Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 86 of 106

1701Maarif-ul-Hadith

نکاح کے لئے شہادت ضروری

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَغَايَا الَّتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو عورتیں اپنا نکاح شاہد گواہ کے بغیر (چوری چھپے) کر لیں وہ حرام کار ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث کو امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مرفوعاً بھی روایت کیا ہے جس طرح کہ یہاں نقل کیا گیا ہے، اور موقوفاً بھی روایت کیا ہے، یعنی یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نہیں بلکہ خود حضرت ابنِ عباس کا قول اور فتویٰ ہے۔ اور سند کے لحاظ سے اسی کو ترجیح دی ہے۔ لیکن اگر یہ حضرت ابنِ عباسؓ کا قول بھی ہو تو ظاہر ہے کہ وہ حضور ﷺ سے سنے بغیر ایسی بات اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے فقہا اور محدثین کے مسلمہ اصول پر یہ مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔ اسی وجہ سے اُمت کے قریب قریب تمام ائمہ مجتہدین اس پر متفق ہیں کہ شہادت نکاح کے شرائط میں سے ہے جس کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔

1702Maarif-ul-Hadith

خطبہ نکاح

عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}، {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}. (فى شرح السنة عن ابن مسعود فى خطبة الحاجة من النكاح وغيره)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو (نکاح وغیرہ) ہر اہم ضرورت (اور مواقع) کے لئے یہ خطبہ تعلیم فرمایا۔ “الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ تا فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا” (ساری حمد و ستائش اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، ہم (اپنی سب ضرورتوں اور تمام مقاصد میں) اسی سے مدد کے طالب اور خواستگار ہیں، اور اسی سے (اپنے قصوروں اور گناہوں کی) معافی اور مغفرت کی استدعا کرتے ہیں۔ اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اسی اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ جس کو ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جس کے لئے اللہ ہدایت سے محرومی کا فیصلہ فرما دے اس کو کوئی ہدایت یاب نہیں کر سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پرستش کے لائز نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول برحق ہیں۔اے ایمان والوں! اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم باہم سوال کرتے ہو اور قرابتوں کی حق تلفی سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم اس کے فرمانبردار ہو۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ سیدھی بات بولو، وہ تمہارے اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور جو بندہ حکموں پر چلے اللہ اور اس کے رسول کے تو اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح حضرت ابن مسعود ؓ کا روایت کردہ یہ خطبہ جیسا کہ روایت میں تصریح ہے صرف نکاح کے موقع کے ہی لئے نہیں ہے، بلکہ عمومی قسم کا ہے، اس کا مضمون بہت ہی جامع ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ الہامی ہے، اس کی بعض روایات میں ایک دو لفظوں کا اضافہ بھی ہے۔ یہاں جو الفاظ نقل کئے گئے ہیں وہ سنن ابی داؤد کی روایت کے ہیں، ابن ماجہ کی روایت میں شروع میں “الْحَمْدُ لِلَّهِ” کے بعد “نَحْمَدُهُ” کا اضافہ ہے۔ اسی طرح “وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا” کے بعد “وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا” کا بھی اضافہ ہے۔ آخر میں قرآن پاک کی تین آیتیں ہیں۔ ایک سورہ نساء کی پہلی آیت کا آخری حصہ ہے۔ (1) “وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا” اس کے بعد دوسری آیت سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۲ ہے “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ” الاية . اس کے بعد تیسری آیت سورہ احزاب کی آیت ۷۰ ہے۔ “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا” الاية کسی بھی اہم موقع پر ایک بندہ کو اللہ کے حضور میں اپنی بندگی اور نیاز مندی و وفاداری کے اظہار کے لئے بارگاہِ خداوندی میں جو کچھ عرض کرنا چاہئے وہ سب اس خطبہ کے ابتدائی حصہ میں آ گیا ہے، اور آخر میں جو تین آیتیں ہیں وہ بندہ کی ہدایت کے لئے بالکل کافی ہیں۔ یہ خطبہ عقد نکاح سے پہلے پڑھا جاتا ہے بلکہ اسی مقدس خطبہ سے نکاح کی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔ افسوس یہ خطبہ پڑھنا بھی اب ایک رسم بن کر رہ گیا ہے، ورنہ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی نصیحت اور یاد دہانی کی نکاح کے فریقین کو اور سب ہی کو ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس خطبہ ہی پر عمل نصیب فرما دے تو دنیا اور آخرت میں اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی کے لئے کافی ہے۔

