عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ. فَقَالَ: اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا. فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ. فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا. (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری ایک باندی ہے اور وہی ہمارے گھر کا کام کاج کرتی ہے اور میں اس سے صحبت بھی کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ اس کے حمل قرار پائے (غالباً مطلب یہ تھا کہ کیا میں عزل کر سکتا ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا اگر چاہو تو عزل کرو لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس باندی کے لئے جو مقدر ہوچکا ہے وہ ضرور ہوگا کچھ دنوں کے بعد وہی آدمی آیا اور عرض کیا کہ اس باندی کے تو حمل قرار پا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو تم کو بتایا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کے رہے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا جو ارشاد نقل کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی کی طرف سے کسی چیز کے وجود کا فیصلہ ہو چکا ہے تو اس کو روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو کے رہے گا مثلا ایک آدمی اس مقصد سے کہ بیوی کے حمل قرار نہ پائے عزل کرتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کسی وقت بچہ پیدا ہونے کی ہوگی تو ایسا ہوگا کہ وہ بروقت عزل نہ کر سکے گا اور مادہ منویہ اندر ہی خارج ہوجائے گا یا وہ عزل کرے گا لیکن مادہ کا کوئی جز پہلے ہی خارج ہوجائے گا اور اس کو شعور بھی نہ ہوگا الغرض انسانی تدبیر فیل ہو گی اور ارادہ الٰہیہ پورا ہو کے رہے گا۔ واللہ اعلم۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلاَنَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ أَرْبَعاً. وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ. (رواه احمد)
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہلانا بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں ان سب نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کرلیا تو حضور ﷺ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ چار بیویاں تو رکوع اور باقیوں کو جدا کر دو۔ (مسند احمد)
تشریح
جو لوگ انسانوں کی فطرت اور ان کے مختلف طبقات کے حالات سے واقف ہیں وہ یقین کے ساتھ جانتے ہونگے کہ بہت سے آدمی اپنی طبیعت اور مزاج کے لحاظ سے اور بہت سے اپنے یا اپنی بیوی کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کی ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت نہ ہو تو اس کا بڑا خطرہ ہوگا کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائیں اسی لیے آسمانی شریعتوں میں جن میں زنا اشد حرام قرار دیا گیا ہے عام طور سے اس کی اجازت رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں خاص کر شادی شدہ آدمی کے لیے زنا اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کی سزا سنگساری ہے’ ایسی شریعت میں اگر کسی حال میں بھی تعداد ازواج کی اجازت نہ ہو تو انسان پر قانون کی یہ بہت زیادتی ہوگی جن مغربی ملکوں اور قوموں کے قانون میں تعداد ازواج کی بالکل گنجائش نہیں ہے ان میں زنا کو قانونی جواز حاصل ہے اور عمل بھی وہاں زنا کی جتنی کثرت ہے وہ کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے اسلامی شریعت نے زنا کو ختم کرنے کے لئے ایک طرف تو اس کے لیے سخت سے سخت سزا مقرر کی اور دوسری طرف مناسب شرائط کے ساتھ چار بیویاں تک کی اجازت دی ان کے علاوہ بھی بہت سے وجوہ اسباب ہیں جن کا یہی تقاضہ ہے لیکن ان کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت دنیا کی بہت سی دوسری قوموں کی طرح عربوں میں بھی بیویوں کی تعداد کا کوئی تہدیدی نہ تھا بعض لوگ دس دس اور اس سے بھی زیادہ بیویاں رکھتے تھے اسلامی شریعت میں انسانوں کی مختلف حالتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی آخری حد چار مقرر فرما دی گئی۔
بیویوں کے ساتھ برتاؤ میں عدل و مساوات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی آدمی کی دو یا زیادہ بیویاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ عدل و مساوات کا برتاؤ نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اسکا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا۔ (جامع ترمذی سنن ابی داؤد سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند دارمی)
تشریح
اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس کے لیے بطور فریضہ کے لازم کیا گیا ہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے کسی کے ساتھ ادنیٰ بے انصافی نہ ہو قرآن مجید میں سورہ نساء کی جس آیت میں چار تک کی اجازت دی گئی ہے اس میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے “وَإِنْ لَّمْ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً” یعنی اگر تم ایک سے زیادہ بیویوں سے نکاح کرنے کی صورت میں عدل پر قائم نہ رہ سکو اور ہر ایک کے ساتھ یکساں برتاؤ نہ کر سکو تو بس ایک ہی بیوی پر قناعت کرو ایک سے زیادہ نکاح مت کرو۔
