عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الكُمَّيْنِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک (دفعہ) رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت مغیرہ ؓ کی اس حدیث کی اکثر دوسری روایتوں میں اس کو کی اس حدیث کی اکثر دوسری روایتوں میں اس کو “شامی جبہ” کہا گیا ہے۔ قرین قیاس یہ ہے کہ شام اس زمانے میں چونکہ رومی حکومت کے زیر اقتدار تھا اس لئے وہاں کی چیزوں کو رومی بھی کہہ دیا جاتا تھا اور شامی بھی! بہرحال اس حدیث سے معلوم ہو گیا کہ دوسری قوموں کے بنائے ہوئے اور دوسرے ملکوں سےا ٓئے ہوئے کپڑے استعمال کئے جا سکتے ہیں، اور خود حضور ﷺ نے استعمال فرمائے ہیں۔
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ، وَقَالَتْ: هَذَا جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا، وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا (رواه مسلم)
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے انہوں نے طیلسان کا بنا ہوا ایک کسروانی جبہ نکال کر دکھایا اس کا گریبان ریشمی دیباج سے بنوایا گیا تھا اور دونوں چاکوں کے کناروں پر بھی دیباج لگا ہوا تھا (یعنی گریبان اور جبہ کے آگے پیچھے چاکوں پر دیباج کا حاشیہ تھا) اور حضرت اسماءؓ نے بتایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ مبارک ہے۔ یہ (میری بہن) عائشہ صدیقہ (ام المومنینؓ) کے پاس تھا جب ان کا انتقال ہو گیا تو میں نے لے لیا (یعنی میراث کے حساب سے مجھے مل گیا) حضور ﷺ اس کو زیب تن فرمایا کرتے تھے اور اب ہم اس کو مریضوں کے لئے دھوتے ہیں اور اس کے ذریعے شفا حاصل کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری)
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے جس طرح رومی جبہ استعمال فرمایا (جس کا ذکر اوپر والیحدیث میں گزر چکا ہے) اسی طرح آپ ﷺ نے کسروانی جبہ بھی استعمال فرمایا (جس کی نسبت کسی وجہ سے شاہِ فارس کسریٰ کی طرف کی جاتی تھی) اور یہ کہ اس کے گریبان اور چاکوں پر دیباج کا حاشیہ بھی تھا، جس کا اس زمانہ میں رواج تھا۔ یہاں یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ دوسری بعض احادیث میں تشریح ہے کہ ریشم کا حاشیہ دو چار انگل کا تو مردوں کے لئے جائز ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ اس لئے یقین ہے کہ اس کسروانی جبہ کا حاشیہ اس حد کے اندر ہی ہو گا۔ دوسری خاص بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ صحابہ کرامؓ ہی کے دور میں رسول اللہ ﷺ کے استعمالی کپڑوں سے یہ برکت بھی حاصل کی جاتی تھی کہ ان کا غسالہ (دھوون کا پانی) شفایابی کی امید پر مریضوں کا پلایا جاتا یا ان پر چھڑکا جاتا تھا۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ» (رواه مسلم)
حضرت عمرو بن حریث ؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) دیکھا، اس وقت آپ ﷺ سیاہ رنگ کا عمامہ زیب سر فرمائے ہوئے تھے اور اس کا کنارہ (شملہ) اپﷺ نے پشت پر دونوں مونڈھوں کے درمیان لٹکا رکھا تھا۔ (صحیح مسلم)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ قَلَنْسُوَةً بَيْضَاءَ " (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفید ٹوپی (بھی) زیبِ سر فرماتے تھے۔ (معجم کبیر طبرانی)
عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا فَقَالَ: ائْتِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَهِيرًا - قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ قَالَ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ «لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الحُلَلِ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب خوارج کا ظہور ہوا، تو میں حضرت علی کے پاس آیا، انہوں نے مجھے سے فرمایا کہ: تم ان لوگوں کے (یعنی گروہِ خوارج کے) پاس جاؤ (اور ان کو سمجھانے اور ان پر حجت قائم کرنے کی کوشش کرو) ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے حسین و نفیس قسم کا ایک یمنی جوڑا پہنا۔ واقعہ کے راوی ابو زمیل کہتے ہیں کہ ابنِ عباس خود بہت حسین و جمیل تھے اور آواز بھی زوردار تھی۔ آگے ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں خوارج کی جماعت کے پاس پہنچا تو انہوں نے مرحبا کہہ کے میرا استقبال کیا اور ساتھ ہی (طنز و اعتراض کے طور پر) کہا کہ یہ بڑھیا جوڑا (جو آپ پہنے ہوئے ہیں) کیا ہے؟ (مطلب یہ تھا کہ بڑھیا قسم کا حسین جمیل لباس اسوہ نبوی ﷺ اور مقام تقویٰ کے خلاف ہے) (حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں) میں نے کہا کہ تم میرے اس اچھے لباس پر کیا اعتراض کرتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسین سے حسین جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس بیان سے بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کبھی اچھا نفیس لباس بھی استعمال فرمایا ہے۔ اس لئے ان خوارج کا یہ سمجھنا کہ اچھا اور عمدہ لباس پہننا طریقہ نبوی ﷺ یا مقامِ تقویٰ کے خلاف ہے ان کی جہالت تھی۔ ہاں اگر پہننے والے کا مقصد تفاخر و استکبار اور اپنی بڑائی کی نمائش ہو تو جیسا کہ احادیث سے معلوم ہو چکا ہے سخت درجے کی معصیت اور موجبِ غضب خداوندی ہے۔ لیکن اگر اظہارِ نعمت کی نیت سے یا کسی دوسری دینی مصلحت سے پہنا ئجائے تو نہ صرف جائز بلکہ باعث اجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا پہننا اظہارِ نعمت کے لئے بھی تھا اور لانے والوں کی تطیب خاطر کے لئے بھی، اور بیان جواز کے لئے بھی۔
لباس میں داہنی طرف سے ابتداء حضور ﷺ کا معمول تھا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کرتا پہنتے تو داہنی جانب سے شروع فرماتے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں کرتے کا ذکر بطورِ مثال سمجھنا چاہئے۔ حضرت ابو ہریرہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ: “جب کپڑا پہنا جائے، یا وضو کیا جائے تو داہنے اعضاء سے شروع کیا جائے”۔
بائیں اعضاء کے مقابلے میں داہنے اعضاء کو جو فضیلت حاصل ہے اور اس کی جو لِمْ ہے اس کا ذکر “آدابِ طعام” کے ذیل میں کیا جا چکا ہے۔ اسی فضیلت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ لباس میں داہنی طرف سے ابتداء فرماتے تھے، یعنی جو کپڑا پہنتے، داہنی جانب سے پہننا شروع فرماتے۔
کپڑا پہننے کے وقت کی حضور ﷺ کی دعا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، عِمَامَةً، أَوْ قَمِيصًا، أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نیا کپڑا پہنتے عمامہ یا کرتا یا چادر تو اس کا نام لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور میں کہتے کہ: اے اللہ! تیرا شکر اور تیری حمد جیسا کہ تو نے مجھے پہننے کو دیا یہ (عمامہ یا کرتا یا چادر) خداوندا! مین تجھ سے مانگتا ہوں اس کا خیر اور جو اس کا وجود ہے اس کا خیر (یعنی یہ کپڑا میرے لئے باعث خیر ہو اور اس کا جو اچھا مقصد ہے وہ مجھے نصیب ہو مثلاً اس کو پہن کر تیری عبادت کروں اور تیرا شکر ادا کروں) اور میں مانگتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے مقصد یعنی استعمال کے شر سے تیری پناہ (یعنی اس کپڑے میں اور اس کے استعمال میں جو شر ہو سکتا ہے اس سے میری حفاظت فرما)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
کپڑا پہننے کے وقت کی رسول اللہ ﷺ کی ایک اور مختصر دعا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے “آداب لباس” کے بالکل شروع میں بھی درج کی جا چکی ہے۔ اور اسی سلسلہ معارف الحدیث (جلد پنجم) میں سنن ابی داؤد کے حوالہ سے یہ حدیث درج ہو چکی ہے کہ جو شخص کپڑا پہنتے وقت اللہ تعالیٰ کے شکر و حمد کا یہ کلمہ دل و زبان سے کہے: “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ” (1)
تو اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائین گے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی اور ہر نعمت پر شکر کی توفیق عطا فرمائے۔
جوتا پہننے کے بارے میں ہدایات
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا: «اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ» (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ جہاد کے ایک سفر پر روانہ ہو رہے تھے، میں نے آپ ﷺ کو سنا آپ ہدایت دے رہے تھے کہ: لوگو! جوتیاں زیادہ لے لو، کیوں کہ آدمی جب تک پاؤں میں جوتا پہنے رہتا ہے تو وہ سوار کی طرح رہتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہ واقعہ اور تجربہ ہے کہ جو آدمی جوتا پہن کے چلتا ہے وہ بہ نسبت اس شخص کے جو بغیر جوتا پہنے چلے، تیز بھی چلتا ہے اور کم تھکتا ہے۔ اس کا پاؤں محفوظ بھی رہتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس کا کہ “وہ سوار کی طرح رہتا ہے” اور ہمارے اس زمانے مین تو فوجیوں کے لئے ان کا خاص جوتا، ان کی وردی کا جز ہے۔
جوتا پہننے کے بارے میں ہدایات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِاليَمِينِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، لِيَكُنِ اليُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں میں پہنے، اور جب نکالنے لگے تو پہلے بائیں پاؤں سے نکالے (الغرض) داہنا پاؤں جوتا پہننے میں مقدم اور نکالنے میں مؤخر ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ظاہر ہے کہ جوتا پہننے میں پاؤں کا اکرام و اعزاز ہے اور داہنے اعضاء کو بائیں اعضاء کے مقابلہ مین جو فضیلت اور ترجیح حاصل ہے (جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے) اس کا حق اور تقاضا ہے کہ جوتا داہنے پاؤں میں پہنا پہلے جائے اور نکالا بعد میں جائے۔
انگشتری اور مہر کے بارے میں حضور ﷺ کا طرز عمل
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى، وَقَيْصَرَ، وَالنَّجَاشِيِّ، فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، «فَصَاغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً، نُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ» (رواه مسلم)
(وفى رواية للبخارى كَانَ نَقْشُ الخَاتَمِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ: شاہِ فارس کسریٰ اور شاہِ روم قیصر اور شاہِ حبشہ نجاشی کو خطوط لکھائیں (اور ان کو اسلام کی دعوت دیں) تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یہ حکمران لوگ مہر کے بغیر خطوط کو تسلیم نہیں کرتے، تو حضور ﷺ نے مہر بنوائی جو چاندی کی انگوٹھی تھی، اس میں نقش تھا:
مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ .................................................... (صحیح مسلم)
(اور اسی حدیث کی صحیح بخاری کی روایت میں یہ تفصیل بھی ہے کہ مُہر میں تین سطریں تھیں، ایک سطر میں “محمد” اور دوسری سطر میں “رسول” اور تیسری سطر میں “اللہ”)
تشریح
صحیح روایات سے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ۶ھ کے آخر میں سفر حدیبیہ سے واپسی کے بعد اس وقت کی دنیا کے بہت سے مشہور بادشاہوں اور حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھائے تھے۔ اسی وقت یہ واقعہ پیش آیا کہ جب آپ ﷺ نے ان خطوط کے لکھانے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو بعض صحابہ کرام نے جو ان حکومتوں کے طور طریقوں سے کچھ باخبر تھے عرض کیا کہ ان خطوط پر حضور ﷺ کی مہر ہونا ضروری ہے، یہ حکمران لوگ مہر کے بغیر کسی خط کو کوئی اہمیت نہیں دیتے (گویا ایسے خطوط ان کے پاس ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتے ہیں) حضور ﷺ نے یہ مشورہ قبول فرما لیا اور چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا لی جس کے نگینہ میں “محمد رسول اللہ” کندہ تھا۔ صحیح بخاری کی روایت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ تینوں لفظ تین سطروں میں نیچے اوپر لکھے گئے تھے۔ اس طرح (محمد رسول اللہ) یہی آپ ﷺ کی مہر آپ ﷺ کی انگوٹھی تھی۔
روایات میں بائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں پہننے کا بھی ذکر آتا ہے اور داہنے ہاتھ میں بھی، گویا کبھی آپ ﷺ داہنے ہاتھ میں پہن لیتے تھے اور کبھی بائیں ہاتھ میں۔
انگشتری اور مہر کے بارے میں حضور ﷺ کا طرز عمل
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ، وَقَالَ: «يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ»، فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ سے نکال کر پھینک دی۔ اور ارشاد فرمایا کہ: تم میں سے کسی کسی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی خواہش سے دوزخ کا انگارہ لے کر اپنے ہاتھ میں پہن لیتا ہے (یعنی مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی گویا دوزخ کی آگ ہے جو اس نے شوق سے ہاتھ میں لے رکھی ہے)۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لے گئے تو کسی نے ان صاحب سے کہا (جن کے ہاتھ سے سونے کی انگوٹھی نکال کر حضور ﷺ نے پھینک دی تھی) کہ اپنی انگوٹھی اُٹھا لو اور (کسی طرح) اپنے کام میں لے آؤ (مثلاً فروخت کر دو، یا گھر کی خواتین میں سے کسی کو دے دو) ان صاحب نے کہا خدا کی قسم! جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو پھینک دیا تو اب کبھی میں اس کو نہیں اٹھاؤں گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سونے کے دوسرے زیورات کی طرح اس کی انگوٹھی کا استعمال بھی مردوں کے لئے حرام و ناجائز ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مناسب اور مفید سمجھا جائے تو اپنے خاص لوگون کے ساتھ اصلاح کا یہ طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس جو چیز شریعت کے خلاف ہو اس کو چھین کر پھینک دیا جائے یا توڑ پھوڑ دیا جائے۔
ان صحابی نے لوگوں کے کہنے کے باوجود اپنی سونے کی انگوٹھی نہیں اٹھائی اور وہ جواب دیا جو حدیث میں مذکور ہوا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام کا ایمانی مقام کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کا کوئی حصہ ہم کو بھی نصیب فرمائے۔
ڈاڑھی مونچھ کے بالوں اور ظاہری ہیئت سے متعلق ہدایات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الآبَاطِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرتِ سلیمہ کے تقاضے اور دینِ فطرت کے خاص احکام ہیں۔ ختنہ، زیر ناف بالوں کی صفائی، مونچھیں تراشنا، ناخن لینا اور بغل کے بال لینا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات اور طرزِ عمل سے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ظاہری ہیئت اور شکل و صورت کے بارے میں بھی امت کی رہنمائی فرمائی ہے۔ اس سلسلہ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے!
بعض دوسری حدیثوں میں ان چیزوں کو انبیاء و مرسلین کی سنت اور ان کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ اور چونکہ یہ انسانی فطرت کے تقاضے ہیں اس لئے ہونا بھی یہی چاہئے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ اور یہی ان کی تعلیم ہو۔ ان سب میں جو چیز مشترک ہے وہ طہارت و صفائی اور پاکیزگی ہے جو بلاشبہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔
ڈاڑھی مونچھ کے بالوں اور ظاہری ہیئت سے متعلق ہدایات
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّوَارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مونچھیں ترشوانے اور ناخن لینے اور بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے سلسلہ میں ہمارے واسطے حد مقرر کر دی گئی ہے کہ ۴۰ روز سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
کنز العمال میں بیہقی کی شعب الایمان کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ:
“رسول اللہ ﷺ ہر جمعہ کو نکلنے سے پہلے اپنے ناخن تراشتے اور لبیں لیتے تھے”۔ (1)
اس لئے مسنون یہی ہےکہ ہر ہفتہ یہ جسمانی اصلاح و صفائی کا کام کیا جائے، اور آخری حد ۴۰ دن تک کی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔ اگر اس سے زیادہ تغافل برتا تو ایک درجہ کی نافرمانی ہو گی، اور علماء نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ سے نماز بھی مکروہ ہو گی۔