1703Maarif-ul-Hadith

مہر کی اہمیت اور اس کا لزوم

عَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مِنَ الْمَهْرِ أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ. (رواه الطبرانى فى الاوسط والصغير)

میمون کردی اپنے والد سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس شخص نے کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں اس حق مہر کی ادائیگی کا ارادہ ہی نہیں ہے تو قیامت میں اللہ کے حضور میں زناکار کی حیثیت سے پیش ہو گا۔ (معجم اوسط ومعجم صغیب للطبرانی) تشریح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے جو نکاح کے سلسلہ میں سب سے پہلے صحیح بخاری کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے معلوم ہو چکا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں نکاح کا جو شریفانہ طریقہ عربوں میں رائج تھا اس میں بھی مہر مقرر کیا جاتا تھا یعنی نکاح کرنے والے مرد کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ بیوی کو ایک معین رقم ادا کرنا اپنے ذمہ لے۔ اسلام میں اس طریقہ کو برقرار رکھا گیا۔ یہ مہر اس بات کی علامت ہے کہ کسی عورت سے نکاح کرنے والا مرد اس کا طالب اور خواستگار ہے اور وہ اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق اس کو مہر کا نذرانہ پیش کرتا ہے یا اس کی ادائیگی اپنے ذمہ لیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مہر کی کوئی خاص مقدار معین نہیں فرمائی کیوں کہ نکاح کرنے والوں کے حالات اور ان کی وسعت و استطاعت مختلف ہو سکتی ہے۔ البتہ خود آنحضرتﷺ نے اپنی صاحبزادیوں کا مہر پانچ سو درہم (یا اس کے قریب) مقرر فرمایا اور آپ ﷺ کی اکثر ازواجِ مطہرات کا مہر بھی یہی تھا۔ لیکن حضور ﷺ کے زمانہ میں اور آپ ﷺ کے سامنے اس سے بہت کم اور بہت زیادہ بھی مہر باندھے جاتے تھے۔ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں اور ازواجِ مطہرات والے مہر کی پابندی ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ مہر کے بارے میں قرآن وو حدیث کی ہدایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض فرضی اور رسمی بات اور زبانی جمع خرچ کے قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہے، الا یہ کہ بیوی خود ہی وصول کرنا نہ چاہے۔ قرآن پاک میں صراحۃً ارشاد ہے۔ “وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً” یعنی اپنی بیویوں کے مہر خوش دلی سے ان کو ادا کرو۔ (النساء ع: ۱) ..... اور رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں جو تاکید و تشدید فرمائی ہے وہ آگے درج ہونے والی بعض حدیثوں سے معلوم ہو گی۔ تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ جو شخص اداء مہر کے بارے میں شروع ہی سے بدنیت ہے، اس نے مہر کا اقرار تو کر لیا ہے لیکن دن میں یہ ہے کہ یہ بس زبانی بات ہے، دینا لانا کچھ نہیں ہے تو اس کے نکاح میں اتنا بڑانقص اور وہ اس درجہ کا گنہگار ہے کہ قیامت میں وہ زنا کا مجرم قرار دیا جائے گا۔ قریب قریب اسی مضمون کی اس کے علاوہ بھی متعدد حدیثیں مختلف کتب حدیث کے حوالہ سے کنز العمال میں نقل کی گئی ہیں۔ ان حدیثوں میں ایسے لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید اور آگاہی ہے جو مہر کو صرف زبانی اور رسمی بات سمجھتے ہوئے اتنی بڑی رقم کے مہر مقرر کر لیتے ہیں جن کی ادائیگی کا کوئی امکان ہی نہیں ہوتا۔

1704Maarif-ul-Hadith

مہر کی اہمیت اور اس کا لزوم

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ. (رواه مسلم)