بیویوں کے ساتھ عدل نہ کرنے والے شہروں کو آخرت میں جو خاص رسوا کن عذاب ہوگا رسول اللہ ﷺ نے اس کا بھی ذکر فرمایا تاکہ لوگ اس معاملے میں ڈرتے رہیں ہاں دل کے ملان پر انسان کا اختیار نہیں لیکن معاملہ اور برتاؤ میں فرق نہ ہونا چاہیے۔
تشریح ..... دنیا کے گناہوں اور آخرت کی سزاؤں میں جومناسب اورمشابہت ہوگی یہ بھی اس کی ایک مثال ہیں وہ معاملہ اور برتاؤ میں ایک بیوی کی طرف جھکتا تھا قیامت ہوگا کہ اسکا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا اور سب اس کو اس حال میں دیکھیں گے اللہ کی پناہ کیسا منظر ہوگا اور کیسی رسوائی ہوگی۔
بیویوں کے ساتھ برتاؤ میں عدل و مساوات
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سب بیویوں کے ہاں باری باری رہتے تھے اور پورے عادل کا برتاؤ فرماتے تھے اور اس کے ساتھ اللہ سے عرض کرتے تھے کہ اے میرے اللہ یہ میری تقسیم ہے ان معاملات میں اور اس عملی برتاؤ میں جو میرے اختیار میں ہیں پس میری سرزنش اور محاسبہ نہ فرما دل کے اس معاملے میں جو تیرے ہیں میرے اختیار میں نہیں۔ (جامع ترمذی سنن ابی داؤد سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند الدارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جہاں تک رہن سہن اور عملی برتاؤ کا تعلق ہے اس میں رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مثالی اور کامل عدل فرماتے تھے جو معاملہ اور برتاؤ کیسی ایک کے ساتھ تھا وہ سب کے ساتھ تھا لیکن قلبی محبت اور دل کا میلان ایسی چیز ہے جس پر کسی بشر کا قابل نہیں آپ ﷺ کا بھی قابو نہیں تھا اس کا حال یکساں نہیں تھا اس کے لیے آپ ﷺ اللہ تعالی کے حضور میں اس طرح معذرت فرماتے تھے کہ اے اللہ یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے آپ کے اختیار میں ہے اس پر مواخذہ اور محاسبہ نہ ہو یہ آپ ﷺ کا کمال عبدیت تھا ورنہ قرآن مجید میں فرما دیا گیا ہے ..... “لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”
طلاق اور عدت: طلاق سخت نا پسندیدہ فعل
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبْغَضُ الْحَلاَلِ إِلَى اللَّهِ الطَّلاَقُ. (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے حلال اور جائز چیزوں میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ مبغوض طلاق ہے۔ (سنن ابی داود)
تشریح
جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے نکاح اور شادی کا مقصد یہ ہے کہ مردوعورت یہ رشتہ قائم کرکے اور باہم وابستہ ہوکر عفت و پاکبازی کے ساتھ مسرت و شادمانی کی زندگی گزار سکیں اور جس طرح وہ خود کسی کی اولاد ہیں اسی طرح ان سے بھی اولاد کا سلسلہ چلے اور وہ اولاد ان کے لیے دل اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اور آخرت میں حصول جنت کا وسیلہ بنے اور ان مقاصد کے لیے ضروری ہے کہ دونوں میں محبت اور خوشگواری کا تعلق رہے رسول اللہ ﷺ نے شوہروں اور بیویوں کو باہم برتاؤ کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں ان کا محور اور مرکزی نقطہ یہی ہے اس کے باوجود کبھی ایسے حالات ہوجاتے ہیں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان سخت تلخی اور ناگواری پیدا ہوجاتی ہے اور ساتھ رہنا بجائے راحت و مسرت کے مصیبت بن جاتا ہے ایسے وقت کے لئے بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف تعلیم و ترغیب یہی ہے کہہ ۃروصو دونوں ناگواریوں کو جھیلیں نباہنے اور تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں لیکن آخری چارہ کار کے طور پر طلاق کی بھی اجازت دی گئی ہے اگر کسی حالت میں بھی طلاق اور علیحدگی کی اجازت نہ ہو تو پھر یہ تعلق اور رشتہ دونوں کے لیے عذاب بن سکتا ہے پھر طلاق کے سلسلے میں تفصیلی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ طلاق اور اس کے ذریعے شوہر و بیوی کے تعلقات کا ٹوٹنا اللہ تعالیٰ کو بےحد ناپسند ہے لہذا جہاں تک ممکن ہو اس سے بچ نہیں چاہیے نا مرد خون یہ اقدام کرے نو عورت اس کا مطالبہ کرے بس انتہائی مجبوری کی صورت ہی میں ایسا کیا جائے جس طرح کیسی وضو میں بڑا فساد پیدا ہوجانے کی صورت میں آپریشن گوارا کیا جاتا ہے۔
پھر اس طلاق اور علیحدگی کا طریقہ بھی بتلایا گیا ہے کہ شوہر طہر کی حالت میں یعنی جن دنوں میں عورت کی ناپاکی کی خالص حالت نہ ہو صرف ایک رجعی طلاق دے تاکہ زمانہ عدت میں رجعت یعنی رجوع کر لینے کی گنجائش رہے پھر اگر شوہر کو رجوع کرنے کا فیصلہ نہ کر سکے تو عدت کی مدت گزر جانے دے اس سے رجعت کی گنجائش تو نہ رہے گی لیکن دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کا رشتہ قائم ہو سکے گا۔
بیک وقت تین طلاق دینے کو تو ناجائز اور سخت گناہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہوگا لیکن متفرق اوقات میں تین طلاقیں دینے کو بھی سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اس کی یہ سزا اس دنیا ہی میں مقرر کی گئی ہے کہ اگر وہ شوہر اپنی اس مطلقہ بیوی سے پھر نکاح کرنا چاہے تو نہیں کر سکے گا جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد کے نکاح میں آکر اس کی زیر صحبت نہ رہی ہو پھر یا تو اس کے انتقال کرجانے سے بیوہ ہو گئی ہو یا اس نے بھی طلاق دے دی ہو۔
الغرض صرف اسی صورت میں عدت گزر جانے کے بعد ان دونوں کا دوبارہ نکاح ہو سکے گا یہ سخت پابندی دراصل شوہر کو تین طلاق دینے ہی کی سزا ہے اس تمہید کے بعد اس سلسلے کی چند احادیث ذیل میں پڑھئے:
طلاق اور عدت: طلاق سخت نا پسندیدہ فعل
