Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 34 of 218

661Sunan Ibne-Majah

اپنے بھائی کا ستر دیکھنے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَنْظُرِ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يَنْظُرِ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت عورت کے اور مرد مرد کے ستر کو نہ دیکھے ۔

It was narrated from ‘Abdur-Rahmân bin Abu Sa’eed Al-Khudri from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: “No woman should look at the nakedness of another woman, and no man should look at the nakedness of another man.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٧ (٣٣٨)، سنن الترمذی/الأدب ٣٨ (٢٧٩٣)، سنن ابی داود/الحمام ٣ (٤٠١٨)، (تحفةالأشراف: ٤١١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٦٣) (صحیح )
662Sunan Ibne-Majah

اپنے بھائی کا ستر دیکھنے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْمَوْلًى لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ يَقُولُ: عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: ابونعیم عن مولاة لعائشة کہتے تھے۔

It was narrated from a freed slave of ‘ Aisha (RA) that ‘ Aisha (RA) said: “I never looked at (or I never saw) the private part of the Messenger of Allah ﷺ (One of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said: “Abu Nu’aini would say; ‘(From) a freed female slave of ‘ Aisha (RA) .’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٦، ومصباح الزجاجة: ٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٣، ١٩٠) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں مولیٰ عائشہ مجہول الحال ہیں، اس لئے یہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٨١٢ ، یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٩٢٢ )
663Sunan Ibne-Majah

جس نے غسل جنابت کرلیا پھر جس میں کوئی جگہ رہ گئی جہاں پانی نہ لگا وہ کیا کرے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْأَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَرَأَى لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ: بِجُمَّتِهِ فَبَلَّهَا عَلَيْهَا، قَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ: فَعَصَرَ شَعْرَهُ عَلَيْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غسل جنابت کیا تو معمولی سی جگہ خشکی دیکھی، تو اپنے بالوں سے اس مقام کو تر کردیا۔ اسحاق بن منصور نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ﷺ نے اس پر اپنے بالوں کو نچوڑ کر تر کردیا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas (RA) : “The Prophet ﷺ bathed to cleanse himself from sexual impurity, then he saw a spot that water did not reach.” Then he motioned with the hair hanging over his shoulders and squeezed (the water from it) over that spot.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٢٨، ومصباح الزجاجة: ٢٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٣) (ضعیف) (سند میں ابو علی الرحبی حسین بن قیس ہیں جن کی حدیثیں بہت زیادہ منکر ہیں )
664Sunan Ibne-Majah

جس نے غسل جنابت کرلیا پھر جس میں کوئی جگہ رہ گئی جہاں پانی نہ لگا وہ کیا کرے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا، اور فجر کی نماز پڑھی پھر جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بدن کے ایک حصہ میں ناخن کے برابر پانی نہیں پہنچا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس پر اپنا گیلا ہاتھ پھیر دیتے تو کافی ہوتا ۔

It was narrated that ‘Ali said: “A man came to the Prophet ﷺ and said; ‘I bathed to cleanse myself from sexual impurity, and I prayed Fajr, then I noticed a spot the size of a fingernail that the water did not reach.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If you had wiped it that would have been sufficient for you.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٠٥، ومصباح الزجاجة: ٢٥٢) (ضعیف جدًا) (سند میں سوید بن سعید صدوق ہیں، اندھے ہونے کے بعد دوسروں سے احادیث کی بہت زیادہ تلقین قبول کرنے لگے، حتی کہ ابن معین نے ان کو حلال الدم قرار دیا، نیز محمد بن عبید اللہ العرزمی ضعیف اور متروک ہیں )
665Sunan Ibne-Majah

جس نے وضو کیا اور کچھ جگہ چھوڑ دی پانی نہ پہنچا یا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے ناخن کی مقدار خشک جگہ چھوڑ دی تھی، جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: جاؤ دوبارہ اچھی طرح وضو کرو ۔

