Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 80 of 106

1581Maarif-ul-Hadith

کھانے پینے کے احکام و آداب

عَنْ ابْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ساتھ غزوے کئے ہیں، (یعنی ساتھ غزووں میں ہمیں آپ کی معیت اور رفاقت نصیب ہوئی ہے) ہم ان غزووں میں آپ کے ساتھ رہ کر ٹڈیاں بھی کھاتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح سنن ابی داؤد میں سلمان فارسی ؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ٹڈیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “ اَكْثَرُ جُنُوْدُ اللهِ لَا آكُلُهُ وَلَا اُحَرِّمُهُ ” (اللہ کی بہت سی مخلوق یعنی بہت سے جانور ایسے ہیں کہ میں ان کو خود تو نہیں کھاتا لیکن ان کو حرام نہیں بتلاتا) مطلب یہ کہ وہ حلال ہیں، لوگ ان کو کھا سکتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ خود ٹڈی نہیں کھاتے تھے۔ اس کی روشنی میں شارحین نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی کی مندرجہ بالا حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ صحابہ کرامؓ حضور ﷺ کے ساتھ غزوات میں ٹڈیاں بھی کھاتے تھے اور آپ ﷺ منع نہیں فرماتے تھے۔ اس کا مطلب کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ حضرت ابن ابی اوفیٰ والی اس حدیث کی صحیح مسلم اور جامع ترمذی وغیرہ کی روایات میں “معه” کا لفظ نہیں ہے، بلکہ آخری الفاظ یہ ہیں “كنا ناكل الجراد” واللہ اعلم۔

1582Maarif-ul-Hadith

کھانے پینے کے احکام و آداب

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: غَزَوْتُ جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا، لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ. فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ. قَالَ: فَأَرْسَلْنَا اِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں “جیش الخبط” کے جہاد میں شریک تھا اور ابو عبیدہ اس لشکر کے امیر بنائے گئے تھے (غذا کا کچھ سامان نہ ہونے کی وجہ سے اس سفر جہاد میں) ہم سخت بھوک میں گرفتار ہو گئے۔ تو سمندر نے ایک مچھلی پھینکی یہ مر چکی تھی ہم نے ایسی (یعنی اتنی بڑی)مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی، اس کا نام عنبر بتلایا جاتا تھا، ہم سب نے (یعنی پورے لشکر نے) س کو آدھے مہینہ تک کھایا، پھر ابو عبیدہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی (غالبا پسلی) اٹھا کے کھڑی کی تو اونٹ کا سوار اس کے نیچے سے نکل گیا، پھر جب ہم سفر سے مدینہ واپس آئے آئے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا (اور پوچھا کہ ہمارا اس کو کھانا درست تھا یا نہیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا کھاؤ، اللہ تعالیٰ کا عطیہ (اور تحفہ) جو اللہ نے تمہارے واسطے نکالا تھا، اور اگر اس میں سے کچھ تمہارے ساتھ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ (جابر کہتے ہیں کہ) ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی بھیجا تو آپ ﷺ نے اس کو تناول فرمایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ۶؁ھ کی ایک جہادی مہم کا واقعہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے قریبا تین سو مجاہدین کا ایک لشکر روانہ فرمایا تھا، اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ کو بنایا گیا تھا پورے لشکر کے کھانے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک بورا کھجوریں حضرت ابو عبیدہ کو دی تھیں، اس وقت اتنا ہی بندوبست ہو سکا تھا، ابو داؤد وغیرہ کی اس واقعہ کی روایت میں ہے کہ ابو عبیدہ روزانہ ہر لشکری کو اس بورے میں سے صرف ایک کھجور دیتے تھے،اور یہ اللہ کے سپاہی اسی پر گزارہ کرتے تھے، خود اس لشکر کے بعض حضرات نے بیان کیا ہے کہ ہم اس ایک کھجور کو منہ میں دیر تک رکھ کر اس طرح چوستے تھے جس طرح ننھے بچے چوستے ہیں اور اوپر سے پانی پی لیتے تھے، بس یہی دن بھر کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔ پھر وہ کھجوریں ختم ہو گئیں تو درختوں سے پتے جھاڑے اور انہیں پانی سے تر کر کے کھانے لگے اس سے ہمارے منہ زخمی ہو گئے اور سوج گئے، اس لشکر کو “جیش الخبط” کے نام سے اسی لئے یاد کیا جاتا ہے۔ خبط کے معنی درخت سے پتے جھاڑنے کے ہیں۔ ابو داؤد وغیرہ کی روایت میں حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ اسی حال میں ہم سمندر کے کنارے سے قریب چل رہے تھے کہ ہمیں ایک ٹیلہ یا ایک پہاڑی سی نظر پڑی، قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ سمندر کا پھینکا ہوا ایک مچھلی نماز جانور ہے اور مرا ہوا ہے، حضرت ابو عبیدہ کو اس کے حلال ہونے کے بارے میں شک ہوا، بعد میں انہوں نے سوچا کہ ہم اللہ کے کام کے لئے نکلے ہیں اور اس کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں اور کھانے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ہماری غذا کا ساما فراہم کیا ہے، پھر اس بارے میں انہیں شرح صدر ہو گیا تو انہوں نے لشکر کو اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔ اور صحیحین کی اس روایت کے بیان کے مطابق پورے لشکر نے اس کو آدھے مہینے تک کھایا۔ اور دوسری بعض روایات میں ہے کہ اس کو ایک مہینہ تک کھایا گیا۔ اس عاجز کے نزدیک ان دونوں باتوں میں مطابقت اس طرح ہے کہ لشکر کا قیام آدھے مہینہ کے قریب اسی علاقہ میں رہا اور ان دنوں میں وہی مچھلی خوب فراوانی سے کھائی جاتی رہی، اس کے بعد واپسی ہوئی اور قریبا آدھے مہینہ میں مدینہ پہنچے، ان دنوں میں بھی اسی سے کچھ کام چلتا رہا، تو جن روایات میں آدھے مہینہ تک کھائے جانے کا ذکر ہے ان میں صرف سفر واپسی ہے پہلے دنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ پورا لشکر فراوانی سے اس کو کھاتا رہا، اور جن روایات میں ایک مہینہ تک کھانے کا ذکر کیا گیا ان میں واپسی کا زمانہ بھی شامل کر لیا گیا ہے، کیوں کہ ان دنوں میں بھی اس کو بطور غذا کے کچھ نہ کچھ استعمال کیا جاتا رہا۔ واللہ اعلم۔ حدیث کے آخر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مدینہ کی واپسی پر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا اور غالبا ابو عبیدہ کے شک و شبہ کا ذکر آیا، تو آپ ﷺ نے فرما کر کہ “كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ” اطمینان دلایا کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ اور تحفہ تھا جو اس نے تمہارے ہی واسطے سمندر سے نکلوایا تھا، ایسی چیز کو تو بڑی قدر اور شکر کے ساتھ کھانا چاہئے۔ آخر میں آپ ﷺ نے ان لوگوں کا دل خوش کرنے کے لئے اور اس عطیہ ربانی کی قدردانی کے اظہار کے لیے یہ بھی فرمایا: “وَأَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ” (یعنی اگر اس میں سے کچھ ساتھ لائے ہو تو ہم کو بھی کھلاؤ) چنانچہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آپ ﷺ نے تناول فرمایا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ سمندر کی اتنی بڑی مچھلی، جو ظاہر ہے کہ ایک عجیب و غریب مخلوق معلوم ہوتی ہو گی حلال طیب ہے۔ حدیث میں ہے کہ اس مچھلی کو عنبر کہا جاتا ہے، بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ عنبر جو بعض خاص علاقوں میں سمندر کے کنارے ملتا ہے اس مچھلی سے نکلتا ہے۔ واللہ اعلم۔