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ , وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ. (رواه الدار قطنى)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ اللہ تعالی نے روئے زمین پر کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جو غلاموں اور باندیوں کو آزاد کرنے سے زیادہ اللہ تعالی کو محبوب اور پسندیدہ ہوں اور روئے زمین پر کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جو طلاق دینے سے زیادہ اللہ تعالی کو مبغوض اور ناپسندیدہ ہو۔ (سنن دارقطنی)
طلاق اور عدت: طلاق سخت نا پسندیدہ فعل
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاَقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد وابن ماجة والدارمى)
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کی جو عورت اپنے شوہر سے کسی سخت تکلیف کے بغیر طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (مسنداحمد جامع ترمذی سنن ابی داؤد سنن ابن ماجہ مسند دارمی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی عورت کو کسی مرد کے ساتھ رہنے میں کوئی واقعی زیادہ تکلیف ہو اور وہ طلاق طلب کرے تو اس کے لیے یہ وعید نہیں ہے ہاں اگر بغیر کسی بڑی تکلیف اور مجبوری کی طلاق چاہے گی تو یہ اس کے لئے سخت محرومی اور گناہ کی بات ہوگی۔
طلاق اور عدت: طلاق سخت نا پسندیدہ فعل
عَنْ أَبِىْ مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُطَلِّقُوا النِّسَاءَ إِلَّا مِنْ رِيبَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الذَّوَّاقِينَ وَالذَّوَّاقَاتِ» (رواه البزار والطبرانى فى الكبير والاوسط)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا عورتوں کو طلاق نہیں دینی چاہیے الا یہ کہ ان کا چال چلن مشتبہ ہو اللہ تعالی ان مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو ذائقہ چکھنے کے شوقین اور خوگر ہوں۔ (مسند بزار معجم کبیر و معجم اوسط للطبرانی)
تشریح
حدیث کے آخری جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرد اللہ کی محبت اور پسندیدگی سے محروم ہیں جو بیوی کو اس لیے طلاق دیں کہ اس کی جگہ دوسری بیوی لاکر نیا ذائقہ چکھیں اسی طرح وہ عورتیں بھی محروم ہیں جو اس غرض سے شوہروں سے طلاق لیں کہ کسی دوسرے مرد کی بیوی بن کر نیا مزہ چکھے۔
عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «لِيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِىْ أَمَرَ اللَّهُ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ خود انھوں نے اپنی بیوی کو ایسی حالت میں کہ اسکی ناپاکی کے ایام جاری تھے طلاق دے دی تو ان کے والد حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے اس پر بہت سخت برہمی اور ناراضی کا اظہار فرمایا اور حکم دیا کہ عبداللہ ابن عمر کو چاہیے کہ وہ اس طلاق سے رجعت کر لے اور بیوی کو اپنے پاس اپنے نکاح میں رکھے یہاں تک کہ ناپاکی کے ایام ختم ہوکر طہر یعنی پاکی کے ایام آ جائیں اور پھر اس طہر کی مدت ختم ہو کر دوبارہ ناپاکی کے ایام آ جائیں اور اس کے بعد وہ پھر طہر کی حالت میں آجائے تو اس حالت میں اگر وہ طلاق ہی دینا مناسب سمجھے تو اس طہر میں اس سے صحبت کئے بغیر اس کو طلاق دے دے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہی وہ عدت ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے۔ “فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو حالت حیض میں طلاق دینا ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے اور اگر غلطی سے کوئی ایسا کرے تو اس کو رجعت کر لینی چاہیے پھر اگر طلاق ہی دینے کی رائے قائم ہو تو اس طہر میں طلاق دینی چاہیے جس میں صحبت کی نوبت نہ آئی ہو اس کی حکمت ظاہر ہے کہ ناپاکی کی حالت میں عورت قابل رغبت نہیں ہوتی طہر کی حالت میں اس کا کافی امکان ہے کہ شوہر کے دل میں رغبت پیدا ہو جائے اور طلاق دینے کا خیال ہی ختم ہوجائے اور اللہ و رسول کی زیادہ خوشی اسی میں ہے۔
اس واقعہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو حکم دیا کہ جو تالاب انہوں نے حیض کی حالت میں دی گئی تھی وہ اس سے رجعت کر لیں اور ایک طہر گزر جانے دیں اور اگر طلاق دینی ہی ہو تو پھر دوسرے طہر میں دیں اس کا مقصد بھی بظاہر یہی تھا کہ درمیان کے طہر کی پوری مدت میں جب دونوں ساتھ رہیں گے تو اس کا امکان ہے کہ تعلقات میں پھر خوشگواری آجائے اور طلاق کی نوبت ہی نہ آئے لیکن اگر ایسا نہ ہو اور طلاق دینے ہی کا فیصلہ ہو تو آپ ﷺ نے اجازت دی کہ دوسرے طہر میں قبل از صحبت طلاق دی جائے قبل از صحبت کی پابندی لگانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جب ناپاکی کے ایام ختم ہوتے ہیں تو فطری طور پر صحبت کی رغبت ہوتی ہے اس طرح یہ پابندی بھی طلاق دینے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
اس واقعہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو رجعت کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو حیض کے ایام طلاق دینا اگرچہ ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے لیکن یہ طلاق واقع ہو جاتی ہے اگر طلاق نہ ہوئی ہوتی تو رجعت کی ضرورت ہی نہ ہوتی اور آنحضرت ﷺ رجعت کا حکم دینے کے بجائے یہ فرماتے کہ طلاق واقع ہی نہیں ہوئی۔
بیک وقت تین طلاقیں دینا سخت گناہ
