اگر کھانے میں مکھی گر جائے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً، فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلُّهُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب کسی کے کھانے پینے کے برتن میں مکھی گر جائے تو اس کو غوطہ دے کر نکال دو، کیونکہ اس کے دو بازوؤں میں سے ایک میں بیماری (پیدا کرنے والا مادہ) ہوتا ہے اور دوسرے میں (اس بیماری کے اثر کو (دفع کر کے) شفا دینے والا مادہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے اس بازو سے جس میں بیماری والا مادہ ہوتا ہے بچاؤ کرتی ہے، (یعنی جب کسی چیز میں گرتی ہے تو اس کے بل گرتی ہے اور دوسرے بازو کا بچانا چاہتی ہے) تو کھانے والے کو چاہئے کہ مکھی کو غوطہ دے کر نکال دے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ ان حدیثودں میں سے ہے جو اس زمانے میں بہت سے لوگوں کے لئے ایمان کی آزمائش کا سبب بن جاتی ہیں، حالانکہ اگر فطرت کے اسرار و حکمت کے اصولوں اور تجربوں کی روشنی میں غور کیا جائے تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو خلاف قیاس یا مستبعد ہو، بلکہ جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ دراصل حکمت ہی کی بات ہے۔
یہ ایک معلوم و مسلم حقیقت ہے کہ بہت سے دوسرے حشرات الارض کی طرح مکھی میں بھی ایسا مادہ ہوتا ہے جس سے بیماری پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کی فطرت اور طبیعت میں یہ بات رکھی ہے کہ اس کے اندر جو خراب اور زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں طبیعت مدّبرہ ان کو خارجی اعضاء کی طرف پھینک دیتی ہے۔ اس لئے بالکل قرین قیاس ہے کہ مکھی کے اندر کے اس طرح کے فاسد مادہ کو اس کی طبیعت اس کے بازو کی طرف پھینک دیتی ہو، کیوں کہ وہی اس کا خارجی عضو ہے اور دونوں بازوؤں میں سے بھی خاص اس بازو کی طرف پھینکتی ہو جو نسبتاً کمزور اور کم کام دینے والا ہو، (جس طرح ہمارے داہنے ہاتھ کے مقابلہ میں بایاں ہاتھ)
اور ہر جانور کی یہ بھی فطرت ہے کہ جب اس کو کوئی خطرہ پیش آئے تو وہ زیادہ کام آنے والے اعلیٰ و اشرف عضو کو اس سے بچانے کی کوشش کرے، اس لئے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ مکھی جب گرے تو اس بازو کو بچانے کی کوشش کرے جو خراب مادہ سے محفوظ اور نسبتاً اشرف ہو۔
اور جن لوگوں نے اللہ کی مخلوق کے احوال اور ان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے عجائبات پر غور کیا ہے۔ انہوں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ جہاں بیماری کا سامان ہے وہیں اس کے علاج کا بھی سامان ہے۔ اس لئے یہ بھی بالکل قرین قیاس ہے کہ مکھی کے اگر ایک بازو میں کوئی مضر اور زہریلا مادہ تو دوسرے بازو میںٰ اس کا تریاق اور شفاء کا مادہ ہو۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم بالکل اصولِ حکمت کے مطابق ہے۔ بلکہ دراصل آپ ﷺ کی اس ہدایت کا تعلق دوسری بہت ہدایات کی طرح تحفظِ صحت کے باب سے ہے، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے وہ کوئی فرض یا واجب نہیں ہے جس پر عمل نہ کرنا معصیت کی بات ہو، بلکہ ایک طرح کی طبی رہنمائی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(ان سطور میں حدیث کی تشریح کے سلسلہ میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے وہ بھی بنیادی طور پر “حجۃ اللہ البالغہ” ہی سے ماخوذ ہے)۔
کھانے کے معاملہ میں حضور ﷺ کی شانِ بندگی
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا آكُلُ مُتَّكِئًا» (رواه البخارى)
حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں ٹیک لگا کر یا کسی چیز کے سہارے بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
ٹیک لگا کر بلاضرورت کسی چیز کا سہارا لے کر کھانے کے لئے بیٹھنا متکبرانہ طریقہ ہے، حدیث پاک کا مطلب یہی ہے کہ میں متکبرین کی طرح تکیہ وغیرہ لگا کر کھانا نہیں کھاتا اور اس کو پسند نہیں کرتا، میں اللہ کا بندہ ہوں اور کھانا بھی اسی طرح کھاتا ہوں جس طرح ایک بندہ کو کھانا چاہئے۔
کنزالعمال میں مسند ابو یعلیٰ اور ابن سعد کے حوالے سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے۔
آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ
میں ایک غلام اور بندہ کی طرح کھاتا ہوں اور غلام اور بندہ کی طرح بیٹھتا ہوں۔
قریب قریب یہی مضمون دیگر صحابہ کرام کی روایات کا بھی ہے۔ ان سب احادیث و روایات کا حاصل اور مدعا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھانے کے لئے ایک عاجز بندہ کی طرح بیٹھتے تھے، متکبرین کی طرح نہیں بیٹھتے تھے، اور یہی آپ ﷺ کی تعلیم تھی۔ اور جو بندہ کھانے کے وقت اس حقیقت سے غافل نہ ہو گا کہ کھانا اللہ تعالیٰ کی نعمت اور (اس کا عطیہ ہے اور وہ ربِ کریم حاضر و ناظر ہے اور میں اس کے سامنے اس کی نگاہ میں ہوں، وہ کبھی متکبروں کی طرح نہیں بیٹھے گا اور متکبروں کی طرح نہیں کھائے گا)۔
کھانے کے معاملہ میں حضور ﷺ کی شانِ بندگی
عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ: «مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلاَ فِي سُكْرُجَةٍ، وَلاَ خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ» قُلْتُ لِقَتَادَةَ: عَلَى مَا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: «عَلَى السُّفَرِ» (رواه البخارى)
حضرت قتادہ نے رسول اللہ ﷺ کے خادم حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا نہیں کھایا اور نہ چھوٹی طشتری یا پیالی میں کھایا اور نہ کبھی آپ کے لئے چپاتی پکائی گئی۔ قتادہ سے پوچھا گیا تو پھر (رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کرامؓ) کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ دسترخوان پر۔ (صحیح بخاری)
تشریح
خُوان (جس کا ترجمہ خوان کیا گیا ہے) ایک چوکی یا نیچی قسم کی میز ہوتی تھی جو کھانے ہی میں استعمال ہوتی تھی، بڑے لوگ (مترفین) اسی پر کھانا کھاتے تھے اور نیچے فرش پر دسترخوان بچھا کر کھانے کو بڑائی اور امارت کی شان کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح امیر لوگوں کے دسترخوان پر سکرجہ یعنی چھوٹی چھوٹی طشتریاں اور پیالیاں ہوتی تھیں۔ خود صحابہ کرامؓ کے آخری دور میں یہ چیزیں خود مسلمان گھرانوں میں بہت عام ہو گئی تھیں۔
حضرت انسؓ کی اس حدیث کا مطلب و مدعا بھی بس یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں نہایت سادگی اور بندگی کی شان ہوتی تھی، نہ آپ ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا کھایا، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا، نہ کبھی خاص طور سے آپ ﷺ کے لئیے گھر میں چپزتیاں بنائی گئیں۔ اس سلسلہ معارف الحدیث کی دوسری جلد “کتاب الرقاق” میں وہ حدیثیں گزر چکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معیشت کس قدر سادہ اور غریبانہ بلکہ فقیرانہ تھی۔
سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی ممانعت
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيَ عَنِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فِى اِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ. (رواه النسائى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن نسائی)
تشریح
سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا دراصل اپنی دولت مندی اور سرمایہ داری کی بےجا نمائش اور ایک طرح کا استکبار ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ اور صحیحین کی ایک حدیث میں یہاں تک ہے کہ جو شخص سونے یا چاندی کے برتنوں میں کھاتا پیتا ہے تو گویا وہ جہنم کی آگ اپنے پیٹ میں داخل کر رہا ہے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا
آنحضرتﷺ کسی کھانے کو برا نہیں بتاتے تھے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا (یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اس میں یہ خرابی یا یہ عیب اور نقص ہے) اگر مرغوب ہوا تو تناول فرما لیا اور نامرغوب ہوا تو نہ کھایا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
آپ ﷺ کو کھانے میں کیا چیزیں مرغوب تھیں
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ القَصْعَةِ»، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کھانے پر مدعو کیا جو اس نے تیار کیا تھا تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا گیا (غالبا خادم کی حیثیت سے ان کو بھی مدعو کیا گیا ہو گا) تو اس نے جو کی روٹی اور شوربا حاضر کیا جس میں لوکی کےقتلے تھے اور سکھائے ہوئے گوشت کی بوٹیاں تھیں، میں نے دیکھا کہ آنحضرتﷺ لوگی کی قتلے پیالے کی اطراف سے چن چن کر تناول فرماتے ہیں، تو اس دن سے لوکی مجھے بھی مرغوب اور محبوب ہو گئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
