Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 85 of 106

1681Maarif-ul-Hadith

ستر اور پردے کے بارے میں ہدایات: ضروری ستر

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ» (رواه مسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مرد دوسرے مرد کے ستر کی طرف اور عورت دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر نہ کرے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جسم کے وہ مخصوص حصے جن کو چھپانا ضروری قرار دیا گیا ہے (یعنی ناف کے نیچے سے رانوں تک) ان کی طرف نظر کرنا ہم جنسوں کے لئے بھی جائز نہیں۔ اور بلاشبہ حیا اور شرم کا تقاضا یہی ہے، ہاں ضرورت کے مواقع مستثنیٰ ہوں گے۔

1682Maarif-ul-Hadith

تنہائی میں بھی ستر کا چھپانا ضروری

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لاَ يُفَارِقُكُمْ إِلاَّ عِنْدَ الغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو (تنہائی کی حالت میں بھی) برہنگی سے پرہیز کرو (یعنی بےضرورت تنہائی میں بھی ستر نہ کھولو) کیوں کہ تمہارے ساتھ فرشتے برابر رہتے ہیں، کسی وقت بھی جدا نہیں ہوتے، سوائے قضائے حاجت اور میاں بیوی کی صحبت کے وقت کے، لہذا ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ اگر آدمی کسی وقت اور کسی جگہ بالکل تنہا ہو کوئی دوسرا شخص دیکھنے والا نہ ہو تب بھی بلاضرورت برہنہ نہ ہو اور ستر کی حفاظت کرے، اللہ سے اورا اس کے فرشتوں سے شرم کرے۔ تشریح ..... اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کراماً کاتبین وغیرہ جو فرشتے انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں، وہ ان اوقات میں الگ ہو جاتے ہیں جو آدمی اپنی فطری ضرورت سے بےپردہ ہوتا ہے۔

1683Maarif-ul-Hadith

تنہائی میں بھی ستر کا چھپانا ضروری

عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ خَالِيًا؟ قَالَ: «فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ» (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)

بہز بن حکیم نے اپنے والد حکیم سے اور انہوں نے بہز کے دادا (یعنی اپنے والد) معاویہ بن حیدہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اپنی شرم گاہ محفوظ رکھو (کسی کے سامنے نہ کھولو) سوائے اپنی بیوی اور (شرعی) باندی کے (معاویہ بن حیدہ کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا کہ: حضرت! کیا فرماتے ہیں اس حالت کے ابرے میں جب آدمی بالکل تنہائی میں ہو؟ (کوئی دوسرا آدمی دیکھنے والا نہ ہو) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ سزاوار ہے اور اس کا زیادہ حق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

1684Maarif-ul-Hadith

عورتوں کو پردہ ضروری ، باہر نکلنا موجب فتنہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: عورت گویا ستر ہے (یعنی جس طرح ستر کو چھپا رہنا چاہیے، اسی طرح عورت کو گر میں پردے میں رہنا چاہئے) جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیاطین اس کو تاکتے اور اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح عربی زبان میں “عورت” اس چیز یا اس حصہ جسم کو کہتے ہیں جس کا چھپانا اور پردے میں رکھنا ضروری اور کھولنا معیوب سمجھا جائے۔ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ “الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ” یعنی صنف خواتین کی نوعیت یہی ہے، ان کو پردے میں رہنا چاہئے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ: جب کوئی خاتون باہر نکلتی ہے تو شیطان تاک جھانک کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مدعا اور مقصد یہ ہے کہ عورتوں کو حتی الوسع باہر نکلنا ہی نہ چاہئے تا کہ شیطانوں اور ان کے چیلے چانٹوں کو شیطنت اور شرارت کا موقع ہی نہ ملے، اور اگر ضرورت سے نکلنا ہو تو اس طرح باپردہ نکلیں کہ زینت و آرائش کا اظہار نہ ہو۔ قرآن مجید کی آیت “وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ” میں بھی یہی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ البتہ ضرورت سے باہر نکلنے کے بارے میں صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضور ﷺ کا صریح ارشاد ہے: “إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ” یعنی بہ ضرورت باہر نکلنے کی اجازت ہے۔

