ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجائے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When anyone of you performs ablution and does it then he comes to the Masjid for no other purpose than prayer, he does not take one step hnf Allah will raise him one egree (in status) thereby, and remove one sin from him thereby, til he enters the Masjid.’(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٢ (ألف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة ٨٧ (٤٧٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٥٢ (٥٦٤)، مسند احمد (٢/٢٥٢، ٤٧٥)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٧٧٤) (صحیح )
عبداللہ صنابحی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullah As-Sunâbihi that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever performs ablution arid rinses his mouth and nose, his sins will exit through his mouth and nose. When he washes his face, his sins will exit from his face, even from beneath his eyelids. When he washes his hands, his sins will exit from his hands. When he wipes his head, his sins will exit from his head, and even from his ears. When he washes his feet, his sins will exit from his feet, even from beneath his toenails. Then his prayer and his walking towards the Masjid will earn extra merit for him.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں کیونکہ کبائر (گناہ کبیرہ) بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اسی طرح حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے متعلق گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کردی جائے، یا ان سے معاف نہ کرا لیا جائے، نیز اس حدیث سے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٨٥ (١٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٦٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٣٠)، مسند احمد (٤/٣٤٨، ٣٤٩) (صحیح )
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے ہاتھوں سے جھڑ جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے چہرے سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب اپنے بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے پاؤں سے جھڑ جاتے ہیں ۔
It was narrated that ‘Amr bin ‘Abasah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When a person performs ablution and washes Ms hands, his sins exit through his hands. When he washes his face, his sins exit through his face. When he washes his forearms and wipes his head, his sins exit through his forearms and head. When he washes his feet, his sins exit through his feet.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥٢ (٨٣٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٨ (١٤٧)، مسند احمد (٤/١١٢، ١١٣، ١١٤) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے ١ ؎۔
‘Abdulláh bin Mas’ud said: It was said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , how will you recognize Lose whom you have not seen of your Ummah?’ He said: ‘From the blazes on their foreheads and feet, like horses with black and white traces (which make them distinct m others) which are the traces of ablution.’” (Hasan) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟
اس سند سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٢٥، ومصباح الزجاجة: ١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٣، ٤٥١، ٤٥٣) (حسن صحیح )
عثمان بن عفان ؓ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا، اور وضو کیا، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آجانا (کہ نیک اعمال چھوڑ دو ) ۔
Humrân the freed slave of ‘Uthman bin ‘Affan said: “I saw ‘Uthmân bin ‘Affán sitting in Maqã’id. He called for water and he performed ablution, then he said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting in this place where I am sitting, performing ablution as I have done. Then he said: “Whoever performs ablution as I have done, his previous sins will be forgiven.” And the Messenger of Allah ﷺ said: “And do not be conceited (due to this great virtue).” (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٦٨ (٨٤)، (تحفة الأشراف: ٩٧٩٢، ومصباح الزجاجة: ١١٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٢٤ (١٥٩)، ٢٨ (١٦٤)، الصوم ٢٧ (١٩٣٤)، صحیح مسلم/الطہارة ٣ (٢٢٦)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٠٦) موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٩)، مسند احمد (١/٦٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٧ (٧٢٠)، (اور ان میں ولا تغتروا کا لفظ نہیں ہے) (صحیح )
اس سند سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو مسواک سے دانت و منہ صاف کرتے ۔
It was narrated that Hudhaifah said: “Whenever the Messenger of Allah ﷺ got up for prayer at night to pray Tahajjud (night optional prayer), he would clean his mouth with the tooth stick.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Were it not that it would be too difficult for my Ummah (nation), I would have commanded them to use the tooth stick at every time of prayer.’” (sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسواک کو واجب کردیتا، لیکن ہر نماز کے وقت مسواک کا مسنون ہونا ثابت ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ امت پر کس درجہ مشفق اور مہربان تھے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے، پھر ہر دو رکعت کے بعد لوٹتے اور مسواک کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray in the night (Qiyamul-Lail) two Rak’ah by two, then when he finished he would use the tooth stick.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر دو رکعت کے بعد واپس جا کر سو جاتے، پھر اٹھ کر مسواک کرتے جیسا کہ سنن ابوداود (رقم: ٥٨ ) میں تفصیل وارد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٦)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٠ (٥٥)، مسند احمد (١/ ٢١٨) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٣٢١) (صحیح )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسواک کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے، جبرائیل جب بھی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کی وصیت کی، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میرے اور میری امت کے اوپر اسے فرض نہ کردیا جائے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو امت پر مسواک کو فرض کردیتا، اور میں خود اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں میں اپنے مسوڑھوں کو نہ چھیل ڈالوں ۔
It was narrated from Abu Umâmah that the Messenger of Allah ﷺ said: “Use the tooth stick, for the tooth stick purifies the mouth and is pleasing to the Lord. Jibril never came to me but he advised me to use the tooth stick, until I feared that it would be made obligatory for me and my Ummah. Were it not that I fear that it would be too difficult for my Ummah, I would have enjoined it upon them. And I use the tooth stick until I fear that I may make the front of my mouth sore.’ (i.e. my gums) (or cause my teeth to fall out due to brushing them so often).” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٧، ومصباح الزجاجة: ١١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٣) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور علی بن یزید منکر الحدیث ہے، نیز عثمان کی علی بن یزید سے روایت کی علماء نے تضعیف کی ہے )