آپ ﷺ کو کھانے میں کیا چیزیں مرغوب تھیں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالقِثَّاءِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کچی تر کھجوریں کھیرے کے ساتھ تناول فرماتے ہوئے دیکھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
آپ ﷺ کو کھانے میں کیا چیزیں مرغوب تھیں
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ فَيَقُولُ: يَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا، وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا " (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خربوزہ اور کچی تر کھجوریں ایک ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان کھجوروں کی گرمی کا توڑ اس خربوزہ کی ٹھنڈک سے ہو جاتا ہے اور خربوزہ کی ٹھنڈک کا توڑ کھجوروں کی گرمی سے ہو جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد)
آپ ﷺ کو کھانے میں کیا چیزیں مرغوب تھیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الحَيْسِ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو روٹی (اور گوشت کے شوربے) سے بنی ہوئی ثرید اور میدہ والی ثرید (یعنی روٹی، کھجور اور گھی کا ملیدہ یہ دونوں چیزیں زیادہ مرغوب تھیں)۔ (سنن ابی داؤد)
آپ ﷺ کو کھانے میں کیا چیزیں مرغوب تھیں
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ» (رواه البخارى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میٹھی چیز اور شہد پسند فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
“حلوا” عربی میں ہر میٹھی چیز اور میٹھے کھانے کو کہتے ہیں حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول ﷺ کر ہر میٹھی چیز اور خاص کر شہد مرغوب تھا۔
کھانے کے بعد اللہ کی حمد اور اس کا شکر
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا» (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے اس عمل سے بڑا خوش ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھائے اور اس پر اللہ کی حمد اور اس کا شکر کرے یا کچھ پئیے اور اس پر اس کی حمد اور شکر ادا کرے۔ (صحیح مسلم)
کھانے کے بعد اللہ کی حمد اور اس کا شکر
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا، وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا، وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
ساری حمد و ستائش اس اللہ پاک کے لئے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور مسلمان بنایا۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کھانے سے پہلے بسم اللہ اور آخر میں اللہ کی حمد اور اس کا شکر کھانے کے عمل کو جو بظاہر خالص مادی عمل اور ایک بشری تقاضا ہے، نورانی اور روحانی بنا دیتا ہے، اور اس پر خدا پرستی اور عبادت کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔
اسی سلسلہ معارف الحدیث کی جلد پنجم میں کھانے سے فراغت کے بعد کی وہ متعدد دعائیں درج کی جا چکی ہیں جو کتب حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں۔ اس لئے یہاں صرف ایک ہی دعا پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ البَعِيرِ، وَلَكِنْ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلاَثَ، وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ. (رواه الترمذى)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ البَعِيرِ، وَلَكِنْ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلاَثَ، وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ. (رواه الترمذى)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیا کرو بلکہ دو دو یا تین تین سانس میں پیا کرو، اور جب تم پینے لگو تو بسم اللہ پڑھ کے پیئو اور جب پی چکو اور برتن منہ سے ہٹاؤ تو اللہ کی حمد اور اس کا شکر کرو۔ (جامع ترمذی)
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا (رواه البخارى ومسلم) «وزاد مسلم إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ»