1583Maarif-ul-Hadith

کھانے پینے کے احکام و آداب

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثًا عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ، يَأْتُونَا بِلُحْمَانٍ لاَ نَدْرِي يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لاَ. قَالَ: اذْكُرُوا أَنْتُمُ اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا. (رواه البخارى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے وہاں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا شرک کا زمانہ قریب ہی کا ہے (یعنی قریبی زمانہ کے نومسلم ہیں اور ابھی ان کی اسلامی تعلیم و تربیت نہیں ہو سکی ہے) وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کرتے وقت وہ اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں (تو اس صورت میں وہ گوشت کھائیں یا نہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کا نام لو اور کھا لو۔ (صحیح بخاری) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ وہم میں نہیں پڑنا چاہئے، جب وہ لوگ مسلمان ہو چکے ہیں تو سمجھنا چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر ہی ذبح کرتے ہوں گے اس لئے تم اللہ کا نام لے کر کھا لیا کرو، یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کا نام لئے بغیر ہی کافرانہ طریقہ پر ذبح کر لیا ہے تو تمہارے بسم اللہ پڑھنے سے اب وہ حلال ہو جائے گا، قرآن پاک میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ (الانعام 121) اور جس جانور پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو اس کو مت کھاؤ، اس کا کھانا سخت گناہ ہے۔

1584Maarif-ul-Hadith

کھانے پینے کے احکام و آداب

عَنْ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ: لاَ يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ. (رواه الترمذى)

قبیصہ بن ہلب اپنے والد ہلب طائی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نصاری کا کھانا کھانے کے بارے میں سوال کیا (کہ جائز ہے یا ناجائز؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:اس کے کھانے کے بارے میں تمہارے دل میں کوئی خلجان نہیں ہونا چاہئے۔ تم اس (تنگ نظری اور بیجا شدت پسندی میں) طریقہ نصرانیت سے مشابہ ہو گئے۔ (جامع ترمذی) تشریح یہ ہلب طائی پہلے خود نصرانی المذہب تھے، بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایمان و اسلام نصیب فرمایا تو ان کو نصاریٰ یعنی عیسائیوں کے ہاں کھانے اور ان کا ذبیحہ کھانے کے بار ے میں تردد تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس بارے میں تمہارے دل میں کئی تردد اور خلجان نہیں ہونا چاہئے یعنی ہماری شریعت میں ان کا کھانا اور ذبیحہ جائز ہے۔ قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ “وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ” (1)۔ (یعنی اہل کتاب کا کھانا تمہارے واسطے حلال ہے) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ: کھانے پینے میں یہ تنگ نظری اور شدت پسندی عیسائی راہبوں کا شیوہ ہے۔ اگر تم وہی طریقہ اپناتے ہو تو گویا ان کی ہم رنگی اختیار کرتے ہو۔ ہماری شریعت میں یہ تنگی نہیں بلکہ وسعت ہے۔ وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ۔

1585Maarif-ul-Hadith

مشروبات کے احکام: شراب کی حرمت کا حکم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ، فَسَأَلُوهُ عَنْهُمَا، فَنَزَلَ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ النَّاسُ: مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَلَّى رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، بِأَصْحَابِهِ وَخَلَطَ فِي قِرَاءَتِهِ، فَنَزَلَتْ آيَةٌ أَغْلَظَ مِنْهَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى الاية، وَكَانَوْا يَشْرَبُونَ حَتَّى نَزَلَتْ أَغْلَظُ مِنْهَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ الاية، قَالُوا: انْتَهَيْنَا رَبَّنَا، فَقَالُوْا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاسٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ، وَقَدْ جَعَلَهُ اللَّهُ رِجْسًا، مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ، فَنَزَلَ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} الْآيَةِ. (رواه احمد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ شراب کی ممانعت (تدریجاً) تین دفعہ میں کی گئی ہے (جس کی تفصیل یہ ہے) کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اس زمانہ میں اہل مدینہ شراب پیا کرتے تھے اور جوئے سے حاصل کیا ہوا مال کھایا کرتے تھے، تو ان دونوں چیزوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا (کہ یہ جائز ہیں یا ناجائز؟) دریافت کرنے کی وجہ غالباً یہ ہو گی کہ خود ان میں سے صالح طبیعت رکھنے والوں نے محسوس کیا ہو گا کہ اسلام کی عام تعلیمات اور اس کے پاکیزہ مزاج سے یہ دونوں چیزیں میل نہیں کھاتیں۔ واللہ اعلم۔ (ان کے اس سوال کے جواب میں سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی)۔ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا اے پیغمبر! یہ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ انہیں بتا دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں گناہ ہے بہت اور فائدے بھی ہیں لوگوں کے لئے اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ تو کچھ لوگوں نے کہا کہ (اس آیت میں) شراب اور جوئے کو قطعیت کے ساتھ حرام قرار نہیں دیا گیا ہے، تو وہ لوگ (گنجائش سمجھتے ہوئے) اس کے بعد بھی پیتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن یہ واقعہ پیش آیا کہ مہاجرین میں سے ایک صاحب اپے کچھ ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے (اور امامت کر رہے تھے اور نشہ میں تھے) انہوں نے قرأت میں کچھ گڑ بڑ کر دی (اور کچھ کا کچھ پڑھ گئے) تو شراب کی ممانعت کے سلسلہ میں یہ دوسری آیت نازل ہوئی جو پہلی آیت کے مقابلہ میں زیادہ سخت تھی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ اے ایمان والو! ایسی حالت میں نماز کے پاس بھی نہ جاؤ جب کہ تم نشہ میں ہو تا وقتیکہ (تمہیں ایسا ہوش نہ ہو) کہ تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ مگر کچھ لوگ (اس کے بعد بھی گنجائش سمجھتے ہوئے) پیتے رہے (ہاں جیسا کہ بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے اس کا اہتمام کرنے لگے کہ نماز کے قریب نہیں پیتے تھے) تو سورہ مائدہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں جو پہلی دونوں آیتوں کے مقابلہ میں زیادہ سخت اور صاف صریح تھیں۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٩٠﴾إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ اے ایمان والو! بلاشبہ یہ شراب اور جوا اور بت پانسے (جو ایک خاص قسم کے جوئے میں استعمال ہوتے تھے، یہ سب چیزیں) گندی اور ناپاک ہیں اور شیطانی اعمال میں سے ہیں لہذا ان سے کلی پرہیز کرو، پھر تم امید کر سکتے ہو کہ فلاح یاب ہو جاؤ، شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں پھانس کر تمہارے درمیان بغض و عداوت پید کر دے (اور تم کو آپس میں لڑا دے) اور اللہ کی یاد اور نماز جیسی نعمت سے (جو بارگاہ خداوندی کی حضوری ہے) تم کو روک دے تو کیا تم (شراب اور جوئے وغیرہ سے) باز آؤ گے؟ جب یہ آیتیں نازل ہوئیں تو ان لوگوں نے کہا “نهينا ربنا” (اے ہمارے پروردگار! ہم باز آئے اور اب ہم نے اس کو بالکل چھوڑ دیا) پھر ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمارے ان لوگوں کا کیا انجام ہو گا جو راہِ خدا میں شہید ہو چکے ہیں یا اپنے بستروں پر (بیمارپڑ کر) انتقال کر چکے ہیں اور وہ شراب پیا کرتے اور جوئے سے حاصل کیا ہوا مال کھایا کرتے تھے۔ اور اب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دیا ہے (تو ہمارے جو بھائی ان دونوں میں ملوث تھے اور اسی حال میں انتقال کر گئے یا راہِ خدا میں شہید ہو گئے، تو آخرت میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟) تو اس کے جواب میں بعد والی یہ آیت نازل ہوئی۔ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ الْآيَةِ ان صاحب ایمان اور نیکوکار بندوں پر کوئی گناہ (اور مواخذہ) نہیں ہے ان کے کھانے پینے پر، جب کہ ان کا حال یہ ہو کہ وہ خدا سے ڈر کر پرہیزگاری کی زندگی گزارتے ہوں اور دل سے مانتے ہوں اور اعمال صالحہ کرتے ہوں۔ الخ (مسند احمد)ھ تشریح جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، کھانے پینے کی چیزوں میں حلت و حرمت کے بارہ میں شریعت کا بنیادی اصول وہی ہے جسے قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ “وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ” اس بناء پر مشروبات میں بھی جو طیبات ہیں یعنی پاکیزہ اور مرغوب و خوشگوار اور نفع بخش چیزیں مثلا حلال چوپایوں کا دودھ، پھلوں کا رس، اچھے سے اچھے شربت، نفیس عرقیات وغیرہ یہ سب حلال قرار دئیے گئے ہیں۔ اور ان کے برعکس جو مشروبات “خبیث” اور انسانیت کے لئے مضر ہیں وہ حرام قرار دئیے گئے ہیں۔ پھر جس طرح کھانے کی بعض ان چیزوں کی حرمت کا اعلان اہتمام اور خصوصیت سے قرآن پاک میں بھی کیا گیا ہے جو اگلی شریعتوں میں بھی حرام قرار دی گئی تھیں مگر ان کو بعض طبقے کھاتے تھے جیسے کہ مردار جانور اور خنزیر وغیرہ، اسی طرح مشروبات میں خمر یعنی شراب کی حرمت کا اعلان بھی خاص اہتمام سے قرآن پاک میں بھی کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کے بارے میں غیر معمولی اہتمام فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے اس سلسلہ میں نہایت سخت رویہ آپ نے اختیار فرمایا۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی احادیث سے معلوم ہو گا۔ شراب کی حرمت کا حکم شراب کے حرام قرار دئیے جانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے استعمال سے آدمی کم از کم کچھ دیر کے لئے اس جوہر عقل و تفکر سے محروم ہو کر جو اس کے پروردگار کا خاص الخاص عطیہ اور معرفت الہی کا وسیلہ ہے، ان حیوانوں کی صف میں آ جاتا ہے جن کو ان کے پیدا کرنے والے نے عقل و تمیز کی نعمت اور اپنی کاص معرفت کی صلاحیت عطا نہیں فرمائی ہے۔ اور یہ انسان کا اپنے اوپر بڑے سے بڑا ظلم اور اپنے پروردگار کی انتہائی ناشکری ہے۔ اس کے علاوہ نشہ کی حالت میں بسا اوقات اس سے انتہائی نامناسب اور شرمناک حرکتیں سرزد ہوتی ہیں اور وہ شیطان کا کھلونا بن جاتا ہے، علاوہ ازیں شراب نوشی کے نتیجہ میں بعض اوقات بڑے دور رس اور تباہ کن فسادات پرپا ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے تمام آسمانی شریعتوں میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور ہر دور کے خدا پرست مصلحوں اور روحانیت پسندوں نے اس سے پرہیز کیا ہے اور اس کے خلاف جدو جہد کی ہے۔ آگے جو احادیث شراب کے بارے میں درج ہوں گی ان کا یہ پس منظر ناظرین کے ذہن میں رہنا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت اور غالبا اس کے بہت پہلے سے عربوں میں خاص کر اہل مدینہ میں شراب کا بےحد رواج تھا، گھر گھر شراب بنتی تھی اور پی جاتی تھی اس سے وہ نشاط و سرور بھی حاصل کیا جاتا تھا جس کے لئے عموما پینے والے اس کو پیتے ہیں، اس کے علاوہ اس ماحول میں شراب نوشی کو ایک اخلاقی عظمت و فضیلت کا مقام بھی حاصل تھا وہاں کا عام رواج یہ تھا کہ دولت مند لوگ شراب پی کر نشہ کی حالت میں خوب داد و دہش کرتے اور مال لٹاتے تھے جس سے غریبوں کا بھلا ہوتا تھا اور اسی وجہ سے شراب نہ پینا یا کم پینا بخل و کنجوسی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی حال جوئے کو بھی تھا وہاں جوئے کے کچھ خاص طریقے رائج تھے اور حوصلہ مند اور دریا دل لوگ ہی وہ جوا کھیلتے تھے اور جو کچھ جیتتے تھے وہ غربا اور حاجت مندوں میں لٹا دیتے تھے۔ اس لئے جوا بھی امیروں کا ایک معزز کھیل تھا جس سے غریبوں کا بھلا ہوتا تھا۔ زمانہ جاہلیت کی روایات اور شاعری میں اس کا پورا سراغ ملتا ہے۔ شراب اور جوئے میں نافعیت کا غالباً یہی وہ خاص پہلو تھا جس کی طرف اشارہ سورہ بقرہ کی اس آیت میں بھی کیا گیا ہے جو شراب اور جوئے کے بارے میں سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ بہرحال شراب کا چونکہ وہاں عام رواج تھا اور گویا وہ ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی اور اس کے وہ بری طرح عادی تھے اور ان کی نگاہ میں اس کو ایک عظمت بھی حاصل تھی اس لئے اس کی ممانعت کے بارے میں ابتداء تو نرم تدریجی رویہ اختیار کیا گیا لیکن جب قوم میں اس کی صلاحیت پیدا ہو گئی کہ قطعی حرمت کا اعلان ہو جانے پر وہ اس کو یکلخت چھوڑ دے تو پھر اتنا سخت رویہ اختیار کیا گیا کہ جس قسم کے برتنوں میں شراب پینے کا رواج تھا، سرے سے ان برتنوں ہی کے استعمال کرنے کی ممانعت کر دی گئی۔ اسی طرح کے بعض اور بھی انتہائی سخت احکام جاری کئے گئے جن کا مقصد صرف یہ تھا کہ اہل ایمان کے دلوں میں اس ام الخبائث سے سخت نفرت پیدا ہو جائے، چنانچہ جب یہ بات پیدا ہو گئی تو وہ سخت احکام واپس لے لئے گئے۔ اس تمہید کے بعد شراب کی حرمت سے متعلق آگے درج ہونے والی حدیثیں پڑھئے: تشریح ..... حدیث کی تشریح ترجمہ کے ضمن میں جابجا کر دی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کی اس حدیث سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ شراب کی حرمت کے بارے میں ابتداء تدریجی رویہ اختیار کیا گیا اور آخر میں سورہ مائدہ کی آیت میں اس کے بارے میں “رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ” فرما کر اس کی قطعی حرمت کا اعلان فرما دیا گیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت ۸؁ھ میں نازل ہوئی۔

1586Maarif-ul-Hadith

مشروبات کے احکام: شراب کی حرمت کا حکم

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلاَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَقَالَ لِي اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا. قَالَ فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ. قَالَ وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ قُتِلَ قَوْمٌ وَهْيَ فِي بُطُونِهِمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ (میرے مربی اور سرپرست) ابو طلحہ انصاری کے گھر میں مجلس قائم تھی اور شراب کا دور چل رہا تھا اور میں پلانے والا تھا تو رسول اللہ ﷺ پر شراب کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا (یعنی سورہ مائدہ کی وہ آیت نازل ہو گئی جس میں شراب کو “رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ” بتلا کر اس کوقطعی حرام قرار دیا گیا ہے) تو آپ ﷺ نے اسی وقت ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اس کا اعلان مدینہ میں کر دے، چنانچہ اس نے (معمول کے مطابق پکار کے) اعلان کیا تو ابو طلحہ نے مجھ سے کہا کہ انس باہر جا کر دیکھو کہ یہ کیسی پکار ہے اور کیا اعلان ہو رہا ہے کہ “شراب حرام ہو گئی” تو ابو طلحہ نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور ساری شراب کو باہر لے جا کر بہا دو، چنانچہ (میںٰ نے ایسا ہی کیا اور دوسرے گھروں سے بھی شراب بہائی گئی جس کی وجہ سے) شراب مدینہ کی گلیوں سے بہنے لگی۔ انس کہتے ہیں کہ اس دن وہ شراب وہ تھی جو “فصیح” بولی جاتی ہے۔ پھر بعض لوگوں کی زبان پر یہ بات آئی کہ بہت سے بندگانِ خدا ایسی حالت میں شہید ہوئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں تھی (تو ان کا کیا انجام ہو گا؟) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی “لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا” جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ شراب کی قطعی حرمت کے اس حکم کے آنے سے پہلے اس دنیا سے جا چکے اور ان کی زندگی ایمان اور عملِ صالح اور تقویٰ والی تھی تو اس پچھلے دور کے کھانے پینے کے بارے میں ان سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایک خاص قسم کی شراب بنائی جاتی تھی۔ کچی پکی کھجوروں کے باریک ٹکڑے کر کے ان کو اس میں ڈال دیا جاتا تھا، ایک مقررہ مدت گزرنے پر اس میں سرور اور نشہ پیدا ہو جاتا تھا، اس زمانہ میں یہ اوسط درجہ کی ایک شراب تھی جو بہت آسانی سے بن جاتی تھی۔

1587Maarif-ul-Hadith

مشروبات کے احکام: شراب کی حرمت کا حکم

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ إِنَّهُ لِيَتِيمٍ فَقَالَ: أَهْرِيقُوهُ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے یہاں کچھ شراب تھی جو ایک یتیم بچہ کی ملکیت تھی تو جب سورہ مائدہ (یعنی س کی وہ آیت جس میں شراب کی قطعی حرمت کا حکم بیان ہوا ہے) نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شراب کے بارے میں پوچھا کہ اب اس کا کیا کیا جائے؟ اور میں نے یہ عرض کر دیا کہ وہ ایک یتیم بچہ کی ملکیت ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس کو پھینک دیا جائے اور بہا دیا جائے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس کی بھی اجازت نہیں دی کہ اس کو کسی غیر مسلم کے ہاتھ بیچ دیا جائے یا کسی طرح بھی اس سے کوئی فائدہ اٹھا لیا جائے۔ اور حضرت انسؓ کی ایک روایت میں ہے کہ شراب کی قطعی حرمت نازل ہونے سے کچھ ہی پہلے ابو طلحہ انصاری ؓ نے بعض یتیموں کے لئے جو ان کی سرپرستی میں تھے ان ہی کے حساب میں شراب خریدی تھی، انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اب اس کا کیا کیا جائے؟ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: “اهرق الخمر واكسر الدباء” یعنی شراب کو بہا دو، پھینک دو اور جن مٹکوں میں وہ ہے ان کو بھی توڑ دو۔

1588Maarif-ul-Hadith

شراب کی حرمت اور شرابی کے بارے میں وعیدیں

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ. (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ہر نشہ آور چیز (یعنی ہر وہ مشروب جس کو پی کر نشہ آ جائے) خمر (شراب) کا مصداق ہے اور حرام ہے اور جو کوئی دنیا میں شراب پیئے اور اس حال میں مرے کہ برابر شراب پیتا ہو اور اس نے اس سے توبہ نہ کی ہو تو وہ آخرت میں جنت کی شراب طہور سے محروم رہے گا۔ (صحیح مسلم)

1589Maarif-ul-Hadith

شراب کی حرمت اور شرابی کے بارے میں وعیدیں

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَمُسْكِرٌ هُوَ؟ قَالَ نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ: عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ. (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے آیا اور رسول اللہ ﷺ سے ایک خاص قسم کی شراب کے بارے میں سوال کیا جو اس علاقہ میں پی جاتی تھی جس کو “مزر” کہا جاتا تھا اور وہ چینا سے بنتی تھی آپ ﷺ نے اس آدمی سے پوچھا کہ کیا وہ نشہ پیدا کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں اس سے نشہ ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: (اصولی بات یہ ہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے (مزید آپ ﷺ نے فرمایا کہ سنو) نشہ پینے والے کے لئے اللہ کا یہ عہد ہے جس کو پورا کرنا اس نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ وہ آخرت میں اس کو “طِينَةِ الْخَبَالِ” ضرور پلائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ “طِينَةِ الْخَبَالِ” کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: دوزخیوں کے جسم سے نکلنے والا پسینہ، یا فرمایا کہ دوزخیوں کے جسم سے نکلنے والا لہو پیپ۔ (صحیح مسلم) تشریح یعنی راوی کو شک ہے کہ “طِينَةِ الْخَبَالِ” کی وضاغت کے لئے رسول اللہ ﷺ نے “عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ” فرمایا تھا یا “عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ” پہلے کا ترجمہ “دوزخیوں کا پسینہ” اور دوسرے کا ترجمہ “دوزخیوں کے جسم سے بہنے والا لہو اور پیپ” بہرحال شراب کی حرمت کے بعد اس کا پینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرما لیا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں شراب سے دلچسپی رکھے گا اور بلا توبہ کے اس دنیا سے چلا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو شراب نوشی کی پاداش میں “طِينَةِ الْخَبَالِ” ضرور پلائے گا۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا

1590Maarif-ul-Hadith

شراب کی حرمت اور شرابی کے بارے میں وعیدیں

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ، وَأَمَرَنِي رَبِّي بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِيرِ وَالْأَوْثَانِ وَالصُّلُبِ، وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَحَلَفَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ: لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ، إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا، وَلَا يَتْرُكُهَا مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ الْقُدُسِ" (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام عالم کے لئے رحمت اور سب کے لئے وسیلہ ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار عز وجل نے مجھے حکم دیا ہے معاز و مزامیر (یعی ہر طرح کے باجوں) کے مٹا دینے کا اور بت پرستی اور صلیب پرستی کو مٹا دینے کا اور تمام رسوم جاہلیت کو ختم کر دینے کا، اور میرے رب عزو جل نے یہ قسم کھائی ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم میرے بندوں میں سے جو بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پیئے گا تو میں آخرت میں اس کو اتنا ہی لہو و پیپ ضرور پلاؤں گا۔ اور جو بندہ میرے خوف سے شراب کو چھوڑ دے گا اور اس سے باز رہے گا تو میں آخرت کے قدسی حوضوں کی شراب، طہور اپنے اس بندہ کو ضرور نوش کراؤں گا۔(مسند احمد) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ چند اصلاحی کام رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے خاص مقاصد میں سے ہیں۔ بت پرستی اور صلیب پرستی کا قلع قمع کرنا، زمانہ جاہلیت کی جاہلی رسوم کو ختم کرنا، اور معازف و مزامیر یعنی ہر قسم کے باجوں کے رواج کو مٹانا ...... معازف ان باجوں کو کہا جاتا ہے جو ہاتھ سے بجائے جاتے ہیں جیسے ڈھولک، طبلہ، ستار، سارنگی وغیرہ اور مزامیر وہ باجے ہیں جو منہ سے بجائے جاتے ہیں جیسے شہنائی اور بانسری وغیرہ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ سب باجے دراصل لہو لعب اور فسق و فجور کے آلات ہیں اور دنیا سے ان کے رواج کو مٹانا رسول اللہ ﷺ کے ان خاص کاموں میں سے ہے جن کے لئے آپ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ لیکن کس قدر دکھ کی بات ہے اور شیطان کی کتنی بڑی کامیابی ہے کہ بزرگانِ دین کے مزارات پر عرسوں کے نام سے جو میلے ہوتے ہیں ان میں دوسری خرافات کے علاوہ معازف و مزامیر کا بھی وہ زور ہوتا ہے کہ فسق و فجور کے کسی تماشے میں بھی اس سے زیادہ نہ ہوتا ہو گا۔ کاش یہ لوگ سمجھ سکتے کہ خود ان کے بزرگانِ دین کی روحوں کو ان خرافات اور ان باجوں گانوں سے کتنی تکلیف ہوتی ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں شیطان کے مشن کو کامیاب بنا کر روحِ نبویﷺ کو کتنا صدمہ پہنچا رہے ہیں۔ حدیث کے آخری حصہ میں شراب اور ان شراب پینے والوں کے بارے میں اور خدا کے خوف سے شراب سے بچنے والوں کے بارے میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ کسی وضاحت اور تشریح کا محتاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو بھی اپنے بندوں میں شامل فرمائے جو اس کے حکم سے اور اس کی پکڑ اور عذاب کے خوف سے شراب سے پرہیز کرتے ہیں اور جنت کے قدسی حوضوں کی شراب طہور سے ہمیں سیراب فرمائے۔

1591Maarif-ul-Hadith

نشہ آور شراب کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ. (رواه ابوداؤد والترمذى وابن ماجه)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس شراب کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) “قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث مسند احمد اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی مروی ہے”۔

1592Maarif-ul-Hadith

شراب بطور دوا کے بھی استعمال نہ کی جائے

عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ. (رواه مسلم)

حضرت وائل بن حجر حضرمی ؓ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید ؓ نے شراب کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ان کو شراب پینے سے منع فرمایا، انہوں نے عرض کیا کہ میں تو اس کو دوا کے لیے استعمال کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ:وہ دوا نہیں ہے بلکہ وہ تو بیماری ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح بعض قرائن کی بناء پر کچھ ائمہ اور علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ حدیث اس دور کی ہے جب کہ شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ایک خاص مصلحت اور مقصد کے لئے (جو آگے والی بعض حدیثوں سے معلوم ہو جائے گا) شراب کے بارے میں انتہائی سخت رویہ ہنگامی طور پر اختیار کیا تھا اور اس سلسلہ میں بعض ان چیزوں کو بھی منع فرما دیا تھا جن کی بعد میں آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ اس بناء پر ان حضرات نے اس کی گنجائش سمجھی ہے کہ اگر کسی ایسے مریض کے بارے میں جس کی زندگی خطرہ میں ہو، معتمد اور حاذق طبیب کی رائے ہو کہ اس کے علاج میں شراب ناگزیر ہے تو صرف بقدر ضرورت استعمال کی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔

1593Maarif-ul-Hadith

شراب نوشی پر اصرار کرنے والی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ

عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلاً شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلاَدِنَا. قَالَ: هَلْ يُسْكِرُ؟ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ: فَاجْتَنِبُوهُ. قَالَ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: إِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ قَاتِلُوهُمْ. (رواه ابوداؤد)

حضرت دیلم حمیری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم لوگ سرد علاقہ میں رہتے ہیں اور وہاں بڑی سخت محنت کرتے ہیں، اور ہم گیہوں سے ایک شراب بنا کر استعمال کرتے ہیں اور اس سے قوت و طاقت حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے سخت محنت طلب کام بھی کر لیتے ہیں اور اپنے ملک کی سردی کا مقابلہ بھی کر لیتے ہیۃں۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا، کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں وہ نشہ پیدا کرتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: پھر اس سے بچو، بالکل استعمال نہ کرو۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت وہاں کے لوگ اس کو چھوڑنے والے نہیں ہیں، (یعنی مجھے اس کی امید نہیں ہے کہ وہ کہنے سننے سے اس کا استعمال چھوڑ دیں) آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اگر نہ چھوڑیں تو ان سے جنگ کرو۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اگر کسی علاقہ کے مسلمان اپنے مقامی حالات کے لحاظ سے اپنے واسطے شراب کے استعمال کو ناگزیر اور ضروری سمجھیں تب بھی ان کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر کسی علاقہ یا بستی والے شراب کے استعمال پر اجتماعی طور پر اصرار کریں اور باز نہ آئیں تو اسلامی حکومت ان کے خلاف طاقت استعمال کرے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں شراب نوشی کتنا سنگین جرم ہے۔

1594Maarif-ul-Hadith

شرابیوں کے واسطے سخت ترین وعید

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ، لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ» (رواه احمد)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ہمیشہ شراب پینے والا اگر اسی حال میں مرے گا تو خدا کے سامنے اس کی پیشی مشرک اور بت پرست کی طرح ہو گی۔ (مسند احمد)

