Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 17 of 218

321Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَدَّثَنَاهُ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ27.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری ؓ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Jâbir heard Abu Sa’eed Al-khudri say: “The Messenger of Allah ﷺ forbade me from drinking while standing and from urinating while facing the Qiblah.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٩) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ کی ہے، لیکن شواہد کی نباء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠ )
322Sunan Ibne-Majah

اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: يَقُولُ أُنَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْغَائِطِ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِهَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔

‘Abdullâh bin ‘Umar said: “People say: ‘When you sit to relieve yourself, do not face the Qibith.’ But one day I climbed up onto the roof of our house, and I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting on two bricks (to relieve himself), facing the direction of Baitul-Maqdis (Jerusalem).” This is a Hadith narrated by Yarid bin Hânin. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٢ (١٤٥)، ١٤ (١٤٨)، صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٦)، سنن ابی داود/الطہارة ٥ (١٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٧ (١١)، سنن النسائی/الطہارة ٢٢ (٢٣)، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة ٢ (٣)، مسند احمد (٢/١٢، ١٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٨ (٦٩٤) (صحیح )
323Sunan Ibne-Majah

اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ نے سچ کہا، اور ابوہریرہ ؓ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ ؓ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر ؓ کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔

It was narrated that lbn ‘Umar said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ in his (constructed) toilet, facing towards the Qiblah.”(One of the narrators) ‘Eisa said: I told that to Sha’bi, and he said: ‘Ibn ‘Umar spoke the truth and Abu Hurairah (RA) spoke the truth. As for the words of Abu Hurairah (RA) h, he said: “In the desert do not face the Qiblah nor turning one’s hack towards it.” As for the words of bn ‘Umar, he said: “In the (constructed) toilet there is Qiblah so turn in whatever direction you want.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢٥١، ومصباح الزجاجة: ١٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧، ٩٩، ١١٤) (ضعیف جدًا) (سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے ) اس سند سے بھی عبیداللہ بن موسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
324Sunan Ibne-Majah

اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْخَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِهِمُ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: أُرَاهُمْ قَدْ فَعَلُوهَا اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، مِثْلَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو ۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “Mention was made in the presence of the Messenger of Allah ﷺ of some people who did not like to face towards the Qiblah with their private parts He said: ‘I think that they do that. Turn my seat (in the toilet) to face the Qiblah.’“(Da’if) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣١، ومصباح الزجاجة: ١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٢٧، ١٣٧، ١٨٣، ٢١٩، ٢٢٧، ٢٣٩) (ضعیف) (سند میں خالد بن ابوصلت مجہول ہیں، نیز عراک بن مالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ام المومنین عائشہ ؓ سے ان کا سماع نہیں ہے ) اس سند سے بھی خالد بن ابی الصلت سے اسی کے مثل مروی ہے۔
325Sunan Ibne-Majah

اس کی رخصت ہے بیت الخلاء میں اور صحرا میں رخصت نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ ﷺ کا منہ قبلہ کی طرف ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ a forbade facing the Qiblah when urinating. But I saw him, one year before he died, facing the Qiblah (while urinating).”(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ممانعت صحراء اور بنیان (آبادی) دونوں کو عام تھی، اسی وجہ سے انہوں نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری فعل سے ممانعت منسوخ ہوگئی، اگر ممانعت کو صحراء و میدان کے ساتھ خاص مان لیا جائے تو نہ دونوں فعلوں میں تعارض ہوگا، اور نہ ہی ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥ (١٣)، سنن الترمذی/الطہارة ٧ (٩)، (تحفة الأشراف: ٢٥٧٤)، مسند احمد (٣/٣٦٠) (حسن )
326Sunan Ibne-Majah

پیشاب کے بعد خوب صفائی کا اہتمام کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْعِيسَى بْنِ يَزْدَادَ الْيَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْتُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

یزداد یمانی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو تین مرتبہ سونت لے (زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر جو قطرات ہیں، وہ نکل جائیں) ۔

It was narrated from ‘Eisa bin Yazdãd Al-Yamani that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When anyone of you urinates, let him squeeze his three dines (to remove the remaining urine drops).” (Da`if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٧) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف اور عیسیٰ بن زیاد الیمانی مجہول الحال ہیں، نیز یزداد کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٦٢١ ) اس سند سے بھی زمعہ نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
327Sunan Ibne-Majah

پیشاب کرنے کے بعد وضو نہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟قَالَ: مَاءٌ، قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر ؓ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ ﷺ نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Prophet ﷺ went out to urinate, and ‘Umar followed him with water. He said: ‘What is this, O ‘Umar?’ He said, ‘Water.’ He aid: ‘I have not been commanded perform ablution every time I urinate. If I did that it would have become a Sunnah.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٢ (٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٥) (ضعیف) (تراجع الألبانی، رقم: ٢٩٦ ، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں )
328Sunan Ibne-Majah

راستے میں پیشاب کرنے سے ممانعت

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا، فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا، وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلَاءِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِفَاقٌ، وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَالظِّلِّ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ.

ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چناچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو ؓ کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کردیں، یہ خبر معاذ ؓ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ١ ؎۔

Abu Sa’eed Al-Himyari narrated that Mu’dh bin Jabal used to narrate something that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ had not heard, and he used to keep quiet about what they had heard. News of this report reached ‘Abdulláh bin ‘Amr, and he said: “By Allah, I never heard the Messenger of Allah ﷺ say this, and Mu’ddh will put you into difficulty with regard to relieving yourself.” News of that reached Mu’âdh, so he met with him (‘Abdullâh). Mu’âdh said: “O ‘Abdullâh Denying a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ is hypocrisy, and its sin is upon the one who said it (if it is not true). I did indeed hear the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Beware of the three things which provoke curses: Relieving oneself in watering places, in places of shade and in the middle of the street.” (Da`if)

Notes · وضاحت
١ ؎: جن مقامات پر لوگ اپنے یا جانوروں کے پانی کے لئے جاتے ہوں، جہاں آرام کے لئے سایہ میں بیٹھتے ہوں، یا جس راستہ پر چلتے ہوں اس پر پاخانہ کرنا لعنت کا سبب ہے، کیونکہ اس سے لوگوں کو ایذاء پہنچتی ہے، اور لوگ لعن و طعن کرتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٤ (٢٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٤) (حسن) (سند میں ابوسعید الحمیری کا سماع معاذ ؓ سے ثابت نہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٢ )
329Sunan Ibne-Majah

راستے میں پیشاب کرنے سے ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ، قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالصَّلَاةَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلَاعِنِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے ۔

It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Beware of stopping to rest and praying in the middle of the road, for it is the refuge of snakes and carnivorous animals, and beware of relieving yourselves in the middle of the road, for this is an act that provokes curses.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥ ٣٠) (حسن) (اس سند میں سالم بن عبد اللہ الخیاط البصری ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں صدوق سئی الحفظ کہا ہے، مگر زہیر بن محمد التمیمی اور عمرو بن أبی سلمہ دونوں ضعیف ہیں، اور حسن بصری اور جابر ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز اس حدیث میں والصلاة عليها کا لفظ ثابت نہیں ہے، لیکن حدیث کے جملے متفرق طور پر صحیح ہیں، پہلا جملہ إياكم والتعريس صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، اور آخری ٹکڑے: وقضاء الحاجة عليها فإنها من الملاعن کے کافی شواہد ہیں: ملاحظہ ہو: ا لإرواء: ١ / ١٠١، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٤٣٣ )
330Sunan Ibne-Majah

راستے میں پیشاب کرنے سے ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، أَوْ يُضْرَبَ الْخَلَاءُ عَلَيْهَا، أَوْ يُبَالَ فِيهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

Sâlim narrated from his father that the Prophet ﷺ forbade praying in the middle of the road, or defecating there, or urinating. (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٠٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٦) (ضعیف) (سند میں ابن لہیعہ اور عمرو بن خالد ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإراوء: ١ /١٠١ - ١٠٢ - ٣١٩ )
331Sunan Ibne-Majah

پاخانہ کے لئے دور جانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْن عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ١ ؎۔

It was narrated that Mughirah bin Shu’bah said: “Whenever the Prophet ﷺ went to relieve himself, he would go far away.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود اس سے پردہ ہے، جہاں سے اور جیسے بھی حاصل ہوجائے کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١ (١)، سنن الترمذی/الطہارة ١٦ (٢٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٦ (١٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٤)، سنن الدارمی/الطہارة ٤ (٦٨٦) (حسن صحیح )
332Sunan Ibne-Majah

پاخانہ کے لئے دور جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔

It was narrated that Anas said: “I was with the Prophet ﷺ on a journey. He went away to relieve himself, then he came and called for water and performed ablution.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٧) (صحیح) (سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس ؓ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٣٣ )
333Sunan Ibne-Majah

پاخانہ کے لئے دور جانا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ.

یعلیٰ بن مرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔

It was narrated from Ya’la bin Murrah that when the Prophet ﷺ went to relieve himself, he would go far away.(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٨) (صحیح) (یونس بن خباب ضعیف ہیں لیکن حدیث مغیرہ بن شعبہ ؓ سے آئی ہے، اس لئے صحیح ہے، کما تقدم ( ٣٣١ ) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٥٩ )
334Sunan Ibne-Majah

پاخانہ کے لئے دور جانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَبْعَدَ.

