ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو ١ ؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اپنا سر کھول لو ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said to her, when she was menstruating: "Undo your braids and bathe." (A narrator) Ali said in his narration: "Undo your head."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دو بار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے، پھر وہ طہارت حاصل کرے (یعنی شرمگاہ دھوئے) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈالے، پھر خوشبو کو (کپڑے یا روئی کے) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے (شرمگاہ کی) صفائی کرے ، اسماء ؓ نے کہا: میں اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ ﷺ نے کہا: سبحان اللہ! اس سے صفائی کرو ، عائشہ ؓ نے ان سے چپکے سے کہا: اس کو خون کے نشان (یعنی شرمگاہ) پر پھیرو۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء ؓ نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that Asma asked the Messenger of Allah ﷺ about bathing after ones period. He said: "One of you should take her water and lote leaves, and purify herself, and purify herself well, or thoroughly. Then she should pour water over her head and rub it vigorously so that the water reaches the roots of her hair. Then she should take a piece of cotton perfumed with musk and purify herself with it." Asma said: "How should I purify myself with it?" He said: "Subhan Allah! Purify yourself with it!" Aisha (RA) said, as if whispering to her: "Wipe away the traces of blood with it." Then she (Asma) asked him about bathing to cleanse oneself from sexual impurity. He said: "One of you should take her water, and purify herself, and purify herself welt or thoroughly. She should pour water over her head and rub it so that water reaches the roots of her hair, then she should pour water over her body." Aisha (RA) said: "How good were the women of the Ansar! For they did not let shyness keep them from understanding their religion properly."
Notes · وضاحت
١ ؎: حق بات کہنا اور دین کی بات پوچھنا یہ شرم کے خلاف نہیں ہے، اور جو کوئی اس کو شرم کے خلاف سمجھے وہ خود بیوقوف ہے، شرم برے کام میں کرنا چاہیے، معصیت سے پاک عورتیں ناپاک باتوں سے پرہیز کرتی ہیں، آج کل کی عورتیں گناہ میں شرم نہیں کرتیں، اور دین کی بات دریافت کرنے میں شرم کرتی ہیں، ان کی شرم پر خاک پڑے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی، پھر رسول اللہ ﷺ اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی، آپ ﷺ اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to eat the meat from a bone when I was menstruating, then the Messenger of Allah ﷺ would take it and put his mouth where my mouth had been. And I would drink from a vessel, and the Messenger of Allah ﷺ would take it and put his mouth where my mouth had been, and I was menstruating."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن، منہ اور لعاب ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ حیض کی نجاست حکمی ہے۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ويسألونک عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو (سورة البقرہ: ٢٢٢ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو ۔
It was narrated from Anas that the Jews would not sit with a menstruating woman in a house, nor eat with her, nor drink with her. That was mentioned to the Messenger of Allah, then Allah revealed the words: "They ask you concerning menstruation. Say: that is a harmful thing, therefore, keep away from women during menses." The Messenger of Allah ﷺ said: "Do everything except sexual intercourse."
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا: مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں ۔
It was narrated that Jasrah said: "Umm Salamah told me: The Messenger of Allah ﷺ entered the courtyard of this Masjid and called out at the top of his voice: "The Masjid is not permissible for anyone who is sexually impure or any woman who is menstruating."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٥١، ومصباح الزجاجة: ٢٤٢) (ضعیف) (اس سند میں ابوالخطاب الہجری، اور محدوج الذہلی دونوں مجہول الحال ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بارے میں جو پاکی کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شبہ میں مبتلا کرے، فرمایا: وہ تو رگوں سے خارج ہونے والا مادہ ہے (نہ کہ حیض) ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: پاکی کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔
It was narrated from Umm Bakr that she was told that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said concerning a woman who sees that which causes her doubt (i.e. some bleeding) after she becomes pure: That is a vein or veins." Muhammad bin Yahya said: "What was meant by after she becomes pure is after having a bath (following the end of her period)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٦، ومصباح الزجاجة: ٢٤٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١١١ (٢٩٣)، مسند احمد (٦/٧١، ١٦٠، ٢١٥، ٢٧٩) (صحیح) (سند میں ام بکر مجہول ہیں، لیکن متابعت و شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣٠٣ - ٣٠٤ )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم حیض سے (پاکی کے بعد) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔
It was narrated that Umm ‘Atiyyah said: "We did not think anything of the yellowish or brOwnish discharge." (Another chain) It was narrated that Umm Atiyyah said: "We did not think that the yellowish or brownish discharge counted for anything." Muhamamd bin Yahya said: "Wuhaib (who narrated the second version) is the better of them with this according to us."
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب عورت کے حیض کی مدت ختم ہوجائے اور وہ غسل کر ڈالے، تو اس کے بعد زردی یا خاکی یا سفیدی نکلتی دیکھے تو شک میں نہ پڑے، وہ حیض نہیں ہے، البتہ حیض کی مدت کے اندر جب اول اور آخر حیض آئے، اور بیچ میں اس قسم کے رنگ دیکھے تو وہ حیض ہی میں شمار ہوگا، اہل حدیث کا یہی قول ہے اور یہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٥ (٣٢٦)، سنن ابی داود/الطہارة ١١٩ (٣٠٨)، سنن النسائی/الحیض ٧ (٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٦، ١٨١٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة ٩٤ (٨٩٥) (صحیح )
اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ کہتی ہیں: (پاکی کے بعد) ہم پیلی اور مٹیالی رطوبت کا کوئی اعتبار نہیں کرتے تھے ١ ؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: وہیب اس سلسلے میں ہمارے نزدیک ان دونوں میں اولیٰ ہیں۔
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٨١٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٢٥ (٣٢٦) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس دن نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں، اور ہم اپنے چہرے پہ جھائیں کی وجہ سے ورس ملا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Umm Salamah said: "At the time of the Messenger of Allah, women in postnatal bleeding (after childbirth) used to wait for forty days, and we used to put Wars on our faces because of freckles."