ابو سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کا مہر کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے لئے جو مہر مقرر فرمایا تھا وہ ساڑھے بارہ اوقیہ تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح ایک اوقیہ چالیس رہم کے برابر ہوتا تھا اس حساب سے ساڑھے بارہ اوقیہ کے پورے پانچ سو درہم ہوتے تھے۔ یہ حساب اور تشریح خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ اس زمانے میں پانچ سو درہم کی رقم اچھی خاصی ہووتی تھی اس سے کم و بیش چالیس پچاس بکریاں خریدی جا سکتی تھیں۔

1705Maarif-ul-Hadith

مہر کی اہمیت اور اس کا لزوم

عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عنه أَرْبَعَةَ آلاَفٍ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ. (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں (اور اپنے شوہر کے ساتھ انہوں نے مکہ سے ملک حبشہ کو ہجرت کی تھی، وہیں حبشہ میں) ان کے شوہر عبیداللہ بن جحش کا انتقال ہو گیا تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کر دیا اور حضور ﷺ کی طرف سے چار ہزار درہم مہر باندھ کے خود ہی ان کو ادا کر دیا اور شرحبیل بن حسنہ صحابی کے ساتھ ان کو حضور ﷺ کے پاس بھیج دیا۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح یہ ام ؓحبیبہؓ ابو سفیانؓ کی بیٹی تھیں جو فتح مکہ تک کفارِ مکہ کے لیڈر اور حضور ﷺ کے سخت ترین دشمن رہے، پھر ہجرت کے آٹھویں سال فتح مکہ کے موقع پر ان کو قبولِ اسلام کی توفیق ہوئی لیکن ان کی بیٹی بہت پہلے دعوت اسلام کے ابتدائی دور ہی میں اسلام قبول کر چکی تھیں ان کے شوہر عبیداللہ بن جحش نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا، پھر جب مکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کو حد سے زیادہ ستایا گیا تو حضور ﷺ کی اجازت اور ایماء سے بہت سے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ام حبیبہؓ اور ان کے شوہر نے بھی ہجرت کی۔ پھر اللہ کی شان کچھ مدت کے بعد شوہر عبیداللہ بن جحش نے اسلام چھوڑ کر نصرانی مذہب اختیار کر لیا جو عام اہلِ حبشہ کا مذہب تھا اور شراب وغیرہ کثرت سے پینے لگے، پھر اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا لیکن ام حبیبہؓ استقامت کے ساتھ برابر اسلام پر قائم رہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو جب عبیداللہ بن جحش کے انتقال کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے ام حبیبہؓ کی قدردانی و دلداری اور دوسرے اہم مصالح کے پیش نظر ان کو اپنے نکاح میں لے لینے کا ارادہ کیا اور شاہ حبشہ نجاشی کے پاس قاصد بھیجا کہ ام حبیبہؓ کو میری طرف سے نکاح کا پیام دیا جائے۔ نجاشی نے ابرھہ نامی اپنی باندی کے ذریعہ ام حبیبہؓ کو پیام دیا۔ انہوں نے بہت ہی مسرت اور ممنونیت کے ساتھ اس کو منظور کر لیا، اور مہاجر مسلمانوں میں سے اپنے ایک قریبی عزیز خالد بن سعید بن العاصی کو اپنا وکیل بنا دیا اور جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی کی اس زیرِ تشریح روایت میں ہے نجاشی نے حبشہ ہی میں ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کر دیا اور خود ہی آپ ﷺ کی طرف سے مہر بھی نقد ادا کر دیا۔ ابو داأد کی اس روایت میں مہر کی مقدار چار ہزار درہم بتائی گئی ہے لیکن مستدرک حاکم وغیرہ کی روایت میں چار ہزار دینار ذکر کی گئی ہے، اور اصحابِ نقل و روایت نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ بہرحال ازواجِ مطہرات میںٰ سے حضرت ام حبیبہ ؓ کا مہر دوسری امہات المؤمنین کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا، لیکن یہ حضور ﷺ نے نہیں بلکہ نجاشی نے مقرر کیا تھا جو ایک بادشاہ تھا اور یہی اس کی شان اور حیثیت کے لائق تھا، اور جیسا کہ حدیث میں ہے اس نے خود ہی ادا بھی کیا، روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت کے چھٹے یا ساتویں سال کا ہے۔ نجاشی، حبشہ کے بادشاہوں کا لقب تھا، اس نجاشی کا اصل ن ام اصحمہ تھا وہ مہاجرین کے ذریعہ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت و تعلیم سے واقف ہوا تھا۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ۶؁ھ یا ۹؁ھ میں اس کا انتقال ہوا، رسول اللہ ﷺ کو وحی سے اس کی اطلاع ہوئی، آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو اس کی اطلاع دی اور مدینہ طیبہ میں اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی۔ رضى الله تعالى عنه وارضاه