It was narrated from Anas that a man came to the Prophet ﷺ he had performed ablution and has missed a spot the size of a fingernail where water had not reached. The Prophet ﷺ said to him: ‘Go back and perform ablution properly.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٦٧ (١٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٣، ١٤٦) (صحیح )
666Sunan Ibne-Majah

جس نے وضو کیا اور کچھ جگہ چھوڑ دی پانی نہ پہنچا یا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ عَلَى قَدَمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، قَالَ: فَرَجَعَ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی، تو آپ نے اسے وضو اور نماز دونوں کو دوہرانے کا حکم دیا، عمر ؓ کہتے ہیں: اس نے دوبارہ وضو کیا، اور نماز پڑھی۔

It was narrated that ‘Umar bin Khattäb said: “The Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w a man performing ablution and he missed a spot the size of a fingernail on his foot. He commanded him to repeat his ablution and his prayer, so he did.” (Sahib)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٠ (٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٢١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٦٧ (١٧٣) مسند احمد (١/٢١، ٢٣) (صحیح )
667Sunan Ibne-Majah

نماز کے اوقات کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَاعَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَر َبِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: آنے والے دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو، چناچہ (پہلے دن) جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی ١ ؎، پھر ان کو حکم دیا، انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند، صاف اور چمکدار تھا ٢ ؎، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ٣ ؎ غائب ہوگئی تو انہیں حکم دیا، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا (یعنی تاخیر کی) ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی، پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اجالے میں پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ، اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری نماز کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ۔

It was narrated from Sulaimân bin Buraidah that his father said: “A man came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of prayer. He said: ‘Pray with us for two days.’ When the sun passed its zenith he commanded Bilal (RA) to call the Adhãn, then he commanded him to give the Iqâmah for Zuhur’; then he commanded him to give the Iqamah for ‘Asr when the sun was high and clearly white. Then he commanded him to give the Iqamah for Maghrib when the sun had set; then he commanded him to give the Iqamah for ‘lsha’ when the red afterglow had disappeared; then he commanded him to give the lqdmah for Pajr when dawn came. On the folloaing day he commanded him to give the Adhan for Zuhr when the extreme heat had passed and it had cooled down; then he prayed ‘Ast when the sun was still high, but he delayed it more than he had done the day before; then he prayed Maghrib before the red afterglow disappeared; he prayed ‘Isha’ when one-third of the night had passed; and he prayed Fajr at the time when it was already light. Then he said: ‘Where is the one who was asking about the times of Prayer?’ The man said: ‘Here I am, O Messenger of Allah.’ He said: ‘The times of your prayer axe between the times you have seen.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے روز سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دلوائی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا اول وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی ٣ ؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے، اور عشاء سے ذرا پہلے تک برقرار رہتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسا جد ٣١ (٦١٣)، سنن الترمذی/الصلا ة ١ (١٥٢)، سنن النسائی/المو اقیت ١٢ (٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٩) (صحیح )
668Sunan Ibne-Majah

نماز کے اوقات کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى مَيَاثِرِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخَّر عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ.

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت عمر بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کے امیر تھے، اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ دیر کردی تو ان سے عروہ نے کہا: سنیے! جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی امامت فرمائی، تو ان سے عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو کچھ کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر کہو؟ اس پر عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد ابی مسعود ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے، اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ وہ اپنی انگلیوں سے پانچوں نمازوں کو شمار کر رہے تھے۔