عبدالرحمٰن بن ابوقراد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا، آپ قضائے حاجت کے لیے دور نکل گئے۔

It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Abu Qurâd said: “I went for Hajj with the Prophet ﷺ , and he went far away to relieve himself.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٦ (١٦)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٤٤٣، ٤/٢٢٤) (صحیح )
335Sunan Ibne-Majah

پاخانہ کے لئے دور جانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلَا يُرَى.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہوجاتے۔

It was narrated that Jâbir said: “We went out on a journey with the Messenger of Allah ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ would not relieve himself until he had disappeared and could not be seen by anyone.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١ (٢)، (تحفة الأشراف: ٢٦٥٩)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة ٤ (١٧) (صحیح )
336Sunan Ibne-Majah

پاخانہ کے لئے دور جانا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ.

بلال بن حارث مزنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے۔

It was narrated from Bilal (RA) bin AlHârith Al-Muzani that when the Messenger of Allah ﷺ wanted to relieve himself, he would go far away. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٩) (صحیح) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
337Sunan Ibne-Majah

پیشاب، پاخانہ کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ ذَاكَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْخَلَاءَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَمْدُدْهُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ ابْنِ آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو طاق استعمال کرے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو خلال کرے (اور دانتوں سے کچھ نکلے) تو اسے تھوک دے، اور جو چیز زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے باہر میدان میں جائے تو آڑ میں ہوجائے، اگر آڑ کی جگہ نہ پائے اور ریت کا کوئی تودہ ہو تو اسی کی آڑ میں ہوجائے، اس لیے کہ شیطان انسانوں کی شرمگاہوں سے کھیل کرتا ہے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever uses stones to clean himself, let him use an odd number of stones. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. Whoever uses a toothpick should spit out (whatever he removes) and whoever removes (the particle of food) by dislodging it with his tongue should swallow it.Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. Whoever goes to the toilet should conceal himself, and if he cannot find anything except a pile of sand (behind which to conceal himself), then he should use that, for the Shaitan plays with the backside of the son of Adam. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it." (Daif) .

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٩ (٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧١)، سنن الدارمی/الطہارة ٥ (٦٨٩) (ضعیف) (سند میں حصین حمیری اور ابو سعد الخیر مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن من استجمر فليوتر کا جملہ صحیح ہے، یہ حدیث آگے ( ٣٤٩٨ ) پر بھی آرہی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٠٢٨ )
338Sunan Ibne-Majah

پیشاب، پاخانہ کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ، وَمَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ.

اس سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: جو سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے ۔

. A similar report was narrated by Abdul-Malik bin As- Sabbah with a similar chain, with the additional words: "Whoever applies kohl to his eyes let him add it an odd number of tunes. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. And whoever dislodges (a particle of food from between the teeth) by dislodging it with his tongue, let him swallow it."

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سابقہ علت کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن من اکتحل فليوتر کا جملہ شواہد صحیحہ کی وجہ سے صحیح ہے )
339Sunan Ibne-Majah

پیشاب، پاخانہ کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَقَالَ لِي: ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ، قَالَ أبُو بَكْرٍ: فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا، فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَالَ لِي: ائْتِهِمَا، فَقُلْ لَهُمَا: لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا، فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا.

مرہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں ، چناچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ٢ ؎، آپ ﷺ نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں ۔ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔

It was narrated from Yala bin Murrah that his father said: "I was with the Prophet ﷺ on a journey, and he wanted to relieve himself. He said to me: Go to those two small date-palm trees and tell them: "The Messenger of Allah ﷺ orders you to come together. So they came together and he concealed himself behind them, and relieved himself. Then he said to me: Go to them and tell them: "Go back, each one of you, to your places. So I said that to them and they went back."

Notes · وضاحت
١ ؎: مصباح الزجاجہ ( ١٣٨ ) میں اس کے بعد: قال أبوبکر القصار کا اضافہ کیا ہے، اور ایسے ہی مشہور حسن کے یہاں ہے، لیکن سند میں ابوبکر کا ذکر نہیں ہے) ٢ ؎: درخت کا نبی اکرم ﷺ کے حکم سے چلے آنا آپ کا معجزہ تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٢) (صحیح) (سند میں ضعف ہے اس لئے کہ منہال کا سماع یعلی بن مرہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے شواہد اور طرق سے یہ صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: زہد وکیع ( ٥٠٩ ) تحقیق سنن ابی داود/عبد الرحمن الفریوائی )
340Sunan Ibne-Majah

پیشاب، پاخانہ کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ.

عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔

It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The thing that the Prophet ﷺ most liked to conceal himself behind when relieving himself was a hillock or a stand of date-palm trees."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٧٩ (٣٤٢)، الفضائل ١١ (٢٤٢٩)، سنن ابی داود/الجہاد ٤٧ (٢٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٥ (٦٩٠) (صحیح )