Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 99 of 379

1968Sahih Muslim

جمعہ کے خطبہ میں خاموش رہنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغِيتَ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هُوَ فَقَدْ لَغَوْتَ

ابن ابی عمر، سفیان، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تو نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اپنے ساتھی کو کہا کہ تو خاموش ہوجا تو تو نے لغو کام کیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If you (even) ask your companion to be quiet on Friday while the Imam is delivering the sermon, you have in fact talked irrelevance.

1969Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ زَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، ح، قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن ذکر فرمایا کہ اس میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جس کو مسلمان بندہ نماز کے دوران پالے تو وہ اللہ سے جس چیز کا بھی سوال کرے گا اللہ اسے عطا فرما دیں گے راوی قتیبہ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ سے اس کی کمی کو فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is a time on Friday at which no Muslim servant would pray and would ask Allah for a thing (that is good) but He would give it to him. Qutaiba pointed with the help of his hand that it (the time) is short.

1970Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَقَالَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے روز ایک ایسی گھڑی (ساعت) ہوتی ہے کہ جسے جو مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتے ہوئے پالے وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھلائی بھی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمائیں گے راوی نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اس کی کمی کا ذکر کیا اور اس کی طرف رغبت دلاتے تھے۔

Abu Hurairah (RA) reported Abul-Qasim (the kunya of the Holy Prophet) ﷺ as saying: There is a time on Friday at which no Muslim would stand and pray and beg Allah for what is good but He would give it to him; and he pointed with his hand that (this time) is short and narrow.

1971Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ابوالقاسم ؓ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے۔

A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) .

1972Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

حمید بن مسعدہ باہلی، ابن مفضل، ابن علقمہ، محمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.

1973Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ

عبدالرحمن بن سلام جمحی، ابن مسلم، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو بھلائی بھی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیں گے اور وہ گھڑی بہت تھوڑی دیر رہتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying. There is a time on Friday at which no Muslim would ask Allah for what is good but He would give it to him. And further said: This is a very short time.

1974Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ

ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمایا لیکن اس میں ساعت خفیفہ نہیں فرمایا۔

Hammam bin Munabbih reported this hadith from Abu Hurairah (RA) who reported from the Apostle of Allah ﷺ but he did not say: "That time is short."

1975Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُکَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَی أَنْ تُقْضَی الصَّلَاةُ

ابوطاہر، علی بن خشرم، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، ح، ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، مخرمہ، ابوبردہ بن ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنے باپ سے جمعہ کی گھڑی کی شان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا ہاں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز پوری ہونے تک ہے۔

Abu Burda bin Abu Musa al-Ashari reported: Abdullah bin Umar (RA) said to me: Did you hear anything from your father narrating something from the Messenger of Allah ﷺ about the time on Friday? I said: Yes, I heard him say from the Messenger of Allah ﷺ (these words):" It is between the time when the Imam sits down and the end of the prayer."

1976Sahih Muslim

جمعہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اور اسی دن میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن میں ان کو جنت سے نکالا گیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam علیہ السلامwas created, on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it.

1977Sahih Muslim

جمعہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ

قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن کہ جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اور اسی دن میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن میں ان کو جنت سے نکالا گیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam علیہ السلامwas created, on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it.

1978Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْنَا هَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ

عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہل کرنے والے ہوں گے ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی پھر یہ دن جسے اللہ نے ہم پر فرض فرمایا ہے ہمیں اس کی ہدایت عطا فرمائی تو لوگ اس دن میں ہمارے تابع ہیں کہ یہودیوں کی عید جمعہ کے بعد اگلے دن اور نصاری کی عید اس سے بھی اگلے دن (یعنی اتوار)۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We, who are the last shall be the first on the Day of Resurrection, except that every Ummah was given the Book before us and we were given it after them. It was this day which Allah prescribed for us and guided us to it and the people came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that.

1979Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمِثْلِهِ

ابن ابی عمر، سفیان، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہل کرنے والے ہوں گے۔

A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: We are the last and would be the first on the Day of Resurrection.

1980Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَاخْتَلَفُوا فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنْ الْحَقِّ فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ هَدَانَا اللَّهُ لَهُ قَالَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَالْيَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَی

قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں قیامت کے دن سب سے پہل کرنے والے ہوں گے اور ہم سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی پس انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس حق کے معاملہ میں ہمیں ہدایت عطا فرمائی کہ جس میں انہوں نے اختلاف کیا یہ وہی دن ہے کہ جس میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی آپ ﷺ نے جمعہ کے دن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ہمارا دن اور کل کا دن (یعنی ہفتہ) یہودیوں کا اور اس کے بعد کا دن (یعنی اتوار کا دن) نصاری کا دن ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We are the last (but) we would be the first on the Day of Resurrection, and we would be the first to enter Paradise, but that they were given the Book before us and we were given after them. They disagreed and Allah guided us aright on whatever they disagreed regarding the truth. And it was this day of theirs about which they disagreed, but Allah guided us to it, and that is Friday for us; the next day is for the Jews and the day following for the Christians.

1981Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں قیامت کے دن سب سے پہل کرنے والے ہوں گے لیکن ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی تو یہ ان کا وہ دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا اور جس میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ نے اس کے لئے ہمیں ہدایت عطا فرمائی وہ لوگ اس دن میں ہمارے تابع ہیں یہودیوں کا کل کا دن (یعنی ہفتہ کا دن) ہے اور نصاری کا کل کے دن (یعنی اتوار کا دن) ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ , as saying: We who are the last would be the first on the Day of Resurrection but they (other Ummahs) were given the Book before us and we were given after them, and this was the day that was prescribed for them but they disagreed on it. And Allah guided us to it. and they came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that.

