ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس کو پسند کرتی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں (کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے لیے حلال نہیں ہے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھ کو اور اس کے والد (ابوسلمہ) کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، لہٰذا تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو ١ ؎۔
it was narrated from Urwah bin Zubair that Zainab bint Abi Salamah told him that Umm Habibah told her that she said to the Messenger of Allah ﷺ : "Marry my sister "Azzah." The Messenger of Allah ﷺ said: "Would you like that?" She said: "Yes, a Messenger of Allah. I am not the only one living with you and the one who most deserves to share good things with me is my sister." The Messenger of Allah ﷺ said: "But that is not permissible for me." She said: "But we thought that you wanted to marry Durrah bint Abi Salamah." The Messenger of Allah ﷺ said: "The daughter of Umm Salamah?" She said: "Yes." The Messenger of Allah ﷺ said: "Even if she were not my step-daughter who is under my care, she would not be permissible for me, because she is the daughter of my brother through breastfeeding. Thuwaibah breastfed both her father and I. So do not offer your sisters and daughters to me for marriage." (Sahih) Another chain of narrator with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ میرے لئے جائز نہیں ہوسکتیں، اس لیے کہ دو بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع کرنا جائز نہیں، اور بیٹیاں اس لئے کہ وہ میری ربیبہ ہوئیں، ربیبہ قرآن کی دلیل سے حرام ہے، ربیبہ وہ لڑکی ہے جو بیوی کے پہلے شوہر سے ہو۔
اس سند سے بھی ام حبیبہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
ام الفضل ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ پینے یا چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ١ ؎۔
It was narrated that Umm Fadl said that the Messenger of Allah ﷺ said: "Breastfeeding once or twice, or suckling once or twice, does not make (marriage) unlawful." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب بچہ ماں کی چھاتی کو منہ میں لے کر چوستا ہے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی و خوشی سے چھاتی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے رَضْعَ ۃ ٌ کہتے ہیں، اور مصّ ۃ : مصّ سے ماخوذ ہے جس کے معنی چوسنے کے ہیں، مص ۃ اور رَضْعَ ۃ ٌ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ رضاعت کا حکم کتنا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے اس میں اختلاف ہے، جمہور کا قول ہے کہ یہ حکم تھوڑا دودھ پیا ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں ثابت ہوجاتا ہے، داود ظاہری اور ایک قول کے مطابق احمد، اسحاق راہویہ، ابوعبید وغیرہم نے اس حدیث کے مفہوم مخالف (یعنی دو بار پینے یا چوسنے سے حرمت نہیں ثابت ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تین بار ایسا کرنے سے حرمت ثابت ہو جائیگی) سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ رضاعت کا حکم تین مرتبہ پینے سے ثابت ہوتا ہے دو دفعہ پینے سے نہیں، اور امام شافعی کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ پینے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ان کی دلیل ام المومنین عائشہ ؓ کی روایت ہے جو آگے آرہی ہے، جمہور کی دلیل آیت کریمہ: امهاتکم اللآتى ارضعنکم ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ پہلے قرآن میں یہ آیت تھی، پھر وہ ساقط و منسوخ ہوگئی، وہ آیت یہ ہے لا يحرم إلا عشر رضعات أو خمس معلومات دس یا پانچ مقرر رضاعتوں کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “One of the things that Allah revealed in the Qur’an and then abrogated was that nothing makes marriage prohibited except ten breastfeedings or five well-known (breastfeedings).” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ قرآن مجید میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا حتی کہ اس کے پینے کا یقین ہوجائے، نکاح کو حرام قرار دیتا ہے، پھر پانچ بار دودھ پینے کے حکم سے یہ حکم منسوخ کردیا گیا، اور جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو خمس معلومات (یعنی پانچ بار دودھ پینے) والی آیت قرآن میں پڑھی جا رہی تھی، امام نووی کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پانچ کی تعداد کا نسخ اتنی تاخیر سے ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کا واقعہ پیش آگیا اور بعض لوگ پھر بھی ان پانچ کی تعداد کو قرآن سمجھ کر اس کی تلاوت کرتے رہے کیونکہ آپ کی وفات کے بالکل ساتھ ہی ان کا منسوخ ہونا نازل ہوا تھا۔ مزید فرمایا کہ نسخ کی تین قسمیں ہیں، ایک جس کا حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہو جیسے دس مرتبہ دودھ پینے والی آیت، دوسری جس کی تلاوت تو منسوخ ہو مگر اس کا حکم باقی ہو جیسے پانچ مرتبہ دودھ پینے کی آیت، اور آیت رجم، اور تیسری یہ کہ جس کا حکم تو منسوخ ہو مگر اس کی تلاوت باقی ہو جیسے آیت وصیت وغیرہ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم کے ہمارے پاس آنے جانے کی وجہ سے میں ابوحذیفہ ؓ کے چہرہ پر ناگواری محسوس کرتی ہوں، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سالم کو دودھ پلا دو ، انہوں نے کہا: میں انہیں دودھ کیسے پلاؤں گی وہ بڑی عمر کے ہیں؟! رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں ، آخر سہلہ ؓ نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر اس کے بعد کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی جسے میں ناپسند کروں، اور ابوحذیفہ ؓ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Sahlah bint Suhail came to the Prophet ﷺ ; and said: O Messenger of Allah,) see signs of displeasure on the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me." The Prophet ﷺ said: "Breastfeed him." She said: "How can) breastfeed him when he is a grown man?" The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: "I know that he is a grown man." So she did that, then she came to the Prophet ﷺ and said: "I have never seen any signs of displeasure on the face of Abu Hudhayfah after that." And he was present at (the battle of) Badr. (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے تھیں، جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Verse of stoning and of breastfeeding an adult ten times was revealed, and the paper was with me under my pillow. When the Messenger of Allah ﷺ died, we were preoccupied with his death, and a tame sheep came in and ate it" (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اور اس وقت ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ میرے بھائی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: دیکھو جن لوگوں کو تم اپنے پاس آنے دیتی ہو انہیں اچھی طرح دیکھ لو (کہ ان سے واقعی تمہارا رضاعی رشتہ ہے یا نہیں) حرمت تو اسی رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو جس وقت دودھ ہی غذا ہوتا ہے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ entered upon her and there was a man with her. He said: "Who is this?" She said: "This is my brother," He said: Look at whom you allow to enter upon you, because the breastfeeding (that makes a person Mahram) is that which satisfies hunger." (sahih)
عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Zubair that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no breastfeeding except that which fills the stomach." (sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو کم سنی میں دو برس کے اندر ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٨٢، ومصباح الزجاجة: ٦٩١) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢١٥٠ )
زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ساری بیویوں نے اس مسئلہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی مخالفت کی، اور انہوں نے انکار کیا کہ سالم مولی ابوحذیفہ ؓ جیسی رضاعت کوئی کر کے ان کے پاس آئے جائے، اور انہوں نے کہا: ہمیں کیا معلوم شاید یہ صرف سالم کے لیے رخصت ہو۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that the wives of the Prophet ﷺ all differed with ‘ Aisha (RA) and refused to allow anyone with ties of breastfeeding like Sâlim, the freed slave of Abu Hudhaifah, to enter upon them. They said: “How do we know? That may be a concession granted only to Sâiim.” (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب (پردے) کا حکم اتر چکا تھا، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کردیا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس آئے، اور فرمایا: یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں! ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ٢ ؎۔