Notes · وضاحت
١ ؎: ورس: یہ گھاس چہرے پر جھائیں کے علاج کے لئے مفید ہے، نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے، اور کم کی کوئی حد نہیں ہے، جب خون بند ہوجائے تو عورت پاک ہوگئی، اب وہ غسل کر کے نماز روزہ شروع کر دے، لیکن اگر چالیس دن کے بعد بھی نفاس کا خون جاری رہے تو اس کا حکم استحاضہ کا سا ہے، اور نفاس کا حکم جماع کی حرمت میں اور نماز روزہ نہ ادا کرنے میں حیض کے جیسا ہے، پھر جب نفاس سے پاک ہو تو نماز کی قضا نہ کرے، اور روزے کی قضا کرے، ام سلمہ ؓ سے ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کوئی عورت نفاس میں چالیس راتوں تک بیٹھتی تو آپ ﷺ اس کو قضائے نماز کا حکم نہ دیتے، اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر کی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ set the time for postnatal bleeding at forty days, except for one who becomes pure before that."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٠، ومصباح الزجاجة: ٢٤٤) (ضعیف جدًا) (سند میں سلام بن سلیم (یا سلم) أبوسلیمان الطویل المدائنی متروک الحدیث ہے، أبو الاحوص ثقہ متقن ہیں، جو صحاح ستہ کے روای ہیں، مدائنی سے صرف ابن ماجہ نے روایت کی ہے، اور سند میں یہی مدائنی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٦٥٣ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کرلیتا تو نبی اکرم ﷺ اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیتے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "If a man had intercourse with his wife while she was menstruating, the Prophet ﷺ commanded him to give half a Dinar in charity."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہا رة ١٠٣ (١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩١) (ضعیف) (سند میں مقسم ضعیف ہیں، ثابت شدہ حدیث: ٦٤٠ ، نمبر میں گذری )
عبداللہ بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ ۔
It was narrated that ‘Abdullâh bin Sa’d said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about eating with a menstruating woman and he said: ‘Eat with het”(Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز ادا کرتے تھے، اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ was performing prayer, and I was by his side. I was menstruating, and I was wearing a wool cloak, and part of it was over him.”(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ایک حصہ آپ ﷺ کے مبارک جسم پر ہوتا، اس سے بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن اور کپڑا پاک ہے، ورنہ ایک نجس کپڑا آپ ﷺ اپنے بدن پر نماز کی حالت میں کیوں کر رکھ سکتے تھے۔
ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی، اس چادر کا کچھ حصہ آپ پر تھا، اور کچھ مجھ پر تھا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔
It was narrated from Maimunah that the Messenger of Allah ﷺ performed prayer wearing a wool cloak. Part of it was over him and part was over her, and she was menstruating. (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کی لونڈی چھپ گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ بالغ ہوگئی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے اپنے عمامہ سے ٹکڑا پھاڑ کردیا اور فرمایا: اس کو اوڑھنی بنا لو ۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Prophet ﷺ entered upon her, and a freed slave girl of hers concealed herself. The Prophet ﷺ ffl asked: “Have her periods begun?” She said: “Yes.” He tore a piece of his turban and said: “Cover your head with this.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤١٧، ومصباح الزجاجة: ٢٤٥) (ضعیف) (سند میں عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف راوی ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں فرماتا ۔
It was narrated from ‘Aishai that the Prophet ﷺ said: “Allah does not accept the prayer of a woman who menstruates (i.e., an adult woman) except with a head cover.” (Sahih)
معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا حائضہ مہندی لگا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم ﷺ کے سامنے مہندی لگاتے تھے، لیکن آپ ہمیں منع نہ فرماتے ۔
It was narrated from Mu’âdh that a woman asked ‘ Aisha (RA) “Can a woman who is menstruating, dye her hands?” She said: “We were with the Prophet ﷺ and we used to dye our hands, and he did not tell us not to do that.” (Sahih)
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated that ‘All bin Abu Tâlib said: “I broke one of my forearms and I asked the Prophet ﷺ about that. He told me to wipe over the bandages.” (Maudu’)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٧، ومصباح الزجاجة: ٢٤٧) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے )
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ حسین بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، اور ان کا لعاب آپ کے اوپر بہہ رہا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I saw the Prophet ﷺ carrying Hasan bin ‘Ali on his shoulder, and his saliva was dripping down on him.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کا لعاب پاک ہے، اسی طرح بڑے آدمی کا بھی لعاب پاک ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٦، ومصباح الزجاجة: ٢٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٧) (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کی خدمت میں (پانی کا) ڈول حاضر کیا گیا، آپ نے اس میں سے پانی لے کر کلی کی، پھر ڈول میں کلی کی جو کستوری کی طرح یا کستوری سے پاکیزہ تر تھی اور آپ نے ڈول سے باہر ناک صاف کی۔
It was narrated from ‘Abdul Jabbar bin Wá’il that his father said: “A bucket was brought to the Prophet ﷺ he rinsed his mouth and spat into it, and it was like musk or better than musk, and he rinsed his nostrils outside the bucket.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٧، ومصباح الزجاجة: ٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٣١٦، ٣١٨) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الجبار بن وائل اور ان کے والد کے مابین انقطاع ہے، انہوں نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا ہے )