Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 83 of 106

1641Maarif-ul-Hadith

لباس میں تفاخر اور نمائش کی ممانعت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (رواه احمد وابوداؤد وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو آدمی دنیا میں نمائش اور شہرت کے کپڑے پہنے گا اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ذلت و رسوائی کے کپڑے پہنائے گا۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح حدیث میں “ثوب شہرت” سے مراد وہ لباس ہے جو اپنی شوکت کی نمائش کے لئے اور لوگوں کی نظر میںٰ بڑا بننے کے لئے پہنا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو لوگوں کی نظروں میں علامہ یا بڑا مقدس بزرگ بننے کے لئے اس طرح کا خاص لباس تقدس پہنیں یا اپنی فقیری و درویشی کی نمائش کے لئے ایسے کپڑے پہنیں جن سے لگ ان کو پہنچا ہوا فقیر و درویش سمجھیں۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس کا تعلق آدمی کے دل اور اس کی نیت سے ہے، ایک ہی کپڑا اگر نمود و نمائش کے لئے اور اپنی بڑائی کے مظاہرہ کے لئے پہنا جائے تو گناہ اور اس حدیث کا مصداق ہو گا اور وہی کپڑا اگر اس نیت کے بغیر پہنا جائے تو جائز اور بعض صورتوں میں موجب اجر و ثواب ہو گا۔ اور چونکہ ہم بندوں کو کسی کی نیت اور دل کا حال معلوم نہیں اس لئے ہمارے لئے جائز نہ ہو گا کہ کسی کے لباس کو نمود و نمائش اور ریاکاری کا لباس قرار دے کر اس پر اعتراض کریں ہاں اپنے دل، اپنی نیت اور اپنے لباس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ یہی اس حدیث کا پیغام ہے۔

1642Maarif-ul-Hadith

متکبرانہ لباس کی ممانعت اور سخت وعید

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القِيَامَةِ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو کوئی اپنا کپڑا استکبار اور فخر کے طور پر زیادہ نیچا کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر بھی نہ اُٹھائے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح عہدِ نبویﷺ میں عرب متکبرین کا یہ فیشن تھا کہ کپڑوں کے استعمال میں بہت اسراف سے کام لیتے تھے اور اس کو بڑائی کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ ازار یعنی تہہ بند اس طرح باندھتے کہ چلنے میں نیچے کا کنارہ زمین پر گھسٹتا، اسی طرح قمیص اور عمامہ اور دوسرے کپڑوں میں بھی اسی قسم کے اسراف کے ذریعہ اپنی بڑائی اور چودھراہٹ کی نمائش کرتے، گویا اپنے دل کے استکبار اور احساس بالا تری کے اظہار اور تفاخر کا یہ ایک ذریعہ تھا۔ اور اس وجی سے متکبرین کا یہ خاص فیشن بن گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سخت ممانعت فرمائی اور نہایت سنگین وعیدیں اس کے بارے میں سنائیں۔