1706Maarif-ul-Hadith

نکاح کے بعد مبارک باد اور دعا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی ایسے آدمی کو جس نے شادی کی ہوتی مبارک باد دیتے تو یوں فرماتے، اللہ تم کو مبارک کرے تم دونوں پر برکت نازل فرمائے اور خیر اور بھلائی میں تم دونوں کو ہمیشہ متفق اور مجتمع رکھے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح دنیا کی مختلف قوموں اور گروہوں میں شادی اور نکاح کے موقع پر مبارک بادی کے مختلف طریقے رائج ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس موقع کے لئے اپنی تعلیم اور عمل سے یہ طریقہ مقرر فرمایا کہ دونوں کے لئے اللہ سے برکت کی دعا کی جائے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھرپور خیر اور بھلائی نصیب فرمائے اور اپنے کرم کے بادل برسائے۔

1707Maarif-ul-Hadith

نکاح کے بعد مبارک باد اور دعا

عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے یا خدمت کرنے والا غلام یا باندی خریدے تو یہ دعا کرے۔ اے اللہ! اس میں جو خیر اور بھلائی ہے اور تو نے اس کی فطرت میں جو خیر اور بھلائی رکھی ہے میں تجھ سے اس کا سائل ہوں وہ مجھے نصیب فرما۔ اور اس کے شر سے اور اس کی فطرت کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں تو اس سے میری حفاظت فرما۔ (سنن ابی داؤد) تشریح شادی اور نکاح انسان کی نفسانی شہوت کی تسکین کا ذریعہ ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ دعائیں تعلیم فرما کر اس کو بھی قرب الٰہی کا وسیلہ اور ایک نورانی عمل بنا دیا۔ (یہ دونوں دعائیں اسی سلسلہ معارف الحدیث کی “کتاب الدعوات” میں بھی گزر چکی ہیں)

1708Maarif-ul-Hadith

شادی جتنی ہلکی پھلکی اور آسان ہو اتنی ہی بابرکت ہے

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤُونَةً " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا بار کم سے کم پڑے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح ظاہر ہے کہ اس حدیث کا مقصد صرف ایک حقیقت بیان کر دینا نہیں ہے، بلکہ اس میں امت کو ہدایت اور رہنمائی دی گئی ہے کہ شادیاں ہلکی پھلکی اور کم خرچ ہوا کریں، اور بشارت سنائی گئی ہے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری شادیوں اور اس کے نتیجوں میں بڑی برکتیں ہوں گی۔ آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور خاص کر خانگی زندگی میں جو الجھنیں ہیں ان کا بہت بڑا سبب یہی ہے کہ نکاح و شادی کے بارے میں حضور ﷺ کی ان ہدایات سے انحراف کر کے ہم آسمانی برکات اور خداوندی عنایات سے محروم ہو گئے ہیں۔

1709Maarif-ul-Hadith

فاطمی جہیز

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ. (رواه النسائى)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمۃ الزہرا ؓ کو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دی تھیں، ایک پلودار چادر، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔ (سنن نسائی) تشریح ہمارے ملک کے اکثر اہلِ علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں (چادر، مشکیزہ، تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ کے نکاح کے موقع پر “جہیز” کے طور پر دی تھیں۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو “جہیز” کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور “جہیز” کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا۔ سیدہ فاطمہ ؓ کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم کے “جہیز” کا ذکر نہیں آیا، حدیث کے لفظ “جهز” کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبسگ کرنے کے ہیں۔ حضرت فاطمہ ؓ کے لئے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علیؓ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا تھا کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں۔ روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے۔ بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا۔

1710Maarif-ul-Hadith

شادی کے بعد ولیمہ

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف پر (یعنی ان کے کپڑوں پر یا جسم پر) زردی کا کچھ اثر دیکھا تو ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے کھجور کی گھٹلی کے وزن کے برابر سونے پر (یعنی اس کا مہر اتنا مقرر کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں مبارک کرے! ولیمہ کی دعوت کرو اگرچہ پوری ایک بکری کر ڈالو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اپنی حسبِ خواہش کسی عورت سے نکاح ہو جانا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور دِلی خوشی اور مسرت کی بات ہے اور اس کا حق ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اپنی دلی مسرت و شادمانی کا اظہار ہو، ولیمہ اس کی عملی شکل ہے۔ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ اس کے ذریعہ شادی کرنے والے مرد اور اس کے گھرانے کی طرف سے خوبصورتی کے ساتھ اس کا اعلان و اظہار ہو جاتا ہے کہ شادی کے اس رشتہ سے ہم کو اطمینان اور خوشی ہے اور ہم اس کو اللہ تعالیٰ کی قابلِ شکر نعمت سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز منکوحہ عورت اور اس کے گھر والوں کے لئے بڑی خوشی اور اطمینان کا باعث ہو گی اور اس سے باہمی تعلق و مودت میں اضافہ ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات اور عمل دونوں سے اس کی رہنمائی فرمائی۔ تشریح ..... حضور ﷺ کے ارشاد “أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ” کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ دل کھول کے ولیمہ کرو، چاہو تو اس ولیمہ کے لئے ایک بکری مستقل ذبح کر ڈالو۔ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب اور رفقاء کی تطییب خاطر کے لئے کبھی ایسی بےتکلفی اور خوش طبعی کی باتیں بھی فرمایا کرتے تھے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی اسی قبیل سے تھا۔ ایک بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت نے صحابہ کرامؓ کو ایسا بنا دیا تھا کہ وہ اپنی شادی نکاح کی تقریبات میں بھی حضوڑ کو شرکت کی زحمت نہیں دیتے تھے، بلکہ اطلاع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ عبدالرحمٰن بن عوف جو خواص اصحاب اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں انہوں نے خود اپنی شادی کی اور حضور ﷺ کو خبر بھی نہیں ہوئی۔ حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کے اثر کا جو ذکر ہے، اس کی حقیقت یہ سمجھنی چاہئے کہ نئی دلہنیں زعفران وغیرہ سے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں، اس کا اثر مرد کے کپڑوں یا جسم پر بھی آ جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کا اثر عبدالرحمن بن عوف پر محسوس کیا تھا۔ واللہ اعلم۔

1711Maarif-ul-Hadith

شادی کے بعد ولیمہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ أَوْلَمَ بِشَاةٍ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے نکاح پر ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسا کہ زینب بنت جحش کے نکاح کے موقع پر کیا۔ پوری ایک بکری پر ولیمہ کیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور سب بیویوں کے نکاح پر آپ ﷺ نے جو ولیمہ کی دعوت کی وہ اس سے مختصر اور ہلکے پیمانہ پر کی تھی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں صفیہ بنت شیبہ کی روایت سے یہ حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ نے بعض بیویوں کے نکاح پر جو ولیمہ کی دعوت کی تو صرف دو سیر جَو کام میں آئے اور اسی صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ کا یہ بیان مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت صفیہؓ کو اپنے نکاح میں لیا اور لوگوں کو ولیمہ کی دعوت دی تو دسترخوان پر گوشت روٹی کچھ نہیں تھا، کچھ کھجوریں تھیں اور کچھ پنیر اور مکھن تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے لئے باقاعدہ کھانے کی دعوت بھی ضروری نہیں، کھانے پینے کی جو بھی مناسب اور مرغوب چیز میسر ہو رکھ دی جائے۔ لیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہیز کی طرح ولیمہ کو بھی ایک مصیبت بنا لیا۔