1685Maarif-ul-Hadith

نظر بازی موجبِ لعنت

عَنِ الْحَسَنِ، مُرْسَلًا قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللهُ النَّاظِرَ والْمَنْظُورَ إِلَيْهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: خدا کی لعنت ہے دیکھنے والے پر اور اس پر جس کو دیکھا جائے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو کوئی کسی نامحرم عورت کو یا کسی کے ستر کو (جس کا دیکھنا حرام ہے) دیکھے، تو اس پر خدا کی طرف سے لعنت ہے، یعنی رحمت سے محرومی کا فیصلہ ہے اور اسی طرح وہ بھی رحمت خداوندی سے محروم ہے جس نے قصداً دیکھنے والے کو دیکھنے کا موقع دیا اور دکھایا۔

1686Maarif-ul-Hadith

کسی اجنبی عورت پر اچانک نگاہ پڑ جانے کا حکم

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي. (رواه مسلم)

حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں دریافت کیا (یعنی یہ کہ اگر اچانک کسی نامحرم عورت پر یا کسی کے ستر پر نظر پڑ جائے تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟) تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اُدھر سے نگاہ پھیر لوں۔ (صحیح مسلم)

1687Maarif-ul-Hadith

کسی اجنبی عورت پر اچانک نگاہ پڑ جانے کا حکم

عَنِ بُرَيْدَةَ قَالَ لِعَلِيٍّ يَا عَلِيُّ لاَ تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ. (رواه احمد الترمذى وابوداؤد)

حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے ایک دفعہ فرمایا: اے علی! (اگر کسی نامحرم پر تمہاری نظر پڑ جائے) تو دوبارہ نظر نہ کرو، تمہارے لئے پہلی نظر (جو بلاارادہ اور اچانک پڑ گئی وہ) تو جائز ہے (یعنی اس پر مواخذہ اور گناہ نہ ہو گا) اور دوسری جائز نہیں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

1688Maarif-ul-Hadith

کسی اجنبی عورت پر اچانک نگاہ پڑ جانے کا حکم

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا» (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس مردِ مومن کی کسی عورت کے حسن و جمال پر پہلی دفعہ نظر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کر لے اور (اس کی طرف نہ دیکھے) تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی وہ لذت و حلاوت محسوس کرے گا۔ (مسند احمد) تشریح یعنی ایک ناجائز نفسانی لذت کی قربانی کے صلہ میں اللہ تعالیٰ آخرت کے بےحساب اجر و ثواب سے پہلے اپنے اس مومن بندے کو حلاوتِ عبادت کی نہایت اعلیٰ روحانی لذت اسی دنیا میں عطا فرمائے گا۔

1689Maarif-ul-Hadith

غیر عورت پر نظر پڑ جانے سے دل میں گندہ جذبہ پیدا ہو تو

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ. (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عورت شیطان کی طرح آتی یا جاتی ہے (یعنی اس کا ڈھنگ اور اس کی چال آدمی کے لئے شیطانی فتنہ کا سامان بن سکتی ہے) تو اگر کسی کو ایسا واقعہ پیش آئے کہ کوئی ایسی عورت اچھی لگے اور اس کے ساتھ دلچسپی اور دل میں اس کی خواہش پیدا ہو جائے توا ٓدمی کو چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور اپنی نفسانی خواہش پوری کرے، اس سے اس کی اس گندی خواہش نفس کا علاج ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح انسان کی یہ فطرت ہے کہ کوئی کھانے پینے کی مرغوب چیز دیکھے یا خوشبو ہی آ جائے تو اس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ گرمی اور تپش کی حالت میں ٹھنڈی، سایہ دار اور خوش منظر جگہ دیکھ کر وہاں ٹھہرنے اور آرام کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی غیر عورت پر اچانک نگاہ پڑ جانے سے بسا اوقات شہوانی تقاجا پیدا ہو جاتا ہے جو اغواء شیطانی سے بہت برے نتائج تک بھی پہنچا سکتا ہے، اور کم از کم آدمی ایک قسم کی بےچینی میں تو مبتلا ہو ہی جاتا ہے۔ نفس و روح کے معالج اعظم رسول اللہ ﷺ نے اس کا بھی علاج بتلایا ہے۔

1690Maarif-ul-Hadith

نامحرم عورتوں سے تنہائی میں ملنے کی ممانعت

عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ. (رواه الترمذى)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ کوئی (نامحرم) آدمی کسی عورت سے تنہائی میں ملے اور وہاں تیسرا شیطان موجود نہ ہو۔ (جامع ترمذی) تشریح معاشرے کو فواحش اور گندے اعمال و اخلاق سے محفوظ رکھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جو ہدایات فرمائی ہیں ان مین سے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص کسی نامحرم عورت سے تنہائی میں نہ ملے، ایسی صورت میں اس شیطان کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے جو ہر وقت ساتھ رہتا ہے۔ تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ جب کوئی نامحرم شخص تنہائی میں کسی عورت سے ملے گا تو شیطان ان کو معصیت میں مبتلا کرنے کی ضرور کوشش کرے گا۔ اس لعین دشمن ایمان کو اس کا موقع ہی نہ دیا جائے۔

1691Maarif-ul-Hadith

نامحرم عورتوں سے تنہائی میں ملنے کی ممانعت

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ. فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم (نامحرم) عورتوں کے پاس جانے سے بچو (اور اس معاملہ میں بہت احتیاط کرو) ایک شخص نے دریافت کیا کہ: شوہر کے قریبی رشتہ داروں (دیور وغیرہ) کے بارے میں حضور ﷺ کا کیا ارشاد ہے؟ (کیا ان کے لئے بھی یہی حکم ہے؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ تو بالکل موت اور ہلاکت ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح شوہر کے قریبی رشتہ داروں میں اس کے باپ اور اس کی اولاد تو بیوی کے لئے محرم ہیں، ان کے علاوہ سارے رشتہ دار حتیٰ کے حقیقی بھائی بھی نامحرم ہیں، ان کا بھی آزادانہ طور پر گھر میں آنا اور خلوت و جلوت میں بےتکلف اور بےپردہ ملنا اور باتیں کرنا رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق انتہائی خطرناک اور عفت و دیانت کے لئے گویا زہر قاتل ہے۔

1692Maarif-ul-Hadith

نامحرم عورتوں سے تنہائی میں ملنے کی ممانعت

عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ. قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ. (رواه الترمذى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: (خاصکر) ان خواتین کے گھروں میں نہ جایا کرو جن کے شوہر کہیں باہر (سفر وغیرہ) میں گئے ہوئے ہوں، کیوں کہ شیطان (یعنی اس کے اثرات و وساوس) سب میں اس طرح (غیر مرئی طور پر) جاری ساری رہتے ہیں جس طرح رگوں میں خون رواں دواں رہتا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اور کیا آپ میں بھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اور مجھ میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری (اس معاملہ میں) خاص مدد فرمائی ہے اس لئے میں محفوظ رہتا ہوں۔ (جامع ترمذی) تشریح شادی شدہ عورتیں جن کے شوہر کہیں سفر وغیرہ میں گئے ہوئے ہوں ان سے نامحرم مردوں کے ملنے میں ظاہر ہے فتنہ کا خطرہ زیادہ ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں یہ خاص ہدایت فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ شیطان ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا ہے، اور اس کے وساوس و اثرات آدمی میں اس طرح دوڑ جاتے ہیں جس طرح رگوں میں خون دوڑتا ہے۔ اس موقع پر کسی نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ: حضرت! اس بارے میں (یعنی شیطانی وساوس و تصرفات کے بارے میں) حضور ﷺ کا کیا حال ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: شیطان تو میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں میری خاص مدد فرمائی ہے جس کی وجہ سے میں اس کے وساوس اور اثرات سے محفوظ رہتا ہوں، مجھ پر اس کا داؤ نہیں چلتا اور وہ مجھے کسی غلطی یا فتنہ میں مبتلا نہیں کر سکتا۔ یہ دراصل عفتِ عصمت کا لازمی تقاجا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ حضور ﷺ نے شیطانی اثرات و وساوس سے محفوظ رہنے کو اپنا ذاتی کمال نہیں بتلایا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور اعانت کا نتیجہ قرار دیا۔ یہ عبدیت کا خاص الخاص مقام ہے۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَاَتْبَاعِهِ

1693Maarif-ul-Hadith

نکاح و ازدواج اور اس کے متعلقات: مرد عورت کے جوڑ و ملاپ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے بارے میں زمانہ جاہلیت کے طریقے اور ضابطے

