Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 16 of 218

301Sunan Ibne-Majah

بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: الحمد لله الذي أذهب عني الأذى وعافاني یعنی: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی، اور مجھے عافیت بخشی ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “When ever the Prophet ﷺ exited the toilet, he would say: ‘Al-hamdu lillahillahi adhhaba ‘annial-adha wa ‘ãfâni (Praise is to Allah Who has relieved me of impurity and given me good health).” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں پاخانہ و پیشاب کا بخوبی آنا بڑی نعمت ہے، اس پر بندے کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣١، ٥٣٩، ١١٤١، ومصباح الزجاجة: ١٢٢) (ضعیف) (اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ابن السنی کے یہاں ابو ذر ؓ سے یہ موقوفاً ثابت ہے ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٦٥٨ ، والإرواء: ٥٣ )
302Sunan Ibne-Majah

بیت الخلاء میں ذکر اللہ اور انگوٹھی لے جانے کا حکم

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے ١ ؎۔

‘Urwah narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to remember Allah in all circumstances. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے باوضو ہونے یا کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہونے کی کوئی قید نہ تھی، ہر حالت میں ذکر الٰہی کرتے تھے، لیکن قضاء حاجت کے وقت ذکر کرنا منع ہے، اسی طرح جماع کی حالت میں بھی تلاوت قرآن منع ہے، یہ حدیث ان اوقات کے علاوہ کے لئے ہے، بعض لوگوں نے ذکر قلبی مراد لیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٩ (٦٣٤ تعلیقًا)، سنن ابی داود/الطہارة ٩ (١٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٩ (٣٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٠، ١٥٣) (صحیح )
303Sunan Ibne-Majah

بیت الخلاء میں ذکر اللہ اور انگوٹھی لے جانے کا حکم

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Mâlik that when the Prophet ﷺ entered the toilet, he would take off his ring. (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی میں تین سطریں تھیں، نیچے کی سطر میں محمد، اور بیچ کی سطر میں رسول، اور اوپر کی سطر میں لفظ الجلالہ اللہ مرقوم تھا، اور اسی لفظ کی تعظیم کی وجہ سے آپ ﷺ اس کو اتار دیتے تھے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس میں اللہ کا نام ہو اسے پاخانے وغیرہ نجس جگہوں میں نہ لے جایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٠ (١٩)، سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٦)، الشمائل ١١ (٩٣)، سنن النسائی/الزینة ٥١ (٥٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩٩، ١٠١، ٢٨٢) (ضعیف) (اس میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، امام دارقطنی کہتے ہیں کہ ابن جریج کی تدلیس سے اجتناب کرو، اس لئے کہ وہ قبیح تدلیس کرتے ہیں، وہ صرف ایسی حدیث کے بارے میں تدلیس کرتے ہیں جس کو انہوں نے کسی مطعون راوی سے سنی ہو )
304Sunan Ibne-Majah

غسل خانے میں پیشاب کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ، يَقُولُ: إِنَّمَا هَذَا فِي الْحَفِيرَةِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا، فَمُغْتَسَلَاتُهُمُ الْجِصُّ، وَالصَّارُوجُ، وَالْقِيرُ، فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِهِ10.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔

It was narrated that ‘Abdullâh bin Mughaffal said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘None of you should urinate in his wash area for most of the insinuating thoughts come from that.” (Da’if) Abu ‘Abdullâh bin Mâjah said: (“Abul-Hasan said: ‘I heard Muhammad bin Yazidm saying:) Ali bin Muhammad At-Tanâfisi said: ‘This (prohibition) applies to cases where the ground (in the place used for washing) was soft. But nowadays this does not apply, because the baths you use now are built of plaster, Saruf and tar; so if a person urinates there then pours water over it, that clears it away, and that is fine.’”

Notes · وضاحت
١ ؎: بہتر یہی ہے کسی بھی طرح کے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٥ (٢٧)، سنن الترمذی/الطہارة ١٧ (٢١)، سنن النسائی/الطہارة ٣٢ (٣٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٦) (ضعیف) (فإن عامة الوسواس منه کے سیاق کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا: لا يبولن أحدکم في مستحمه شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٦ ، و صحیح ابی داود: ٢١ ) ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا: یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں، اور پانی جمع ہوتا ہو، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا، گچ اور ڈامر (تارکول) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں ١ ؎۔ (ضعیف) (ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٥٣ )
305Sunan Ibne-Majah

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَهُشَيْمٌ، وَوَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا.

حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of ﷺ came to the garbage dump of some people and he urinated on it standing up. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦١ (٢٢٤)، ٦٢ (٢٢٥)، والمظالم ٢٧ (٢٤٧١)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٣)، سنن ابی داود/الطہارة ٩ (٢٣)، سنن الترمذی/الطہارة ١٩ (١٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٧ (١٨)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩٤)، سنن الدارمی/ الطہارة ٩ (٦٩٥) (صحیح )
306Sunan Ibne-Majah

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا. قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ عَاصِمٌ يَوْمَئِذٍ: وَهَذَا الْأَعْمَشُ يَرْوِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَمَا حَفِظَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ مَنْصُورًا؟ فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا.

مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

Shu’bah narrated from ‘Asim, from Abu Wa’il, from Mughirah bin Shu’bah that the Messenger of Allah ﷺ came to the garbage dump of some people and urinated standing up. (Hasan) Shu’bah said: “That day, ‘Asim said: ‘Amash reported this from Abu Wâ’il, from Hudhaifah) but he did not remember it (correctly). So I asked Mansur about it, and he narrated it to me from Abu Wasil from Hudhaifah, that the Prophet ﷺ came to a dump of some people and urinated standing.”

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی عادت کریمہ یہی تھی آپ اکثر بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے، گذشتہ باب میں حذیفہ ؓ کی حدیث میں جس کا ذکر ہے اس کی بہت سی تو جیہات علماء کرام نے کی ہیں، جو اکثر تکلف سے خالی نہیں، یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں آپ ﷺ نے بیان جواز، یا ضرورت شدیدہ کے سبب ایسا کیا، ورنہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا منع ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتارہی ہیں، اور حذیفہ ؓ نے اپنا مشاہدہ بتایا، جو ایک بار کا واقعہ ہے، جو جواز کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٩ (٦٩٥)، وانظر ما قبلہ (صحیح ) شعبہ نے کہا کہ عاصم نے اپنی روایت میں يومئذ کے لفظ کا اضافہ کیا ہے، اور یوں کہا ہے: آپ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور کھڑے ہو کر اس دن پیشاب کیا۔ اور یہ اعمش اس حدیث کو عن أبي وائل عن حذيفة کے طریق سے روایت کرتے ہیں وہ يومئذ کو ذکر نہیں کرتے تو میں نے منصور سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھ سے عن أبي وائل عن حذيفة کے طریق سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ١ ؎۔ انظر حدیث رقم: ٣٠٥ (تحفة الأشراف: ١١٥٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٣ )
307Sunan Ibne-Majah

بیٹھ کر پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِالْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، میں نے دیکھا ہے کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “If anyone tells you that the Messenger of Allah ﷺ urinated while standing, do not believe him, for I (always) saw him urinating while sitting down.” (Hasan)

Notes · وضاحت
ام المؤمنین عائشہ ؓ کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتارہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨ (١٢)، سنن النسائی/الطہارة ٢٥ (٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٦) (صحیح )
308Sunan Ibne-Majah

بیٹھ کر پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔ عمر ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔

It was narrated that ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ saw me urinating while standing, and he said: ‘O ‘Umar, do not urinate standing up.’ So I never urinated whilst standing after that.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الطہارة ٨ (١٢ تعلیقًا) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی عبد الکریم بن المخارق ابو امیہ ضعیف ہیں، اور عبید اللہ بن العمری ثقہ نے اس خبر کے معارض روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٣٤ )
309Sunan Ibne-Majah

بیٹھ کر پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ قَائِمًا، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا، قَالَ: الرَّجُلُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْهَا، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَكَانَ مِنْ شَأْنِ الْعَرَبِ الْبَوْلُ قَائِمًا، أَلَا تَرَاهُ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، يَقُولُ: قَعَدَ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید (یعنی: ابن ماجہ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث: أنا رأيته يبول قاعدا کے بارے میں کہا کہ: مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ ؓ سے زیادہ جانتے ہیں، (احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں) ۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی تھی، کیا تم اسے عبدالرحمٰن بن حسنہ کی حدیث میں دیکھتے نہیں ہو؟ اس میں ہے: دیکھو! وہ عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں ۔

It was narrated that Jábir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us to urinate while standing.” (Da’if) I heard Muhammad bin Yazid, Abu ‘Abdullâh, say: “I heard Ahmad bin ‘Abdur-Rahman Al-Makhzumi say: ‘Sufyân AthThawri said concerning the Hadith of ‘ Aisha (RA) — ‘I (always) saw him urinating whilst sitting down’ — a man knows more about that (about such matters) than she.’ Ahmad bin ‘AbdurRahmân said: ‘It was the custom of the Arabs to urinate standing up. Do you not see that in the Hadith of ‘Abdur-Rahmân bin Hasanah it was said: ‘He sits down to urinate as a woman does.’

