Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 99 of 218

1959Sunan Ibne-Majah

آقا کی اجازت کے بغیر غلام کا شادی کرنا

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ كَانَ عَاهِرًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو وہ زانی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ salid: "If a slave gets married without his masterr s ….permissin, he is a fornicator"

Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ نکاح باطل ہے، اسی وجہ سے اس حدیث میں اسے زانی کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٦، ومصباح الزجاجة: ٦٩٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ١٧ (٢٠٧٨)، سنن الترمذی/النکاح ٢٠ (١١١١)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٧٧، ٣٨٣)، سنن الدارمی/النکاح ٤٠ (٢٢٧٩) (حسن )
1960Sunan Ibne-Majah

آقا کی اجازت کے بغیر غلام کا شادی کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَامَنْدَلٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ زَانٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا، تو وہ زانی ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any slave who gets married without his masters permission, is a fornicator." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٠٨، ومصباح الزجاجة: ٦٩٤) (حسن) (سند میں مندل ضعیف راوی ہے، سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
1961Sunan Ibne-Majah

نکاح متعہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ١ ؎۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ forbade on the Day of Khaibar, the temporary marriage of women and (he forbade) the flesh of domestic donkeys. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: متعہ: کسی عورت سے ایک متعین مدت تک کے لیے نکاح کرنے کو متعہ کہتے ہیں، جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو ان کے درمیان خودبخود جدائی ہوجاتی ہے، متعہ دو مرتبہ حرام ہوا اور دو ہی مرتبہ مباح و جائز ہوا، چناچہ یہ غزوہ خیبر سے پہلے حلال تھا پھر اسے غزوہ خیبر کے موقع پر حرام کیا گیا، پھر اسے فتح مکہ کے موقع پر مباح کیا گیا اور عام اوطاس بھی اسی کو کہتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیشہ ہمیش کے لیے حرام کردیا گیا جیسا کہ امام نووی نے بیان فرمایا ہے۔ لیکن علامہ ابن القیم کی رائے یہ ہے کہ متعہ غزوہ خیبر کے موقع پر حرام نہیں کیا گیا بلکہ اس کی حرمت فتح مکہ کے سال ہوئی، اور یہی رائے صحیح ہے، اس سے پہلے مباح و جائز تھا، اور علی ؓ نے متعہ کی حرمت اور گھریلو گدھے کی حرمت کو جو ایک ساتھ جمع کردیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن عباس ؓ ان دونوں کو مباح و جائز سمجھتے تھے تو علی نے نبی اکرم ﷺ سے ان دونوں کی تحریم ابن عباس ؓ کی تردید میں بیان کی ہے، اور پالتو گدھے کی حرمت غزوہ خیبر میں ہوئی تھی، اور اس کی تحریم کے لیے غزوہ خیبر کے دن کو بطور ظرف ذکر کیا ہے، اور تحریم متعہ کو مطلق بیان کیا ہے، صحیح سند سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا، نیز عورتوں سے متعہ کو بھی حرام کیا، اور ایک روایت میں حرم متعة النساء وحرم لحوم الحمر الأهلية کے الفاظ بھی ہیں جس سے بعض راویوں نے یہ سمجھا کہ ان دونوں کو خیبر کے روز ہی حرام کیا گیا تھا، تو انھوں نے دونوں کو خیبر کے روز ہی سے مقید کردیا، اور بعض راویوں نے ایک کی تحریم پر اقتصار کیا اور وہ ہے گھریلو گدھے کی تحریم، یہیں سے وہم ہوا کہ دونوں کی تحریم غزوہ خیبر کے موقع پر ہوئی، رہا خیبر کا قصہ تو اس روز نہ تو صحابہ کرام ؓ نے یہودی عورتوں سے متعہ کیا، اور نہ ہی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے انھوں نے اجازت طلب کی اور نہ ہی کسی نے کبھی اس غزوہ میں اس کو نقل کیا ہے اور نہ اس متعہ کے فعل یا اس کی تحریم کا حتمی ذکر ہے بخلاف فتح مکہ کے، فتح مکہ کے موقع پر متعہ کے فعل اور اس کی تحریم کا ذکر مشہور ہے اور اس کی روایت صحیح ترین روایت ہے۔ (ملاحظہ ہو: زاد المعاد )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢١٦)، النکاح ٣١ (٥١١٥)، الذبائح ٢٨ (٥٥٢٣)، الحیل ٤ (٦٩٦١)، صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٠٧)، الصید ٥ (١٤٠٧)، سنن الترمذی/النکاح ٢٨ (١١٢١)، الأطعمة ٦ (١٧٩٤)، سنن النسائی/النکاح ٧١ (٣٣٦٧)، الصید ٣١ (٤٣٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ١٨ (٤١)، مسند احمد (١/٧٩، ١٠٣، ١٤٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٦ (٢٢٤٣) (صحیح )
1962Sunan Ibne-Majah

نکاح متعہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْعُزْبَةَ قَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا، قَالَ: فَاسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ فَأَتَيْنَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْكِحْنَنَا، إِلَّا أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَهُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا عَلَى امْرَأَةٍ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا فَمَكَثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ أَلَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَلْيُخْلِ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا.