ڈاڑھی مونچھ کے بالوں اور ظاہری ہیئت سے متعلق ہدایات
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مونچھوں کو خوب باریک کرو اور ڈاڑھیاں چھوڑو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
دوسری بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ بھی یہی تھا کہ وہ ڈاڑھیاں رکھتے اور مونچھیں باریک کراتے تھے۔
جیسا کہ ظاہر ہے، ڈاڑھی رجولیت کی علامت اور وقارکی نشانی ہے۔ خود مغربی اقوام میں بھی جہاں ڈاڑھی نہ رکھنے کا عام رواج ہے) ڈاڑھی کو قابل احترام اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کاش! ہم مسلمان محسوس کریں کہ ڈاڑھی رکھنا ہمارے ہادی برحق ﷺ اور سارے نبیوں، رسولوں کی سنت اور ان کے طریقہ سے وابستگی کی علامت ہے، اور ڈاڑھی نہ رکھنا ان کے منکروں کا طریقہ ہے۔
اس حدیث میں صرف ڈاڑھی چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے اس کا کوئی ذکر نہیں کہ ڈاڑھی کس حد تک چھوڑی جائے، بلکہ اس کے الفاظ سے شبہ ہو سکتا ہے کہ کسی صورت میں بھی اس کو قینچی نہ لگائی جائے اور کم نہ کرایا جائے۔ لیکن آگے متصلاً امام ترمذی کی روایت حضڑت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی جو حدیث درج کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرتﷺ اپنی ریش مبارک (برابر اور ہموار کرنے کے لئے) اس کے عرض میں سے بھی اور طول میں سے بھی کچھ ترشوا دیتے تھے۔ اور مندرجہ بالا حدیث: “انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى” کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے متعلق بھی روایت میں ہے کہ ان کی ڈاڑھی کے جو بال ایک مشت سے زیادہ ہوتے وہ ان کو ترشوا دیتے تھے۔ بعض دوسرے صحابہ کا طرزِ عمل بھی یہی روایت کیا گیا ہے۔ ان سب روایات کی روشنی میں زیرِ تشریح حدیث: “انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى” کا مطلب اور مدعا یہ ہو گا کہ ڈاڑھی رکھی جائے، نہ منڈائی جائے نہ زیادہ کم کرائی جائے۔
ہمارے فقہا نے ایک مشت سے کم کرانے کو نادرست کہا ہے۔ ایک مشت کی مقدار کی یہ تحدید کسی حدیث میں نہیں ہے۔ غالباً اس کی بنیاد یہی ہے کہ صحابہ کرامؓ سے ایک مشت تک رکھنا تو ثابت ہے، اس سے کم کرانا ثابت نہیں۔ واللہ اعلم۔
ڈاڑھی مونچھ کے بالوں اور ظاہری ہیئت سے متعلق ہدایات
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا. (رواه الترمذى)
عمرو بن شیعب اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ریش مبارک کے عرض سے بھی اور طول سے بھی کچھ ترشواتے تھے۔ (جامع ترمذی)
ڈاڑھی مونچھ کے بالوں اور ظاہری ہیئت سے متعلق ہدایات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس شخص کے بال ہوں اس کو چاہئے کہ وہ ان بالوں کا اکرام کرے۔ (سنن ابو داؤد)
تشریح
بالوں کا اکرام یہ ہے کہ ان کو دھویا جائے، حسب ضرورت تیل لگایا جائے، ان میں کنگھی بھی کی جائے۔ خود رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل بھی یہی تھا، آپ ﷺ ہمیشہ سر پر بال رکھتے تھے جو کبھی کانوں تک اور کبھی کانوں کے نیچے تک رہتے تھے۔ آپ ﷺ ان کو اہتمام سے دھوتے بھی تھے، ان میں تیل بھی لگاتے تھے، کنگھی بھی فرماتے تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ حج اور عمرہ کے سوا کبھی سر کے بالوں کا منڈوانا آپ ﷺ سے ثابت نہیں۔
ڈاڑھی مونچھ کے بالوں اور ظاہری ہیئت سے متعلق ہدایات
عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ» قِيْلَ لِنَافِعٍ مَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: «يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ» رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے خادم) نافع، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ منع فرماتے تھے قزع سے۔ نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کے کچھ حصہ کے بال مونڈ دئیے جائیں اور کچھ حصہ کے چھوڑ دئیے جائیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابن عمر ؓ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچہ کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بال مونڈ دئیے گئے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو اس سے منع فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ یا تو پورا سر مونڈا جائے یا پورے سر پر بال چھوڑ دئیے جائیں۔ اس حکم کی وجہ ظاہر ہے، سر کے کچھ حصے کے بال مونڈ دینا اور کچھ چھوڑ دینا انتہائی بےڈھنگے پن کی بات ہے اور اس سے بچے کی شکل بگڑ جاتی ہے۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ نے اس سے ممانعت فرمائی ہے۔ اس حکم پر اس سے ملتی جلتی دوسری صورتوں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔
عورتوں کو مہندی لگانے کا حکم
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بَايِعْنِي، قَالَ: «لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ، كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ نے حضور ﷺ سعے عرض کیا کہ: “مجھے بیعت کر لیجئے؟” آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “میں تم کو اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک کہ تم (مہندی لگا کر)” اپنے ہاتھوں کی صورت نہ بدلو گی (تمہارے ہاتھ اس وقت) کسی درندے کے سے ہاتھ معلوم ہوتے ہیں”۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ ہند بنت عتبہ ابو سفیان کی بیوی تھیں۔ فتح مکہ کے دن اسلام لائیں، اور اسی دن قریش کی دوسری بہت سی عورتوں کے ساتھ پہلی بیعت کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث میں ہندہ کی طرف سے جس بیعت کی درخواست کا ذکر ہے بظاہر یہ انہوں نے بعد میں کسی وقت کی ہئے، اور اسی موقع پر حضور ﷺ نے ان کو ہاتھوں میں مہندی لگانے کی یہ ہدایت فرمائی۔
دوسری بعض روایات میں اور بھی بعض عورتوں کا ذکر ہے جن کو آپ ﷺ نے مہندی استعمال کرنے کی اسی طرح تاکید فرمائی۔
رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت و تعلیم سے اسلامی شریعت کا یہ نقطہ نظر معلوم ہو گیا کہ عورتوں کو جائز حد تک زینت اور سنگھار کے اسباب استعمال کرنے چاہئیں، ظاہر ہے یہ چیز ان کے اور ان کے شوہروں کے درمیان محبت اور قلبی تعلق میں اضافہ کا باعث ہو گی۔
ستر اور پردے کے بارے میں ہدایات: ضروری ستر
عَنْ جَرْهَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؟» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت جرہد بن خویلد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ران (بھی) ستر میں شامل ہے۔ (یعنی اس کا کھولنا جائز نہیں)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
انسان کی معاشی زندگی میں ستر اور پردے کے مسئلہ کی بھی خاص اہمیت ہے اور یہ ان خصائص میں سے جن میں انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہے۔ خالقِ کائنات نے دوسرے حیوانات میں حیا اور شرم کا وہ مادہ نہیں رکھا جو انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے اس لئے حیوانات اپنے جسم کے کسی حصے کو اور اپنے کسی فعل کو چھپانے کی وہ کوشش نہیں کرتے جو انسان کرتا ہے، اور جس کے لئے وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے۔
بہرحال ستر اور پردہ اصولی درجہ میں انسانی فطرت کا تقاضا ہے اسی لئے تمام اقوام و ملل اپنے عقائد و نظریات اور رسوم و عادات کے بہت سے اختلاف کے باوجود بنیادی طور پر اس پر متفق ہیں کہ آدمی کو دوسرے حیوانات کی طرح ننگ دھڑنگ نہیں رہنا چاہئے۔