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پینے میں تین دفعہ سانس لیتے تھے۔ (صحیح بخاری)
(اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اس طرح درمیان میں سانس لے لے کر پینے سے زیادہ سیرابی حاصل ہوتی ہے اور یہ زیادہ صحت بخش اور معدہ کے لئے زیادہ خوشگوار ہے)۔
تشریح
اس حدیث میں سانس توڑ توڑ کے پینے کی جو حکمت بیان فرمائی گئی ہے وہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ حکم طبی مصلحت کی بناء پ۴ دیا گیا ہے، ایسا نہیں ہے کہ ایک سانس میں پینا کوئی گناہ ہو، ہاں وہ ناپسندیدہ اور نامناسب ہے۔ واللہ اعلم۔
پینے کے برتن میں نہ سانس لیا جائے نہ پھونکا جائے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ، أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینے کے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد و ابن ماجہ)
تشریح
بعض لوگ برتن سے پا نی پیتے پیتے اسی میں سانس لیتے ہیں، اس حدیث میں اس سے بھی منع فرمایا گیا ہے، اور اس کی بھی ممانعت کی گئی ہے کہ برتن میں پھونک ماری جائے، ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں ناپسندیدہ اور تہذیب و سلیقہ کے خلاف ہیں اور صحت کے لئے بھی مضر ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا» (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے پینے سے منع فرمایا۔
(صحیح بخاری)
تشریح
بعض اور حدیثوں میں بھی کھڑے ہونے کی حالت میں پینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لیکن حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمروؓ اور بعض دوسرے صحابہ کرام نے بیان کیا ہے کہ ہم نے حضور ﷺ کو کھڑے ہونے کی حالت میں بھی پانی پیتے دیکھا ہے۔ اس سلسلہ کی مختلف احادیث و روایات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں پینا پسندیدہ نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کا عام معمول بیٹھ کر ہی پینے کا تھا، لیکن کبھی کبھی آپ ﷺ نے کھڑے ہونے کی حالت میں بھی پیا ہے تو یا تو اس وقت اس کا کوئی خاص سبب ہو گا یا آپ ﷺ نے بیانِ جواز کے لئے کیا ہو گا۔ کچھ ہی پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ جائز یہ بھی ہے اور اس کی بھی گنجائش ہے، افضل و ادنیٰ کے خلاف بھی عمل کر لیتے تھے اور چونکہ تعلیم کی نیت سے کرتے تھے اس لئے آپ ﷺ کے حق میں اس وقت یہی اولیٰ و افضل ہوتا تھا۔ واللہ اعلم۔
لباس کے احکام و آداب: لباس نعمت خداوندی اور اس کا مقصد
عَنْ أَبِي مَطَرٍ، أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ» (رواه احمد)
بو مطر تابعی سے روایت ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے تین درہم میں کپڑا خریدا اور جب اسے پہنا تو کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي»
حمد و شکر ہے اس اللہ کے لئے جس نے مجھے یہ لباس زینت عطا فرمایا جس سے میں لوگوں میں آرائش حاصل کرتا ہوں اور اپنی ستر پوشی کرتا ہوں۔
پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ (کپڑا پہن کر) اسی طرح ان ہی الفاظ میں اللہ کی حمد و شکر کرتے تھے۔ (مسند احمد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے جس طرح اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے اور کھانے پینے وغیرہ زندگی کے سارے معمولات کے بارے میں احکام و آداب کی تعلیم دی اور بتلایا کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، یہ صحیح ہے اور یہ غلط، یہ مناسب ہے اور یہ نامناسب، اسی طرح لباس اور کپڑے کے استعمال کے بارے میں بھی آپ ﷺ نے واضح ہدایات دیں۔
اس باب میں آپ کی تعلیمات و ہدایات کی اساس و بنیاد سورہ اعراف کی یہ آیت ہے۔
(يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ الاعراف، ع: ۳)
اے فرزندانِ آدم ہم نے تم کو پہننے کے کپڑے عطا کئے جن سے تمہاری ستر پوشی ہو اور تحمل و آسائش کا سامان اور تقوے والا لباس تو سراسر خیر اور بھلائی ہے۔
اس آیت میں لباس کے دو خاص فائدے ذکر کئے گئے ہیں۔ ایک ستر پوشی یعنی انسانی جسم کے ان حصوں کو چھپانا جن پر غیروں کی نظر نہیں پڑنی چاہئے اور دوسرے زینت و آرائش یعنی یہ کہ دیکھنے میں آدمی بھلا اور آخر آراستہ معلوم ہو اور جانوروں کی طرح ننگ دھڑنگ نہ پھرے۔