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانَ ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟ (رواه النسائى)
محمود ابن لبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے متعلق اطلاع ملی کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے دی ہیں تو آپ ﷺ سخت غصے کی حالت میں کھڑے ہو گئے اور ارشاد فرمایا کہ ابھی جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں کیا کتاب اللہ سے کھیلا جائے گا یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینا اس کتاب اللہ کے ساتھ گستاخانہ کھیل اور مذاق ہے جس میں طلاق کا تریکا اور قانون پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے تو کیا میری موجودگی میں اور میری زندگی ہی میں کتاب اللہ اور اسکی تعلیم سے مذاق کیا جائے گا حضور ﷺ نے سخت غصے کی حالت میں یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اس آدمی کو قتل ہی نہ کردوں جس نے یہ حرکت کی ہے۔ (سنن نسائی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیک وقت تین طلاق دینا سخت گناہ اور قرآن مجید کے بتلائے ہوئے طریق طلاق سے انحراف اور اسکے ساتھ ایک طرح کا کھیل اور مذاق ہے لیکن جس طرح حالت حیض میں دی ہوئی طلاق سخت گناہ اور معصیت ہونے کے باوجود پڑ جاتی ہیں اور اس کی وجہ سے عورت “مطلقہ” ہوجاتی ہے اسی طرح ایک دفعہ کی دی ہوئی تین طلاقیں بھی جمہور ائمہ کے نزدیک پڑ جاتی ہیں۔
بیک وقت تین طلاقیں دینے کو کتاب اللہ کے ساتھ کھیل اور مذاق غالبا اسی بنا پر فرمایا گیا کہ قرآن مجید کی آیت “الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ الى قوله فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ” سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ طلاقیں دینے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نہیں بلکہ مختلف دفعات میں درمیان میں مناسب کے ساتھ دی جائیں جس کی شرح اور تفصیل حدیث سے یہ معلوم ہوئیں ایک طہر میں ایک طلاق دی جائے۔
حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ جن صحابی نے اس غلط گار آدمی کو قتل کر دینے کے بارے میں حضور صلی اللہ وسلم سے عرض کیا تھا ان کو آپ ﷺ نے کیا جواب دیا بظاہر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی اور خاموشی ہی سے یہ بتلا دیا کہ اگرچہ اس آدمی نے سخت گمراہانہ کام کیا ہے لیکن یہ ایسا گناہ نہیں ہے جس کی سزا قتل ہوگا۔ واللہ اعلم۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہمارے زمانہ میں خاص کر ہمارے ملک میں طلاق کے جو واقعہ سامنے آتے ہیں ان میں قریبا 90 فیصد وہ ہوتے ہیں جن میں جاھل شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتے ہیں اور وہ بالکل نہیں جانتے کہ یہ سخت گناہ بھی ہے اور اسکے بعد دوبارہ نکاح کا مسئلہ بھی سخت مشکل ہو جاتا ہے۔
تین طلاق دینے کا نتیجہ اور شرعی حکم
عَنْ عَائِشَةَ جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفاعَةَ القُرَظِيِّ اِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ». (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ قرضی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ میں رفاعہ قرضی کے نکاح میں تھیں اس نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق کا پورا کورس ختم کردیا یعنی اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا لیکن وہ بالکل ازکار رفتہ ہیں یعنی نکاح سے جو خاص مقصد ہوتا ہے وہ اس کے قابل نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم کیا یہ چاہتی ہے کہ پھر رفاعہ کے نکاح میں چلی جائے اس نے کہا ہاں یہی چاہتی ہوں آپ ﷺ نے فرمایا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم دونوں میں باہم صحبت کا عمل نہ ہو جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
شریعت کا یہ حکم قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا گیا ہے سورہ بقرہ میں ارشاد ہے: “فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ” (مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر نے بیوی کو دو طلاق دینے کے بعد تیسری طلاق بھی دے دی تو وہ عورت اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کسی دوسرے شوہر کے نکاح میں نہ رہی ہو) اس کے بعد وہ دوسرا شوہر اگر انتقال کر جائے یا طلاق دے دے تو عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکے گا۔
پھر اس حدیث سے اور اس کے علاوہ بھی متعدد حدیثوں سے اس آیت کی تفسیر تشریح یہ معلوم ہوئی کہ دوسرے شوہر کے ساتھ صرف عقد نکاح ہو جانا کافی نہیں بلکہ وہ عمل بھی ضروری ہے جو نکاح سے خاص طور پر مقصود ہوتا ہے جمہور ائمہ امت کا مسلک اس مسئلہ میں یہی ہے واقعہ یہ ہے کہ اگر دوسرے شوہر کے ساتھ زنا شوئی کی پابندی نہ ہو تو نکاح ثانی کی شرط بالکل لغو اور بے معنی ہوکر رہ جائے گی۔
ہنسی مذاق کی طلاق بھی طلاق ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ " (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں دل کے ارادہ اور سنجیدگی کے ساتھ بات کرنا بھی حقیقت ہے اور ہنسی مذاق کے طور پر کہنا بھی حقیقت ہی کے حکم میں ہے نکاح طلاق رجعت۔ (جامع ترمذی سنن ابی داود)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے ہنسی مذاق میں نکاح کیا یا اسی طرح ہنسی مذاق میں بیوی کو طلاق دی یا مطلقہ بیوی سے ہنسی مذاق میں رجعت کی تو شریعت میں یہ سب چیزیں واقع اور معتبر ہوں گی یہاں یعنی نکاح منعقد ہو جائے گا طلاق پڑ جائے گی اور رجعت ہو جائے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تینوں چیزیں اسلامی شریعت میں اتنی نازک اور غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کے بارے میں ہنسی مذاق کی گنجائش ہی نہیں رکھی گئی ہے ان کے بارے میں جو کچھ آدمی کی زبان سے نکلے گا اس کو حقیقت اور سنجیدہ بات ہی سمجھا جائے گا دوسرے لفظوں میں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت میں یہ میدان ہی ہنسی مذاق کا نہیں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ طَلاَقٍ جَائِزٌ، إِلاَّ طَلاَقَ الْمَعْتُوهِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر طلاق درست و نافذ ہے سوائے اس آدمی کی طلاق کے جس کی عقل و فہم مغلوب ہو گئی ہوں۔ (جامع ترمذی)
تشریح
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرض یا صدمے کی وجہ سے آدمی کی عقل دانش غیرمتوازن اور مغلوب ہوجاتی ہے اور وہ ایسی باتیں کرنے لگتا ہے جو عقل و فہم کی سلامتی کی حالت میں نہ کرتا اور اسے اپنی باتوں کا پورا شعور بھی نہیں ہوتا ایسے آدمی کو “معتوہ” اور “مغلوب العقل” کہا جائے گا۔ پس اگر ایسا شخص اس حالت میں بیوی کو طلاق دے تو وہ واقع نہ ہوگی جس طرح دیوانے اور پاگل کی طلاق واقع نہیں مانی جاتی۔
ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ تین آدمی شریعت میں “مرفوع القلم” ہیں یعنی ان کے کسی قول و فعل کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اس پر شریعی حکم مرتب نہیں ہو گا۔ایک وہ جو نیند کی حالت میں ہوں دوسرے نابالغ بچہ اور تیسرے مغلوب العقل آدمی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی سونے کی حالت میں بڑبڑائے اور اس میں بیوی کو طلاق دے دی تو یہ طلاق واقع نہ ہوگی اسی طرح چھوٹے بچے کی اور مغلوب العقل کی طلاق بھی واقع نہ ہوگی۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ» (رواه ابوداؤد وابن ماجة)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ زبردستی کی طلاق اور زبردستی کے “عتاق” کا اعتبار نہیں۔ (سنن ابی داؤد،سنن ابن ماجہ)
تشریح
یعنی اگر کسی آدمی کو مجبور اور بالکل بے بس کر کے اس سے بیوی کو طلاق دلوائی گئی یا اس کے غلام کو آزاد کرایا گیا یعنی اس کی زبان سے زبردستی طلاق یا عتاق کی بات کہلوائی گئی تو شریعت میں اس کا اعتبار نہ ہوگا اکثر ائمہ مجتہدین کا مسئلہ یہی ہے کہ جو طلاق زبردستی لی جائے (جس کو اصطلاح میں “طلاق مکرہ” کہتے ہیں اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ لیکن امام ابوحنیفہؒ ہنسی مذاق کی طرح زبردستی والی طلاق کو بھی نافذ مانتے ہیں اور مصنفین احناف اس حدیث کی تاویل و توجیہ دوسری طرح کرتے ہیں ملحوظ رہے کہ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہؒ منفرد نہیں ہیں۔ سلف میں سعید ابن المسیبؒ، ابراہیم نخعیؒ اور سفیان ثوریؒ کا مذہب بھی شروح حدیث میں یہی نقل کیا گیا ہے۔
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا «طُلِّقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ لِلْمُطَلَّقَةِ عِدَّةٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْعِدَّةِ لِلطَّلَاقِ، فَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ أُنْزِلَتْ فِيهَا الْعِدَّةُ لِلْمُطَلَّقَاتِ» (رواه ابوداؤد)
حضرت اسماء بنت یزید بن السکن انصاریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ان کو طلاق ہو گئی تھی اور اس وقت تک مطلقہ عورت کے لئے عدت کا کوئی حکم نہیں آیا تھا تو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی وہ آیات نازل فرمائیں جن میں طلاق والی عدت کا بیان ہے تو یہ اسماء بنت یزید وہ پہلی طلاق یافتہ خاتون ہیں جن کے بارے میں طلاق کی عدت کا حکم نازل ہوا۔ (سنن ابی داود)
تشریح
اسلامی شریعت میں طلاق یافتہ عورت کے لیے عدت کا قانون بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی حکم ہے کہ جس بیوی کو اسکا شوہر طلاق دے دے وہ ایک مقررہ مدت تک عدت گزارے جس کی مختصر تفصیل جو خود قرآن مجید میں بیان فرما دی گئی ہے یہ ہے کہ اگر اس عورت کو حیض کے ایام ہوتے ہوں تو ان کے پورے تین دور گزر جائیں اور اگر عمر کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے ایام نہ ہوتے اور حمل بھی نہ ہو تو تین مہینے اور اگر حمل کی حالت ہو تو پھر عدت کی مدت وضع حمل تک ہےکم ہو یا زیادہ۔
عدت کے اس قانون میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ ایک اہم مصلحت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ رشتہ نکاح کی عظمت اور تقدس کا اظہار ہوتا ہے اگر عدت کا قانون نہ ہو اور عورت کو اجازت ہو کہ شوہر کی طرف سے طلاق کے بعد وہ اپنے حسب خواہش فورا نکاح کرلے تو یقینا یہ بات نکاح کی عظمت شان کے خلاف ہوگی اور نکاح بچوں کا ایک کھیل سے ہوجائے گا ایک دوسری مسئلہ خاص کر طلاق رجعی کی صورت میں یہ بھی ہے کہ عدت کی اس مدت میں مرد کے لیے امکان ہوگا کہ وہ معاملہ پر اچھی طرح غور کرکے رجعت کر لے اور پھر دونوں میاں بیوی بن کے زندگی گزارنے لگیں۔ یہی بات اللہ و رسول کو زیادہ پسند ہے اسی لئے طلاق رجعی کی عدت میں عورت کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے کو بنانے سنوارنے کا ایک ایسا اہتمام کرے اور اپنا رویہ ایسا رکھے کہ شوہر کی طبیعت پھر اس کی طرف مائل ہو جائے اور وہ رجعت کرلے اور طلاق بائنہ کی صورت میں اگرچہ رجعت کا امکان تو نہیں رہتا لیکن زمانہ عدت میں عورت کو دوسرا نکاح نہ کر سکنے کی وجہ سے اس کی زیادہ گنجائش رہتی ہیں کہ دونوں باہم راضی ہوکر دوبارہ نکاح کے ذریعے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے جوڑ لیں۔