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ، يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوِ ابْنَتَهُ، فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ. وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا، حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا. فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ، وَمَرَّ عَلَيْهَا لَيَالِيَ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا، أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا تَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدْتُ فَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلاَنُ. تُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، وَلاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ مِنْهُ الرَّجُلُ. وَالنِّكَاحُ الرَّابِعِ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُونُ عَلَمًا فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ وَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَ بِهِ، وَدُعِيَ ابْنَهُ لاَ يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ ..... فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ، إِلاَّ نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ. (رواه البخارى)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے (انہوں نے بیان فرمایا) کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح (یعنی مرد و عورت کے جوڑ ملاپ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد سے متعلق) چار طریقے رائج تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ تو وہ تھا جو (اصولی طور پر) آج بھی رواج میں ہے کہ ایک آدمی کی طرف سے دوسرے آدمی کو اس کی بیٹی یا اس کی زیر ولایت لڑکی کے لئے نکاح کا پیام دیا جاتا ہے۔ پھر وہ مناسب مہر مقرر کر کے اس لڑکی کا نکاح اس آدمی سے کر دیتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کسی آدمی کی بیوی جب حیض سے پاک ہوتی (اس وقت عورت میں حاملہ ہونے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے) تو وہ (کسی بڑے شان والے آدمی کے بارے میں) خود اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ تو اس آدمی کو بلا کر اس سے نیوگ کر لے (یعنی اس سے تعلق قائم کر لے، اور اس کی صحبت سے حمل حاص ہونے کی کوشش کر) اور پھر وہ شوہر اپنی بیوی سے خود اس وقت تک الگ رہتا جب تک کہ اس دوسرے آدمی سے حمل قرار پاتا، پھر جب اس کے حمل کے آثار ظاہر ہو جاتے تو اس کے بعد یہ شوہر حسبِ خواہش اپنی بیوی سے صحبت کرتا، اور یہ سب کچھ اس غرض سے کرتا تا کہ لڑکا نجیب (بڑی شان والا) پیدا ہو، اور اس طریقہ کو “نکاح استبضاع” کہا جاتا تھا۔ (1) اور ایک اور (تیسرا) طریقہ یہ تھا کہ چند آدمیوں کی ٹولی (روایت میں “رھط” کا لفظ ہے جو دس سے کم کے لئے بولا جاتا ہے) ایک عورت کے پاس پہنچتی اور ان میں سے ہر ایک اس سے صحبت کرتا (اور یہ سب باہمی رضامندی سے ہوتا) پھر اگر وہ عورت حاملہ ہو جاتی اور بچہ ہو جاتا تو چند روز کے بعد وہ ان سب آدمیوں کو بلواتی (اور دستور کے مطابق) کسی کے لئے بھی اس کی گنجائش نہ ہوتی کہ وہ نہ آئے۔ اس لئے سب ہی پہنچ جاتے تو وہ کہتی کہ جو کچھ ہوا تھا وہ تمہیں معلوم ہے اور (اس کے نتیجہ میں) میرے یہ بچہ پیدا ہوا اور پھر وہ ان مٰں سے جس کو چاہتی نامزد کر کے کہتی اے فلانے یہ تیرا لڑکا ہے۔ پھر وہ لڑکا اسی کا مان لیا جاتا تھا اور وہ آدمی انکار نہیں کر سکتا تھا۔ (یہ تیسرا طریقہ تھا) اور چوتھا طریقہ یہ تھا کہ ایک عورت سے بہت سے لوگوں کا جنسی تعلق ہوتا۔ کسی کے لئے کوئی روک ٹوک نہ ہوتی، یہ پیشہ ور لونڈیاں ہوتی تھیں، ان کے گھروں کے دروازے پر بطور علامت کے ایک نشان نصب ہوتا تھا جو کوئی بھی چاہتا ان کے پاس پہنچ جاتا، تو جب ان میں سے کسی کو حمل رہ جاتا اور پھر بچہ پیدا ہوتا تو اس سے تعلق رکھنے والے یہ سب لوگ جمع ہو جاتے اور قیافہ شناسی کے ماہرین بلائے جاتے، پھر وہ (اپنی قیافہ شناسی سے) اس بچہ کو جس کے نطفہ سے سمجھتے اسی کا لڑکا قرار دے دیتے اور بس وہ اس سے چپک جاتا۔ اور اسی کا بیٹا کہا جاتا، وہ اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ (ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے زمانہ جاہلیت کے یہ سب طریقے بیان کرنے کے بعد فرمایا) پھر جب حضرت محمدﷺ اللہ کی طرف سے دینِ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ نے جاہلیت کے ان سب (شرمناک اور حیاسوز) مروج طریقوں کو یکسر مٹا دیا۔ اور نکاح و شادی کا بس وہی (پاکیزہ) طریقہ رہ گیا جو اب جاری ہے۔ (صحیح بخاری) تشریح بسم اللہ الرحمن الرحیم نکاح و ازدواج اور اس کے متعلقات نکاح اور شادی کا طریقہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عربوں میں مرد و عورت کے باہمی تعلق اور اولاد سے متعلق کئی طریقے اور ضابطے رائج تھے، ان میں سے بعض نہایت گندے اور شرمناک تھے، ایک طریقہ اصولی طور پر صحیح اور شریفانہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کی اصلاح فرما کر بس اسی کو باقی رکھا اور دوسرے سارے طریقے یکسر ختم فرما دئیے اور ان کو سنگین گناہ اور جرم قرار دیا۔ آپ ﷺ نے اپنے طرزِ عمل اور ارشادات سے نکاح و شادی کا جو عمومی طریقہ مقرر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ مرد کی طرف سے عورت کے اولیاء اور سرپرستوں کو پیام دیا جائے اور رشتہ کی طلب و استدعا کی جائے، وہ اگر رشتہ کو مناسب اور قرینِ مصلحت سمجھیں تو عورت کے عاقلہ بالغہ اور صاحب رائے ہونے کی صورت میں اس کی مرضی معلوم کر کے اور کم سن ہونے کی صورت میں اپنی مخلصانہ اور خیرخواہانہ صوابدید کے مطابق رشتہ منظور کر لیں اور نکاح کر دیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہی طریقہ فطرت و حکمت کے عین مطابق ہے۔ نکاح و شادی کی اصل ذمہ داریاں چونکہ منکوحہ عورت پر عائد ہوں گی اور وہی ساری عمر کے لئے ان کی پابند ہو گی اس لئے اس کی رائے اور رضامندی لینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، اور اس کے نفس کا اصل مختار خود اسی کو قرار دیا گیا ہے۔ ولی اور سرپرست کو حق نہیں ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف کسی سے اس کا نکاح کر دے۔ اسی کے ساتھ عورت کے شرف نسوانیت کی رعایت سے ہدایت فرمائی گئی کہ معاملہ اولیاء اور سرپرستوں ہی کے ذریعہ طے ہو اور وہی عقد و نکاح کرنے والے ہوں۔ یہ بات عورت کے مقامِ شرف کے خلاف ہے کہ کسی کی بیعی بننے کا معاملہ وہ خود براہِ راست طے کرے اور خود سامنے آ کر اپنے کو کسی کے نکاح میں دے۔ علاوہ ازیں چونکہ کسی لڑکی کے نکاح کے کچھ اثرات اس کے خاندان پر بھی پڑتے ہیں اس وجہ سے بھی اولیاء (خاندانی بزرگوں) کو کسی درجہ میں دخیل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ویہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سارا معاملہ عورت ہی کے ہاتھ میں دے دیا جائے اور اولیاء بےتعلق رہیں تو اس کا بہت زیادہ امکان ہے کہ بےچاری عورت دھوکا کھا جائے اور کسی کے دامِ فریب میں آ کر خود اپنے حق میں غلط فیصلہ کر لے، ان سب وجوہ کی بناء پر ضروری قرار دیا گیا ہے کہ (خاص استثنائی صورتوں کے علاوہ) نکاح و شادی اولیاء ہی کے ذریعہ ہو۔ نکاح و شادی کے سلسلہ میں ایک رہنمائی یہ بھی فرمائی گئی ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اگر دیکھی بھالی بالکل نہ ہو تو اگر وہ سکے تو پیام دینے سے پہلے ایک نظر دیکھ لیا جائے تا کہ بعد میں کوئی خدشہ پیدا نہ ہو۔ یہ مقصد ایک درجہ میں قابلِ اعتماد عورتوں کے دیکھنے سے بھی پورا ہو سکتا ہے۔ ایک ہدایت یہ بھی فرمائی گئی کہ اگر کسی عورت سے نکاح کے لئے کسی دوسرے مرد کی طرف سے پیام دیا جا چکا ہے تو جب تک اس کے لئے انکار نہ ہو جائے اور بات ٹوٹ نہ جائے اس کے لئے پیام نہ دیا جائے۔ اس کی حکمت ظاہر ہے۔ نکاح کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ خفیہ نہ ہو، کچھ لوگں کی موجودگی میں اعلانیہ ہو جو اس کے شاہد اور گواہ ہوں، بلکہ بہتر بتایا گیا ہے کہ مسجد میں ہو، اسی طرح نکاح کے موقعہ پر خطبہ بھی مسنون ہے۔ مرد کی طرف سے عورت کے لئے مہر کا نذرانہ بھی ضروری قرار دیا گیا ان سب امور اور نکاح کے دوسرے متعلقات سے متعلق احادیث ذیل میں پڑھئے! تشریح ..... حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس روایت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کیسی گندگیوں اور تاریکیوں میں تھے، اور پھر آپ ﷺ کی ہدایت اور تعلیم و تربیت نے ان کو آسمانِ ہدایت کا چاند اور سورج بنا دیا۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ رَسُوْلِ الرَّحْمَةِ مُخْرِجِ النَّاسِ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِكَ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ

1694Maarif-ul-Hadith

جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کو ایک نظر دیکھ لینا گناہ نہیں ، بلکہ بہتر ہے

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا. (رواه احمد وابن ماجه)

حضرت محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے دل میں کسی عورت کے لئے نکاح کا پیام دینے کا خیال ڈالے تو اس کے واسطے گناہ نہیں ہے کہ ایک نظر اس کو دیکھ لے۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)

1695Maarif-ul-Hadith

جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کو ایک نظر دیکھ لینا گناہ نہیں ، بلکہ بہتر ہے

عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لَيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ قُلْتُ لاَ. قَالَ: فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا. (رواه احمد والترمذى والنسائى وابن ماجه)

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک خاتون کے لئے نکاح کا پیام دیا (یا پیام دینے کا ارادہ کیا) تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ: تم نے اس کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:، ایک نظر دیکھ لو، یہ اس مقصد کے لئے زیادہ مفید ہو گا کہ تم دونوں میں الفت و محبت اور خوشگواری رہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن نسائی، ابن ماجہ) تشریح رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات کا مقصد یہی ہے کہ نکاح و شادی کا مسئلہ بہت اہم ہے ساری عمر کے لئے فیصلہ اور معاہدہ ہے، یہ مناسب نہیں کہ یہ معاملہ ناواقفی و بےخبری کے ساتھ اندھیرے میں ہو، بلکہ واقفیت اور بصیرت کے ساتھ ہونا چاہئے۔ قابلِ اعتماد لوگوں اور خاص کر عورتوں کے ذریعہ بھی صحیح معلومات حاصل ہو سکتے ہیں، جو بھی ذریعہ اختیار کیا جائے اس کا بہرحال لحاظ رکھا جائے کہ عورت کو یا اس کے گھر والوں کو گرانی اور ناگواری نہ ہو، بلکہ اچھا ہے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو، سنن ابی داؤد میں حضرت جابر ؓ کا یہ بیان مروی ہے کہ میں نے ایک عورت کے لئے نکاح کا پیام دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت کے مطابق میں چھپ چھپ کر اس کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس میں کامیاب ہو گیا پھر میں نے اس سے نکاح کر لیا۔

1696Maarif-ul-Hadith

پیام پر دوسرا پیام نہ دیا جائے

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ، أَوْ يَتْرُكَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ اپنے دوسرے بھائی کے پیامِ نکاح کے مقابلہ میں اپنا پیام دے، تا آنکہ وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے اور بات ختم ہو جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کے لئے اپنا پیام دے دیا ہے تو جب تک ادھر کا معاملہ ختم نہ ہو جائے کسی دوسرے آدمی کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنا پیام وہیں کے لئے دے، ظاہر ہے کہ یہ بات پہلے پیام دینے والے آدمی کے لئے ایذاء اور ناگواری کا باعث ہو گی اور ایسی باتوں سے فتنہ پیدا ہو سکتے ہیں۔

1697Maarif-ul-Hadith

نکاح کے معاملے میں عورت کی مرضی اور ولی کا مقام

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا. (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: شوہر دیدہ عورت کا اپنے نفس کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق اور اختیار ہے اور باکرہ (کنواری) کے باپ کو بھی چاہئے کہ اس کے نکاح کے بارے میں اس کی اجازت حاصل کرے اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ (صحیح مسلم)