1595Maarif-ul-Hadith

شرابیوں کے واسطے سخت ترین وعید

عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَوَاهِبَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے سلسلے میں (اس سے تعلق رکھنے والے) دس آدمیوں پر لعنت کی۔ ایک (انگور وغیرہ) شراب نچوڑنے والے پر (اگرچہ کسی دوسرے کے لیے نچوڑے) اور خود اپنے واسطے نچوڑنے والے پر، اور اس کے پینے والے پر اور ساقی یعنی پلانے والے پر اور اس پر جو شراب کو لے کر جائے اور اس پر جس کے لئے وہ لے جائی جائے اور اس کے بیچنے والے اور خریدنے والے پر اور اس پر جو کسی چوسرے کو ہدیہ اور تحفہ میں شراب دے اور اس پر جو اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھائے۔ (جامع ترمذی) تشریح لعنت کا مطلب ہے خدا کی رحمت اور اس کی نگاہِ کرم سے محرومی کی بد دعا، اس بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص شراب سے کچھ بھی تعلق رکھے، خواہ اس کا بنانے والا یا بنوانے والا ہو، یا پینے والا یا پلانے والا ہو، یا خریدنے والا یا بیچنے والا ہو۔ کسی کو ہبہ کرنے والا یا اس کو کسی کے پاس پہنچانے والا ہو، ان سب کے لئے رسول اللہ ﷺ نے بددعا کی کہ وہ خدا کی رحمت اور اس کی نگاہِ کرم سے محروم ہیں۔ “قریب قریب اسی مضمون کی حدیث مسند احمد اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓسے بھی مروی ہے”۔ رسول اللہ ﷺ کے اس قسم کے ارشادات نے صحابہ کرامؓ کو شراب کے بارے میں کتنا شدت پسند بنا دیا تھا اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے انگور کے باغات تھے، ایک دفعہ ان میں بہت پھل آیا تو باغوں کے اس محافظ نے جو ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے ان کی طرف سے مقرر تھا (اور ان کا معتمد ملازم تھا) ان کو خط لکھا کہ اس فصل میں انگور کی پیداوار بہت ہے اور مجھے ان کے ضائع اور برباد ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ تو آپ کی رائے ہو تو میں انگوروں سے شیرہ حاصل کر کے محفوظ کر لوں؟ حضرت نے اس کے جواب میں خط لکھا۔ إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي، فَاعْتَزِلْ ضَيْعَتِي، فَوَاللَّهِ لَا أَئْتَمِنُكَ عَلَى شَيْءٍ بَعْدَهُ أَبَدًا» (1) (جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو میری زمین اور باغات سے الگ اور بےتعلق ہو جاؤ۔ خدا کی قسم! میں اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں بھی تم پر اعتماد نہیں کر سکتا)۔ بہرحال حضرت سعد نے اس محافظ اور باغبان کو صرف اس بناء پر الگ اور ملازمت سے برطرف کر دیا کہ اس نے انگور سے شیرہ حاصل کر کے اس کو محفوظ کرنے کے بارے میں سوچا تھا جس سے شراب بنائی جا سکتی ہے۔

1596Maarif-ul-Hadith

ہر نشہ آور چیز حرام ہے

عن أَبِيْ مُوْسَى قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا. قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ الْبِتْعُ وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ فَقَالَ: أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاَةِ. (رواه البخارى ومسلم واللفظ له)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (دعوت و تبلیغ اور دوسرے دینی مقاصد کے لئے) مجھے اور معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا اور ہم لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ لوگوں کو دین حق کی دعوت دینا اور ان کو (خوش انجامی کی) بشارریں سنانا اور ان سے ایسی باتیں نہ کرنا جن سے وہ دور بھاگیں اور ان کو وحشت ہو، نیز لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا، ان کو مشکلات میں نہ ڈالنا! ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ ہمیں دو شرابوں کے بارے میں شریعت کا حکم بتا دیجئے جو ہم یمن میں بنایا کرتے تھے (یعنی وہاں ان کے پینے کا عام رواج تھا) ایک وہ جسے بتع کہا جاتا ہے وہ شہد سے بنائی جاتی ہے (مقررہ حساب سے) شہد میں پانی ملا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ اس میں جوش پیدا ہو جائے اور دوسری وہ شراب ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور وہ چینا اور جو سے بنائی جاتی ہے۔ اسے بھی پانی میں چھوڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں جوش پیدا ہو جائے (الغرض دو شرابوں کے بارے میں ابو موسیٰ اشعری نے شرعی حکم دریافت کیا) ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو “جوامع الکلم اور خواتم الکلم” کی نعمت عطا فرمائی تھی، یعنی آپ ﷺ کو اس کی خاص صلاحیت بخشی تھی کہ (بہت مختصر الفاظ میں) انتہائی جامع، مانع اور فیصلہ کن بات فرما دیتے تھے (چنانچہ آپ ﷺ نے میرے سوال کے جواب میں) ارشاد فرمایا “أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاَةِ” (میں ہر اس چیز کی ممانعت کرتا ہوں جو نشہ آور ہو اور نماز سے آدمی کو غافل کر دے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے بطور قاعدہ کلیہ کے معلوم ہو گیا کہ جس چیز کے کھانے پینے سے نشہ پیدا ہو اور نماز جیسی چیز سے غفلت ہو جائے، وہ شریعت اسلام میں ممنوع اور ناجائز ہے۔ اس سے بھنگ وغیرہ ان تمام نباتات کا حکم بھی معلوم ہو گیا جو نشہ پیدا کرتی ہیں، اور نشہ ہی کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

1597Maarif-ul-Hadith

امت کی شراب نوشی کے بارے میں ایک پیشین گوئی

عَنْ مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا. (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ شراب پیئیں گے اور (از راہِ فریب) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح شراب کی حرمت کے بارے میں شریعت اسلام کا جو بے لاگ فیصلہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے متعلق جو سخت ترین رویہ اختیار فرمایا ہے وہ مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہو چکا ہے، لیکن آپ ﷺ پر یہ منکشف کیا گیا تھا کہ شریعت کے واضح احکام اور آپ ﷺ کے اس سخت رویہ کے باوجود آپ ﷺ کی امت کے کچھ غلط کار لوگ شراب پیئیں گے اور اپنے بچاؤ کے لئے بطور حیلہ کے اس شراب کا کوئی اور نام رکھیں گے اور نام کی تبدیلی سے دوسروں کو یا خود کو فریب دینا چاہیں گے۔ حالانکہ صرف نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی اور شریعت کا حکم بھی نہیں بدلتا۔ اس لئے خدا کے نزدیک وہ شراب نوشی کے مجرم ہوں گے اور نام بدلنے کا فریب ان کا دوسرا جرم ہو گا۔

