انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد ﷺ یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ passed by some part of AIMadinah and saw some girls beating their Daff and singing, saying: "We are girls from Banu Najjar What an excellent neighbor is Muhammad." The Prophet ﷺ said: " Allah knows that you are dear to me." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی، تو رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے، اور فرمایا: تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کردیا ؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی ؟ عائشہ ؓ نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا: أتيناکم أتيناکم فحيانا وحياكم ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: Aisha (RA) arranged a marriage for a female relative of hers among the Ansar, and the Messenger of Allah ﷺ , came and said: Have you taken the girl (to her husbands house)?" They said: "Yes." He said: "Have you sent someone with her to sing?" She said: "No." The Messenger of Allah ﷺ , said: "The Ansar are people with romantic feelings. Why dont you send someone with her to say: We have come to you, we have come to you, may Allah bless you and us?" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے چل کر مدینہ پہنچے تو انصار کی لڑکیاں راستوں پر گاتی بجاتی نکلیں، اور آپ ﷺ کی آمد پر کی خوشی میں کہا: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مٍنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا للهِ دَاع آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سے محبت رکھتا ہے اصل یہ ہے کہ الأعمال بالنیات، ان لڑکیوں کو گانے سے اور کوئی غرض نہ تھی سوا اس کے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی میں ایسا کرتی تھیں، اور یہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں بلکہ کمسن اور نابالغ تھیں، اور آپ ﷺ کے تشریف لانے کی خوشی میں معمولی طور سے گانے بجانے لگیں، یہ مباح ہے اس کی اباحت میں کچھ شک نہیں۔ ابن القیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ لڑکیوں کے استقبال کا یہ واقع غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٣، ومصباح الزجاجة: ٦٧٧) (حسن) (غزل کا جملہ منکر ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٦٥ )
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے۔
It was narrated that Mujahid said: "I was with Ibn Umar, and he heard the sound of a drum, so he put his fingers in is ears and turned away. He did that three times, then he said: This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ do:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٠٧، ومصباح الزجاجة: ٦٧٨) (صحیح) (یہ زمارة راع کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں طبل کا ذکر منکر ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ entered upon her, and he heard an effeminate man say to Abdullah bin Abu Umayyah: "If Allah enables you to conquer Taif tomorrow, I will show you a woman who comes in on four (rolls of fat) and goes out on eight." The Messenger of Allah ﷺ said: "Throw them out of your houses." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ cursed men who imitate women and women who imitate men. (Sahih)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: بارک الله لکم و بارک عليكم وجمع بينكما في خير اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ used to say,. when offering congratulations on the occasion of marriage: "Barak Allahu lakum, wa barak alaikum , Wa jama` a bainakuma fi khair (May Allah bless you and bestow blessings upon you, and bring you together in harmony)." (Sahih)
عقیل بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا:بالرفاء والبنين میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللهم بارک لهم و بارک عليهم اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔
It was narrated from Aqil bin Abu Talib that he married a woman from Banu jusham, and they said: "May you live in harmony and have many sons." He said: "Do not say that, rather say what the Messenger of Allah ﷺ said: Allahumma barik lahum wa barik alaihim (O Allah, bless them and bestow blessings upon them.)," (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح ٧٣ (٣٣٧٣)، مسند احمد (١/٢٠١، ٣/ ٤٥١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:بارک الله لك أولم ولو بشاة اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the prophet ﷺ l saw traces of vellow perfume on Abdur-Rahman bin "Awf and he asked him: "What is this?" He said: "O Messenger of Allah, I married a woman for the weight of a Nawah (Stone) of gold. He said: "May Allah bless you. Give a feast even if it is only WIth one sheep." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: واضح رہے کہ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال صحیح نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ ؓ کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا، ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو شوہر کی طرف سے شب زفاف کے بعد ہوتا ہے اور یہ کھانا مسنون ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات ؓن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب ؓ کا کیا، آپ ﷺ نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ give a wedding feast for any of his wives like the feast he gave for Zainab, for which he slaughtered a sheep." (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Sufyân (Ibn ‘Uyainah) from ‘All bin Zaid bin Ju’dân from Anas bin Mâlik who said: “I attended a wedding feast for the Prophet ﷺ , in which there was no meat and no bread.” (Da’if) Ibn Mãjah said: It was not narrated except by Ibn ‘Uyainah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٦١ (٥١٥٩)، صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، مسند احمد (٣/٩٩) (صحیح) (اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج )
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ ؓ کو تیار کریں اور علی ؓ کے پاس بھیجیں، چناچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جاسکے، اور مشکیزے لٹکائے جاسکیں چناچہ ہم نے فاطمہ ؓ کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔
It was narrated that Aisha (RA) and Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded u s to prepare Fatimah (for her wedding) and take her in to Ali. We went to the house and sprinkled it with soft earth from the land of Bathe. Then we stuffed two pillows with (date - palm) fiber which we picked with our own hands. Then we offered dates and raisins to eat, and sweet water to drink. We went and got some wood and set it up at the side of the room, to hang clothes and water skins on. And we never saw any wedding better than the wedding of Fatimah." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣١، ١٨٢١٢، ومصباح الزجاجة: ٦٨٠) (ضعیف) (سند میں مفضل بن عبد اللہ اور جابر جعفی ضعیف راوی ہیں )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ ﷺ کو ان کا شربت پلایا۔
It was narrated that Sah! bin Sad As-Saidi said: "Abu Usaid As-Saj di invited the Messenger of Allah ﷺ to his wedding, and the bride herself served them. She said: Do you know what I gave the Messenger of Allah ﷺ to drink? I had soaked some dates the night before, then in the morning I strained them and gave him that water to drink. (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The worst of food is food of a wedding feast to which the rich are invited and the poor are not. Whoever does not accept an invitation has disobeyed Allah and His Messenger." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ولیمہ کا کھانا سنت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ولیمہ کیا ہے، مگر اس ولیمہ کو برا کہا جس میں مالداروں کی ہی دعوت ہوتی ہے، اور محتاجوں کو کوئی نہیں پوچھتا، معلوم ہوا کہ عمدہ کھانا وہ ہے جس میں غریب و محتاج بھی شریک ہوں، سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ محتاجوں اور فقیروں کو دعوت میں زیادہ بلایا جائے، اگر کچھ دوست و احباب اور متعارفین مالدار بھی ہوں تو مضائقہ نہیں، پھر جب یہ فقیر و محتاج آئیں تو ان کو بڑی خاطر داری کے ساتھ عمدہ عمدہ کھانے کھلائے اور اگر ممکن ہو تو خود بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر کھائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "If anyone of you is invited to a wedding feast, let him accept." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بعضوں نے کہا: اس حدیث کی رو سے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، اور بعضوں نے کہا فرض کفایہ ہے، اور بعضوں نے کہا مستحب ہے، یہ جب ہے کہ دعوت متعین طور پر ہو، اگر دعوت عام ہو تو قبول کرنا واجب نہ ہوگا اس لئے کہ اس کے نہ جانے سے میزبان کی دل شکنی نہ ہوگی، اور دعوت قبول کرنا عذر کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے، مثلاً دعوت کا کھانا مشتبہ ہو، یا وہاں صرف مالدار حاضر ہوتے ہوں، یا صاحب دعوت صحبت اور دوستی کے لائق نہ ہوں، یا دعوت سے مقصود حب جاہ اور کبر و غرور ہو، یا وہاں خلاف شرع کام ہوں جیسے فواحش کا ارتکاب، بےپردگی اور بےحیائی اور ناچ گانا وغیرہ منکر امور۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The wedding feast on the first day is an obligation, on the second day is a custom and on the third day is showing off." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٣، ومصباح الزجاجة: ٦٨١) (ضعیف) (ابو مالک نخعی ضعیف ہے )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کردیں) ١ ؎۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Three days for a previously-married woman and seven days for a virgin." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کرلے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہوجانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٠٠ (٥٢١٤)، صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦١)، سنن ابی داود/النکاح ٣٥ (٢١٢٤)، سنن الترمذی/النکاح ٤٠ (١١٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٤٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٥ (١٥)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٥) (حسن) (اصل حدیث دوسرے طرق سے ثابت ہے کمافی التخریج )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا ۔
It was narrated from AIHarith from his father that when the Messenger of Allah ﷺ married Umrn Salamah, he stayed with her for three days, then he said: "You are not insignificant in your husbands eyes. If you wish, I will stay with you for seven days, but then I will stay with my other wives for seven days too." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦٠)، سنن ابی داود/النکاح ٣٥ (٢١٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٥ (١٤)، مسند احمد (٦/٢٩٢، ٢٩٥، ٣٠٧)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی، خادم یا جانور حاصل کرے، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے اللهم إني أسألک من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بک من شرها وشر ما جبلت عليه اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you gets a new wife, a servant, or an animal, let him take hold of the forelock and say: Allahumma inni asaluka min khayriha wa khayri ma jubilat alaihi, wa audhu bika min sharriha wa sharri ma jubilat alaih (O Allah, I ask You for the goodness within her and the goodness that she is inclined towards, and I seek refuge with You from the evil within her and the evil to which she is inclined):" (Hasan)