Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 100 of 218

1979Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ ﷺ سے آگے نکل گئی ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ raced with me and I beat him," (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب میرا بدن بھاری ہوگیا تو آپ ﷺ دوڑ میں مجھ سے آگے نکل گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! یہ پہلی دوڑ کا بدلہ ہے اس حدیث کے یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ شوہر کی حسن معاشرت اپنی بیویوں کے ساتھ معلوم ہو باوجود یہ کہ نبی اکرم ﷺ کا سن مبارک زیادہ تھا، اور عائشہ ؓ کم سن تھیں، لیکن آپ ﷺ ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا کرتے اور دوڑنا مباح ہے کچھ برا کھیل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢٧)، سنن ابی داود/الجہاد ٦٨ (٢٥٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٢) (صحیح )
1980Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ، فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِ؟، قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (خیبر سے واپس) مدینہ آئے، اور صفیہ بنت حیی ؓ کے آپ دولہا ہوئے، تو انصار کی عورتیں آئیں، اور انہوں نے صفیہ ؓ کا حال بیان کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی، منہ پر نقاب ڈالا، اور صفیہ ؓ کو دیکھنے چلی، رسول اللہ ﷺ نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا، آپ ﷺ دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا، اور پوچھا: تو نے کیسا دیکھا ؟ میں نے کہا: بس چھوڑ دیجئیے، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah, he had just married safiyyah bint Huyai, and the women of the Ansar came and told us about that. My expression changed and I covered my face and went away. The Messenger of Allah ﷺ looked at my eyes and recognized me. I turned away and walked quickly, but he caught up with me and put his arm around me and said: What did you see? I said: Let me go, (I saw) a Jewish woman among other Jewish women. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٢، ومصباح الزجاجة: ٧٠٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے )
1981Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا، ثُمَّ أَقَبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دُونَكِ فَانْتَصِرِي، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش ؓ میرے گھر میں بغیر اجازت کے آگئیں، وہ غصہ میں تھیں، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں، میں نے ان سے منہ موڑ لیا، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا تو میں ان کی طرف پلٹی، اور میں نے ان کا جواب دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا ١ ؎۔

Urwah bin Zubair narrated that Aisha (RA) said: I did not know until Zainab burst in on me without permission, and she was angry. Then she said: O Messenger of Allah, is it enough for you that the young daughter of Abu Bakr (RA) waves her hands in front of you? Then she turned to me, but I ignored her until the Prophet ﷺ said: You should say something to defend yourself: so I turned on her, (and replied to her) until I saw that her mouth had become dry, and she did not say anything back to me. And I saw the Prophet ﷺ with his face shining.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: زینب بنت جحش ؓ خاندان قریش کی حسین و جمیل اور صاحب حسب و نسب خاتون تھیں، اور رسول اکرم ﷺ کی بیویوں میں انہی کو عائشہ ؓ کی برابری کا دعوی تھا، وہ کہتی تھیں: میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا اور تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا، وہ غصہ میں اس وجہ سے تھیں کہ ام المومنین عائشہ ؓ کی طرف آپ ﷺ کی توجہ زیادہ تھی، اور وہ آپ سے شکایت کر رہی تھیں، ام المومنین عائشہ ؓ کو انہوں نے حقارتاً بُنَيَّةُ (جو تصغیر ہے بنت کی) کہا یعنی چھوٹی لڑکی، چھوکری، آپ تو عائشہ کے شیدائی اور ان پر فریفتہ ہیں، دوسری بیویوں کی آپ کو فکر ہی نہیں ہے، نہ کسی کا آپ کو خیال ہے، ام المومنین عائشہ ؓ نے اپنی قمیص الٹی اور بانہہ کھولی، ام المومنین عائشہ ؓ کا جواب دینا اور ام المومنین زینب ؓ کا ہار جانا جو ناحق شکایت کرتی تھیں، اس سے آپ کو خوشی ہوئی اور اس کے نتیجے میں آپ کا چہرہ کھل اٹھا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا: تم نہیں جانتی ہو یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ سوکنوں کی یہ وقتی غیرت والی لڑائی عائلی زندگی کا ایک خوش کن لازمہ ہے، اس میں شوہر کی عقلمندی اور اس کے حلم و صبر کا امتحان بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦٢، ومصباح الزجاجة: ٧٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٣) (صحیح )
1982Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، وَأَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَرِّبُ إِلَيَّ صَوَاحِبَاتِي يُلَاعِبْنَنِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، تو آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: I used to play with dolls when I was with the Messenger of Allah ﷺ , and he used to bring my friends to me to play with me." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گڑیاں کپڑے کی مورتیں جو بچیاں بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں یہ بچوں کا کھیل ہے، اور ان میں پوری مورت نہیں ہوتی اس لئے تصویر کا حکم نہیں دیا گیا، اور لڑکیوں کو اس کا کھیل جائز رکھا گیا، ام المومنین عائشہ ؓ کم سن تھیں، یہ آپ ﷺ کا کمال اخلاق تھا کہ بچوں پر شفقت کرتے اور کھیل کود سے ان کو منع نہ کرتے، نہ زیادہ غصہ ہوتے، اس باب کی تمام حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٧١٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٨١ (٦١٣٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٠)، سنن ابی داود/الأدب ٦٢ (٤٩٣١) (صحیح) (سند میں عمر بن حبیب ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے )
1983Sunan Ibne-Majah