1698Maarif-ul-Hadith

نکاح کے معاملے میں عورت کی مرضی اور ولی کا مقام

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ولاَ تُنْكَحُ الْاَيَّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ. وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالَوْا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: شوہر دیدہ عورت کا اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کر لیا جائے اور باکرہ (کنواری) لڑکی کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہؓ نے عرض کیا اس کی اجازت کا طریق کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: (دریافت کرنے پر) اس کا خاموش ہو جانا (اس کی اجازت سمجھا جائے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایّم کے اصل معنی ہیں بےشوہر والی عورت، لیکن اس حدیث میں اس سے مراد ایسی عورت ہے جو شادی اور شوہر کے ساتھ رہنے کے بعد بےشوہر ہو گئی ہو، خواہ شوہر کا انتقال ہو گیا ہو یا اس نے طلاق دے دی ہو۔ (اسی کو حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی اوپر والی حدیث میں “ثیّب” کہا گیا ہے) ایسی عورت کے بارے میں ان دونوں حدیثوں میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اس کی رائے اور مرضی معلوم کئے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے، یعنی یہ ضروری ہے کہ وہ زبان سے یا واضح اشارہ سے اپنی رضامندی ظاہر کرے، اس حدیث کے لفظ “حتى تستامر” کا یہی مطلب ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں “بکر سے مراد وہ کنواری لڑکی ہے جو عاقل بالغ تو ہو لیکن شوہر دیدہ نہ ہو۔ اس کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اس کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، لیکن ایسی لڑکیوں کو حیا و شرم کی وجہ سے چونکہ زبان یا اشارہ سے اجازت دینا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے دریافت کرنے اور اجازت مانگنے پر ان کی خاموشی کو بھی اجازت قرار دے دیا گیا ہے۔ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ کسی عاقل بالغ عورت کا نکاح خواہ وہ شوہر دیدہ ہو یا کنواری ہو، اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر اس کا ولی نہیں کر سکتا، ہاں اگر کوئی لڑکی صغیر السن ہے، ابھی نکاح شادی کے بارے میں سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں ہے اور کئی بہت اچھا رشتہ سامنے ہے اور خود لڑکی کی مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا نکاح کر دیا جائے تو ولی (جو خیرخواہی کا ذمہ دار ہے) اپنی خیرخواہانہ صوابدید کے مطابق نکاح کر سکتا ہے۔ صدیق اکبر ؓ نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا نکاح حضور ﷺ سے صرف اپنی صوابدید کے مطابق اس وقت کر دیا تھا جب کہ ان کی عمر ۶۔۷ سال کی تھی۔

1699Maarif-ul-Hadith

نکاح کے معاملے میں عورت کی مرضی اور ولی کا مقام

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ. (رواه احمد والترمذى وابو داؤد وابن ماجه والدارمى)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ولی کے بدونِ نکاح نہیں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی) تشریح حدیث کا مقصد و مدعا بظاہر یہ ہے کہ نکاح ولی ہی کے ذریعہ ہونا چاہئے۔ عورت کے لئے یہ ٹھیک نہیں ہے کہ وہ خود اپنا نکاح کرے۔ یہ اس کے شرف اور مقامِ حیا کے بھی خلاف ہے اور اس سے خرابیاں پیدا ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ ہاں جیسا کہ مندرجہ بالا حدیثوں سے معلوم ہو چکا اپنے بارے میں اصل اختیار عورت ہی کا ہے۔ ولی اس کی مرضی اور رائے کے خلاف اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔

1700Maarif-ul-Hadith

ضروری ہے کہ نکاح چوری چھپے نہ ہو اعلانیہ ہو

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ. (رواه الترمذى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نکاح بالاعلان کیا کرو اور مسجدوں میں کیا کرو اور دف بجوایا کرو۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ نکاح چوری چھپے نہ ہو اوس میں بڑے مفاسد کا خطرہ ہے لہذا بالاعلان کیا جائے۔ اور اس کے لئے آسان اور بہتر یہ ہے کہ مسجد میں کیا جائے، مسجد کی برکت بھی حاصل ہو گی اور لوگوں کو جمع کرنے جوڑنے کی زحمت بھی نہ ہو گی، گواہوں شاہدوں کی شرط بھی آپ سے آپ پوری ہو جائے گی۔ حضور ﷺ کے زمانے میں نکاح و شادی کی تقریب کے موقع پر دف بجانے کا رواج تھا اور بلاشبہ اس تقریب کا تقاضا ہے کہ بالکل خشک نہ ہو، کچھ تفریح کا بھی سامان ہو اس لئے آپ ﷺ نے دَف بجانے کی اجازت بلکہ ایک گونہ ترغیب دی۔