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کو یہودی کہتے تھے کہ محمد ﷺ تو عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١١٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٥) (ضعیف جدًا) (اس سند میں عدی بن الفضل متروک راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٦٣٨ )
310Sunan Ibne-Majah

دایاں ہاتھ شرمگاہ کو لگانا اور اس سے استنجاء کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ١ ؎۔

‘Abdulláh bin Abu Qatâdah “My father told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ ‘When anyone of you urinates, let him not touch his penis with his right hand nor clean himself with his right hand.” (Sahih) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لئے آدمی دایاں ہاتھ استعمال نہ کرے تاکہ اس کا وقار و احترام باقی رہے، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عام اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ انہوں نے دائیں ہاتھ سے استنجا کو مکروہ کہا ہے۔ اس سند سے بھی اوزاعی نے اس طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣)، ١٩ (١٥٤)، والأشربة ٢٥ (٥٦٣٠)، صحیح مسلم/الطہارة ١٨ (٢٦٧) سنن ابی داود/الطہارة ١٨ (٣١)، سنن الترمذی/ الطہارة ١١ (١٥)، سنن النسائی/ الطہارة ٢٣ (٢٤، ٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٠، ٣١٠)، سنن الدارمی/الطہارة ١٣ (٧٠٠) (صحیح )
311Sunan Ibne-Majah

دایاں ہاتھ شرمگاہ کو لگانا اور اس سے استنجاء کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: مَا تَغَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا مَسِسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عقبہ بن صہبان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو کہتے ہوئے سنا: جب سے رسول اللہ ﷺ سے میں نے اس ہاتھ کے ذریعہ بیعت کی نہ تو میں نے گانا گایا، اور نہ جھوٹ بولا، اور نہ اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے چھوا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Uqbah bin Suhbân said: “I heard ‘Uthmân bin ‘Affân say: ‘I never sang a song or told a lie or touched my penis with my right hand after I swore on oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ to that effect.’” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی داہنے ہاتھ کو رسول اکرم ﷺ کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کرنے کے بعد سے اس کو شرمگاہ سے نہیں لگایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٣١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦) (ضعیف جدًا) (اس کی سند میں صلت بن دینار متروک اور ناصبی الحدیث ہے )
312Sunan Ibne-Majah

دایاں ہاتھ شرمگاہ کو لگانا اور اس سے استنجاء کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand.” (Hassan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤ (٨)، سنن النسائی/الطہارة ٣٦ (٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٢٠ (١٥٥) مناقب الأنصار ٣٢ (٣٨٦٠)، مسند احمد (٢/ ٢٤٧، ٢٥٠)، سنن الدارمی/الطہارة ١٤ (٧٠١) (حسن صحیح )
313Sunan Ibne-Majah

پتھروں سے استنجا کرنا اور (استنجا میں) گوبر اور ہڈی (استعمال کرنے) سے ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ، أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ، وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو ، آپ ﷺ نے تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا، اور گوبر اور ہڈی سے، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I am to you like a father to his son, and I teach you. So when you go to relieve yourselves, do not face the Qiblah or turn your backs towards it.’ He ordered us to use three pebbles, and he forbade us to use dung and bones, and he forbade cleaning oneself with the right hand.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایتوں میں تین سے کم پتھر پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے جس سے تین پتھر کے استعمال کا وجوب ثابت ہوتا ہے، بعض احادیث میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے، نیز یہاں رمَّ ۃ (بوسیدہ ہڈی) سے مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آتا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو نجس نہیں ہوتی، جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤ (٨)، سنن النسائی/الطہارة ٣٦ (٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٢٤٧، ٢٥٠) (حسن صحیح )
314Sunan Ibne-Majah

