Maarif-ul-Hadith 1699

کتاب المعاملات والمعاشرت

1699Maarif-ul-Hadith

نکاح کے معاملے میں عورت کی مرضی اور ولی کا مقام

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ. (رواه احمد والترمذى وابو داؤد وابن ماجه والدارمى)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ولی کے بدونِ نکاح نہیں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی) تشریح حدیث کا مقصد و مدعا بظاہر یہ ہے کہ نکاح ولی ہی کے ذریعہ ہونا چاہئے۔ عورت کے لئے یہ ٹھیک نہیں ہے کہ وہ خود اپنا نکاح کرے۔ یہ اس کے شرف اور مقامِ حیا کے بھی خلاف ہے اور اس سے خرابیاں پیدا ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ ہاں جیسا کہ مندرجہ بالا حدیثوں سے معلوم ہو چکا اپنے بارے میں اصل اختیار عورت ہی کا ہے۔ ولی اس کی مرضی اور رائے کے خلاف اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