آخر میں فرمایا گیا ہے: “وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ” یعنی اللہ کے نزدیک اور فی الحقیقت وہ لباس اچھا ہے اور سراسر خیر ہے جو خدا ترسی اور پرہیزگاری کے اصول سے مطابقت رکھتا ہو، اس میں اللہ کی ہدایت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو، بلکہ اس کی نازل کی ہوئی شریعت کے مطابق ہو۔ ایسا ہر لباس بلاشبہ سراسر خیر و نعمت اور شکر کے ساتھ اس کا استعمال قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس سلسلہ کے ارشادات اور ذاتی معمولات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب کی آپ ﷺ کی تعلیم و ہدایت کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ لباس ایسا ہو جس سے ستر پوشی کا مقصد حاصل ہو اور دیکھنے میں آدمی باجمال اور باوقار معلوم ہو۔ نہ تو ایسا ناقص ہو کہ ستر پوشی کا مقصد ہی پورا نہ ہو اور نہ ہی ایسا گندہ اور بےتکا ہو کہ بجائے زیب و زینت کے آدمی کی صورت بگاڑ دے، اور دیکھنے والوں کے دلوں میں تنفر و توحش پیدا ہو۔ اس طرح یہ کہ اارائش و تحمل کے لئے افراط اور بےجا اسراف بھی نہ ہو۔ علیٰ ہذا شان و شوکت کی نمائش اور برتری کا اظہار و تفاخر بھی مقصود نہ ہو۔ جو مقام عبدیت کے بالکل ہی خلاف ہے۔ اسی طرح یہ کہ مرد ریشمی کپڑا استعمال نہ کریں، یہ سونے چاندی کے زیورات کی طرح عورتوں کے لئے مخصوص ہے،اور یہ کہ مرد خاص عورتوں والا لباس پہن کر نسوانی صورت نہ بنائیں اور عورتیں مردوں والے مخصوص کپڑے پہن کر اپنی نسوانی فطرت پر ظلم نہ کریں۔
اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ جن بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو انہیں چاہئے کہ اس طرح رہیں اور ایسا لباس پہنیں جس سے محسوس ہو کہ ان پر ان کے رب کا فضل ہے، یہ شکر کا ایک شعبہ ہے لیکن بےجا تکلف و اسراف سے پرہیز کریں، اسی کے ساتھ اس کا بھی لحاظ رہے کہ غریب و نادار بندوں کی دل شکنی اور ان کے مقابلہ میں تفوق و بالا تری کی نمائش نہ ہو۔
نیز یہ کہ ہر لباس کو اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ سمجھیں اور اس کے شکر کے ساتھ استعمال کریں۔ بلاشبہ ان احکام و ہدایات کی تعمیل کے ساتھ ہر لاس کا استعمال ایک طرح کی عبادت اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا وسیلہ ہو گا۔
اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
تشریح ..... جامع ترمذی میں قریب قریب اسی مضمون کی حدیث حضرت عمر ؓ سے بھی مروی ہے، ان دونوں حدیثوں سے اور ان کے علاوہ بھی متعدد احادیث سے معلوم ہوا کہ لباس اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اس کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کا اصل مقصد ستر پوشی اور تجمل و آرائش ہے۔
بےپردہ اور بےڈھنگے لباس کی ممانعت
عَنْ جَابِرِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، أَوْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ». (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا: اس سے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے، یا صرف ایک پاؤں کی جوتی پہن کر چلے، اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی صرف ایک چادر اپنے اوپر لپیٹ کر ہر طرف سے بند ہو جائے یا ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اس طرح کہ اس کا ستر کھلا ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
عربوں میں کپڑے کے استعمال کے بعض طریقے رائج تھے اور ان کے لئے ان کی زبان میں بعض مخصوص الفاظ تھے، مثلاً ایک طریقہ یہ تھا کہ سارے جسم پر ایک چادر اس طرح لپیٹ لی کہ ہر طرف سے بند ہو گئے اور اس طرح بندھ گئے کہ ہاتھ بھی باہر نہیں نکل سکتا، اس کو “اشتمال صماء” کہا جاتا تھا، اس حدیث مین اس سے ممانعت فرمائی گئی ہے کیوں کہ یہ ایک بےڈھنگا طریقہ ہے اور آدمی اس مین ہر طرف سے بندھ جاتا ہے اور مثلاً ایک طریقہ یہ تھا کہ آدمی سرینیں زمین پر رکھ کے اور گھٹنے کھڑے کر کے بیٹھ جاتا اور بس ایک کپڑا اپنی کمر اور پنڈلیوں پر لپیٹ لیتا، اس میں ستر پوشی بھی نہ ہوتی (کیوں کہ اسفل کھلا رہ جاتا) اس کو “احتباء” کہتے تھے، اس سے بھی اس حدیث میں ممانعت فرمائی گئی ہے، کیوں کہ یہ وقار کے خلاف اور بےڈھنگے پن کی علامت ہے، ہاں اگر کسی عذر کی وجہ سے ہو تو ظاہر ہے وہ معذور ہو گا۔