1598Maarif-ul-Hadith

شراب کے سلسلہ میں کچھ سخت ہنگامی احکام

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَمَرَ أَنْ يُنْبَذَ فِيْ اَسْقَيِةِ الْاَدَمِ» (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ: دبا یا حنتم یا مقفت یا نقیر میں نبیذ بنائی جائے اور حکم دیا کہ اب چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح یہ بات پہلے ذکر کی جا چکی ہے کہ جب سورہ مائدہ کے نزول کے بعد شراب کی قطعی حرمت کا اعلان کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میں بعض ایسے سخت ہنگامی احکام بھی جاری فرمائے جن کا مقصد صرف یہ تھا کہ اہلِ ایمان کے دلوں میں اس ام الخبائث سے سخت نفرت پیدا ہو جائے اور پرائی عادت کبھی اس کی طرف میلان اور رغبت پیدا نہ کر سکے۔ ذیل میں اس سلسلہ کی حدیثیں پڑھی جائیں۔ تشریح ..... کھجور یا منقیٰ یا انگور یا اس طرح کی کوئی چیز پانی میں ڈال دی جائے اور اتنی دیر پڑی رہے کہ اس کا ذائقہ اور شیرینی پانی میں آ جائے اور نشہ کی کیفیت پیدا نہ ہو تو اس کو نبیذ کہتے ہیں۔ عربوں میں اس کا بھی رواج تھا اور جیسا کہ آگے آنے والی بعض حدیثوں سے معلوم ہو گا کہ خود رسول اللہ ﷺ بھی اس کو نوش فرماتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی اس حدیث میں چار قسم کے جن برتنوں میں نبیذ بنانے سے رسول اللہ ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے، یہ عام طور سے شراب بنانے میں استعمال ہوتے تھے۔ دبا، کدو کی تونبی ہوتی تھی، حنتم اور مزفت یہ خاص طرح کی ٹھلیاں ہوتیں تھیں اور نقیر کھجور کی لکڑی سے بنا ہوا ایک برتن ہوتا تھا۔ بہرحال یہ چاروں قسم کے برتن عام طور سے شراب میں استعمال ہوتے تھے، جب شراب کی قطعی حرمت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے بھی منع فرما دیا۔ غالبا اس ممانعت کا مقصد یہ تھا کہ یہ برتن شراب کو یاد دلا کر دل میں اس کی طلب اور خواہش پیدا نہ کریں۔ پھر جب شراب کی نفرت پوری طرح دلوں میں جاگزیں ہو گئی اور اس کا اندیشہ باقی نہ رہا کہ یہ برتن شراب کو یاد دلا کر اس کی طلب اور خواہش پیدا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے ان برتنوں کے استعمال کی اجازت دے دی جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیث میں صراحۃً مذکور ہے۔

1599Maarif-ul-Hadith

شراب کے سلسلہ میں کچھ سخت ہنگامی احکام

عَنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَإِنَّ ظَرْفًا لاَ يُحِلُّ شَيْئًا وَلاَ يُحَرِّمُهُ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ. وَفِيْ رِوَايَةٍ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ فِي ظُرُوفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا. (رواه مسلم)

حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں نے تم کو کچھ برتنوں کے استعمال سے منع کر دیا تھا (اب میں اس کی اجازت دیتا ہوں) کیوں کہ صرف برتن کی وجہ سے کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہو جاتی۔۔۔ (ہاں یہ ملحوظ رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے (لہذا اس سے بچو)۔۔۔ اور یہی حدیث اس طرح بھی روایت کی گئی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ “میں نے تم کو منع کیا تھا کہ چمڑے کے برتنوں (مشکیزوں) کے سوا کوئی اور برتن استعمال نہ کرو (اب اجازت دیتا ہوں کہ) ہر قسم کے برتن میں پی سکتے ہو، لیکن کوئی نشہ پیدا کرنے والی چیز ہرگز نہ پی جائے”۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کی قطعی حرمت نازل ہو جانے کے بعد اس کے بارے میں کچھ زیادہ سخت احکام مذکورہ بالا مصلحت سے وقتی اور عارضی طور پر بھی دئیے تھے جو بعد میں واپس لے لئے گئے۔

1600Maarif-ul-Hadith

شراب کے سلسلہ میں کچھ سخت ہنگامی احکام

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ وَقَالَ: انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ. (رواه مسلم)

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا: (نبیذ بنانے کے لئے) کچی خشک کھجوروں اور آدھ پکی کھجوروں کے ملانے سے، اور اسی طرح خشک انگور اور پکی کھجورں کے ملانے سے اور کچی کھجوروں اور پکی تازہ کھجوروں کے ملانے سے اور ارشاد فرمایا کہ ان سب چیزوں کی علیحدہ علیحدہ نبیذ بنایا کریں۔ (صحیح مسلم) تشریح شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں جن مختلف چیزوں کو باہم ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا گیا ہے ان کو ملا کر پانی میں ڈالنے سے نشہ کی کیفیت جلدی پیدا ہو جانے کا امکان ہوتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے بطور احتیاط کے یہ ممانعت فرمائی تھی اور حکم دیا تھا کہ ان چیزوں کی نبیذ علیحدہ علیحدہ ہی بنائی جائے۔ اور غالباً یہ حکم بھی آپ ﷺ نے اسی زمانہ میں دیا تھا جب کہ شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہوا تھا اور آپ ﷺ امت کی تربیت کتے لئے اس بارے میں ایسے سخت احکام بھی دے رہے تھے جن کا مقصد یہ تھا کہ اہل ایمان شراب اور نشہ کے ادنیٰ شبہ سے بھی نفرت کرنے لگیں۔ لیکن جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو پھر وہ سخت احکام واپس لے لئے گئے جو اس مقصد کے لئے ہنگامی طور پر دئیے گئے تھے۔ آگے درج ہونے والی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سے معلوم ہو گا کہ خود رسول اللہ کے لیے خشک انگور اور کھجوریں پانی میں ساتھ ڈال کر نبیذ تیار کی جاتی تھی اور آپ ﷺ نوش فرماتے تھے۔