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر میں آپ کے پاس جاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جب بھی آتے تھے پہلے مسواک کرتے تھے۔
It was narrated from Miqdâm bin Shuraih bin Hani’ that his father said: “I said to ‘ Aisha (RA) : ‘Tell me, what was the first thing that the Messenger of Allah ﷺ did when he entered upon you?’ She said: ‘The first thing he would do would be to use the tooth stick.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٥ (٢٥٣)، سنن ابی داود/الطہارة ٢٧ (٥١)، سنن النسائی/الطہارة ٨ (٨)، مسند احمد (٦/٤١، ١١٠، ١٨٢، ١٨٨، ١٩٢، ٢٣٧، ٢٥٤) (صحیح) (ابن ماجہ کی سند میں شریک راوی ضعیف ہیں، لیکن صحیح مسلم وغیرہ میں مسعر و سفیان کی متابعت سے یہ صحیح ہے )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں (تم اپنے منہ سے قرآن کی تلاوت کرتے ہو) لہٰذا اسے مسواک کے ذریعہ پاک رکھا کرو۔
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said: “Your mouths are the paths of the Qur’ân, so perfume them with the tooth stick. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٠) (صحیح) (سند میں بحر بن کنیز ضعیف ہیں، اور سعید بن جبیر اور علی ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢١٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں ١ ؎، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The deeds connected to the Fitrah are five (or five things are connected to the Fitrak): circumcision, shaving the pubic hairs, clipping the nails, plucking the armpit hairs and trimming the mustache.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فطرت یعنی انبیاء کرام کی سنت قدیمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، بعض لوگوں کے نزدیک فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت ہے جس پر انسان کی پیدائش ہوئی ہے، یہاں حصر مراد نہیں اس کے بعد والی روایت میں عشر من الفطرة (فطرت کے دس کام) کے الفاظ آئے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھوں کے بال تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، اور پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا نے کہا کہ مصعب کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا، ہوسکتا ہے وہ کلی کرنا ہو۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Ten things are connected to the Fitrah: trimming the mustache, letting the beard grow, using the tooth slick, rinsing out the nostrils with water, clipping the nails, washing the joints, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the private parts with water.’” (Sahih) (One of the narrators) Zakariyyâ said: “Mus’ab said: ‘I have forgotten the tenth thing, but it may have been rinsing out the mouth.” (Sahih)
عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں ۔
It was narrated from ‘Ammâr bin Yasir that the Messenger of Allah ﷺ said: “Part of the Fitrah is rinsing out the mouth, rinsing out the nostrils, using the tooth slick, trimming the mustache, clipping the nails, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the joints, washing the private parts and circumcision.’” (Da’if) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٩ (٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٤) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے )
اس سند سے علی بن زید سے اسی کے مثل مروی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھوں کے تراشنے، موئے زیر ناف مونڈنے، بغل کے بال اکھیڑنے، اور ناخن تراشنے کے بارے میں وقت کی تعیین کردی گئی ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “We were given a time limit with regard to trimming the mustache, shaving the pubic hairs, plucking the armpit hairs and clipping the nails. We were not to leave that for more than forty days.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بال اور ناخن جب بڑے ہوں تو انہیں کاٹ لینا چاہیے، اگر کسی مجبوری سے نہ کاٹ سکیں تو زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس کے بعد ضرور کاٹ دینا چاہیے۔
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے:اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث یعنی: اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘These Hushush (waste areas) are visited (by devils), so when anyone of you enters, let him say: ‘Allahumma inni a’udhu bika minal-khubthi wa’lkhaba”ith (O Allâh, I seek refuge with You from male and female devils).” (Sahih) Other chains with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: پاخانہ میں داخل ہونے، اور میدان میں کپڑا اوپر کرنے سے قبل یہ دعا پڑھے۔
اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣ (٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧٣) (صحیح )
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٨١) وانظر ماقبلہ (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنوں اور بنی آدم (انسانوں) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو بسم اللہ کہے ۔
It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The screen between the hun and the nakedness of the sons of Adam is that when a person enters the Kanif he should say: Bismillah (in the Name of Allah).” (Da’if)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: أعوذ بالله من الخبث والخبائث یعنی: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے ۔
It was narrated that Anas bin Málik said: “Whenever the Messenger of Allah ﷺ entered the toilet, he would say: ‘A’udhu Billahi minal-khubuthi wa-l` khabaith (I seek refuge with Allah from male and female devils)” (Sahih)
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: اللهم إني أعوذ بک من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
It was narrated from Abu Umâmah that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should fail to say, when he enters his toilet: ‘AIldahumma inni a’udhu bika minar-rijsin-najis, aI-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).’” (Da’if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: “Minar-rijsin-najis (From the filthy and impure)” he only said: “Minalkhabithil-mukhbith, ash-Shaitãnirrajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan)”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٤، ومصباح الزجاجة: ١٢١) (ضعیف) (اس میں عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور القاسم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٨٩ )
اس سند سے ابوامامہ ؓ کی اس حدیث میں: من الرجس النجس کے الفاظ مذکور نہیں ہیں، بلکہ من الخبيث المخبث الشيطان الرجيم ہے۔
ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا تو ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ سے نکلتے تو کہتے:غفرانک یعنی: اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
Yusuf bin Abi Burdah narrated: “I heard my father say: ‘I entered upon ‘ Aisha (RA) , and I heard her say: “When the Messenger of Allah ﷺ exited the toilet , he would say :Ghufranaka (I seek your Forgiveness). (sahih).Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٧ (٣٠)، سنن الترمذی/الطہارة ٥ (٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٥٥)، سنن الدارمی/الطہارة ١٦ (٧٧٠) (صحیح )
اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