It was narrated that , Aisha (RA) said: "My paternal uncle through breastfeeding, Aflah bin Abu Qu`ais, came and asked permission to visit me, after the ruling on veiling had been enjoined, and I refused to let him in, until the Prophet ﷺ came in and said: He is your paternal uncle; let him in. I said: But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me. He said: May your hands be rubbed with dust, or: May your right hand be rubbed with dust" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہرچند بچہ عورت کا دودھ پیتا ہے، مگر اس کا شوہر بچے کا باپ ہوجاتا ہے، کیونکہ عورت کا دودھ اسی مرد کی وجہ سے ہوتا ہے، اب اس مرد کا بھائی بچہ کا چچا ہوگا، اور نسبی چچا کی طرح وہ بھی محرم ہوگا۔ ٢ ؎: جب کوئی شخص نادانی کی بات کہتا ہے تو یہ کلمہ اس موقعے پر اس پر افسوس کے اظہار کے لیے کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١ (١٤٤٤)، سنن النسائی/النکاح ٥٢ (٣٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٣، ١٦٩٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤)، تفسیر سورة السجدة ٩ (٤٧٩٦)، النکاح ٢٣ (٥١٠٣)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (٣)، مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کردیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں!، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو ۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “My paternal uncle through reastfeeding came to visit me and I refused to let him in. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Let your paternal uncle visit you.’ I said: ‘But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me.’ He said: ‘He is your paternal uncle; let him visit you.” (Sahih)
دیلمی (فیروز دیلمی) ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو ۔
It was narrated that Dailami said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ , I was married to two sisters whom I had married during the Ignorance period. He said: When you go back, divorce one of them" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٥ (٢٢٤٣)، سنن الترمذی/النکاح ٣٣ (١١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٢) (حسن) (اسحاق بن عبد اللہ ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ١ ؎۔
Dahhak bin Fairuz Dailami narrated that his father said: "I came to the Prophet ﷺ and said: a Messenger of Allah ﷺ : I have become Muslim and I am married to two sisters. The Messenger of Allah ﷺ said: Divorce whichever of them you want. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کا یہی قول ہے، اس لئے کہ جاہلیت میں ان دونوں کا نکاح صحیح ہوگیا تھا۔ اب جب اسلام لایا تو گویا ایسا ہوا کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا، نیز کفر کے نکاح قائم رہیں گے اگر شرع کے خلاف نہ ہوں، گو ان نکاحوں میں ہماری شرع کے موافق شرطیں نہ ہوں جیسے گواہ یا ولی وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ہیں، اور ابن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٣٣٤- ٣٣٥ و صحیح أبی داو د: ١٩٤٠ )
قیس بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کرلو ١ ؎۔
It was narrated that Qais bin Harith said: "I became Muslim and I had eight wives. I went to the Prophet ﷺ and told him about that. He said: Choose four of them:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ کفر کا نکاح معتبر ہوگا اگر میاں بیوی دونوں اسلام قبول کرلیں تو ان کا سابقہ نکاح برقرار رہے گا، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی، یہی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جدائی کے وقت ترتیب نکاح غیر موثر ہے، مرد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ پہلی بیوی کو روک رکھے بلکہ اسے اختیار ہے جسے چاہے روک لے اور جسے چاہے جدا کر دے، یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں حنفیہ کے خلاف حجت ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ؓ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Ghailan bin Salamah became Muslim and he had ten wives. The Prophet ﷺ said to him: Choose four of them:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے، لیکن اس حکم سے نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی، اور اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں کار فرما تھیں، آپ ﷺ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں، غیلان بن سلمہ ؓ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٣٢ (١١٢٨)، (تحفة الأشراف: ٦٩٤٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٢٩ (٧٦)، مسند احمد (٢/١٣، ١٤، ٤٤، ١٨٣) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Prophet ﷺ said: "The conditions most deserving to be fulfilled are those by means of which the private parts become permissible for you." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شرط سے مراد وہ شرط ہے جس پر عورت سے نکاح کیا، اس حدیث کی روشنی میں مرد نکاح کے وقت جو شرطیں مقرر کرے ان کو پورا کرنا واجب ہے، گو وہ شرطیں کسی قسم کی ہوں، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ شرطیں ہیں جو مہر کے متعلق ہوں، یا نکاح سے، اور جو دوسری شرطیں ہوں جیسے یہ کہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالے گا، یا اس کے ملک سے نہ لے جائے گا، یا اس کے اوپر دوسرا نکاح نہ کرے گا، تو ایسی شرطوں کا پورا کرنا شوہر پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر اس نے ان شرطوں پر قسم کھائی ہو، اور ان کے خلاف کرے، تو قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہر یا عطیہ یا ہبہ میں سے جو نکاح ہونے سے پہلے ہو وہ عورت کا حق ہے، اور جو نکاح کے بعد ہو تو وہ اس کا حق ہے، جس کو دیا جائے یا عطا کیا جائے، اور مرد سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے اپنے اعزازو اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
It was narrated from ‘Amir bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ , said: ‘Whatever is given as a dowry or gift before the marriage, it belongs to her. Whatever is given after the marriage belongs to the one to whom it was given. And the most deserving matter for which a man is honored is (the marriage of) his daughter or sister.’” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٦ (٢١٢٩)، سنن النسائی/النکاح ٦٧ (٣٣٥٥)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢) (ضعیف) (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو وہ اس کو اچھی طرح ادب سکھائے، اور اچھی طرح تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور اہل کتاب میں سے جو شخص اپنے نبی پر ایمان لایا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا، اور جو غلام اللہ کا حق ادا کرے، اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرے، تو اس کو دوہرا اجر ہے ١ ؎۔ شعبی نے صالح سے کہا: ہم نے یہ حدیث تم کو مفت سنا دی، اس سے معمولی حدیث کے لیے آدمی مدینہ تک سوار ہو کر جایا کرتا تھا ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever has a slave woman and teaches her good manners and educates her, then sets her free and marries her, will have two rewards. Any man from among the People of the Book who believed in his Prophet ﷺ and believed in Muhammad will have two rewards. Any slave who does his duty towards Allah and towards his masters will have two rewards: (Sahih) (One of the narrators) Salih said: "Shabi said: I have given this (Hadith) to you for little effort on your part. A rider would travel to Al-Madinah for less than this."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک اجر اس کے آزاد کرنے کا، اور دوسرا اجر اس کی تعلیم یا نکاح کا، اب اہل حدیث کا قول یہ ہے کہ اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور اسی آزادی کو مہر مقرر کر کے اس سے نکاح کرلے تو جائز ہے۔ ٢ ؎: امام شعبی (عامر بن شراحیل) کوفہ میں تھے، ان کے عہد میں کوفہ سے مدینہ تک دو ماہ کا سفر تھا، مطلب یہ ہے کہ ایک ایک حدیث سننے کے لئے محدثین کرام دو دو مہینے کا سفر کرتے تھے، سبحان اللہ، اگلے لوگوں کو اللہ بخشے اگر وہ ایسی محنتیں نہ کرتے تو ہم تک دین کیوں کر پہنچتا۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ پہلے ام المؤمنین صفیہ ؓ دحیہ کلبی ؓ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم ﷺ کی ہوگئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ١ ؎۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان (صفیہ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔
It was narrated that Anas said: "Safiyyah was given to Dihyah Al-Kalbi (as his share of the war booty), then she was given to the Messenger of Allah ﷺ after that. He married her, and made her ransom (i.e., freedom from slavery) her dowry: (Sahih) Hammad said: "Abdul- Aziz said to Thabit. O Abu Muhammad ﷺ ! Did you ask Anas what ,her bridal-money was? He said: Her bridal-money was her freedom.
Notes · وضاحت
١ ؎: صفیہ ؓ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں، اور یہودیوں کے بادشاہ حی بن اخطب کی بیٹی تھیں، اس لئے مسلمانوں کے سردار کے پاس ان کا رہنا مناسب تھا۔