ایک تیسری مصلحت یہ بھی ہے کہ عدت کے اس قانون کی وجہ سے عورت سے آئندہ پیدا ہونے والے بچہ کے نسب میں کسی شک شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ بہرحال قانون عدت کی یہ چند کھلی ہوئی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ غالبا اسی وجہ سے اکثر متمدن قوموں کے قوانین میں میاں بیوی کی علیحدگی کی صورت میں کسی نہ کسی شکل میں عدت کا ضابطہ ہے۔لیکن بعض قوموں کے قانون میں یہ عدت بہت طویل رکھی گئی ہے جو بیچاری عورت کے لیے تکلیف مالایطاق ہے۔شریعت اسلام نے جو مدت مقرر کی ہے وہ یقینا معتدل اور متوسط ہے۔آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عدت کا قانون اس وقت نازل ہوا تھا جب ایک صحابیہ اسماء بنت یزید بن السکن انصاریہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی۔
تشریح ..... اس حدیث میں عدت سے متعلق جس آیت کے نازل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بظاہر سورہ بقرہ کی یہ آیت ہے “وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ الآية” اس آیت میں ان مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم بیان کیا گیا ہے جن کو ایام ہوتے ہیں۔ اور جن کو صغر سنی یا کبر سنی کی وجہ سے ایام نہ ہوتے ہوں یا ان کو حمل ہو تو ان کی عدت سورہ طلاق کی آیات میں بیان فرمائی گئی ہے۔
عَنْ أُمِّ حَبِيْبَةَ وَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» (رواه البخارى ومسلم)
ام المومنین حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب بنت جحش ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی ایمان والی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مرنے والے عزیز قریب کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے اس کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ کا حکم ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
شریعت اسلام میں جس طرح مطلقہ عورت کے لیے عدت کا حکم ہے اسی طرح اس بیوہ عورت کے لیے بھی عدت کا حکم ہے جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اس عدت کا حکم بھی قرآن مجید میں صراحۃبیان فرمایا گیا ہے ارشاد ہے: “وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا” (تم میں سے جن لوگوں کا انتقال ہوجائے اور وہ بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے کو روکے رکھی گئی چار میں نے دس دن) یہ اردت ان بیوہ عورتوں کے لیے ہے جو حاملہ نہ ہو اور جو حمل کی حالت میں ہوں انکی عدت دوسری آیت میں وضع حمل تک کی مدت قرار دی گئی ہے حاکم ہو یا زیادہ۔ اوراس عدت وفات میں سوگ کا بھی حکم ہے یعنی بیوہ ہو جانے والی عورت کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ عزت کی پوری مدت میں سوگ منائے جو چیزیں زینت اور سنگھار کے لیے استعمال ہوتی ہیں وہ اس مدت میں بالکل استعمال نہ کرے الغرض اس پوری مدت میں اس طرح رہے گے اس کی شکل صورت ولباس وہئیت سے اس کی بیوگی اور غمزدگی ظاہر ہو اور دوسروں کو بھی اس کی ظاہری حالت سے محسوس ہو کہ شوہر کے انتقال کا اس کو ویسا ہی رنج و صدمہ ہے جیسا کہ ایک شریف و پاکدامن بیوی کو ہونا چاہیے۔ لیکن یہ حکم صرف مدت عدت کے لیے ہے عدت کے ایام ختم ہو جانے کے بعد اس کو ختم ہو جانا چاہیے۔ شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے کہ کوئی عورت بیوہ ہوجانے کے بعد ہمیشہ کے لیے سوگ کا طریقہ اختیار کرلے۔
شوہر کے علاوہ کسی دوسرے اپنے عزیز قریب مثلا بھائی باپ وغیرہ کے انتقال پر اگر کوئی عورت اپنا دلی صدمہ اور تاثر سوگ کی شکل میں ظاہر کرے تو صرف تین دن تک کی اجازت ہے اس سے زیادہ منع ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ، وَلَا الْحُلِيَّ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَكْتَحِلُ» (رواه ابوداؤد والنسائى)
ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو وہ کسم کے رنگے ہوئے اور اس طرح سرخ گیروے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے نہ زیورات پہنے نہ خضاب مہندی وغیرہ کا استعمال کرے نہ سرمہ لگائے۔ (سنن ابی داؤد سنن نسائی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو خواتین زیب و زینت کے لیے کپڑے رنگ کی تھیں وہ زیادہ تر یہی دو چیزیں استعمال کرتی تھیں کُسم خاص قسم کا لال گیرو’ اس لئے آپ ﷺ نے ان کا خاص طور سے ذکر فرمایا ورنہ ان دو چیزوں کی کوئی خصوصیت نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ ایسے رنگین اور شوخ کپڑے استعمال نہ کئے جائیں جو زیب وزینت کے لیے استعمال ہوتے ہیں اسی طرح زیورات اور سرمہ مہندی جیسی چیزیں بھی استعمال نہ کی جائیں جو زینت اور سنگھار کے لیے استعمال کی جاتی ہیں زمانہ عدت میں سوگ کے ان احکام کا مقصد یہی ہے کہ شوہر کے انتقال کا بیوی کو جو رنج و صدمہ ہو اس کا اثر دل اور باطن کی طرح ظاہر یعنی جسم اور لباس میں بھی ہوں یہ جوہر نسوانیت کا فطری تقاضا ہے اور اسی میں نسوانیت کا شرف ہے۔