1982Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضَلَّ اللَّهُ عَنْ الْجُمُعَةِ مَنْ کَانَ قَبْلَنَا فَکَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَکَانَ لِلنَّصَارَی يَوْمُ الْأَحَدِ فَجَائَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَکَذَلِکَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ

ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ہم سے پہلے تھے جمعہ کے دن کے بارے میں گمراہ کیا تو یہودیوں کے لئے ہفتہ کا دن اور نصاری کے لئے اتوار کا دن مقرر فرمایا تو اللہ تعالیٰ ہمیں لایا اللہ نے جمعہ کے دن کے لئے ہدایت عطا فرمائی اور کردیا جمعہ ہفتہ اور اتوار کو اور اسی طرح ان لوگوں کو قیامت کے دن ہمارے تابع فرما دیا ہم دنیا والوں میں سے سب سے آخر میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے آنے والے ہیں کہ جن کا فیصلہ ساری مخلوق سے پہلے ہوگا۔

It is narrated by Abu Hurairah (RA) and Hurairah that the Messenger of Allah ﷺ said: It was Friday from which Allah diverted those who were before us. For the Jews (the day set aside for prayer) was Sabt (Saturday), and for the Christians it was Sunday. And Allah turned towards us and guided us to Friday (as the day of prayer) for us. In fact, He (Allah) made Friday, Saturday and Sunday (as days of prayer). In this order would they (Jews and Christians) come after us on the Day of Resurrection. We are the last of (the Ummahs) among the people in this world and the first among the created to be judged on the Day of Resurrection. In one narration it is: "to be judged among them".

1983Sahih Muslim

جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُدِينَا إِلَی الْجُمُعَةِ وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ کَانَ قَبْلَنَا فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ

ابوکریب، ابن ابی زائدہ، سعد بن طارق، ربعی بن خراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہمیں جمعہ کے دن کی ہدایت کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے گمراہ فرمایا ان کو جو ہم سے پہلے تھے باقی حدیث ابن فضیل کی حدیث کی طرح ذکر فرمائی۔

Hurairah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We were guided aright to Friday (as a day of prayer and meditation), but Allah diverted those who were before us from it. The rest of the hadith is the same.

1984Sahih Muslim

جمعہ کے دن جلدی جانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ کَانَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِکَةٌ يَکْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَجَائُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ کَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي الْکَبْشَ ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ

ابوطاہر، حرملہ، عمرو بن سواد عامری، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوعبداللہ اغر، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے پہلے پہلے لکھتے ہیں پس جب امام بیٹھتا ہے تو فرشتے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر سننے کے لئے آکر بیٹھ جاتے ہیں اور جلدی آنے والے کی مثال اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے پھر اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے پھر اس کے بعد آنے والا دنبہ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے پھر اس کے بعد آنے والا مرغی پھر اس کے بعد آنے والا انڈا قربان کرنے والے کی طرح ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When it is Friday, the angels stand at every door of the mosque and record the people in the order of their arrival, and when the Imam sits (on the pulpit for delivering the sermon) they fold up their sheets (manuscripts of the Quran) and listen to the mention (of Allah). And he who comes early is like one who offers a she-camel as a sacrifice, the next like one who offers a cow, the next a ram, the next a hen, the next an egg.

1985Sahih Muslim

جمعہ کے دن جلدی جانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

یحییٰ بن یحیی، عمر وناقد، سفیان، زہری، سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا۔

This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.

1986Sahih Muslim

جمعہ کے دن جلدی جانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَکٌ يَکْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ مَثَّلَ الْجَزُورَ ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّی صَغَّرَ إِلَی مَثَلِ الْبَيْضَةِ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ وَحَضَرُوا الذِّکْرَ

قتیبہ بن سعید، ابن عبدالرحمن، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو سب سے پہلے آنے والوں کے نام لکھتا ہے تو سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ انڈہ قربان کرنے والے کی طرح پھر جب امام پڑھنے بیٹھتا ہے تو وہ فرشتہ اپنے صحیفے کو لپیٹ لیتا ہے اور ذکر سننے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allah Messenger ﷺ as saying: There is an angel on every door of the mosque recording him first who (conies) first (at the mosque for Friday prayer). And he [the Prophet] likened him as one who offers a camel as a sacrifice and then he went on in the descending order till he reached the point at which the minimum (sacrifice) is that of an egg. And when the Imam sits (on the pulpit) the sheets are folded and they (the angels) attend to the mention of Allah.

1987Sahih Muslim

جمعہ کا خطبہ سننے اور خاموش رہنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَةَ فَصَلَّی مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَی وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

امیہ بن بسطام، ابن زریع، روح، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی غسل کرے پھر جمعہ پڑھنے کے لئے آئے تو جتنی نماز اس کے لئے مقدر تھی اس نے پڑھی پھر وہ خاموش رہا یہاں تک کہ امام اپنے خطبہ سے فارغ ہوگیا پھر امام کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے گئے اور مزید تین دنوں کے گناہ بھی معاف کردیئے گئے۔

Abu-Hurairah reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who took a bath and then came for Jumua prayer and then prayed what was fixed for him, then kept silence till the Imam finished the sermon, and then prayed along with him, his sins between that time and the next Friday would be forgiven, and even of three days wore.