سبرہ بن معبد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان عورتوں سے متعہ کرلو ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کرلو چناچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے، اس کے پاس ایک چادر تھی، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا: چادر تو چادر کی ہی طرح ہے (پھر وہ میری طرف مائل ہوگئی) چناچہ میں نے اس سے نکاح (متعہ) کرلیا، اور اس رات اسی کے پاس رہا، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ ﷺ رکن (حجر اسود) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے: اے لوگو! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے ۔

It was narrated from Rabi bin Sabrah that his lather said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ on the Farewell pilgrimage, and they said: O Messenger of Allah ﷺ , celibacy has become too difficult lor us. He said: Then make temporary marriages with these women. So we went to them, but they insisted on setting a fixed time between us and them. They mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: Set a fixed time between you and them. So I went out with a cousin of mine. He had a cloak and I had a cloak, but his cloak was finer than mine, and I was younger than him. We came to a woman and she said: One cloak is like another. So I married her and stayed with her that night. Then the next day I saw the Messenger of Allah ﷺ standing between the Rukn (corner) and the door (of the Ka’bahh), saying: O people, I had permitted temporary marriage for you, but Allah has forbidden it until the Day of Resurrection. Whoever had any temporary wives, he should let them go, and do not take back anything that you had given to them. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٠٦)، سنن ابی داود/النکاح ١٤ (٢٠٧٢)، سنن النسائی/النکاح ٧١ (٣٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤، ٤٠٥)، سنن الدارمی/النکاح ١٦ (٢٢٤٢) (صحیح) (حجة الوداع کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح یوم الفتح ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے )
1963Sunan Ibne-Majah

نکاح متعہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ حَرَّمَهَا، وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔

It was narrated that Ibn "Umar said: "When Umar bin Khattab was appointed caliph, he addressed the people and said: The Messenger of Allah ﷺ permitted temporary marriage for us three times, then he forbade it. By Allah, if I hear of any married person entering a temporary marriage, I will stone him to death, unless he can bring me four witnesses who will testify that the Messenger of Allah ﷺ allowed it aiter he forbade it:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٦، ومصباح الزجاجة: ٦٩٥) (حسن )
1964Sunan Ibne-Majah

محرم شادی کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، قَالَ: وَكَانَتْ خَالَتِي وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ.

ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی، اور آپ اس وقت حلال تھے۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ ؓ میری بھی خالہ تھیں، اور ابن عباس ؓ کی بھی۔

Maimunah bint Harith narrated that the Messenger of Allah ﷺ married her when he was HaW (not in lhram). (sahih) He (one of the narrators- Yazid) said: "And she was my maternal aunt and the maternal aunt of Ibn Abbas (RA) also."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١١)، سنن ابی داود/المناسک ٣٩ (١٨٤٣)، سنن الترمذی/الحج ٢٤ (١٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٣، ٣٣٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٥) (صحیح )
1965Sunan Ibne-Majah

محرم شادی کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (میمونہ ؓ سے) حالت احرام میں نکاح کیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ got married while he was a Muhrim (in lhram). (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث میمونہ بنت حارث ؓ کی سابقہ حدیث کی معارض ہے، اس میں ابن عباس ؓ کو وہم ہوا ہے کیونکہ یہ اکثر صحابہ کرام ؓ کی روایت کی مخالف ہے، فرد واحد کی طرف وہم کی نسبت جماعت کی طرف وہم کی نسبت سے زیادہ قریب ہے، خود صاحب قصہ ام المومنین میمونہ ؓ کا اور ان کے وکیل ابورافع ؓ جو ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان سفارت کے فرائض انجام دے رہے تھے کا بیان اس کے خلاف ہے، ابن عباس ؓ کے قول: وهو محرم کی ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ ابن عباس ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نبی اکرم ﷺ حدود حرم میں تھے، اور اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں ام المومنین میمونہ ؓ سے نکاح کیا، تو پھر اسے آپ کی خصوصیت پر محمول کیا جائے گا، عثمان ؓ کی آگے آنے والی حدیث میں ایک کلی قانون کا بیان ہے، اور ابن عباس ؓ سے منقول حدیث میں نبی اکرم ﷺ کے فعل کی حکایت ہے جس میں بہت سارے احتمالات موجود ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧)، المغازي ٤٣ (٤٢٥٨)، النکاح ٣٠ (٥١١٤)، صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١٠)، سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن الترمذی/الحج ٢٤ (٨٤٣)، سنن النسائی/الحج ٩٠ (٢٨٤٣)، النکاح ٣٧ (٣٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢، ٢٤٥، ٢٦٦، ٢٧٠، ٢٨٣، ٢٨٥، ٢٨٦، ٣٢٤، ٣٣٠، ٣٣٣، ٣٣٦، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٦١)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣) (صحیح) (لیکن یہ شاذ ہے، اس لیے کہ اوپر کی میمونہ رضی+اللہ+عنہا کی حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ شادی احرام سے باہر حلت کے ایام میں ہوئی تھی، اور یہ صاحب معاملہ کا بیان ہے، تو ان کی بات زیادہ لائق اعتماد ہے، اور ابن+عباس رضی+اللہ+عنہما نے اپنے علم کی بناء پر ایسا کہا تھا، جو خلاف واقعہ بات ہے )
1966Sunan Ibne-Majah

محرم شادی کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْه بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم نہ تو اپنا نکاح کرے، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے ۔

It was narrated from Aban bin Uthman bin Affan that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The one in Ihram should not get married, nor arrange a marriage for anyone else, nor propose marriage," (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩)، سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤١، ١٨٤٢)، سنن الترمذی/الحج ٢٣ (٨٤٠)، سنن النسائی/الحج ٩١ (٢٨٤٥)، النکاح ٣٨ (٣٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٢٢ (٧٠)، حم ١/٥٧، ٦٤، ٦٩، ٧٣، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤)، النکاح ١٧ (٢٢٤٤) (صحیح )
1967Sunan Ibne-Majah

نکاح میں ہمسر اور برابر کے لوگ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابُورَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو فُلَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ، فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑی خرابی ہوگی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If there comes to you one with whose character and religious commitment you are pleased, then marry (your daughter or female relative under your care) to him, for if you do not do that there will be Fitnah in the land and widespread corruption.” (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو کا اعتبار صرف دین اور اخلاق میں کیا جائے گا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چار چیزوں (دین، نسب آزادی اور پیشہ و صنعت میں) معتبر ہے، لیکن پہلا قول راجح ہے، اور اس کے قابل ترجیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٣ (١٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٥) (حسن) (سند میں عبد الحمید ضعیف راوی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٨٦٨ ، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے )
1968Sunan Ibne-Majah

نکاح میں ہمسر اور برابر کے لوگ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Choose the best for your sperm, and marry compatible women and propose marriage to them." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اکفاء کفو کی جمع ہے، کاف کے ضمہ اور خاء کے سکون کے ساتھ اس کے معنی مثل، نظیر اور ہمسر کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٤، ومصباح الزجاجة: ٦٩٦) (حسن) (سند میں الحارث الجعفری ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ١٠٦٧ )
1969Sunan Ibne-Majah

بیویوں کی باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever has two wives and favors one of them over the other, he will come on the Day of Resurrection with one of his sides leaning." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٣)، سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤١)، سنن النسائی/عشرةالنساء ٢ (٣٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٧، ٤٧١)، سنن الدارمی/النکاح ٢٤ (٢٢٥٢) (صحیح )
1970Sunan Ibne-Majah

بیویوں کی باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that whenever the Messenger of Allah ﷺ was to travel, he would cast lots among his wives. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ ﷺ کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ ﷺ پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء (سورة الأحزاب: 51) ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٦٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، النکاح ٩٧ (٥٠٩٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٥)، سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٨)، مسند احمد (٦/١١٧، ١٥١، ١٩٧، ٢٦٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٣١ (٢٤٦٧) (صحیح )
1971Sunan Ibne-Majah

بیویوں کی باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے، اور باری میں انصاف کرتے، پھر فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ (محبت کے معاملہ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے، اور میں مالک نہیں ہوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to divide his time equally among his wives, then he would O Allah, this is what I am doing with regard to that which is within my control, so do not hold me accountable for that which is under Your control and is beyond my control" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کے اسوہ کے مطابق مرد کا اختیار جہاں تک ہے، وہاں تک بیویوں کے درمیان عدل کرے، ہر ایک عورت کے پاس باری باری رہنا یہ اختیاری معاملہ ہے جو ہوسکتا ہے، لیکن دل کی محبت اور جماع کی خواہش یہ اختیاری نہیں ہے، کسی عورت سے رغبت ہوتی ہے، کسی سے نہیں ہوتی، تو اس میں برابری کرنا یہ مرد سے نہیں ہوسکتا، بس اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری کسی دوسری عورت کو ہبہ کر دے جیسے اس کا ذکر آگے آتا ہے، یا اپنی باری شوہر کو معاف کر دے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٤)، سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤٠)، سنن النسائی/عشرة النکاح ٢ (٣٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (لیکن رسول اکرم ﷺ کا بیویوں کے درمیان ایام کی تقسیم ثابت ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٣٤٦ )
1972Sunan Ibne-Majah

بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍجَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِ سَوْدَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ ؓ بوڑھی ہوگئیں، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ ؓ کو ہبہ کردیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ سودہ ؓ کی باری والے دن عائشہ ؓ کے پاس رہتے تھے۔

Urwah narrated from Aisha (RA) that when Saudah bint Zam ah grew old, she gave her day to Aisha (RA) , and the Messenger of Allah ﷺ went to Aisha (RA) on Saudahs day. (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٤٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٧١٠١)، وحدیث محمد بن الصبَّاح تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، النکاح ٩٩ (٥٢١٢)، سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٥)، مسند احمد (٦/ ١٠٧) (صحیح )
1973Sunan Ibne-Majah

بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْسُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ، فَقَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صفیہ بنت حیی ؓ پر کسی وجہ سے ناراض ہوگئے، تو صفیہ ؓ نے کہا: عائشہ! کیا تم رسول اللہ ﷺ کو مجھ سے راضی کرسکتی ہو، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، چناچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عائشہ مجھ سے دور ہوجاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے ، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم ﷺ صفیہ ؓ سے راضی ہوگئے۔

It was narrated from " Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ became angry with Safiyyah bint Huyai for something, and Safiyyah said: "O "Aish ah, can you make the Messenger of Allah ﷺ be pleased with me, and I will give you my day?" She said: "Yes." So she took a headeaver of hers that was dyed with saffron, and sprinkled it with water so that its fragrance would become stronger, then she sat beside the Messenger of Allah ﷺ . The Prophet ﷺ said: "O Aisha (RA) , go away, because it is not your day." She said: "That is the Grace of Allah which He bestows on whom He pleases." Then she told him about that matter and he was pleased with her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٤، ومصباح الزجاجة: ٦٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٥، ١٤٥) (ضعیف) (سند میں سمیہ بصریہ غیر معروف ہے )
1974Sunan Ibne-Majah

بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا، وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا، فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تُقِيمَ عِنْدَهُ وَلَا يَقْسِمَ لَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ یہ آیت: والصلح خير اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی، اس سے کئی بچے ہوئے، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے (اور اسے طلاق دیدے) چناچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "This Verse And making peace is better. was revealed concerning a man who had been married to a woman for a. long time, and she had given birth to his children and he wanted to exchange her (for a new wife). She agreed that he would stay with her (the new wife) and would not give her (the first wife) a share of his time. (i.e., not spend the nights with her).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧١٢٨) (حسن) (سند میں اختلاف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے )
1975Sunan Ibne-Majah

نکاح کرانے کے لئے سفارش کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَةِ، أَنْ يُشَفَّعَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ فِي النِّكَاحِ.

ابورہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر سفارش یہ ہے کہ مرد اور عورت کے نکاح کی سفارش کی جائے ۔

It was narrated that Abu Ruhm said: "The Messenger of Allah ﷺ said: One of the best kinds of intercession is interceding between two people concerning marriage," (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٨، ومصباح الزجاجة: ٦٩٩) (ضعیف) (ابو رہم سمعی مخضرم اور ثقہ ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )
1976Sunan Ibne-Majah

نکاح کرانے کے لئے سفارش کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسامہ ؓ دروازہ کی چوکھٹ پر گرپڑے، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ان سے خون صاف کرو ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ ﷺ ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Usaman stumbled at the threshold of the door and cut his face, The Messenger of Allah ﷺ said: Remove the harm (the blood) from him: but I was repulsed by that. He started to suck the blood and remove it from his face, then he said: If Usamah were a girl, I would have adorned him and dressed him until I married him off. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٦، ومصباح الزجاجة: ٧٠٠)، وقد أخرجہ: ٦/١٣٩، ٢٢٢) (صحیح )
1977Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "The best of you is the one who is best to his wife, and I am the best of you to my wives," (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عمدہ سلوک اور اخلاق کے ساتھ اگرچہ تمام لوگوں سے معاشرت عمدہ طور سے لازم ہے، تاکہ سب خاص و عام اپنے سے خوش رہیں، اور مرتے وقت تعریف کریں، اور دعا دیں لیکن سب لوگوں سے زیادہ حق اپنی بیوی اور بال بچوں کا ہے، اس کے بعد دوسرے عزیزوں اور ناتے والوں کا، اس کے بعد دوستوں کا اس کے بعد اور لوگوں کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٣٧، ومصباح الزجاجة: ٧٠١) (صحیح) (سند میں عمارہ بن ثوبان مستور ہے، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے )
1978Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہوں ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of you are those who are best to their womenfolk," (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٤، ومصباح الزجاجة: ٧٠٢) (صحیح) (سند میں اعمش مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے )