نبیذ حلال طیب ہے اور خود رسول اللہ ﷺ استعمال فرماتے تھے
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ. (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے خشک انگوروں سے نبیذ بنائی جاتی تھی اور اس میں کھجوریں بھی ڈال دی جاتی تھیں، یا کھجوروں سے نبیذ بنائی جاتی تھی اور اس میں خشک انگور بھی ڈال دئیے جاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انگور اور کھجور وغیرہ مخلوط اجناس کی نبیذ بھی جائز ہے ہاں اس کی شدید احتیاط ضروری ہے کہ اس میں نشہ کی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک دوسری روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے واسطے نبیذ بنانے کے لئے ہم پانی میں کھجوریں وغیرہ شام کو ڈال دیتے تھے جس کو آپ صبح کو نوش فرما لیتے تھے اور پھر ہم شام کے واسطے اسی طرح صبح کو ڈال دیتے تھے اور اس کو آپ ﷺ شام کے وقت نوش فرما لیتے تھے۔
نبیذ حلال طیب ہے اور خود رسول اللہ ﷺ استعمال فرماتے تھے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ. (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے (اپنے ایک پیالہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہاکہ میں نے اپنے اس پیالہ سے رسول اللہ ﷺ کو پینے والی سب چیزیں پلائی ہیں، شہد بھی، نبیذ بھی، پانی بھی، اور دودھ بھی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نبیذ استعمال کرتے تھے اور آپ ﷺ کے واسطے اس کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
حضور ﷺ کو ٹھنڈا میٹھا مرغوب تھا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ. (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے، فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو پینے میں ٹھنڈا میٹھا محبوب و مرغوب تھا۔ (جامع ترمذی)
حضور ﷺ کے لئے میٹھے پانی کا اہتمام
عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا. قَالَ قُتَيْبَةُ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ. (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے “بیوت سقیا” سے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔ امام ابو داؤد کے استاذ قتیبہ جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، ان کا بیان ہے کہ یہ مقام (بیوت سقیا) جہاں سے حضور ﷺ کے لیے یہ میٹھا پانی لایا جاتا تھا، مدینہ سے دو دن کی مسافت پر تھا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مشروبات میں ٹھنڈے میٹھے کی رغبت یا اسی طرح کھانے پینے کی کسی اچھی چیز کی رغبت جو فطرتِ سلیمہ کا تقاضا ہے مقام زہد کے منافی نہیں ہے اور للہی تعلق و محبت کی بناء پر اس کا اہتمام کرنا سعادت ہے۔
کھانے پینے کے آداب: کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا باعث برکت ہے۔ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اور منہ کا دھونا باعث برکت ہے۔ (جامع ترمذی، ابو داؤد)
تشریح
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت کے لئے اشیاء خورد و نوش کے بارے میں حلت و حرمت کے احکام بھی بیان فرمائے اور کھانے پینے کے آداب بھی بتلائے جن کا تعلق تہذیب و سلیقہ اور وقار سے ہے، یا ان میں طبی مصلحت ملحوظ ہے یا وہ اللہ کے ذکر و شکر کے قبیل سے ہیں اور ان کے ذریعہ کھانے پینے کے عمل کو جو بظاہر خاصی مادی عمل ہے اور نفس حیوانی کے تقاضے سے ہوتا ہے، روحانی اور نورانی اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔
اس سلسلہ کی گزشتہ تین قسطوں میں جو احادیث درج ہوئیں ان کا تعلق اشیاء خوردنی و نوشیدنی کی حلت و حرمت سے تھا، آگے وہ حدیثیں درج کی جا رہی ہیں جن میں آنحضرتﷺ نے کھانے پینے کے آداب کی تلقین فرمائی ہے۔ ان حدیثوں میں ایسے ارشادات موجود ہیں جن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں کھانے پینے کے جن آداب کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ان کا درجہ استحباب اور استحسان کا ہے، اس لئے اگر اس پر رعمل نہ ہوا تو کوئی گناہ کی بات نہ ہو گی۔ واللہ اعلم۔