1643Maarif-ul-Hadith

متکبرانہ لباس کی ممانعت اور سخت وعید

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ» . قَالَ: ذَالِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «وَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، فرماتے تھے کہ مومن بندہ کے لئے ازار یعنی تہبند باندھنے کا طریقہ (یعنی بہتر اور اولیٰ صورت) یہ ہے کہ نصف ساق تک (یعنی پنڈلی کے درمیانی حصہ تک ہو) اور نصف ساق اور ٹخنوں کے درمیان تک ہو تو یہ بھی گناہ نہیں ہے یعنی جائز ہے اور جو اس سے نیچے ہو تو وہ جہنم میں ہے (یعنی اس کا نتیجہ جہنم ہے) (روای کہتے ہیںٰ کہ) یہ بات آپ ﷺ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی (اس کے بعد فرمایا) اللہ اس آدمی کی طرف نگاہ اُٹھا کے بھی نہ دیکھے گا جو از راہِ فخر و تکبر اپنی ازار گھسیٹ کر چلے گا۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح ان حدیثوں میں فخر و غرور والا لباس استعمال کرنے والوں کو یہ سخت وعید سنائی گئی ہے کہ وہ قیامت کے اس دن میں جب کہ ہر بندہ اپنے ربِ کریم کی نگاہِ رحم و کرم کا محتاج اور آرزو مند ہو گا وہ اس کی نگاہِ رحمت سے محروم رہیں گے، اللہ تعالیٰ اس دن ان کو بالکل ہی نظر انداز کر دے گا انکی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔ کیا ٹھکانہ ہے اس محرومی اور بدبختی کا۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مومن کے لئے اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ تہبند (اور اسی طرح پاجامہ) نصف ساق تک ہو، اور ٹخنوں کے اوپر تک ہو تو یہ بھی جائز ہے۔ لیکن اس سے نیچے جائز نہیں، بلکہ سخت گناہ ہے اور اس پر جہنم کی وعید ہے۔ لیکن یہ وعید اسی صورت میں ہے جب کہ اس کا محرک اور باعث استکبار اور فخر و غرور کا جذبہ ہو، آگے درج ہونے والی حدیث میں یہ بات بہت صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔

1644Maarif-ul-Hadith

متکبرانہ لباس کی ممانعت اور سخت وعید

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القِيَامَةِ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِزَارِىْ يَسْتَرْخِي، إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَّفْعَلُهُ خُيَلاَءَ» (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو کوئی فخر و تکبر کے طور پر اپنا کپڑا زیادہ نیچا کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہیں کرے گا (حضرت عبداللہ بن عمر راوی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرا تہہ بند اگر میں اس کا خیال نہ رکھوں تو نیچے لٹک جاتا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا تم ان لوگوں مٰں سے نہیں ہو جو فخر و غرور کے جذبہ سے ایسا کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث سے صراھت کے ساتھ معلوم ہو گیا کہ اگر کسی کا تہبند یا پاجامہ بےخیالی کی وجہ سے ٹخنوں سے نیچے ہو جائے تو یہ گناہ کی بات نہیں ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر ٹخنوں سے نیچا تہبند یا پاجامہ تفاخر و استکبار کے جذبہ سے ہو تو حرام ہے اور اسی پر جہنم کی وعید ہے اور اگر صرف عادت اور فیشن کی بناء پر ہے تو مکروہ ہے اور نادانستہ بےخیالی اور بےتوجہی کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہو تو اس پر کوئی مواخذہ اور عتاب نہیں، معاف ہے۔

1645Maarif-ul-Hadith

مردوں کے لئے ریشم اور سونے کی ممانعت اور عورتوں کو اجازت

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِلْإِنَاثِ مِنْ أُمَّتِي، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا» (رواه الترمذى والنسائى)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: سونا اور ریشمی کپڑے کا استعمال میری اُمت کی عورتوں کے لئے حلال اور جائز ہے اور مَردوں کے لئے حرام ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح دوسری حدیث سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ مردوں کے لیے وہ کپڑا حرام و ناجائز ہے جو خالص ریشم سے بنایا گیا ہو یا اس میں ریشم غالب ہو، اگر ایسا نہ ہو تو جائز ہے۔ اسی طرح ایسا کپڑا بھی مردوں کے لئے جائز ہے جو ریشمی نہ ہو، لیکن اس پر نقش و نگار ریشم سے بنائے گئے ہوں یا دو چار انگل کا ریشمی حاشیہ ہو۔

1646Maarif-ul-Hadith

مردوں کے لئے شوخ سرخ رنگ کی ممانعت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ» (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے ایک آدمی گزرا اور وہ دونوں کپڑے سرخ رنگ کے پہنے ہوئے تھا، اس نے حضور ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح شارحین نے لکھا ہے کہ ان صاحب کے کپڑے شوخ سرخ رنگ کے تھے جو کہ مردوں کے لئے زیبا نہیں اور سلام کا جواب نہ دینا اس پر حضور ﷺ کا عتاب تھا، اسی حدیث کی بناء پر مردوں کے لئے شوخ وسرخ رنگ کے لباس کو بعض علماء نے حرام کہا ہے اور بعض نے مکروہ۔ بہرحال حضور ﷺ کی طرف سے سلام کا جواب نہ دیا جانا آپ ﷺ کی سخت ناراضی و ناگواری کی کھلی دلیل ہے۔ نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله.

1647Maarif-ul-Hadith

مردوں کو زنانہ اور عورتوں کو مردانہ لباس و ہیئت کی ممانعت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ» (رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں (یعنی ان کی ہی شکل و ہیئت، ان کا سا لباس اور ان کا انداز اپنائیں) اور ان عورتوں پر بھی جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں۔ (یعنی ان کی سی شکل و ہیئت بنائیں، ان کا سا لباس اور طرز و انداز اختیار کریں)۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث میں خصوصیت سے لباس کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ مطلق تشبہ پر لعنت فرمائی گئی ہے لیکن تشبہ کی بہت نمایاں صورت یہی ہے کہ مرد زنانہ لباس پہن کر اور عورتیں مردانہ لباس اپنا کر اپنی فطرت کے تقاضوں سے بغاوت کریں۔ آگے درج ہونے والی حدیث میں خصوصیت کے ساتھ لباس کے بارے میں یہی فرمایا گیا ہے۔

1648Maarif-ul-Hadith

مردوں کو زنانہ اور عورتوں کو مردانہ لباس و ہیئت کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ» (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو زنانہ لباس پہنیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردانہ لباس پہنیں۔ (سنن ابی داؤد)

1649Maarif-ul-Hadith

مردوں کے لئے سفید رنگ کے کپڑے زیادہ پسندیدہ

عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ، وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ» (رواه احمد والترمذى والنسائى وابن ماجه)

حضرت سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: سفید کپڑے پہنا کرو، وہ زیادہ پاک صاف اور نفیس ہوتے ہیں اور سفید کپڑوں ہی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

1650Maarif-ul-Hadith

مردوں کے لئے سفید رنگ کے کپڑے زیادہ پسندیدہ

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُرْتُمُ اللَّهَ فِي قُبُورِكُمْ، وَمَسَاجِدِكُمْ، الْبَيَاضُ» (رواه ابن ماجه)

حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: سب سے اچھا رنگ جس میں تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو خالص سفید رنگ ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح یعنی بہتر یہ ہے کہ مرنے کے بعد قبروں میں اللہ کے حضور میں حاضری ہو تو سفید کفن میں ہو، اور مساجد میں جو اس دنیا میں اللہ کے دربار ہیں) حاضری ہو تو سفید کپڑوں میں ہو۔ لیکن دوسری بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرتﷺ بسا اوقات مختلف رنگ کے کپڑے بھی پہنتے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ سے سبز یا ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے پہننا بھی ثابت ہے، اسی طرح زرد رنگ کے بھی، نیز سرخ دھاری دار چادر اوڑھنا اور سیاہ رنگ کا عمامہ زیب سر فرمانا بھی ثابت ہے۔ اس لئے مندرجہ بالا دونوں حدیثوں میں سفید رنگ کے کپڑوں کے استعمال کی جو ترغیب دی گئی ہے اس کا درجہ بس ترغیب ہی کا ہے اور اس کا تعلق صرف مردوں سے ہے، عورتوں کے لئے رنگین لباس ہی زیادہ پسند فرمایا گیا ہے، ازواج مطہرات کے طرزِ عمل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔

1651Maarif-ul-Hadith

اللہ نصیب فرمائے تو پھٹے حال رہنا ٹھیک نہیں

عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَىَّ ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: لِىْ «أَلَكَ مَالٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ اَعْطَانِى الله مِنَ الإِبِلِ، والبقر وَالْغَنَمِ، وَالْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ، قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ، وَكَرَامَتِهِ» (رواه احمد والنسائى)

ابو الاحوص تابعی اپنے والد (مالک بن فضلہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ور میں بہت معمولی اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے َ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں (اللہ کا فضل ہے) آپ نے پوچھا کہ کس نوع کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ نے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے، اونٹ بھی ہیں، گائے بیل بھی ہیں بھیڑ بکریاں بھی ہیں، گھوڑے بھی ہیں، غلام باندیاں بھی ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ نے تم کو مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر اللہ کے انعام و احسان اور اس کے فضل و کرم کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہئے۔ (مسند احمد، سنن نسائی)

1652Maarif-ul-Hadith

اللہ نصیب فرمائے تو پھٹے حال رہنا ٹھیک نہیں

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبَّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ. (رواه الترمذى)

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کو یہ بات محبوب اور پسند ہے کہ کسی بندے پر اس کی طرف سے جو انعام ہو تو اس پر اس کا اثر نظر آئے۔ (جامع ترمذی) تشریح جس طرح بعض لوگ اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے یا فیشن کے طور پر بہت بڑھیا لباس پہنتے اور اس مد میں بےجا اسراف کرتے ہیں اسی طرح بعض کنجوس کنجوسی کی وجہ سے یا صرف طبیعت کے گنوار پن کی وجہ سے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود بالکل پھٹے حال رہتے ہیں۔ ان دونوں حدیثوں میں ایسے ہی لوگوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب کسی بندے پر اللہ کا فضل ہو تو اس کو اس طرح رہنا چاہئے کہ دیکھنے والوں کو بھی نظر آئے کہ اس پر اس کے رب کا فضل ہے، یہ شکر کے تقاضوں میں سے ہے۔

1653Maarif-ul-Hadith

خوب کھاؤ ، پہنو ، بشرطیکہ استکبار اور اسراف نہ ہو

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا، وَاشْرَبُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَالْبَسُوا مَا لَمْ يُخَالِطْ إِسْرَافٌ، وَلَا مَخِيلَةٍ» (رواه احمد والنسائى وابن ماجه)

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے خوب کھاؤ، پیئو، دوسروں پر صدقپ کرو، اور کپڑے بنا کر پہنو، بشرطیکہ اسراف اور نیت میں فخر و استکبار نہ ہو۔ (مسند احمد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح کھانے اور لباس وغیرہ کے بارے میں اس حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ ایک واضح قانون ہے یعنی یہ کہ آدمی حلال غذاؤں میں سے اپنے حسب مرضی جو کچھ کھائے اور جو پیئے اور جو من بھاتا حلال لباس پہنے جائز ہے، بشرطیکہ اسراف کی حد تک نہ پہنچے اور دل میں تفاخر اور استکبار نہ ہو۔ امام بخاریؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول بھی صحیح بخاری میں نقل کیا ہے کہ: “كُلْ مَا شِئْتَ، وَالبَسْ مَا شِئْتَ، مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ، أَوْ مَخِيلَةٌ” جو جی چاہے اور جو جی چاہے پہنو، (جائز ہے) جب تک کہ دو باتیں نہ ہوں ایک اسراف اور دوسرے استکبار و تفاخر۔ اس باب میں یہی بنیادی اصول اور معیار ہے۔

1654Maarif-ul-Hadith

اُول جلول ، پراگندہ حال اور میلے کچیلے رہنے کی ممانعت

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا، فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا، فَقَالَ: «أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ» ، وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: «أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ» (رواه احمد والنسائى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ ملاقات کے لئے ہمارے ہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ کی نظر ایک پراگندہ حال آدمی پر پڑی جس کے سر کے بال بالکل منتشر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: کیا یہ آدمی ایسی کوئی چیز نہیں پا سکتا تھا جس سے اپنے سر کے بال ٹھیک کر لیتا۔ (اور اسی مجلس میں) آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو بہت میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو ارشاد فرمایا: کیا اس کو کوئی چیز نہیں مل سکتی تھی جس سے یہ اپنے کپڑے دھو کر صاف کر لیتا؟ (مسند احمد، سنن نسائی)

1655Maarif-ul-Hadith

ڈاڑھی اور سر کے بالوں کی خبرگیری اور درستی کی ہدایت

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ. فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ. كَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلاَحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ. فَفَعَلَ الرَّجُلُ، ثُمَّ رَجَعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «أَلَيْسَ هذَا خَيْراً مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ؟». (رواه مالك)

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی مسجد میں آیا، اس کے سر اور داڑھی کے بال بالکل بکھرے ہوئے (اور بےتکے) تھے۔ حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کو اشارہ فرمایا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو ٹھیک کرائے، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور پھر لوٹ کر آ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ (یعنی تمہارا سر اور ڈاڑھی کے بالوں کو درست کر کے آنا) اس سے بہتر نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی سر کے بال بکھیرے ہوئے ایسی (وحشیانہ) صورت میں آئے کہ گویا وہ شیطان ہے۔ (موطا امام مالک) تشریح ان حدیثوں سے ان اہل تقشف کے خیال کی واضح تغلیظ ہو جاتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ خدا کے طالبوں اور آخرت کی فکر رکھنے والوں کو اپنی صورت و ہیئت اور لباس کے حسن و قبح سے بےپروا ہو کر میلا کچیلا، پراگندہ حال اور پراگندہ بال رہنا چاہئے اور صفائی ستھرائی، صورت و لباس کو سنوارنے کی فکر اور اس میں جمال پسندی ان کے نزدیک گویا دنیا داری کی بات ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مزاج سے ناواقف ہیں۔ ہاں صورت و لباس وغیرہ کے بناؤ سنوار کا حد سے زیادہ اہتمام اور اس کے لئے فضول و بےجا تکلفات بھی ناپسند اور مزاجِ شریعت کے خلاف ہیں، جیسا کہ آگے آنے والی بعض حدیثوں سے معلوم ہو گا۔ واقعہ یہ ہے کہ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح اس شعبہ سے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کا حاصل یہی ہے کہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اعتدال کی راہ اپنائی جائے۔ اوپر جو حدیثیں مذکور ہوئی جن میں اچھا اور صاف ستھرا لباس استعمال کرنے اور شکل و صورت کی اصلاح اور سر اور داڑھی کے بالوں وغیرہ کو درست رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، جیسا کہ ان مضامین سے ظاہر ہے، ان سب سے مخاطب وہی لوگ تھے جو اس معاملے میں تفریط میں مبتلا تھے اور جنہوں نے اپنے حلیے بگاڑ رکھے تھے۔ آج بھی جن کا یہ حال ہو ان کو رسول اللہ ﷺ کے ان ارشاادات سے ہدایت حاصل کرنا چاہئے کہ اس کے برعکس جو لوگ اس بارے میں افراط میں مبتلا ہوں اور لباس اور ظاہری شکل و صورت کے بناؤ سنگار کو حد سے زیادہ اہمیت دیں، اور اسی کر برتری اور کمتری کا معیار سمجھنے لگیں ان کو آگے درج ہونے والی احادیث سے ہدایت اور روشنی حاصل کرنی چاہئے۔ ان حدیثوں کے مخاطب دراصل ایسے ہی لوگ ہیں۔

1656Maarif-ul-Hadith

سادگی اور خستہ حالی بھی ایک ایمانی رنگ ہے

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ اَيَاسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ، أَلَا تَسْمَعُونَ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ» (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں، کیا تم سنتے نہیں (یعنی سنو اور غور سے سنو اور یاد رکھو) کہ سادگی اور خستہ حالی بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے، یہ آپ نے مکرر ارشاد فرمایا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ ظاہری سادگی و خستہ حالی، اور زینت و آرائش کی طرف سے بےفکری یا کم توجہی، اندرونی ایمانی کیفیت سے بھی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ ایمان ہی کا ایک شعبہ اور ایک رنگ ہے۔

1657Maarif-ul-Hadith

لباس میں خاکساری اور تواضع پر انعام و اکرام

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلَّهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ دَعَاهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ حُلَلِ الإِيمَانِ شَاءَ يَلْبَسُهَا. (رواه الترمذى)