بیویوں کو مارنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْأَمَةِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ.

عبداللہ بن زمعہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کا ذکر کیا، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا؟ ہوسکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Zam’ah said: “The Prophet ﷺ delivered a sermon then he made mention of women, and exhorted (the men) concerning them. Then he said: How long will one of you whip his wife like a slave, then lie with her at the end of the day? (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو پہلے ایسی سخت مار پھر اس کے بعد اتنا پیار بالکل نامناسب ہوگا، اور دل شرمائے گا، مناسب یہ ہے کہ امکانی حد تک عورت پر ہاتھ ہی نہ اٹھائے، اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، بستر الگ کر دے، اگر اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الشمس (٤٩٤٢)، النکاح ٩٣ (٥٢٠٤)، صحیح مسلم/صفة الجنة ونعیمہا ٣ (٢٨٥٥)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٧٩ (٣٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧)، سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٢٦٦) (صحیح )
1984Sunan Ibne-Majah

بیویوں کو مارنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے مارا، نہ کسی عورت کو، اور نہ کسی بھی چیز کو۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ never beat any of his servants, or wives, and his hand never hit anything." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٠ (٢٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ٥ (٤٧٨٦)، مسند احمد (٦/٢٠٦)، سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٢٦٤) (صحیح )
1985Sunan Ibne-Majah

بیویوں کو مارنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّفَأْمُرْ بِضَرْبِهِنَّ، فَضُرِبْنَ فَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفُ نِسَاءٍ كَثِيرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّ امْرَأَةٍ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، فَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ.

ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، تو عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہوگئی ہیں، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے (چنانچہ آپ ﷺ نے اجازت دے دی) تو ان کو مار پڑی، اب بہت ساری عورتیں محمد ﷺ کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی، تو تم انہیں (زیادہ مارنے والے مردوں کو) بہتر لوگ نہ پاؤ گے ۔

It was narrated that Iyas bin Abdullah bin Abu Dhubab said: "The Prophet ﷺ said: Do not beat the female slaves of Allah: Then Umar came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, the woman have become bold towards their husbands? So order the beating of them: and they were beaten. Then many women went around to the family of Muhammad ﷺ . The next day he said: Last night seventy women came to the family of Muhammad, each woman complaining about her husband. You will not find that those are the best of you:"(Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤٣ (٢١٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٦٦٥) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٢٣٤ )
1986Sunan Ibne-Majah

بیویوں کو مارنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، والْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ الطَّحَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ لَيْلَةً، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى امْرَأَتِهِ يَضْرِبُهَا، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ لِي: يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي شَيْئًا سَمِعْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.

اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات عمر ؓ کا مہمان ہوا، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہوگیا، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا: اشعث! وہ بات جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تم اسے یاد کرلو: شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا۔

It was narrated that Ash ath bin Qais said: "I was a guest (at the home) of Umar one night, and in the middle of the night he went and hit his wife, and I separated them. When he went to bed he said to me: O Ash ath, learn from me something that I heard from the Messenger of Allah ﷺ : "A man should not be asked why he beats his wife, and do not go to sleep until you have prayed the Witr:" And I forgot the third thing." (Hasan) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤٣ (٢١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠) (ضعیف) (یہ سند عبدالرحمن مسلمی کی وجہ سے ضعیف ہے، جو اس حدیث کے علاوہ کی دوسری حدیث کی روایت میں غیر معروف ہیں، اور داود بن عبد اللہ اودی روایت میں منفرد ہیں ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
1987Sunan Ibne-Majah

بالوں میں جوڑا لگانا اور گودنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بالوں کو جوڑنے اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ cursed the woman who does hair extensions and the one who has that done, and the woman who does tattoos and the one who has that done. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بال جوڑنے سے مراد یہ ہے کہ پرانے بال لے کر اپنے سر کے بالوں میں لگائے، جیسا بعض عورتوں کی عادت ہوتی ہے، اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سر کے بال زیادہ معلوم ہوں، امام نووی کہتے ہیں: ظاہر احادیث سے اس کی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، بعضوں نے شوہر کی اجازت سے جائز رکھا ہے اور گودنا بالاتفاق حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي أسامہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٤)، وحدیث عبد اللہ بن نمیر أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٤)، (تحفة الأشراف: ٧٩٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٣٧)، ٨٥ (٥٩٤٠)، ٨٧ (٥٩٤٧)، سنن ابی داود/الترجل ٥ (٤١٦٨)، سنن الترمذی/اللباس ٢٥ (١٧٥٩)، الأدب ٣٣ (٢٧٨٤)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ١٧ (٥٢٥٣)، مسند احمد (٢/٢١) (صحیح )
1988Sunan Ibne-Majah

بالوں میں جوڑا لگانا اور گودنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي عُرَيِّسٌ، وَقَدْ أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا فَأَصِلُ لَهَا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.

اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری بیٹی دلہن ہے، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔

It was narrated that Asmâ’ said: “A woman came to the Prophet ﷺ and said: ‘My daughter is going to get married, and she had the measles and her hair has fallen out. Can I put extensions in her hair?’ The Messenger of Allah ﷺ if said: ‘Allah has cursed the one who does hair extensions and the one who has that done.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٤١)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٢)، سنن النسائی/الزینة ٢٢ (٥٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١١، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣) (صحیح )
1989Sunan Ibne-Majah

بالوں میں جوڑا لگانا اور گودنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ لِخَلْقِ اللَّهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ، أَنَّكَ قُلْتَ: كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ، فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِهِ فَقَدْ وَجَدْتِهِ أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولِينَ مَا جَامَعَتْنَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں، بال اکھیڑنے والیوں، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے، اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے، وہ کہنے لگی: میں پورا قرآن پڑھتی ہوں، لیکن اس میں مجھے یہ نہ ملا، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر تم پڑھتی ہوتی تو ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ اس عورت نے کہا: ضرور پڑھی ہے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے، وہ عورت بولی: میرا خیال ہے کہ تمہاری بیوی بھی ایسا کرتی ہوگی، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: جاؤ دیکھو، چناچہ وہ اسے دیکھنے کے لیے گئی تو اس نے کوئی بات اپنے خیال کے مطابق نہیں پائی، تب کہنے لگی: میں نے تمہاری بیوی کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہی تھیں تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed the woman who does tattoos and the one who has them done, and those who pluck their eyebrows and file their teeth for the purpose of beautification, and those who change the creation of Allah." News of that reached a woman of Banu Asad who was called Umm Yaqub, She came to him and said: “I have heard that you said such and such.” He said: “Why should I not curse those whom Messenger of Allah ﷺ cursed? And it is in the Book of Allah.” She said: “I read what is between ts two covers and I have not found that.” He said: “If you read it properly you would have found it. Have you not read the words: And whatsoever the Messenger (Muhammad) gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain (from it). She said: “Of course.” He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ forbade that.” She said: ‘I think that your wife does it.’ He said: “Go and look.” So she went and looked nd she did not see what she anted. She said: “I have not seen tything.”‘Abdullah said: “If she as as you say, I would not have ept her with me.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی کا مطلب ہے کہ میں اسے طلاق دے دیتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورةالحشر ٤ (٤٨٨٦)، اللباس ٨٢ (٥٩٣١)، ٨٤ (٥٩٣٩)، ٨٥ (٥٩٤٣)، ٨٦ (٥٩٤٤)، ٨٧ (٥٩٤٨)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٥)، سنن ابی داود/الترجل ٥ (٤١٦٩)، سنن الترمذی/الادب ٣٣ (٢٧٨٢)، سنن النسائی/الزینة ٢٤ (٥١٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩٤٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٩، ٤١٥، ٤٢٤، ٤٤٨، ٤٥٤، ٤٦٢، ٤٦٥)، سنن الدارمی/الاستذان ١٩ (٢٦٨٩) (صحیح )
1990Sunan Ibne-Majah

