عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you has intercourse with his wife, let him say: Allahumma jannibnish. Shaitana wa jannibish-Shaitana ma razaqtani (O Allah, keep Satan away from me and keep Satan away from that with which You bless me). Then if they have a child, Allah will never allow Satan to gain control over him or he will never harm him." (Sahih)
معاویہ بن حیدۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرسکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ١ ؎۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: "I said: O Messenger of Allah, with regard to our Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal? He said: Cover your Awrah except from your wife and those whom your right hand possesses. I said: O Messenger of Allah ﷺ , what if the people live close together? He said: If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it: I said: O Messenger of Allah, what if one of us is alone? He said: Allah is more deserving that you should feel shy before Him than people:" (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے کسی طرح کشف ستر کی اجازت نہ دی، اب جو لوگ حمام میں نہلانے والوں یا حجام کے سامنے ننگے ہوجاتے ہیں، یا عورتیں ایک دوسری کے سامنے، یہ شرعی نقطہء نظر سے بالکل منع ہے، بوقت ضرورت تنہائی میں ننگے ہونا درست ہے، جیسے نہاتے وقت یہ نہیں کہ بلاضرورت ننگے ہو کر بیٹھے، اللہ تعالیٰ سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہیے، سبحان اللہ جیسا شرم و حیا کا اعتبار دین اسلام میں ہے ویسا کسی دین میں نہیں ہے، یہود اور نصاری ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے ہیں، اور مشرکین عہد جاہلیت میں جاہلیت کے وقت ننگے ہو کر طواف اور عبادت کیا کرتے تھے، اور اب بھی یہ رسم ہندوؤں میں موجود ہے، مگر اسلام نے ان سب ہی باتوں کو رد کردیا، تہذیب، حیاء اور شرم سکھائی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ٢ (٤٠١٧)، سنن الترمذی/الأدب ٢٦ (٢٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣، ٤) (حسن )
عتبہ بن عبدسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہوجائے ۔
It was narrated from Utbah bin Abd Sulami that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you has intercourse with his wife, let him cover himself and not be naked like donkeys." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٥، ومصباح الزجاجة: ٦٨٢) (ضعیف) (الاحوص بن حکیم ضعیف ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابوشیبہ کہتے ہیں کہ ابونعیم کی روایت میں عن مولیٰ لعائش ۃ کے بجائے عن مولا ۃ لعائش ۃ ہے۔
It was narrated from a freed slave of Aisha (RA) that Aisha (RA) said: "I never looked at or I never saw the private part of the Messenger of Allah ﷺ (Daif) (One of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said: "Abu Nu aim said: From a freed female slave of Aisha (RA) ."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٦، ومصباح الزجاجة: ٦٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٣، ١٩٠) (ضعیف) (ام المومنین عائشہ ؓ کی مولاة یا مولیٰ ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر (پچھلی شرمگاہ) میں جماع کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Allah will not look at a man who has intercourse with his wife in her buttocks." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورت سے دبر میں جماع کرنا لواطت صغری ہے اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں جو ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں، اور ائمہ اربعہ اور تمام علماء حدیث نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا: فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (سورة البقرة: 223) اور حرث کہتے ہیں کھیتی کو یعنی جہاں سے پیدا ہو وہ کھیتی ہے، اور وہ قبل ہے اور دبر فرث ہے یعنی نجاست۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ٦٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ٤٦ (٢١٦٢)، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٣٤٤، ٤٤٤، ٤٧٩)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٣ (١١٧٦) (صحیح )
خزیمہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا آپ ﷺ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور فرمایا: عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو ۔
It was narrated from Khuzaimah bin Thabit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah is not too shy to- tell the truth," three times. "Do not have intercourse with women in their buttocks. " (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الاشراف: ٣٥٣٠، ومصباح الزجاجة: ٦٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٣، ٢١٧)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٤ (١١٨٣) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس و ضعیف ہیں، عنعنہ سے روایت کی ہے، اور عبداللہ بن ہر می یا ہر می بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٠٠٥ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہوگا، چناچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم (سورة البقرة: 223) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Munkadir that he heard Jabir bin Abdullah say: "The Jews used to say that if a man has intercourse with a woman in her vagina from the back, the child would have a squlnt. Then Allah, Glorious is He, revealed: Your wives are a tilth for you, so go to your tilth, when or how you will." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: انصار بھی یہود کی پیروی کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جو کوئی دبر کی طرف سے قبل میں جماع کرے تو لڑکا بھینگا (احول) ہوگا، اللہ تعالیٰ نے اس کو باطل کیا، اور اگلی شرمگاہ میں ہر طرح سے جماع کو جائز رکھا، مسند احمد میں ہے کہ انصار کی ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: عورت سے اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے کوئی جماع کرے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی، اور عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میں ہلاک ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں؟ انہوں نے کہا میں نے رات کو اپنے پالان (عورت) کو الٹا کیا، آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، تب یہ آیت اتری، یعنی اختیار ہے آگے سے جماع کرو یا پیچھے سے، لیکن دخول ضروری ہے کہ قبل (اگلی شرمگاہ) میں ہو، اور فرمایا: بچو حیض سے اور دبر سے لہذا آیت کا یہ مطلب نہیں کہ دبر (پاخانہ کا مقام) میں دخول کرنا جائز ہے، طیبی نے کہا: اجنبی عورت سے اگر دبر میں جماع کیا تو وہ زنا کے مثل ہے، اور جو اپنی عورت یا لونڈی سے کیا تو حرام کام کا مرتکب ہوا، لیکن اس پر حد نہ جاری ہوگی، اور امام نووی کہتے ہیں کہ مفعول (جس کے ساتھ غلط کام کیا گیا) اگر چھوٹا یا پاگل ہو یا اس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو تو ایسا فعل کرنے والے پر حد جاری ہوگی۔
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہوگی ۔ ١ ؎
It was narrated that Abu Sa eed AI-Khudri said: "A man asked the Messenger of Allah ﷺ about coitus interruptus. He said: Do you do that? If you do not do so, it will not harm; for there is no soul that Allah has decreed will exist but it will come into being. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عزل: شرمگاہ سے باہر منی نکالنے کو عزل کہتے ہیں۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "We used to practice coitus interruptus during the time of the Messenger of Allah ﷺ when the Quran was being revealed." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی ممانعت نازل کردیتا، البتہ لونڈی سے اس کی اجازت کے بغیر بھی عزل درست ہے، اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ عزل مکروہ ہے، لیکن حرام نہیں ہے، اور بہت صحابہ اور تابعین سے اس کی اجازت منقول ہے۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا۔
It was narrated that Umar bin Khattab said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade practicing coitus interruptus with a free woman except with her consent." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٧١، ومصباح الزجاجة: ٦٨٦) (ضعیف) (ابن لہیعہ ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٠٠٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی مرد اس عورت سے نکاح نہ کرے جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "A woman should not be married to a man who is married to her paternal aunt or maternal aunt (at the same time)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: البتہ اگر ایک مرجائے یا اسے طلاق دے دے تو دوسری سے شادی کرسکتا ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے۔
It was narrated that Abu Saeed AI-Khudri said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ forbid two types of marriage: For a man to be married to a woman and her paternal aunt (at the same time), and to a woman and her maternal aunt (at the same time)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٧٠، ومصباح الزجاجة: ٦٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٧) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہے، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، کما تقدم )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے ۔
Abu Bakr (RA) bin Abu Musa narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "A man should not be married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٤٣، ومصباح الزجاجة: ٦٨٨) (صحیح) (جبارہ بن مغلس ضعیف ہے، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ١ ؎ نبی اکرم ﷺ مسکرائے، اور فرمایا: کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں ٢ ؎۔
It was narrated from Alshah that the wife of Rifaah Al-Qurazi came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "I was married to Rita ah, and he divorced me and made it irrevocable. Then I married "Abdur-Rahman bin Zubair, and what he has is like the fringe of a garment." The Prophet ﷺ smiled and said: "Do you want to go back to Rifiah? No, not until you taste his ( Abdur-Rahman`s) sweetness and he tastes your sweetness." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں جماع کی قدرت نہیں ہے۔ ٢ ؎: حتى تذوقي عسيلته سے کنایہ جماع کی طرف ہے، اور جماع کو شہد سے تشبیہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح شہد کے استعمال سے لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے اسی طرح جماع سے بھی لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے تو وہ عورت دوسرے مرد سے نکاح کرے، اور شوہر اس سے جماع کرلے، اگر اس کے بعد یہ دوسرا اس کو طلاق دے دیتا ہے تو یہ عورت اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نیا نکاح کرسکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ دوسرے شوہر کا یہ نکاح حلالہ کی نیت سے نہ ہو اور نہ حلالہ کی شرط لگائی جائے کہ اس حیلہ سے عورت اپنے شوہر کے پاس پہنچ جائے، آگے آ رہا ہے کہ حلالہ کا نکاح حرام اور ناجائز ہے، اور ایسا کرنے والا اور جس کے لیے کیا جائے دونوں ملعون ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے ۔