اسی طرح یہ بات بھی تمام انسانی گروہوں سے مسلمات بلکہ معمولات میں سے ہے کہ اس بارے میں عورت کا درجہ مرد سے بھی بلند ہے، گویا جس طرح ستر اور پردے کے باب میں انسانوں کو عام حیوانات کے مقابلے میں امتیاز و تفوق حاصل ہے اسی طرح اس معاملہ میں عورت کو مرد کے مقابلہ میں فوقیت اور برتری حاصل ہے، کیوں کہ اس کی جسمانی ساخت ایسی ہے کہ اس میں جنسی کشش جو بہت سے فتنوں کا ذریعہ بن سکتی ہے مردوں سے کہیں زیادہ ہے، اسی لئے ان کے پیدا کرنے والے نے ان میں حیاء کا جذبہ بھی مردوں سے زیادہ رکھا ہے۔ بہرحال اولادِ آدم کے لئے ستر اور پردہ بنیادی طور پر ان کی فطرت کا تقاضا اور پوری انسانی دنیا کے مسلمات میں سے ہے۔
پھر جس طرح انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں ہدایت کی تکمیل اللہ کے آخری نبی سیدنا حضرت محمدﷺ کے ذریعہ ہوئی اسی طرح اس شعبہ میں بھی جو ہدایات آپ ﷺ نے دیں وہ بلاشبہ اس شعبہ کی تکمیلی ہدایات ہیں۔
اس باب میں اصولی و بنیادی احکام تو آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتابِ ہدایت قرآن مجید ہی میں دئیے گئے ہیں۔ سورہ اعراف کے شروع ہی میں جہاں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور انسانی دنیا کے آغاز کا ذکر ہے فرمایا گیا ہے کہ: “نسلِ آدمؑ کو ستر چھپانے کی ہدایت اسی ابتدائی دور میں دے دی گئی تھی اور آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اس بارے میں تم شیطان کے اغوا کا شکار نہ ہو جانا وہ تمہیں انسانیت کی بلند کے بلند سطح سے گرا کر جانوروں کی طرح ننگا اور بےپردہ کرنے کی کوشش کرے گا”۔
پھر سورہ نور اور سورہ احزاب میں خاص کر عورتوں کے پردے کے بارے میں احکام دئیے گئے۔ مثلاً یہ کہ ان کی اصل جگہ اپنا گھر ہے، لہذا بے ضرورت سیر سپاٹے یا اپنی نمائش کے بارے میں احکام دئیے گئے۔ مثلاً یہ کہ ان کی اصل جگہ اپنا گھر ہے، لہذا بےضرورت سیرسپاٹے یا اپنی نمائش کے لئے گھروں سے باہر نہ گھومیں۔ اور اگر ضرورت سے نکلیں (جس کی اجازت ہے) تو پورے پردے والا لباس پہن اوڑھ کر نکلیں۔ اور گھروں میں شوہروں کے علاوہ گھر کے دوسرے لوگوں یا آنے جانے والے عزیزوں، قریبوں کے سامنے لباس اور پردے کے بارے میں ان مقررہ حدود کی پابندی کریں۔ اور مردوں کو چاہئے کہ اپنے اہلِ قرابت یا دیگر اہلِ تعلق کے گھروں میں اچانک یا بلااطلاع اور اجازت کے نہ جائیں۔ نیز مرد عورتوں کو اور عورتیں مردوں کو دیکھنے، تاکنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ سامنا ہو جائے تو نگاہین نیچی کر لیں۔
اللہ تعالیٰ نے جن کو عقلِ سلیم دی ہے اور ان کی فطرت مسخ نہیں ہوئی ہے، وہ اگر غور کریں تو ان شاء اللہ انہیں اس میں شبہ نہ ہو گا کہ یہ احکام انسان کے جذبہ حیا کے فطری تقاضوں کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور ان سے ان شیطانی اور شہوانی فتنوں کا دروازہ بھی بند ہو اجتا ہے جو زندگی کو گندہ اور اخلاق کو برباد کرتے ہیں، اور کبھی کبھی بڑے شرمناک اور گھناؤنے نتائج کا باعث بن جاتے ہین۔
اس تمہید کے بعد اور اس کی روشنی میں اس باب سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے مندرجہ ذیل ارشادات پڑھئے:
تشریح ..... انسانی جسم کے جو حصے عرف میں شرم گاہ کہلاتے ہیں ان کے بارے میں تو ہر آدمی حتیٰ کہ خدا کے اور کسی دین و مذہب کے نہ ماننے والے بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا ستر یعنی چھپانا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ انسانی جسم میں صرف شرم گاہ اور اس کے قریبی حصے ہی نہیں بلکہ ران تک ستر میں شامل ہے جس کا چھپانا ضروری ہے۔ یہ گویا ستر کے بارے میں تکمیلی تعلیم اور ہدایت ہے۔ اس حدیث میں فخذ (ران) کو عورۃ فرمایا گیا ہے۔ عورۃ کے لفظی معنی ہیں، چھپانے کی چیز، جس کا کھلنا شرم وع حیاء کے خلاف ہو۔
ستر اور پردے کے بارے میں ہدایات: ضروری ستر
عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِىُّ «لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلا تَنْظُرِ الَى فَخِذِ حَيٍّ وَلا مَيِّتٍ» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ: اے علی! اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ آدمی کی ران کی طرف نظر نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)