معاذ بن انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ بڑھیا لباس کی استطاعت کے باوجود از راہِ تواضع و انکساری اس کو استعمال نہ کرے (اور سادہ معمولی لباس ہی پہنے) تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ساری مخلوقات کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جو جوڑا بھی پسند کرے اس کو زیب تن کرے۔ (جامع ترمذی)

1658Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ ﷺ کا لباس

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا، وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: «قُبِضَ رُوْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ» (رواه البخارى ومسلم)

ابو بردہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ہم کو نکال کر دکھائی ایک دبیز دہری چادر اور ایک موٹے کپڑے کا تہبندے اور ہمیں بتایا کہ انہی دونوں کپڑوں میں حضور ﷺ کا وصال ہوا تھا (یعنی آخری وقت میں حضور ﷺ کے جسم اطہر پر یہی دو کپڑے تھے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ بشارت ان بندوں کے لئے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اتنی دولت دی ہے کہ وہ بہت بڑھیا اور بیش قیمت لباس بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن وہ اس مبارک جذبے کے تحت بڑھیا لباس نہیں پہنتے کہ اس کی وجہ سے دوسرے بندوں پر میرا تفوق اور میری بڑائی ظاہر ہو گی اور شاید کسی غریب و نادار بندے کا دل ٹوٹے۔ بلاشبہ بہت ہی مبارک اور پاکیزہ ہے یہ جذبہ۔ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو بندے اس جذبے کے تحت ایسا کریں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہلِ محشر کے سامنے انہیں اس انعام و اکرام سے نوازے گا کہ اہلِ ایمان جنتیوں کے لئے جو اعلیٰ سے اعلیٰ جوڑے وہاں موجود ہوں گے فرمایا جائے گا کہ ان میں سے جو جوڑا چاہو لے لو اور استعمال کرو۔ ایک اشکال اور اس کا جواب اگر کسی کے ذہم میں یہ خلجان پیدا ہو کہ ابھی اوپر ابوالاحوص اور عمرو بن شعیب کی دو حدیثیں گزر چکی ہیں جن میں مال و دولت اور استطاعت کی صورت میں اچھا لباس پہننے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اور یہاں اس حدیث میں قدرت و استطاعت کے باوجود اچھا لباس نہ پہننے پر ایسے عظیم انعام و اکرام کی بشارت سنائی گئی ہے، اور اس سے اوپر والی ابو امامہ کی حدیث میں بہت ہی اہتمام اور زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ: “ان البذاذة من الايمان، ان البذاذة من الايمان” جس کا حاصل یہی ہے کہ اچھے لباس کا اہتمام نہ کرنا اور معمولی کپڑوں میں خستہ حالوں کی طرح رہنا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ دراصل ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، ان کا محل الگ الگ ہے۔ ابوالاحوص اور عمرو بن شعیب والی حدیثوں میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مالی وسعت کے باوجود محض کنجوسی سے یا طبیعت کے لااُبالی پن کی وجہ سے پھٹے حال رہیں جیسے کہ انہیں کپڑے نصیب ہی نہیں، ایسے لوگوں کے لئے فرمایا گیا ہے کہ جب کسی بندے پر اللہ کا فضل ہو تو اس کے رہن سہن اور اس کے لباس میں اس کا اثر محسوس ہونا چاہئے۔ اور ابو امامہ اور معاذ بن انس کی ان حدیثوں میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کے مخاطب دراصل وہ لوگ ہیں جو لباس کی بہتری کو زیادہ اہمیت دیتے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ اہتمام اور تکلف سے کام لیتے ہیں، گویا ا ٓدمی کی قدر و قیمت کا وہی معیار اور پیمانہ ہے۔ اصلاح و تربیت کا طریقہ یہی ہےکہ جو لوگ افراط اور غلو کے مریض ہوں ان سے ان کے حال کے مطابق اور جو تفریط کی بیماری میں مبتلا ہوں ان سے ان کے حسبِ حال اصلاح کی بات کی جائے۔ اگر کوئی آدمی محل اور مخاطبین کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھے گا تو بسا اوقات اس کو مصلحین کی ہدایتوں اور نصیحتوں میں تضاد محسوس ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کا لباس رسول اللہ ﷺ لباس کے بارے میں ان حدود و احکام کی پابندی کے ساتھ جو مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہو چکے ہیں اسی طرح کے کپڑے پہنتے تھے جس طرح اور جس وضع کے کپڑوں کا اس زمانے میں آپ کے علاقے اور آپ کی قوم میں رواج تھا۔ آپ ﷺ تہبند باندھتے تھے، چادر اوڑھتے تھے، کرتا پہنتے تھے، عمامہ اور ٹوپی بھی زیب سر فرماتے تھے، اور یہ کپڑے اکثر و بیشتر معمولی سوتی قسم کے ہوتے تھے کبھی کبھی دوسرے ملکوں اور دوسرے علاقوں کے بنے ہوئے ایسے بڑھیا کپڑے بھی پہن لیتے تھے جن پر ریشمی حاشیہ یا نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ اسی طرح کبھی کبھی بہت خوش نما یمنی چادریں بھی زیب تن فرماتے تھے جو اس زمانے کے خوش پوشوں کا لباس تھا۔ اس بناء پ۴ کہا جا سکتا ہے کہ زبانی ارشادات و ہدایات کے علاوہ آپ ﷺ نے امت کو اپنے طرز عمل سے بھی یہی تعلیم دی کہ کھانے پینے کی طرح لباس کے بارے میں بھی وسعت ہے۔ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کی پابندی کے ساتھ ہر طرح کا معمولی یا قیمتی لباس پہنا جا سکتا ہے اور یہ کہ ہر علاقے اور ہر زمانے سے لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ شرعی حدود و احکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا علاقائی و قومی پسندیدہ لباس استعمال کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امت کے ان اصحاب صلاح و تقویٰ نے بھی جن کی زندگی میں اتباع سنت کا حد درجہ اہتمام تھا یہ ضروری نہی سمجھا کہ بس وہی لباس استعمال کریں جو رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے۔ دراصل لباس ایسی چیز ہے کہ تمند کے ارتقاء کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی، اسی طرح علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہیں اس لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس یکساں ہو، یا کسی قوم یا کسی علاقے کا لباس ہمیشہ ایک ہی رہے۔ اس لئے شریعت نے کسی خاص قسم اور خاص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا ہے، ہاں ایسے اصولی احکام دئیے گئے ہیں جن کی ہر زمانے میں اور ہر جگہ بہ سہولت پابندی کی جا سکتی ہے۔ ان تمہیدی سطروں کے بعد حضور ﷺ کے لباس سے متعلق چند احادیث ذیل میں پڑھئے:

1659Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ ﷺ کا لباس

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصَ» (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کپڑوں میں کرتا زیادہ پسند تھا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح کُرتے کو حضور ﷺ غالباً اس لئے زیادہ پسند فرماتے تھے کہ وہ جبے اور چادر کی بہ نسبت ہلکا ہوتا ہے اور لباس کا مقصد اس سے اچھی طرح پورا ہو جاتا ہے۔ بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے کرتے کی آستینیں ہاتھ کے پہنچوں تک ہوتی تھیں، اور نیچے کی جانب ٹخنوں سے اوپر تک ہوتا تھا۔

1660Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ ﷺ کا لباس

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الحِبَرَةَ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کپڑوں میں حبرہ (چادر) کا پہننا بہت پسند تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حبرہ یمن کی بنی ہوئی ایک خاص سوتی چادر ہوتی تھی جس میں سرخ یا سبز دھاریاں ہوتی تھیں یہ اوسط درجے کی اچھی چادروں میں سمجھی جاتی تھی۔ حضرت انسؓ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ چادروں میں سے حبرہ قسم کی چادر کا استعمال زیادہ پسند فرماتے تھے۔