تشریح ..... قرآن پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ جو تعلیم و ہدایت اگلے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ آتی رہی اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ اس کی تکمیل فرمائی ہے (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ الخ) اس کی روشنی میں حدیث کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تورات میں آدابِ طعام کے سلسلے میں صرف کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کو باعث برکت بتلایا گیا تھا اور اس کی ترغیب دی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ کے ذریعے کھانے سے پہلے بھی ہاتھ اور منہ دھو لینے (یعنی کلی کر لینے) کی ترغیب دی گئی اور آپ ﷺ نے بتلایا کہ یہ بھی باعث برکت ہے۔
برکت بڑا وسیع المعنیٰ لفظ ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس حدیث اور کھانے میں برکت کے سلسلہ کی بعض دوسری احادیث کا حوالہ دے کر جو کچھ فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی کھانے میں برکت ہونے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ غذا کا جو اصل مقصد ہے وہ اچھی طرح حاصل ہو، کھانا رغبت اور لذت کے ساتھ کھایا جائے، طبیعت کو سیری نصیب ہو، جی خوش ہو اور دلجمعی حاصل ہو اور تھوڑی سے مقدار کافی ہو اور اس سے صالح خون پیدا ہو کر جزو بدن بنے اور اس کا نفع دیرپا ہو، پھر اس سے نفس کی طغیانی اور غفلت نہ پیدا ہو بلکہ شکر اور ا طاعت کی توفیق ملے۔ دراصل یہ اس حقیقت کے آثار ہیں جس کو حدیث میں برکت کہا گیا ہے، اور کنز العمال میں معجم اوسط طبرانی کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا دافع فقر ہے اور انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے”۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی بالکل ظاہر ہے کہ صفائی اور اصولِ صحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہاتھ اور منہ جو کھانے کے آلے ہیں، کھانے سے پہلے بھی ان کو دھو کر اچھی طرح ان کی صفائی کر لی جائے۔ اور پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد بھی دھو کر صاف کر لیا جائے۔ (1)
حضرت سلمان فارسی کی اس حدیث میں بلکہ اس سلسلہ کی اکثر دوسری حدیثوں میں بھی ہاتھ اور منہ دھونے کے لئے “وضو” کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے اس سے وہ وضو مراد نہیں جو نماز کے لئے کیا جاتا ہے، بلکہ بس ہاتھ منہ دھونا ہی مراد ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ نماز کا وضو تو وہ ہے جو معلوم و معروف ہے اور کھانے کا وضو بس یہ ہے کہ ہاتھ اور منہ جو کھانے میں استعمال ہوتے ہیں ان کو دھو لیا جائے اور ان کی صفائی کر لی جائے، بعض حدیثوں میں اس کی تصریح بھی ہے۔
کھانے پینے کے آداب: کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ لَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو کوئی رات کو اس حال میں سو جائے کہ اس کے ہاتھ میں کھانے کی چکنائی کا اثر اور اس کی بو ہو اور اس کی وجہ سے اسے کوئی گزند پہنچ جائے (مثلاً کوئی کیڑا کاٹ لے) تو وہ بس اپنے ہی کو ملامت کرے (اور اپنی ہی غلطی اور غفلت کا نتیجہ سمجھے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث کا مدعا اور تقاضا یہی ہے کہ کھانے کے بعد خاص کر جب ہاتھ میں چکنائی وغیرہ کا اثر ہو تو ہاتھون کو اس طرح دھو لیا جائے کہ اس کا اثر باقی نہ رہے۔ اور چونکہ یہ صرف استحبابی حکم ہے اس لئے خود رسول اللہ ﷺنے کبھی کبھی اس کے خلاف بھی عمل فرمایا جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو گا۔
کھانے کے بعد صرف ہاتھ پونچھ لینا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْجَزْءِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ وهو فِي الْمَسْجِدِ فأكل وأَكَلْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَلَمْ نَزِدْ عَلَى اَنَ مَسَحَنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ. (رواه ابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے، کسی شخص نے آپ کی خدمت میں روٹی اور گوشت لا کر پیش کیا، آپ ﷺ نے مسجد ہی میں تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھایا، پھر آپ ﷺ اور آپ کے ساتھ ہم بھی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور (اس وقت) اس سے زیادہ ہم نے کچھ نہیں کیا کہ اپنے ہاتھ بس سنگریزوں سے پونچھ ڈالے (جو مسجد میں بچھے ہوئے تھے)۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن الحارث کا مقصد اس واقعہ کے بیان کرنے سے بظاہر یہی ہے کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے اصحابِ کرام نے کھانا کھایا اور اس کے بعد ہاتھ نہیں دھوئے جیسا کہ شارحین حدیث نے لکھا ہے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ آپ ﷺ نے یہی بات ظاہر کرنے کے لئے (کہ کھانے کے بعد منہ ہاتھ دھونا کوئی فرض و واجب نہیں ہے اور اس کے بغیر نماز بھی پڑھی جا سکتی ہے) یہ عمل کیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ امت کو رخصت اور جواز کے حدود بتلانے کے لئے بسا اوقات اولی اور افضل کو ترک کر دیتے تھے اور معلم اور ہادی ہونے کی حیثیت سے ایسا کرنا آپ کے لئے ضروری تھا۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ یہ ظاہر واقعہ اس طرح پیش آیا کہ نماز کے لئے کھڑے ہونے کا وقت قریب تھا، صحابہ کرام بھی نما زکے لئے مسجد میں آ چکے تھے، اس وقت کوئی صاحب آپ کی خدمت میں کچھ کھانا روٹی اور گوشست لے آئے ممکن ہے بلکہ اغلب یہی ہے کہ حاضرین مسجد میں کچھ وہ بھی ہوں جو بھوک میں مبتلا ہوں اور ان کو کھانے کی اشتہا ہو، ایسی صورت میں آپ ﷺ نے مناسب یہی سمجھا کہ کھانا نماز سے پہلے ہی کھا لیا جائے آپو نے صحابہ کرام کو بھی شریک فرما لیا، ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں سب نے پیٹ بھر کر تو کھایا نہ ہو گا تبرک کے طور پر کم و بیش کچھ حصہ لے لیا ہو گا۔ اس لئے ہاتھوں پر کھانے کا کچھ زیادہ اثر بھی نہ آیا ہو گا۔ پھر یہ بھی ملحوظ رہے کہ مسجد شریف میں پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا، اگر اس وقت ہاتھ دھونا ضروری سمجھا جاتا تو لوگوں کو اپنے گھروں پر جانا پڑتا۔ راقم السطور کا خیال ہے کہ ہاتھ نہ دھونے میں ان تمام باتوں کا کچھ نہ کچھ دخل ہو گا۔ واللہ اعلم۔
حدیث میں سنگریزوں اور کنکریوں سے ہاتھ صاف کرنے کا ذکر جس طرح کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی اس وقت ایسا ہی کیا، اس سے یہ بھی رہنمائی ملی کہ کھانا کھا کر تولیہ یا کاغذ یا کسی بھی ایسی چیز سے ہاتھ صاف کئے جا سکتے ہیں جس سے ہاتھوں کی صفائی ہو جائے اور ایسا کرنا بھی سنت کے دائرہ ہی میں ہو گا۔
کھانے سے پہلے اللہ کو یاد کیا جائے اور اس کا نام لیا جائے
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ. (رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے کا ارادہ کرے تو چاہئے کہ اللہ کا نام ہے (یعنی پہلے بسم اللہ پڑھے) اور اگر شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو بعد میں کہہ لے: “بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ”۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام پاک لینا باعث برکت ہے، اور جیسا کہ دوسری احادیث میں صراحۃً وارد ہوا ہے اس نام پاک کی یہ بھی ایک خاص تاثیر ہے کہ پھر شیاطین پاس نہیں آتے، اس لئے وہ کھانا جس پر اللہ کا نام لیا جائے شیاطین کی شرکت اور ان کے شر سے محفوظ رہے گا۔ اس کے علاوہ اس تعلیم و ہدایت کا یہ بھی ایک مقصد ہے کہ بندہ کے سامنے جب کھانا آئے تو اس حقیقیت کو یاد کر لے کہ یہ کھانا اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا عطیہ ہے اور اسی کے کرم سے میں اس لائق ہوں کہ اس کو کھا سکوں اور اس سے لذت و فائدہ حاصل کر سکوں۔ اس طرح کھانے کا عمل جو بظاہر ایک خالص مادی عمل ہے اور حیوانی تقاضے سے ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے جڑ جاتی ہے اور وہ ایک ربانی اور نورانی عمل بن جاتا ہے۔ اور چونکہ کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ کھانا شروع کرتے وقت بندہ اللہ کا نام لینا اور بسم اللہ کہنا بھول جاتا ہے تو اس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا کہ ایسی صورت میں جب یاد آ جائے اسی وقت بندہ کہہ لے “بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ” (میں اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں، شروع میں بھی اور آخر میں بھی)۔
کھانے سے پہلے اللہ کو یاد کیا جائے اور اس کا نام لیا جائے
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ. (رواه مسلم)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: شیطان اپنے لئے کھانے کو جائز کر لیتا ہے (یعنی اس کے لئے کھانے میں شرکت اور حصہ داری کا امکان اور جواز پیدا ہو جاتا ہے) جب کہ اس کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ کا نام شیطان کے لئے تازیانہ بلکہ گرز ہے جب کسی کھانے پر اللہ کا نام لیا جائے گا اور بسم اللہ پڑھ کے کھانا شروع کیا جائے گا تو شیطان اس میں شریک نہ ہو سکے گا لیکن جب کسی کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اور کھانا یونہی شروع کر دیا جائے تو پھر شیطان کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو گی، اگرچہ کھانے والے کی آنکھ نہ دیکھ سکے گی مگر شیطان اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گا۔
حیح مسلم ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر میں جہاں وہ رات کو رہتا اور سوتا ہے اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہے اور پھر کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ یہاں سے چل دو یہاں ہمارے تمہارے لئے نہ رہنے کا ٹھکانا ہے نہ کھانے کا سامان ہے۔ اور اس کے برعکس جب کوئی آدمی اپنے گھر میں آ کر اللہ کا نام نہیں لیتا اور کھانے کے وقت بھی اللہ کو یاد نہیں کرتا تو شیطان اپنے رفیقوں سے کہتا ہے کہ آ جاؤ یہاں تمہارے لئے آرام سے شب باشی کی جگہ بھی ہے اور راشن کھانا بھی۔
الغرض اللہ کا نام پاک شیطانوں کے لئے ایسی ضرب کاری ہے جس کا وہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتے بالکل اسی طرح جس طرح اندھیرا آفتاب کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
یہاں اس ایمانی حقیقت کو ذہن میں تازہ کر لینا چاہئے کہ ملائکہ اور شیاطین کا وجود اور ان کے افعال و صفات ان امور غیب میں سے ہیں جن کا علم ہم بندے اپنے طور پر اپنے حواس آنکھ کان وغیرہ کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔ خود خدا کی ذات و صفات کا حال بھی یہی ہے مومن کا مقام یہ ہے کہ ان تمام غیبی حقائق کے بارے میں بس اللہ کے صادق و مصدوق پیغمبر کے بیان پر اعتماد کرے۔
کھانا داہنے ہاتھ اور اپنے سامنے سے کھایا جائے
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ غُلاَمًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں (بچپن میں) رسول اللہ ﷺ کی آغوش شفقت میں پرورش پا رہا تھا تو (کھانے کے وقت)میرا ہاتھ پلیٹ میں ہر طرف چلتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نصیحت فرمائی کہ (کھانے سے پہلے) بسم اللہ پڑھا کرو اور اپنے داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے ہی سے کھایا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ابو سلمہ ؓرسول اللہ ﷺ کے پھوپی زاد بھائی اور سابقین اولین میں سے تھے، ام سلمہ ؓ ان کی بیوی تھیں اور بڑی مخلص مومنہ تھیں، حدیث کے راوی عمر بن ابی سلمہ انہی کے بیٹے تھے۔ ۳ھ یا ۴ھ میں ابو سلمہ ؓ وفات پائی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی بیوہ ام سلمہ سے ان کی دلداری کے لئے نکاح کر لیا، ان کے یہ بیٹے عمر بن ابی سلمہؓ جو اس وقت کم عمر بچے تھے آپ ﷺ کی آغوش تربیت میں آ گئے، وہ بیان کرتے ہیںٰ کہ بچپنے میں اس مانہ میں جب رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھلاتے تو میرا ہاتھ پلیٹ میں ہر طرف چلتا، تو حضور ﷺ نے مجھے بتلایا اور سکھایا کہ بسم اللہ پڑھ کے کھانا کھایا کرو، اور داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔ (دوسری بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سامنے مختلف الانواع کھانے یا مختلف قسم کے پھل ہوں تو ہر طرف ہاتھ بڑھانے کی اجازت ہے)۔
کھانا داہنے ہاتھ اور اپنے سامنے سے کھایا جائے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ. (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ کھائے تو داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب کچھ پئیے تو داہنے ہاتھ سے پئیے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
انسان اپنے ہاتھوں کو پاک و ناپاک ہر قسم کے کاموں اور چیزوں میں استعمال کرتا ہے، اس لئے اس کی فطری طہارت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ نجاست و گندگی کی صفائی جیسے کاموں کے لئے ایک ہاتھ کو مخصوص کر دیا جائے اور دوسرے کاموں میں دوسرا ہاتھ استعمال ہو۔ اس فطری تقاضے کے مطابق دفع نجاست وغیرہ کے لئے بایاں ہاتھ مخصوص کر دیا گیا ہے اور باقی کھانے پینے وغیرہ دوسرے سارے اچھے اور پاکیزہ کاموں کے بارے میں حکم ہے کہ وہ داہنے ہاتھ سے انجام دئیے جائیں۔ اور خلقی اور فطری لحاظ سے بائیں ہاتھ کے مقابلے میں داہنے ہاتھ کی فضیلت اور برتری ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ لہذا یہ حکم اور یہ تقسیم بالکل فطرت کے بھی مطابق ہے۔ اس بناء پر بائیں ہاتھ سے کھانا بالکل ایسی الٹی بات ہے کہ کوئی آدمی بجائے پاؤں کے سر کے بل چلے، اسی لئے آگے درج ہونے والی حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کھانا شیطان کا طریقہ اور اس کا عمل ہے کیوں کہ شیطان کی فطرت یہی ہے کہ ہر کام الٹا کرے۔
کھانا داہنے ہاتھ اور اپنے سامنے سے کھایا جائے
عَنِ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِهَا» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ اس سے پئیے۔ کیوں کہ (یہ شیطانی طریقہ ہے) وہ بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے۔ (صحیح مسلم)
جوتا اُتار کے کھانے میں زیادہ راحت ہے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ، فَاخْلَعُوا نِعَالَكُمْ، فَإِنَّهُ أَرْوَحُ لِأَقْدَامِكُمْ» (رواه الدارمى)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کھانا سامنے رکھ دی اجائے تو اپنے جوتے اُتار دیا کرو اس سے تمہارے پاؤں کو زیادہ راحت ملے گی۔ (مسند دارمی)
تشریح
اس حدیث میں کھانے کے وقت جوتا اتار دینے کا حکم دیتے ہوئے اس کی جو حکمت اور مصلحت بیان فرمائی ہے (کہ اس سے پاؤں کو زیادہ آرام ملے گا) اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ یہ حکم شفقت کی بناء پر دیا گیا ہے، ایسا نہیں ہے کہ جوتا پہنے کھانا کوئی گناہ کی بات ہو۔
کھانا زیادہ گرم نہ کھایا جائے
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِثَرِيدٍ، أَمَرَتْ بِهِ فَغُطِّيَ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرَةُ وَدُخَانُهُ، وَتَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُوَ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ» (رواه الدارمى)
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب ثرید پکا کر ان کے پاس لائی جاتی تو وہ ان کے حکم سے اس وقت تک ڈھکی رہتی کہ اس کی گرمی کا جوش اور تیزی ختم ہو جاتی (اس کے بعد وہ کھائی جاتی) اور (اپنے اس طرزِ عمل کی سند میں) وہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اس طرح (کچھ ٹھنڈا کر کے) کھانا زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے۔ (مسند دارمی)