پتھروں سے استنجا کرنا اور (استنجا میں) گوبر اور ہڈی (استعمال کرنے) سے ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هِيَ رِكْسٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا: میرے پاس تین پتھر لاؤ، عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ ﷺ نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا: یہ ناپاک ہے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdulláh bin Mas’ud: “The Messenger of Allah ﷺ went to the toilet and said: ‘Bring me three stones.’ So I brought him two stones and a piece of dung. He took the two stones and threw the dung away, saying: ‘It is impure.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے فرمایا: گوبر نجس ہے، ایک اور پتھر لاؤ (ورجاله ثقات)، علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: ممکن ہے رسول ﷺ نے خود ہی تیسرا پتھر اٹھا لیا ہو، ملاحظہ ہو تحفۃ الأحوذی ( ١ /٦٩)، چناچہ آگے کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تین پتھر لینا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢١ (١٥٦)، سنن النسائی/الطہارة ٣٨ (٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩١٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوضوء ١٣ (١٧)، مسند احمد (١/٣٨٨، ٤١٨، ٤٥٠) (صحیح )
315Sunan Ibne-Majah

پتھروں سے استنجا کرنا اور (استنجا میں) گوبر اور ہڈی (استعمال کرنے) سے ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ.

خزیمہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو ۔

It was narrated that Khuzaimah bin Thâbit said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘For cleaning yourself you need three stones, no one of them being dung.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢١ (٤١)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٩)، مسند احمد (٥/٢١٣، ٢١٤)، سنن الدارمی/الطہارة ١١ (٦٩٨) (صحیح )
316Sunan Ibne-Majah

پتھروں سے استنجا کرنا اور (استنجا میں) گوبر اور ہڈی (استعمال کرنے) سے ممانعت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةِ، قَالَ: أَجَلْ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، وَلَا عَظْمٌ.

سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ ان سے کسی مشرک نے بطور استہزاء کے کہا: میں تمہارے ساتھی (نبی اکرم ﷺ ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں، یہاں تک کہ قضائے حاجت کے آداب بھی بتاتے ہیں! سلمان فارسی ؓ نے کہا: ہاں، آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں، دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں، اور تین پتھر سے کم استعمال نہ کریں، ان میں کوئی گوبر ہو نہ ہڈی۔

Salman said that one of the idolaters said to him, while they were making fun of him: “I see that your companion (the Prophet) is teaching you everything, even how to relieve yourselves?” He said: “Yes indeed. He has ordered us not to face the Qiblah (prayer direction) nor to clean ourselves with our right hands, and not to be content with anything less than three stones, which are not to include any excrement or bones.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٢)، سنن ابی داود/الطہارة ٤ (٧)، سنن الترمذی/الطہارة ١٢ (١٦)، سنن النسائی/الطہارة ٣٧ (٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٤٣٧، ٤٣٨، ٤٣٩) (صحیح )
317Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّه سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ، يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِك.

عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔

‘Abdullâh bin Hârith bin Jaz’ Az-Zubaidi said: “I am the first one who heard the Prophet ﷺ say: ‘No one among you should urinate facing towards the Qiblah,’ arid I am the first one who told the people of that.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٧)، مسند احمد (٤/١٩٠، ١٩١) (صحیح )
318Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ، وَقَالَ: شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف ١ ؎۔

It was narrated that Abu Ayyub Ansãri said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade the person who went to the Gha’it to face the Qiblah. He said: ‘Face towards the east or the west.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١١ (١٤٤)، الصلاة ٢٩ (٣٩٤)، صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٤)، سنن ابی داود/الطہارة ٤ (٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٦ (٨)، سنن النسائی/الطہارة ٢٠ (٢١)، ٢١ (٢٢)، (تحفة الأشراف: ٣٤٧٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة ١ (١)، مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢١)، سنن الدارمی/الطہارة ٦ (٦٩١) (صحیح )
319Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ، عَنْأَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ، وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ.

معقل بن ابومعقل اسدی ؓ (جن کو نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (مسجد الحرام اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ma’qil bin Abu Ma’qil Al-Asadi, who was a Companion of the Prophet ﷺ said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us from facing either of the two Qiblah when defecating or urinating.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤ (١٠)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٠) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی أبو زید مجہول ہیں )
320Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ.

ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Jâbir bin Abdullâh: “Abu Sa’eed Al-Khudri narrated to me, that he bears witness that the Messenger Allah forbade facing the Qiblah when defecating or urinating.’”(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١٢، ١٥) (صحیح) (حدیث کی سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠ )