مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے وہ کسی اور سے شادی کرلے اور دوسرا خاوند صحبت سے پہلے طلاق دیدے تو کیا پہلے خاوند کے پاس لوٹ کرسکتی ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ١ ؎ نبی اکرم ﷺ مسکرائے، اور فرمایا: کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں ٢ ؎۔
It was narrated from Alshah that the wife of Rifaah Al-Qurazi came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "I was married to Rita ah, and he divorced me and made it irrevocable. Then I married "Abdur-Rahman bin Zubair, and what he has is like the fringe of a garment." The Prophet ﷺ smiled and said: "Do you want to go back to Rifiah? No, not until you taste his ( Abdur-Rahman`s) sweetness and he tastes your sweetness." (Sahih)