تشریح
ثرید ایک معروف و مرغوب کھانا ہے، جس کا عہد نبویﷺ میں زیادہ رواج تھا، ایک خاص طریقے سے گوشت کے ساتھ روٹی کے ٹکڑے پکا کر تیار کیا جاتا تھا۔ اس روایت میں اگرچہ خاص ثرید کا ذکر ہے (کیوں کہ وہاں وہی زیادہ پکتا تھا) لیکن ظاہر ہے کہ حدیثِ پاک میں جو تعلیم دی گئی ہے وہ ہر پکے ہوئے کھانے اے متعلق ہے کہ زیادہ گرم نہ کھایا جائے۔ اس کو موجب برکت بتلایا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ برکت کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ غذا کا جو مقصد ہے وہ اس طرح کھانے سے بہتر طریقہ پر حاصل ہوتا ہے۔ اصولِ طب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کھانا زیادہ گرم نہ کھایا جائے۔
کنز العمال میں مختلف کتب حدیث کے حوالے سے متعدد صحابہ کرام کی روایت سے مختلف الفاظ میں رسول اللہ ﷺ کی یہ ہدایت روایت کی گئی ہے کہ کھانا ٹھنڈا کر کے کھایا جائے۔ اس میں برکت ہے۔ (کنز العمال ص ۳، ۸، ج ۸)
عَنْ وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: إِنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: «لَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ» (رواه ابوداؤد)
حضرت وحشی بن حرب ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے بعض صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ کھانا کھاتے ہیں اور آسودگی حاصل نہیں ہوتی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں، الگ الگ کھاتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تم کھانے پر ایک ساتھ بیٹھا کرو! اور اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ کر کے (اجتماعی طور پر) کھایا کرو، تمہارے واسطے اس کھانے میں برکت ہو گی (اور طبیعت کو سیری حاصل ہو جایا کرے گی)۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اجتماعی طور پر کھانے کی یہ برکت جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اس کا ہر ایک تجربہ کر سکتا ہے بشرطیکہ کھانے والوں میں ایثار کی صفت ہو، جو ہر سچے مسلمان میں ہونی چاہئے یعنی ہر ایک یہ چاہے کہ میرے دوسرے ساتھی اچھا کھا لیں اور اچھی طرح کھا لیں، اگر کھانے والوں میں یہ بات نہ ہو تو پھر اس برکت کا کوئی استحقاق نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں اندیشہ ہے کہ اکثر و بیشتر تجربہ اس کے برعکس ہو۔ آگے درج ہونے والی حدیث کو بھی اسی روشنی میں سمجھنا چاہئے۔
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ» (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جاتا ہے، اور دو کا کھانا چار کے لئے اور اسی طرح چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
کتبِ حدیث میں اس مضمون کی حدیثیں اور بھی بعض متعدد صحابہ کرام سے مروی ہیں۔
تشریح
کنز العمال میں معجم کبیر طبرانی کے حوالے سے اسی مضمون کی حدیث قریب قریب انہی الفاظ میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے “فَاجْتَمعُوْا عَلَيْهِ وَلَا تَفَرَّقُوْا” (لہذا تم کو چاہئے کہ الگ الگ نہ کھایا کرو، بلکہ جُڑ کے ساتھ کھایا کرو)۔
اس اضافہ سے معلوم ہوا کہ جن حدیثوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ “ایک کا کھانا دو کے لئے اور دو کا چار کے لئے اور چار کا آٹھ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔” ان کا مقصد و مدعا بھی یہی ہے کہ لوگ اجتماعی طور پر ایک ساتھ کھایا کریں اور اس کی برکت سے فائدہ اٹھائیں لیکن شرط وہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔
کھانا برتن کے اطراف اور کناروں سے کھایا جائے، بیچ میں ہاتھ میں نہ ڈالا جائے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَقَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا، وَلا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا». (رواه الترمذى وابن ماجه والدارمى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ثرید سے بھری ہوئی ایک لگن آئی، آپ ﷺ نے (لوگوں کو اس میں شریک فرما لیا اور فرمایا کہ اس کے اطراف سے کھاؤ اور بیچ میں ہاتھ نہ ڈالو، کیوں کہ برکت بیچ میں نازل ہوتی ہے۔ (جامع ترمذی)
اور سنن ابی داؤد کی روایت میں ثرید آنے کا مذکورہ بالا ذکر کئے بغیر رسول اللہ ﷺ کا صرف یہ ارشاد روایت کیا گیا ہے:
«إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ، وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا»
جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ طباق کے بالائی حصہ سے (یعنی بیچ سے) نہ کھائے بلکہ نیچے والے حصے سے (یعنی کنارہ سے) کھائے کیوں کہ برکت بالائی حصہ سے اترتی ہے۔
تشریح
ابھی اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ برکت دراصل ایک امر الٰہی ہے، رسول اللہ ﷺ کو اس کا ادراک ہوتا تھا اور آپ ﷺ محسوس فرماتے تھے کہ برکت براہِ راست کھانے کے وسط میں نازل ہوتی ہے، اور پھر اس کے اثرات اطراف و جوانب کی طرف آتے ہیں۔ اس لئے آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ کھانے والے برتن کے کناروں سے کھاتے رہیں بیچ میں ہاتھ نہ ڈالیں۔ کھانے وغیرہ میں برکتیں نازل ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون وہی ہے جو پہلے تھا لیکن یقین اور استحقاق شرط ہے۔
جو کھانا انگلیوں میں یا برتن میں لگا رہ جائے اس کی بھی قدر کی جائے
عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ، وَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَكَةُ» (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹ لیا جائے اور برتن کو بھی صاف کر لیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تم کو معلوم نہیں کہ کھانے کے کس ذرہ اور جز میں برکت کا خاص اثر ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کھانا عطیہ خداوندی ہے اس کے ایک ایک ذرہ کی قدر کی جائے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس جز میں اللہ تعالیٰ نے خاص برکت اور خصوصی نافعیت رکھی ہے، اس لئے کھانے کے جو اجزاء انگلیوں پر لگے رہ جائیں ان کو چاٹ کر صاف کر لیا جائے۔ اسی طرح جو کچھ برتن میں لگا رہ جائے اس کو بھی اللہ کا رزق سمجھ کر صاف کر لیا جائے۔ اس میں اللہ کے رزق کی قدردانی بھی ہے اور ربِ کریم کے سامنے اپنے عمل سے اپنی محتاجی کا اظہار بھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا تھا۔
رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
پروردگار! تو جو کچھ مجھے عطا فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔
جو کھانا انگلیوں میں یا برتن میں لگا رہ جائے اس کی بھی قدر کی جائے
عَنْ نُبَيْشَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ، فَلَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ» (رواه احمد والترمذى والدارمى وابن ماجه)
حضرت نبیشہ ہذلی ؓ رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ: آپ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی قصعہ (طباق یا لگن) میں کھائے اور اس کو بالکل صاف کر دے (کہ اس میں کچھ لگا نہ جائے) تو وہ قصعہ اس آدمی کے حق میں مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)
گرا ہوا لقمہ بھی اُٹھا کر کھا لیا جائے