عورتوں کے لئے زیادہ باریک لباس کی ممانعت
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «يَا أَسْمَاءُ، إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا» وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ (میری بہن) اسماء بنت ابی بکر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں تو آپ ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ اسے اسماء عورت جب بلوغ کو پہنچ جائے تو درست نہیں کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آئے سوائے چہرے اور ہاتھوں کے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو ایسا باریک کپڑا پہننا جائز نہیں جس سے جسم نظر آئے۔ ہاں چہرہ اور ہاتھوں کا کھلا رہنا جائز ہے، یعنی باقی جسم کی طرح ان کو کپڑے سے چھپانا ضروری نہیں۔ یہاں ملحوظ رہے کہ اس حدیث میں عورت کے لئے ستر کا حکم بیان فرمایا گیا ہے۔ حجاب (پردہ) کا حکم اس سے الگ ہے، اور وہ یہ ہے کہ بےضرورت باہر نہ گھومیں، اور اگر ضرورت اور کام سے باہر نکلیں تو پردہ میں نکلیں۔ ستر اور حجاب شریعت کے دو حکم ہیں اور ان کے حدود الگ الگ ہیں، بعض حضرات کو ان میں اشتباہ ہو جاتا ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ حضرت اسماءؓ کے حضور ﷺ کے سامنے آنے کے جس واقعہ کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے وہ حجاب (پردہ) کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ کیوں کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد حضرت اسماءؓ اس طرح آپو کے سامنے نہیں آ سکتی تھیں۔ واللہ اعلم۔
امام مالکؒ نے موطا میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ان کی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ان کے پاس آئیں اور وہ زیادہ باریک اوڑھنی (خمار) اوڑھے ہوئے تھیں، تو حضرت صدیقہ نے اس کو اتار کے پھاڑ دیا اور موٹے کپڑے کی خمار اوڑھا دی۔ ظاہر ہے حضرت صدیقہؓ کا یہ فعل رسول اللہ ﷺ ہی کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا۔
عورتوں کے لئے باریک کپڑا بھی جائز ہے بشرطیکہ
عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ، فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً، فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا، وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ»، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: «وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا» (رواه ابوداؤد)
حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قبطی چادریں آئیں تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک مجھے عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس کے دو ٹکڑے کر لینا ایک ٹکڑے کا تو اپنے لئے کرتہ بنا لینا اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دینا وہ اس کو خمار (اوڑھنی) کے طور پر استعمال کر لے گی۔ پھر جب دحیہ اٹھ کر جانے لگے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہہ دینا کہ وہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تا کہ دکھائی نہ دیں اس کے بال اور جسم وغیرہ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
قباطی سفید رنگ کی باریک بڑھیا قسم کی چادریں ہوتی تھیں جو عہد نبویﷺ میں مصر سے آتی تھیں، ایک دفعہ کہین سے وہ چادریں حضور ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک حضرت دحیہ کلبی کو بھی عنایت فرمائی اور فرمایا کہ اس کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے تو اپنا پیراہن (کرتہ) بنا لینا اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دینا وہ خمار کے طور پر استعمال کر لے گی، اور چونکہ وہ باریک تھا اس لئے آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ بیوی سے کہہ دینا کہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ جسم اور بال وغیرہ نظر نہ آئیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو باریک کپڑے پہننےکی اجازت ہے، بشرطیکہ اس کے نیچے دوسرا کپڑا ہو جس کے بعد جسم اور سر کے بال وغیرہ نظر نہ آئیں۔