری مجھ محمد ﷺ پر ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) said: When Allahs Messenger (may peace he upon him) delivered the sermon, his eyes became red, his voice rose. And his anger increased so that he was like one giving a warning against the enemy and saying:" The enemy has made a morning attack on you and in the evening too." He would also say:" The last Hour and I have been sent like these two." and he would join his forefinger and middle finger; and would further say:" The best of the speech is embodied in the Book of Allah, and the best of the guidance is the guidance given by Muhammad. And the most evil affairs are their innovations; and every innovation is error." He would further say: "I am more dear to a Muslim even than his self; and he who left behind property that is for his family, and he who dies under debt or leaves children (in helplessness), the responsibility (of paying his debt and bringing up his children) lies on me."

2006Sahih Muslim

خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ

عبد بن حمید، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، جعفربن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے فرماتے تھے پھر آپ ﷺ کی آواز بلند ہوجاتی پھر اسی طرح حدیث بیان کی جیسے گزر چکی۔

Jafar bin Muhammad said on the authority of his father: I heard Jabir bin Abdullah saying that in the sermon of the Apostle of Allah ﷺ he praised Allah, lauded Him (and subsequently said [other words] and raised his voice, and the rest of the hadith is the same).

2007Sahih Muslim

خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَخَيْرُ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، جعفر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی وہ حمد و ثنا بیان فرماتے جو اس کے شایان شان ہے پھر فرماتے کہ جس کو اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے پھر آگے حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری۔

Jabir reported that the Messenger of Allah ﷺ , while delivering the sermon to the people, praised Allah, and lauded Him for what He deserves, and would then say: "He whom Allah guides aright, there is none to mislead him, and he who is led astray, there is none to guide him (aright)", and the best of the talk is embodied in the Book of Allah. And the rest of the hadith is the same.