حلال روزی حاصل کرنے کی فکروکوشش فرائض میں سے ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حلال حاصل کرنے کی فکر و کوشش فرض کے بعد فریضہ ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
معاشی معاملات ...... انسانوں کی فطری ضرورت
اس باب میں خداوندی ہدایت اور اس کے بنیادی اصول
اللہ تعالی نے انسان کو مدنی الطبع بنایا ہے یعنی انسان کی فطری ساخت ایسی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں باہمی تعاون اور معاملاتی لین دین کے محتاج ہیں ہر فرد اور طبقہ کی ضرورت دوسرے سے وابستہ ہے مثلا ایک مزدور جسکی زندگی کی ضرورت ہے بہت مختصر ہے جو صبح سے شام تک محنت مزدوری کرکے بس گزارہ کے پیسے حاصل کرتا ہے اسے بھی ضرورت ہے اس آدمی کی جس سے وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے غلہ وغیرہ خرید سکے اورغلہ پیدا کرنے والے کاشتکار کو ضرورت ہے اس مزدور کی جس سے وہ اپنی کھیتی باڑی کے کاموں میں مدد لے سکے اسی طرح مزدور اور کاشتکار دونوں کو ضرورت ہے اس آدمی کی جو ان کے لباس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کپڑا تیار کرے اور یہ اس سے بلا واسطہ یا بالواسطہ کپڑا خرید سکیں اور کپڑا تیار کرنے والے کو ضرورت ہے اس آدمی یا اس ایجنسی کی جس سے وہ سوت یا ریشم اور کپڑے کی صنعت کی دوسری ضروریات نقد یا قرض ادھار خرید سکے پھر ان میں سے کسی کو رہنے کے لئے مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کو ضرورت ہوگی کسی سے اینٹ سیمنٹ وغیرہ تعمیری ضروریات خریدنے کی اور اس کے بنوانے کے لئے معماروں اور مزدوروں کی۔ پھر خدانخواستہ ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو ضرورت ہوگی حکیم ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی اور دواؤں کی دوکان سے دوا خریدنے کی۔ الغرض اشیاء کی خرید و فروخت اور تجارتی مبادلہ اور محنت و مزدوری اور صنعت و زراعت اور قرض وعاریت وغیرہ معاشی معاملات اس دنیا میں انسانی زندگی کے لوازم ہیں پھر ان معاملات میں کبھی کبھی تنازعات کا پیدا ہونا بھی ناگزیر ہے ان کے حل کے لئے ضرورت ہے عدل و انصاف کے کسی نظام کی اور کسی دستور و قانون کی۔ یہ جو کچھ عرض کیا گیا کوئی فلسفہ یا منطق کا مسئلہ نہیں ہے سب مشاہدہ اور ہم سب کا روزمرہ کا تجربہ ہے۔
اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے اور سب سے آخر میں خاتم الانبیاء سیدنا حضرت محمد ﷺ کے ذریعے جس طرح انسانوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ اپنے آغاز و انجام کے بارے میں اپنے پیدا کرنے والے مالک و معبود کی ذات و صفات اور توحید و آخرت وغیرہ کے بارے میں کیا عقیدہ اور یقین رکھیں اور کس طرح اس کی عبادت کریں اور کونسے اعمال ان کی روحانیت اور انسانی شرافت کے لیے مضر اور مہلک ہیں جن سے وہ بچیں اور پرہیز کریں اور اخلاق اور معاشرت کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہے اسی طرح اس نے خریدوفروخت صنعت و تجارت اور محنت مزدوری وغیرہ ان معاشی معاملات کے بارے میں جو انسانی شرافت وعظمت سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن میں انسانوں کی دنیوی و اخروی فلاح ہے۔
اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ اس خداوندی ہدایت اور اس شعبے سے متعلق شریعت محمدی کے احکام کی پابندی اور پیروی کرتے ہوئے ان کاموں کا کرنا اب دنیا نہیں بلکہ عین دین اور ایک معنی کر عبادت ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر اسی طرح اجر و ثواب اور جنت کے درجات عالیہ کا وعدہ ہے جس طرح نماز روزہ اور ذکر و تلاوت وغیرہ اچھے اخلاق پر اور دین کی دعوت اور خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی پر۔
انسانی زندگی کے اس شعبہ یعنی معاملات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ذریعے جو ہدایتیں اور جو احکام امت کو ملے ہیں ان کی بنیاد جہاں تک ہم نے سمجھا ہے چار اصولوں پر ہے ایک خلق اللہ کی نفع رسانی۔ دوسرے عدل۔ تیسرے سچائی و دیانت داری۔ چوتھے سماحت۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق دوسرے کے ساتھ رعایت اور خیرخواہی کا معاملہ کرے خاص کر کمزور اور ضرورتمند فریق کو حتی الوسع سہولت دی جائے۔
اس تمہید کے بعد ناظرین کرام معاشی معاملات سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی ہدایات و تعلیمات ذیل میں پڑھیں۔ اللہ تعا لی لکھنے والے اپنے گنہگار بندے کو نیز پڑھنے والوں اور سننے والوں کو ان ہدایات و ارشادات کی پیروی کے اہتمام کی توفیق عطا فرمائے۔
سب سے پہلے حضور ﷺ کے چندوہ ارشادات درج کئے جاتے ہیں جن میں معاشی معاملات کی ہمت افزائی فرمائی گئی ہے اور ان پر اجر و ثواب کی بشارت سنائی گئی ہیں۔
تشریح ..... اکثر شارحین نے حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے اور بظاہر یہی اللہ و رسول پر ایمان اور نماز و زکوۃ وغیرہ جو اسلام کے اولین اور بنیادی ارکان و فرائض ہیں درجہ اور مرتبہ میں ان کے بعد حلال روزی حاصل کرنے کی فکر اور کوشش بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ بندہ اگر اس سے غفلت برتے اور کوتاہی کرے گا تو خطرہ ہے حرام روزی سے پیٹ بھرے اور آخرت میں اس کا انجام وہ ہوگا جو حرام سے پیٹ بھرنے والوں کا بتلایا گیا ہے۔ اللہ کی پناہ!
پھر یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے کسی فریضے کا ادا کرنا اس کی بندگی اور عبادت ہے اور بندہ اس پر اجر و ثواب کا مستحق ہے جو فریضہ کی ادائیگی پر اللہ تعالی کی طرف سے ملنا چاہیے۔ پس کسب حلال کی فکر و کوشش اور اس میں مشغول ہونا عین دین و عبادت اور موجب اجر و ثواب ہے۔ اس میں کسب حلال کے طالب ہر تاجر ہر مزدور ہر کاشتکار اور ہر دست کار کے لیے کتنی بڑی بشارت ہے لیکن یہ بہرحال پیش نظر رہے کہ اس حدیث میں صرف کمائی کرنے کو نہیں بلکہ کسب حلال کی تلاش و فکر کا فریضہ بتلایا گیا ہے اور اس ارشاد کا خاص مقصد اور مطمع نظر حرام سے بچانا ہے۔
بعض حالات میں روپیہ پیسہ کی ضرورت اور اہمیت
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْكَرَبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ» (رواه احمد)
حضرت مقدام بن معدی کرب ؓٗ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے لوگوں کے لیے ایک وقت آئے گا جب روپیہ پیسہ ہی کام آئے گا۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث کو حضرت مقدام بن معدی کرب ؓٗ سے روایت کرنے والے ایک تابعی ابوبکر بن ابی مریم ہیں انہوں نے واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ حضرت مقدام کے یہاں دودھ دینے والے جانور تھے ان کی ایک باندی دودھ فروخت کرتی اور اسکی قیمت خود حضرت مقدام لے لیتے تھے اس پر بعض لوگوں نے ناپسندیدگی کے ساتھ تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ دودھ فروخت کراتے ہیں اور اس کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں ایسا کرتا ہوں اور اپنے طرز عمل کے جواز کی سند میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اپنی چیز فروخت کرکے روپیہ پیسہ حاصل کرنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ روپیہ پیسہ بھی آدمی کے کام آئے گا۔ یعنی میں اسی خیال سے دودھ فروخت کرا کے روپیہ پیسہ حاصل کرتا ہوں مطلب یہ تھا کہ یہ اگر عظیمت نہیں تو رخصت ضرور ہے۔
سچائی اور دیانت داری کے ساتھ کاروبار کرنے والے انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ» (رواه الترمذى والدارمى والدار قطنى ، ورواه ابن ماجة عن ابن عمر)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا تاجر نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی سنن دارمی سنن دارقطنی) اور ابن ماجہ نےیہی حدیث اپنی سند سے حضرت ابنِ عمر ؓ سے روایت کی ہے۔
تشریح
“ الصدوق ” اور “ الامین ” دونوں مبالغے کے صیغے ہیں حدیث کا مطلب اور پیغام واضح ہے کہ جو تاجر اور سوداگر اپنے کاروبار میں سچائی اور امانت یعنی دیانتداری کی پورے اہتمام سے پابندی کریں گے قیامت اور آخرت میں وہ نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہونگے۔
قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے۔ “وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ” (جو بندے اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری کریں گے’ وہ (قیامت و آخرت میں) ان مقبولین و مقربین کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی کا خاص انعام ہے یعنی انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین (کے ساتھ) اور یہ سب بہت ہی اچھے رفیق ہیں) تجارت اور سوداگری بڑی آزمائش کی چیز ہے تاجر کے سامنے بار بار ایسی صورتیں آتی ہیں کہ اگر وہ خدا کے حکم کے مطابق سچائی اور دیانت داری کا لحاظ کرنے کے بجائے اس وقت وہ اپنی تجارتی مصلحت کے مطابق بازاری بات کرے تو ہزاروں لاکھوں کا نفع ہوتا ہے۔ پس جو تاجر اپنی تجارتی مصلحت اور نفع نقصان سے صرف نظر کر کے اللہ کے حکم کے مطابق ہر حال میں سچائی اور ایمانداری کی پابندی کرتا ہے وہ خدائی امتحان میں بڑا کامیاب ہے اور اس حدیث میں ایسے تاجروں کو بشارت سنائی گئی ہے کہ قیامت و آخرت میں وہ اللہ کے مقبول ترین بندوں یعنی نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ ان کی سچائی و دیانت داری کا صلہ ہوگا۔
تنبیہ ...... اسی سلسلہ معارف الحدیث میں قرآن و حدیث کے نصوص کی بنیاد پر بار بار یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ ایسی تمام بشارتیں اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں کہ وہ آدمی ان خبیث اور مہلک باتوں سے پرہیز کرے جو بندے کو اللہ تعالی کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں۔