It was narrated from Ibn Umar, from the Prophet ﷺ , concerning a man who had a wife then divorced her, then another man married her but divorced her before consummating the marriage. Could she go back to the first man? He said: "No, not until he tastes her sweetness." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ١٢ (٣٤٤٣)، (تحفة الأشراف: ٧٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥، ٦٢، ٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed the Muhallil and the Muhallallahu," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٩٨، ومصباح الزجاجة: ٦٨٩) (صحیح) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٨٩٧ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ cursed the Muhallil and the Muhallal lahu.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: محلل (حلالہ کرنے والا) وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے اور محلل لہ (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو مستعار (مانگے ہوئے) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے ١ ؎۔
‘Uqbah bin ‘Amir narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Shall I not tell you of a borrowed billy goat.” They said: “Yes, O Messenger of Allah ﷺ ” He said: “He is MuhalIil. May Allah curse the Muhallil and the Muhallal lahu.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس باب میں إقامة الدليل على إبطال التحليل نامی کتاب تصنیف فرمائی ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: نکاح حلالہ کسی ملت میں مباح نہیں ہوا، اور نہ اسے کسی صحابی نے کیا اور نہ اس کا فتوی دیا، افسوس ہے اس زمانہ میں لوگ حلالہ کا نکاح کرتے ہیں، اور وہ عورت جو حلالہ کراتی ہے گویا دو آدمیوں سے زنا کراتی ہے، ایک حلالہ کرنے والے سے، دوسرے پھر اپنے پہلے شوہر سے، اللہ تعالیٰ اس آفت سے پناہ میں رکھے۔ آمین
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٦٨، ومصباح الزجاجة: ٦٩٠) (حسن) (ابو مصعب میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ / ٣٠٩- ٣١٠ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Breastfeeding makes unlawful (for marriage) the same things that blood ties make unlawful." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے ماں بہن وغیرہ، لیکن رضاعت میں چار عورتیں حرام نہیں ہیں جو نسب میں حرام ہیں: ١ ۔ ایک تو اپنے بھائی کی رضاعی ماں جب کہ بھائی کی نسبی ماں حرام ہے، اس لئے کہ وہ یا تو اپنی بھی ماں ہوگی یا باپ کی بیوی ہوگی، اس لئے کہ وہ بہو ہوگی، اور دونوں محرم ہیں، ٢ ۔ دوسرے پوتے یا نواسے کی رضاعی ماں جب کہ پوتے یا نواسے کی نسبی ماں حرام ہوگی اس لئے کہ وہ بہو ہوگی یا بیٹی، ٣ ۔ تیسری اپنی اولاد کی رضاعی نانی یا دادی جب کہ اولاد کی نسبی نانی یا دادی حرام ہے، کیونکہ وہ اپنی ساس ہوگی یا ماں، ٤ ۔ چوتھی اپنی اولاد کی رضاعی بہن جب کہ نسبی بہن اپنی اولاد کی حرام ہے کیونکہ وہ اپنی بیٹی ہوگی یا ربیبہ، اور بعض علماء نے مزید کچھ عورتوں کو بیان کیا ہے جو رضاع میں حرام نہیں ہیں جیسے چچا کی رضاعی ماں یا پھوپھی کی رضاعی ماں یا ماموں کی رضاعی ماں یا خالہ کی رضاعی ماں، مگر نسب میں یہ سب حرام ہیں، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو رشتہ محرمات کی اس آیت میں مذکور ہے { حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ } [سورة النساء: 23] تک، وہ سب رضاع کی وجہ سے بھی محرم ہوجاتی ہیں، اور جن عورتوں کا اوپر بیان ہوا وہ اس آیت میں مذکور نہیں ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حمزہ بن عبدالمطلب ؓ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from lbn ‘Abbâs that the Messenger of Allah ﷺ was offered the daughter of Hamzah bin ‘Abdul-Muttalib in marriage, and he said: “She is the daughter of my brother through breastleeding, and breastfeeding makes unlawful (for marriage) the same things that blood ties make unlawful.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں سات ہیں۔ ١ ۔ مائیں: ان میں ماں کی مائیں (نانیاں) اور ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں پردادیاں) اور ان سے آگے تک) شامل ہیں۔ ٢ ۔ بیٹیاں: ان میں پوتیاں، نواسیاں، اور پوتیوں، اور نواسیوں کی بیٹیاں نیچے تک شامل ہیں، زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے، ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں، اور اس نکاح کو حرام سمجھتے ہیں، البتہ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ شرعی بیٹی نہیں ہے، پس جس طرح يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ (سورة النساء: 11) میں داخل نہیں ہے اور بالاجماع وہ وارث نہیں ہے اسی طرح وہ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ (سورة النساء: 23) والی آیت: وَبَنَاتُكُمْ میں داخل نہیں۔ ٣ ۔ بہنیں: حقیقی ہوں یا اخیافی (وہ بھائی بہن جن کے باپ الگ الگ اور ماں ایک ہو) یا علاتی (ماں کی طرف سے سوتیلا بھائی یا سوتیلی بہن)۔ ٤ ۔ پھوپھیاں: اس میں باپ کی سب مذکر اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ ٥ ۔ خالائیں: اس میں ماں کی سب مونث اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ ٦ ۔ بھتیجیاں: اس میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلاواسطہ (یا صلبی و فروعی) شامل ہیں۔ ٧ ۔ بھانجیاں اس میں تینوں قسموں کی بہنوں کی اولاد۔ مذکورہ بالا رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی یہ سارے رشتے حرام ہوجاتے ہیں۔ رضاعی محرمات کی بھی سات قسمیں ہیں: ١ ۔ رضاعی مائیں ٢ ۔ رضاعی بیٹیاں ٣ ۔ رضاعی بہنیں ٤ ۔ رضاعی پھوپھیاں ٥ ۔ رضاعی خالائیں ٦ ۔ رضاعی بھتیجیاں ٧ ۔ رضاعی بھانجیاں۔