It was narrated from Ibn Shihâb that he was sitting on the cushions of ‘Umar bin ‘Abdul‘Aziz wheat he was the leader over Al-M dinah, and with him was ‘Urwali bin Zubair. ‘Umar delayed ‘Asr somewhat, and ‘Urwah said to him: “Jibril came down and led the Messenger of Allah ﷺ in prayer.”‘Umar said to him: “(now what you are saying, O ‘Urwah” He said: “I heard Bashi-ir bin Abu Mas’ud saying, ‘I heard Abu Mas’ud saying, “I heard the Messenger of Allah ﷺ saying, ‘Jibril came down and led me in prayer, and I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him,’ and he counted five prayers on his fingers.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو عروہ نے حدیث کی سند بیان کر کے عمر بن عبدالعزیز کی تسلی کردی، اور دوسری روایت میں ہے کہ عروہ نے ایک اور حدیث بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی جو آگے مذکور ہوگی، عروہ کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے اوقات مقرر ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم ﷺ کو ان کی تعلیم دی تھی اور آپ ﷺ اپنے اوقات میں نماز ادا فرماتے تھے، ایک روایت میں ہے کہ اس روز سے عمر بن عبدالعزیز نے کبھی نماز میں دیر نہیں کی، اس سے عروہ کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے اوقات کی تحدید کے لئے جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے، اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو عملی طور پر سکھایا، اس لئے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢ (٥٢١)، بدء الخلق ٦ (٣٢٢١)، المغازي ١٢ (٤٠٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢ (٣٩٤)، سنن النسائی/المواقیت ١ (٤٩٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١)، مسند احمد (٤/١٢٠) (صحیح )
669Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ تَعْنِي: مِنَ الْغَلَسِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The believing women used to perform the Subh prayer with the Prophet ﷺ , then they would go back to their families and no one would recognize them,” meaning because of the darkness. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہیے، اور یہی نبی ﷺ کا دائمی طریقہ تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن النسائی/المواقیت ٢٤ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، المواقیت ٢٧ (٥٧٨)، الأذان ١٦٣ (٧٦٧)، ١٦٥ (٨٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢ (١٥٣)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠ (١٢٥٢) (صحیح )
670Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78، قَالَ: تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کریمہ: وقرآن الفجر إن قرآن الفجر کان مشهودا (سورة الإسراء: 78) کی تفسیر میں فرمایا: اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Huraisah that the Messenger of Allah ﷺ recited: And recite the Qur’ân during the Fajr. Verily, the recitation of the Qur’ân during Fajr is ever witnessed.” He said: “It is witnessed by the angels of the night and the day.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کے وقت، جمع ہوجاتے ہیں اور یہ مضمون دوسری حدیث میں مزید صراحت سے آیا ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١٣٥)، وحدیث أبي ہریرة أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٤٧ (٢١٥)، التفسیر ١٨ (٣١٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣١ (٦٤٨)، صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٤٩)، مسند احمد (٢/٢٣٣) (صحیح )
671Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: هَذِهِ صَلَاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ.

مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کے ساتھ صبح کی نماز غلس (آخر رات کی تاریکی) میں پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر ؓ کی طرف متوجہ ہوا، اور ان سے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ، اور ابوبکرو عمر ؓ کے ساتھ پڑھتے تھے، لیکن جب عمر ؓ کو نیزہ مار کر زخمی کردیا گیا تو عثمان ؓ نے اسے اسفار (اجالے) میں پڑھنا شروع کردیا ١ ؎۔

Mughith bin Sumayi said : I prayed the Subh with ‘Abdullâh bin Zubair in the darkness, and when he said the Taslim, I turned to Ibn ‘Umar and said: ‘What is this prayer?’ He said: ‘This is how we prayed with the Messenger of Allah ﷺ and with Abu Bakr (RA) and ‘Umar. When ‘Umar was stabbed, ‘Uthmân delayed it until there was light.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان ؓ کو اسفار (اجالے) میں فجر پڑھتے دیکھ کر بعض تابعین کو یہ گمان پیدا ہوگیا کہ صحابہ کرام ؓ کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اسفار میں فجر کی نماز پڑھا کرتے جیسے ابراہیم نخعی سے منقول ہے حالانکہ اسفار میں پڑھنے کا باعث جان کا ڈر تھا ورنہ اصلی وقت اس نماز کا وہی تھا جو ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ منہ اندھیرے نبی اکرم ﷺ اور شیخین (ابوبکر صدیق و عمر فاروق ؓ) ایسا ہی کرتے رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٦١، ومصباح الزجاجة: ٢٥٣) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١ / ٢٧٩ )
672Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَجَدُّهُ بَدْرِيٌّ يُخْبِرُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ، أَوْ لِأَجْرِكُمْ.

رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح کو اچھی طرح روشن کرلیا کرو، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے ۔

It was narrated from Râfi’ bin Khadij that the Prophet ﷺ Said: “Pray the Subh early, for indeed its reward is greater” or “your reward.” (Sahih))

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اتنا اجالا ہوجانے دو کہ طلوع فجر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ) میں لکھتے ہیں کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مسجدوں کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی نماز خوب لمبی پڑھو، تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہوجائے، جیسا کہ ابوبرزہ ؓ کی روایت میں ہے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہنچان لیتا اس طرح اس میں اور غلس والی روایتوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں رہ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨ (٤٢٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٣ (١٥٤)، سنن النسائی/المواقیت ٢٦ (٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٢) وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٠، ٤٦٥، ٤/١٤٠، ١٤٢، ٥/٤٢٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١ (١٢٥٣) (حسن صحیح )
673Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔

It was narrated from Jabir bin Samurah that the Prophet ﷺ used to pray Zuhr when the sun had passed its zenith. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٨٠٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٠ (٩٨١)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠٦) (صحیح )
674Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي صَلَاةَ الْهَجِيرِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الظُّهْرَ، إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ.

ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دوپہر کی نماز جس کو تم ظہر کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔

It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: “The Prophet ﷺ used to pray the Hajir prayer, which you call ‘Zuhr’ when the sun had passed its zenith.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١١ (٥٤١)، ١٣ (٥٤٧)، ٢٣ (٥٦٨)، ٣٨ (٥٩٨)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٣٩٨)، سنن النسائی/المواقیت ١ (٤٩٦)، ١٦ (٥٢٦)، ٢٠ (٥٣١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٠٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٤ (١٥٥)، مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٢١، ٤٢٣، ٤٢٤، ٤٢٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٨) (صحیح )
675Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْخَبَّابٍ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا. قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، نَحْوَهُ.

خباب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو نظر انداز کردیا ١ ؎۔

It was narrated that Khabbâb said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the heat of the sunbaked ground, but he did not respond to our complaint.” (Sahih) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز کی تاخیر گوارا نہ کی، اور ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥١٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢ (٤٩٨) مسند احمد (٥/١٠٨، ١١٠) (صحیح )
676Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے اسے نظر انداز کردیا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdulláh bin Mas’ud said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the heat of the sunbaked ground, but he did not respond to our complaint.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہوا کہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد تھوڑی سی دیر کریں نہ کہ ایک مثل کے بعد پڑھیں، ایک مثل کے بعد تو ظہر کا وقت ہی نہیں رہتا، اور ٹھنڈک سے یہ مراد ہے کہ دوپہر کی دھوپ میں ذرا نرمی آجائے بالکل ٹھنڈک تو شام تک بھی نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٥٤) (صحیح) (اس سند میں مالک الطائی غیر معروف ہیں، اور معاویہ بن ہشام صدوق ہیں، وہم کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
677Sunan Ibne-Majah

سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنا ( یعنی ٹھنڈے وقت میں ادا کرنا)۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہوجائے تو نماز ٹھنڈی کرلو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When it is very hot, then wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hellfire.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ظہر کو جلدی نہ پڑھنے اور باقی نماز کو اول وقت میں پڑھنے کی افضلیت کے سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، وہ باہم معارض نہیں ہیں کیونکہ اول وقت میں پڑھنے والی روایتیں عام یا مطلق ہیں، اور ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے والی روایت مخصوص اور مقید ہے، اور عام و خاص میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، نہ ہی مطلق و مقید میں کوئی تعارض ہوتا ہے، رہی خباب ؓ والی روایت جو صحیح مسلم میں آئی ہے، اور جس کے الفاظ یہ ہیں: شکونا إلى النبي صلى الله عليه وسلم حرالرمضائ فلم يشكنا ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دھوپ کی تیزی کی شکایت کی لیکن آپ نے ہماری شکایت نہ مانی تو ابراد سے قدر زائد کے مطالبہ پر محمول کی جائے گی، کیونکہ ابراد یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہوجائے جس میں چل کر لوگ مسجد آسکیں، اور گرمی کی شدت کم ہوجائے، اور ابراد سے زائد تاخیر یہ ہے کہ رمضاء کی گرمی زائل ہوجائے، اور یہ کبھی کبھی خروج وقت کو مستلزم ہوسکتا ہے، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا، نیز بہت سے علماء نے اس حدیث کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جب شدت کی گرمی ہو تو ظہر میں دیر کرنا مستحب ہے، اور اس حدیث کی شرح میں مولانا وحید الزماں حیدر آبادی فرماتے ہیں: حدیث کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جب گرمی کی شدت ہو تو اس کو نماز سے ٹھنڈا کرو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے، اور جہنم کی بھاپ بجھانے کے لئے نماز سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے، اور اس مطلب پر یہ تعلیل صحیح ہوجائے گی، اور یہ حدیث اگلے باب کی حدیثوں کے خلاف نہ رہے گی۔
Takhrij · تخریج
تقرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الموا قیت ٩ (٥٣٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن ابی داود/الصلا ة ٤ (٤٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٧)، سنن النسائی/المواقیت ٥ (٥٠١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٢٨)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٣٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠٠، ٤١١، ٤٦٢)، سنن الدارمی/الرقاق ١١٩ (٢٨٨٧) (صحیح )
678Sunan Ibne-Majah

سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنا ( یعنی ٹھنڈے وقت میں ادا کرنا)۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہوجائے تو ظہر کو ٹھنڈا کرلیا کرو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When it is very hot, then wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the HellFire.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جہنم جاڑے کے دنوں میں اندر کی طرف سانس لیتی ہے اور گرمی کے دنوں میں سانس کو باہر نکالتی ہے جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ گرمی کا تعلق سورج نکلنے سے ہے لیکن یہ علت صحیح نہیں ہے، کیونکہ اونچے مقام پر گرمی نہیں ہوتی جب کہ سورج اس سے قریب ہوتا ہے، اور اصل وجہ گرمی اور جاڑے کی یہ ہے کہ زمین گرم ہو کر اپنی سانس یعنی بخارات باہر نکالتی ہے، اس سے گرمی معلوم ہوتی ہے اور کوئی مانع اس سے نہیں ہے کہ جہنم کا ایک ٹکڑا زمین کے اندر ہو، اور جیالوجی (علم الارض) سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر ہزار فٹ پر ایسی حرارت ہے کہ اگر وہاں حیوان پہنچیں تو فوراً مرجائیں، اور اس سے بھی زیادہ نیچے ایسی گرمی ہے کہ لوہا، تانبہ اور شیشہ پگھلا ہوا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو جہنم سے بچائے، آمین، نیز جمہور نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے، اس لئے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو، اور احتیاط کرو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ مغرب جلدی پڑھتے تھے، بعض روایتوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٤٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٧)، سنن النسائی/المواقیت ٥ (٥٠١)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٦) (صحیح )
679Sunan Ibne-Majah

سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنا ( یعنی ٹھنڈے وقت میں ادا کرنا)۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔

It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hell-fire.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٢، ٥٣، ٥٩) (صحیح )
680Sunan Ibne-Majah

سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنا ( یعنی ٹھنڈے وقت میں ادا کرنا)۔

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِر، فَقَالَ لَنَا: أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔

It was narrated that Mughirah bin Shu’bah said: We were praying Zuhr with the Messenger of Allah ﷺ at the time of intense heat (i.e., midday when the sun has just passed its zenith) and he said to us, “Wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hell-fire.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٢٦، ومصباح الزجاجة: ٢٥٥)، و قد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٢٥٠) (صحیح )