کن دنوں میں اپنی ازواج سے صحبت کرنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی، اور عائشہ ؓ اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں (ان کے شوہروں کے پاس) بھیجنا پسند کرتی تھیں۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Prophet ﷺ of Allah ﷺ married me in Shawwal, and he consummated the marriage with me in Shawwâl, and which of his wives was more favored to him than I.”‘ Aisha (RA) used to like marriage to be consummated with her female relatives in Shawwál. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١١ (١٤٢٣)، سنن الترمذی/النکاح ٩ (١٠٩٣)، سنن النسائی/النکاح ١٨ (٣٢٣٨)، ٧٧ (٣٣٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٤، ٢٠٦)، سنن الدارمی/النکاح ٢٨ (٢٢٥٧) (صحیح )
1991Sunan Ibne-Majah

کن دنوں میں اپنی ازواج سے صحبت کرنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ وَجَمَعَهَا إِلَيْهِ فِي شَوَّالٍ.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdul-Malik bin Hârith bin Hishâm, from his father that the Prophet ﷺ married Umm Salamah in Shawwál, and consummated the marriage with her in Shawwâl. (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: شوال کا مہینہ عید اور خوشی کا مہینہ ہے، اس وجہ سے اس میں نکاح کرنا بہتر ہے، عہد جاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے، رسول اکرم ﷺ نے ان کے خیال کو غلط ٹھہرایا اور اس مہینہ میں نکاح کیا، اور دخول بھی اسی مہینے میں کیا، گو ہر ماہ میں نکاح جائز ہے مگر جس مہینہ کو عوام بغیر دلیل شرعی کے عورتوں کی تقلید سے یا کافروں اور فاسقوں کی تقلید سے منحوس سمجھیں اس میں نکاح کرنا چاہیے، تاکہ عوام کے دل سے یہ غلط عقیدہ نکل جائے، شرع کی رو سے شوال، محرم یا صفر کا مہینہ کوئی منحوس نہیں ہے، اس لیے بےکھٹکے ان مہینوں میں نکاح کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٢، ١٨٢٣٠، ومصباح الزجاجة: ٧٠٦) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سند میں ارسال ہے، عبدالملک بن الحارث+بن+ہشام یہ عبدالملک+بن+ابی+بکر بن الحارث+بن+ہشام المخزومی ہیں جیسا کہ طبقات ابن+سعد میں ہے، ٨ /٩٤-٩٥، اور یہ ثقہ تابعی ہیں، اسی طرح ابوبکر ثقہ تابعی ہیں، اور یہ حدیث ابوبکر کی ہے، نہ کہ ان کے دادا حارث+بن+ہشام کی، اور عبداللہ+بن+ابی+بکر یہ ابن+محمد عمرو+بن+حزم الانصاری ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے ابن+اسحاق روایت کرتے ہیں، ابوبکر کی وفات 120 ھ میں ہوئی، اور ان کے شیخ عبدالملک کی وفات 125 ھ میں ہوئی، اس لیے یہ حدیث ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث+بن+ہشام سے مرسلاً روایت ہے، ان کے دادا حارث+بن+ہشام سے نہیں، اس میں امام مزی وغیرہ کو وہم ہوا ہے، نیز سند میں ابن+اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ابن سعد کی روایت میں تحدیث کی تصریح ہے، اور موطا امام+مالک میں ( ٢ / ٦٥٠) میں ثابت ہے کہ ابوبکر+بن+عبدالرحمٰن نے اس حدیث کو ام+سلمہ رضی+اللہ+عنہا سے لیا ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح ہے، اسی وجہ سے شیخ البانی نے تفصیلی تحقیق کے بعد اس حدیث کو الضعیفہ ( ٤٣٥٠ ) سے منتقل کرنے کی بات کہی ہے،، فالحدیث صحیح ینقل الی الکتاب الأخر۔ ١٩٩
1992Sunan Ibne-Majah

مرد اپنی بیوی سے کوئی چیز دینے سے قبل دخول کرے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ أًظَنَّهُ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُدْخِلَ عَلَى رَجُلٍ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے پاس اس کی بیوی کو بھیج دیں اس سے پہلے کہ شوہر نے اس کو کوئی چیز دی ہو۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ told her to take a woman to her husband before he had given her anything (i.e., bridal-money}. (Da`if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٦ (٢١٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٩) (ضعیف) (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی ضعیف ہیں، اور خیثمہ کا ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سماع بھی محل نظر ہے، ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب ٣ / ١٧٩ )
1993Sunan Ibne-Majah

کونسی چیز منحوس ہے اور کونسی مبارک ہوتی ہے؟

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْحَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ.

مخمر بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نحوست کوئی چیز نہیں، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے: عورت، گھوڑا اور گھر میں ۔

It was narrated from Hakim bin Mu’wiyah that his paternal uncle Mikhmar bin Mu’âwiyah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Do not believe in omens, and good fortune is only to be found in three things: A woman, a horse and a house.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٣، ومصباح الزجاجة: ٧٠٧) (صحیح )
1994Sunan Ibne-Majah

کونسی چیز منحوس ہے اور کونسی مبارک ہوتی ہے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ (یعنی نحوست) ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔

It was narrated from Sahl bin Sad that the Messenger of Allah ﷺ said: "If it exists, it is in three things: a horse, and woman and a house," meaning omens. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٧ (٢٨٦٠)، النکاح ١٨ (٥٠٩٥)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٧٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان ٨ (٢١)، مسند احمد (٥/٣٣٥، ٣٣٨) (صحیح )
1995Sunan Ibne-Majah

کونسی چیز منحوس ہے اور کونسی مبارک ہوتی ہے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ جَدَّتَهُ زَيْنَبَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَعُدُّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ، وَتَزِيدُ مَعَهُنَّ السَّيْف.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں ١ ؎۔ زہری کہتے ہیں: مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا، اور وہ ام سلمہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “Omens are only to be found in ti-tree things: a horse, a woman and a house.” (Sahih) (One of the narrators) AzZuhri said: “Abu ‘Ubaidah bin ‘Abdullâh bin Zam’ ah said that his mother, Zainab, narrated to him, from Umm salamah, that she used to list these three, and add to them “the sword.”

Notes · وضاحت
١ ؎: الشوم فى ثلاث (نحوست کے تین چیزوں میں متحقق ہونے) سے متعلق احادیث کے مقابلہ میں إن کان الشؤم (اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی) کا لفظ کثرت روایت اور معنی کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے، اس لئے کہ اسلام میں کوئی چیز شؤم ونحوست کی نہیں، اس لئے البانی صاحب نے الشؤم فى ثلاثة والی احادیث کو شاذ قرار دیا ہے، اور شرط کے ساتھ وارد متعدد احادیث کو روایت اور معنی کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے: (ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ٤ /٤٥٠-٤٥١ )
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطب ٣٤ (٢٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٤)، وحدیث أم سلمةٰ، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٤٧ (٢٨٥٨)، النکاح ١٧ (٥٠٩٣)، الطب ٤٣ (٥٧٥٣)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩٢٢)، سنن النسائی/الخیل ٥ (٣٥٩٩)، سنن الترمذی/الادب ٥٨ (٢٨٢٤)، موطا امام مالک/الإستئذان ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح )
1996Sunan Ibne-Majah

غیرت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ، فَأَمَّا مَا يُحِبُّ، فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا مَا يَكْرَهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the essenger of Allah ﷺ said: “There is a kind of protective jealousy that Allah loves and a kind that Allah hates. As for that which Allah loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. And as for that which He hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وقت ایسا ہے کہ اللہ کی پناہ، بدمعاش لوگ کسی نیک بخت عورت کی نسبت ایک جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں تاکہ اس کا شوہر غیرت میں آ کر کوئی کام کر بیٹھے، اس کا گھر تباہ و برباد ہو، حسد کرنے والوں کو اس میں خوشی ہوتی ہے، یہ وقت بڑے تحمل اور استقلال کا ہے، انسان کو اس میں سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہیے، جلدی ہرگز نہ کرنی چاہیے، اور شریعت کے مطابق گواہی لینی چاہیے، اگر ایسے سچے اور نیک گواہوں کی گواہی نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ حاسدوں اور دشمنوں کا فریب ہے، جو اس کا گھر تباہ کرنا چاہتے تھے، اللہ پاک حاسدوں اور دشمنوں کے شر سے بچائے، نبی اکرم ﷺ کو بھی ایذادہی سے نہ چھوڑا، ام المؤمنین عائشہ ؓ پر جھوٹی تہمت باندھی، طوفان اٹھایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کی براءت ان کے سامنے نازل کی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٨، ومصباح الزجاجة: ٧٠٩) (صحیح) (اس کی سند میں أبی سھم مجہول ہے لیکن یہ حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: ابوداود: ٢٦٥٩ و نسائی و احمد: ٥ /٤٤٥ - ٤٤٦ و الإرواء: ١٩٩٩ )
1997Sunan Ibne-Majah

غیرت کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ قَطُّ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ، أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ، قَالَهُ ابْن مَاجَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ ؓ پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں، یعنی سونے کے مکان کی، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “I never felt as jealous of any woman as I did of Khadijah, because I saw how the Messenger of Allah ﷺ remembered her, and his Lord had told him to give her the glad tidings of a house in Paradise made of Qasab.” (Sahih) Meaning of gold; Ibn Mâjah said that.

Notes · وضاحت
١ ؎: نہ اس میں غل ہے نہ شور، جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ام المؤمنین خدیجہ ؓ آپ ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، آپ ﷺ کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے انہی کے مبارک بطن سے ہوئی، اور انہوں نے اپنا سارا مال و اسباب آپ ﷺ پر نثار کیا، اور سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائیں، ان کے فضائل بہت ہیں، وہ آپ ﷺ کی ساری بیویوں میں سب سے افضل ہیں، اور سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء ؓ کی والدہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٧٠٩٦)، وقد أخر جہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٠ (٣٨١٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣٤)، سنن الترمذی/البروالصلة ٧٠ (٢٠١٧)، المناقب ٦٢ (٣٨٧٥) (صحیح )
1998Sunan Ibne-Majah

غیرت کا بیان

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي، أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ إِلَّا، أَنْ يُرِيدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا.

مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب ؓ سے کردیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب ؓ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Mishwar bin Makhramah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ when he was on the pulpit, say: Banu Hisham bin Mughirah asked me for permission to marry their daughter to Ali bin Abu Talib, but I will not give them permission, and I will not give them permission, and I will not give them permission, unless Ali bin Abu Talib wants to divorce my daughter and marry their daughter, for she is a part of me, and what bothers her bothers me, and what upsets her upsets me. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: علی ؓ نے فاطمہ ؓ کے موجود ہوتے ہوئے، ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ نہیں رہ سکتیں یہ سن کر علی ؓ نے یہ شادی نہیں کی، اور فاطمہ ؓ کی زندگی تک کسی اور عورت سے شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد ابوجہل کی بیٹی سے اور دوسری کئی عورتوں سے شادی کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ٥ (٣١١١)، المناقب ١٢ (٣٧١٤)، النکاح ١٠٩ (٥٢٣٠)، الطلاق ١٣ (٥٢٧٨) صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٧ (٢٤٤٩)، سنن ابی داود/النکاح ١٣ (٢٠٧١)، سنن الترمذی/المناقب ٦١ (٣٨٦٧)، (تحفة الأشراف: ١١٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢٣، ٣٢٨) (صحیح )