1712Maarif-ul-Hadith

ولیمہ کی دعوت قبول کرنی چاہئے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی کو سلیمہ کی دعوت دی جائے تو اس کو چاہئے کہ دعوت قبول کرے اور آئے۔ (صحیح بخاری و مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ حکم دیا تھا اس وقت ولیمے صحیح قسم کے ہی ہوتے تھے اور ایسے ولیمے جب بھی اور جہاں بھی ہوں ان کے لئے یہی حکم ہے۔ ایسی مخلصانہ دعوتیں بابرکت ہیں لیکن جن ولیموں میں کھلا اسراف اور نمائش اور تفاخر ہو یا دوسری قسم کی منکرات ہوں ان کے لئے ہرگز یہ حکم نہیں ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کے ہاں کھانے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

1713Maarif-ul-Hadith

کیسے لوگوں کا کھانا نہ کھایا جائے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابہم مقابلہ کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھانے کے لئے شاندار دعوتیں کریں ان کے کھانے میں شرکت کرنے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

1714Maarif-ul-Hadith

کیسے لوگوں کا کھانا نہ کھایا جائے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اس ولیمہ کا کھانا برا کھانا ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور حاجتمندوں غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جس نے دعوت کو (بلاوجہ شرعی) قبول نہ کیا تو اس نے اللہا ور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے پہلے جز کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ جب کوئی ولیمہ کرے تو غریبوں حاجت مندوں کو نظر انداز نہ کرے ان کو ضرور دعوت دے جس ولیمہ میں ان کو نہ بلایا جائے صرف امیروں اور بڑے لوگوں کو مدعو کیا جائے اس کا کھانا اس لائق نہیں ہے کہ کھایا جائے۔ ظاہر ہے کہ ولیمہ کے علاوہ دوسری قسم کی دعوتوں کا حکم بھی یہی ہے حدیث کے دوسرے جز کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی شرعی مانع یا مجبوری نہ ہو تو مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا چاہئے۔ اس سے دلوں میں جوڑ پیدا ہوتا ہے اور قبول نہ کرنے سے دلوں میں دوری اور بدگمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لئے بلاوجہ دعوت کا قبول نہ کرنا اللہ و رسول کی مرضی اور حکم کے خلاف ہے۔

1715Maarif-ul-Hadith

مباشرت سے متعلق ہدایات اور احکام: دعا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی بیوی کے پاس جاتے وقت اللہ کے حضور میں یہ عرض کرے: “بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَ جَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا” (بسم اللہ! اے اللہ تو شیطان کے شر سے ہم کو بچا اور ہم کو جو اولاد دے اس کو بھی بچا) تو اگر اس مباشرت کے نتیجہ میں ان کے لئے بچہ مقدر ہو گا تو شیطان کبھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا اور وہ ہمیشہ شرِ شیطان سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ حدیث معارف الحدیث “کتاب الدعوات” میں بھی ذکر کی جا چکی ہے اور وہاں تشریح میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی “اشعۃ اللمعات” کے حوالہ سے ان کا یہ عارفانہ نکتہ بھی نقل کیا جا چکا ہے کہ اس حدیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگر مباشرت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی دعا نہ کی اور خدا سے غافل رہ کر جانوروں کی طرح شہوتِ نفس کا تقاضا پورا کر لیا تو ایسی مباشرت سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ شیطان کے شر سے محفوظ نہیں رہے گی۔ اس کے آگے شیخ نے فرمایا ہے کہ “اس زمانہ میں پیدا ہونے والی نسل کے احوال، اخلاق، عادات جو عام طور سے خراب و برباد ہیں اس کی خاص بنیاد یہی ہے”۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی ان ہدایات کی روشنی میں اور ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔

1716Maarif-ul-Hadith

مباشرت ایک راز ہے اس کا افشا بدترین گناہ

عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا. (رواه مسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: قیامت کے دن اللہ کے ہاں وہ آدمی بدترین درجہ میں ہو گا جو بیوی سے ہم بستری کے بعد اس کا راز فاش کرے۔ (صحیح مسلم)

1717Maarif-ul-Hadith

خلافِ وضع فطری عمل پر خدا کی لعنت ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا. (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بیوی کے ساتھ خلاف وضع فطرت عمل کرے وہ ملعون ہے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)

1718Maarif-ul-Hadith

خلافِ وضع فطری عمل پر خدا کی لعنت ہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلاً أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ. (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص کسی مرد یا عورت کے ساتھ خلاف وضع فطرت حرکت کرے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہ فرمائے گا۔ (جامع ترمذی) تشریح بےچارے حیوانات بھی جو عقل و تمیز سے محروم ہیں وہ بھی شہوت کا تقاضا خلاف فطرت طریقے سے پورا نہیں کرتے، پس جو انسان ایسا کرتے ہیں وہ حیوانوں سے بھی بدتر اور “ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ” کے مصداق ہیں۔ یہ بات قیامت اور آخرت ہی میں معلوم ہو گی کہ اللہ کی نظر کرم سے محروم ہو جانا کتنی بڑی بدبکتی ہے۔

1719Maarif-ul-Hadith

عزل

عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. (رواه البخارى ومسلم) وزاد مسلم فَبَلَغَ ذَالِكَ النَّبِيَّ فَلَمْ يَنْهَنَا.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں) جبکہ نزولِ قرآن کا سلسلہ جاری تھا، ہم لوگ (یعنی بعض اصحاب) عزل کرتے تھے (اور اس کی ممانعت میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی) اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کو اس کی اطلاع بھی ہوئی مگر آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح کبھی ایسا بھی ہو.تا ہے کہ آدمی کسی خاص وجہ سے (مثلاً بیوی کی صحت یا پہلے بچہ کی صحت کے تحفظ کے خیال سے) یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت اس کی بیوی کو حمل قرار پائے، وہ اس غرض سے ایسا کرتا ہے کہ انزال کا وقت قریب آنے پر اپنے کو بیوی سے الگ کر لیتا ہے تا کہ مادہ منویہ باہر خارج ہو جائے، اسی کو عزل کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسا کرتے تھے، اس کے بارے میں حضور ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا جس کا ذکر آگے حدیث میں آ رہا ہے اور بظاہر جس کا مفاد یہ ہے کہ یہ ممنوع اور ناجائز تو نہیں ہے لیکن اچھا بھی نہیں ہے۔ امت کے اکثر فقہا نے اس باب کی حدیثوں سے یہی سمجھا ہے اور ان کے نزدیک مسئلہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے خاص حالات اور مصالح کی وجہ سے عزل کرے تو گنجائش ہے گناہ نہیں ہے۔ لیکن فی زماننا مغربی اقوام و ممالک کی تقلید و پیروی میں بعض ملکوں میں ملکی اور قومی پیمانے پر تحدید نسل کی مہمیں جس طرح چلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نسل بڑھنے نہ پائے، اگر بڑھتی رہی تو روٹی نہ ملے گی، اس کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہی ہے، یہ وہی گمراہانہ نقطہ نظر ہے جس کی بناء پر زمانہ جاہلیت کے بعض عرب اپنے نومولود بچوں کو ختم کر دیتے تھے۔ قرآن پاک میں انہی سے فرمایا گیا ہے۔ لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ اپنے بچوں کو مفلسی اور ناداری کی وجہ سے ختم نہ کرو، ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔ اس تمہید کے بعد عزل سے متعلق مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے:

1720Maarif-ul-Hadith

عزل

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شيء لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ. (رواه مسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ایسا نہیں ہے کہ پورے مادہ منویہ ہی سے بچہ ہو۔ (یعنی غیر ارادی طور پر خارج ہونے والے ایک قطرہ سے بھی اللہ کا حکم ہو تو حمل قرار پا سکتا ہے) اور جب کسی چیز کی تخلیق کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہو جائے تو پھر کوئی چیز اس کو روک نہیں سکتی۔ (صحیح مسلم) تشریح آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ عزل کیا جائے گا تو بچہ نہیں ہوگا اگر اللہ کی مشیت ہوگی تو بچہ بہرحال پیدا ہوگا یہ مضمون آگے درج ہونے والی حدیث سے اور زیادہ واضح ہو جائے گا۔