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ، حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يَكُونُ الْبَرَكَةُ» (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: “تمہارے ہر کام کے وقت، یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی، شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے، (لہذا جب کھانا کھاتے وقت)” کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہئے کہ اس کو صاف کر کے کھالے اور شیطان کے لئے چھوڑ نہ دے۔ پھر جب کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیوں کو بھی چاٹ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس جز میں خاص برکت ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے آخری حصہ میں تو کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹ کر صاف کر لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے جس کے بارے میں ابھی اوپر عرض کیا جا چکا ہے۔ اور ابتدائی حصہ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کھاتے وقت کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اس کو مستغنی اور متکبر لوگوں کی طرح نہ چھوڑ دے، بلکہ ضرورت مند اور قدردان بندہ کی طرح اس کو اُٹھا لے، اور اگر نیچے گر جانے کی وجہ سے اس پر کچھ لگ گیا ہو تو صاف کر کے اس لقمہ کو کھا لے۔ اس میں مزید یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ کھانے کے وقت بھی شیطان ساتھ ہوتا ہے اگر گرا ہوا لقمہ چھوڑ دیا جائے گا تو وہ شیطان کے حصہ میں آئے گا۔
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے فرشتے اور شیاطین اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً اکثر اوقات میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں جو کچھ بتلایا ہے اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے علم سے بتلایا ہے اور وہ بالکل حق ہے اور آپ ﷺ کو کبھی کبھی ان کا اس طرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا، جس طرح ہم اس دنیا کی مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں (جیسا کہ بہت سے احادیث سے معلوم ہوتا ہے) اس لئے ایسی حدیثوں کو جن میں مثلاً کھانے کے وقت شیاطین کے ساتھ ہونے اور کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو اس میں شیاطین کے شریک ہو جانے یا گرے ہوئے لقمہ کا شیطان کا حصہ ہو جانے کا ذکر ہے تو ان حدیثوں کو مجاز پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے “حجۃ اللہ البالغہ” میں یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔ کہ ایک دن ہمارے ایک دوست (شاگرد یا مرید) ہمارے ہاں آئے، ان کے لئے کھانا لایا گیا، وہ کھا رہے تھے کہ ان کے ہاتھ سے ایک ٹکڑا گر گیا اور لڑھک کر زمین میں چلا گیا، انہوں نے اس کو اٹھا لینے کی کوشش کی اور اس کا پیچھا کیا مگر وہ ان سے اور دور ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جو لوگ وہاں موجود تھے (اور اس تماشے کو دیکھ رہے تھے) انہیں اس پر تعجب ہوا، اور وہ صاحب جو کھانا کھا رہے تھے انہوں نے جدوجہد کر کے (آخر کار) اس کو پکڑ لیا اور نوالہ بنا لیا۔ چند روز کے بعد کسی آدمی پر ایک جنی شیطان مسلط ہو گیا اور اس آدمی کی زبان سے باتیں کیں اور (ہمارے اس مہمان دوست کا نام لے کر) یہ بھی کہا کہ فلاں آدمی کھانا کھا رہا تھا، میں اس کے پاس پہنچا، مجھے اس کا کھانا بہت اچھا معلوم ہوا مگر اس نے مجھے نہیں کھلایا۔ تو میں نے اس کے ہاتھ سے اُچک لیا (اور گرا دیا) لیکن اس نے مجھ سے پھر چھین لیا۔
اسی سلسلہ میں دوسرا واقعہ اپنے گھر ہی کا شاہ صاحبؒ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ، ایک دفعہ ہمارے گھر کے کچھ لوگ گاجریں کھا رہے تھے۔ ایک گاجر ان میں سے گر گئی، ایک آدمی اس پر جھپٹا اور اس نے جلدی سے اُٹھا کر اس کو کھا لیا، تھوڑی ہی دیر بعد اس کے پیٹ اور سینہ میں سخت درد اُٹھا، پھر اس پر شیطان یعنی جن کا اثر ہو گیا تو اس نے اس آدمی کی زبان میں بتایا کہ اس آدمی نے میری گاجر اُٹھا کر کھا لی تھی۔
یہ واقعات بیان فرمانے کے بعد شاہ صاحبؒ نے لکھا ہے کہ:
اس طرح کے واقعات ہم نے بکثرت سنے بھی ہیں اور ان سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ احادیث (جن میں کھانے پینے کے سلسلہ میں شیاطین کی شرکت اور ان کے افعال و تصرفات کا ذکر آیا ہے) مجاز کے قبیلہ سے نہیں ہیں، بلکہ جو کچھ بتلایا گیا ہے وہی حقیقت ہے۔ واللہ اعلم۔