حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَاعَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَحْفَظُ عِلْمًا فَيَكْتُمُهُ، إِلَّا أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ.
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ أَيِ الْقَطَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی علم دین یاد رکھتے ہوئے اسے چھپائے، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا ۔
It wa narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said:There is no man who memorizes knowledge then conceals it, but he will be brought forth on the Day of Resurrection bridled with reins of fire,” (Hasan) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
( یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (١٤٧) پر موجود ہے )
اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
( یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (١٤٧) پر موجود ہے )
اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
( یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (١٤٧) پر موجود ہے )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ العلم ٩ (٣٦٥٨)، سنن الترمذی/ العلم ٣ (٢٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٢٦٣، ٣٠٥، ٣٤٤، ٣٥٣، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠٨) (حسن صحیح )
اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
حدثنا أبو مروان العثماني محمد بن عثمان حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج أنه سمع أبا هريرة يقول والله لولا آيتان في كتاب الله تعالى ما حدثت عنه- يعني عن النبي صلى الله عليه وسلم- شيئا أبدا لولا قول الله: إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب إلى آخر الآيتين.
ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اللہ کی قسم! اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں نبی اکرم ﷺ سے کبھی بھی کوئی نہ حدیث بیان کرتا، اور دو آیتیں یہ ہیں: إن الذين يکتمون ما أنزل الله من الکتاب إلى آخر الآيتين بیشک جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں معمولی قیمت لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ نہ تو ان سے بات کرے گا اور نہ ہی ان کو معاف کرے گا، اور ان کو سخت عذاب پہنچے گا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خرید لیا اور عذاب کو مغفرت کے بدلے، پس وہ کیا ہی صبر کرنے والے ہیں جہنم پر (سورة البقرة: 174-175) ١ ؎۔
It was narrated that ‘AbdurRahmân bin Hurmuz Al-A’raj heard Abu Hurairah (RA) say: “By Allah, were it not for two Verses in the Book of Allah, I would never have narrated anything from him, meaning from the Prophet ﷺ were it not for the Words of Allah: Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book, and purchase a small gain therewith (of worldly things), they eat into their bellies nothing but fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor purify them, and theirs will be a painful torment. Those are they who have purchased error at the price of guidance, and torment at the price of forgiveness. So how bold they are (for evil deeds which will push them) to the Fire. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آیت کا سیاق یہ ہے: إن الذين يکتمون ما أنزل الله من الکتاب ويشترون به ثمنا قليلا أولئك ما يأکلون في بطونهم إلا النار ولا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم (١٧٤) أولئك الذين اشتروا الضلالة بالهدى والعذاب بالمغفرة فمآ أصبرهم على النار (١٧٥) (سورة البقرة: 174-175)، یہ آیات اگرچہ یہود کے متعلق ہیں، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی توراۃ میں موجود صفات چھپا لیں، مگر قرآن کے عمومی سیاق کا حکم شریعت کے احکام کو چھپانے والوں کو شامل ہے، علماء کے یہاں مشہور قاعدہ ہے: العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب یعنی: اصل اعتبار الفاظ کے عموم سے استدلال کا ہے، سبب نزول سے وہ خاص نہیں ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اس امت کے خلف (بعد والے) اپنے سلف (پہلے والوں) کو برا بھلا کہنے لگیں، تو جس شخص نے اس وقت ایک حدیث بھی چھپائی اس نے اللہ کا نازل کردہ فرمان چھپایا ١ ؎۔
It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When the last people of this Ummah curse the first, (at that time) whoever conceals a Hadith will be concealing what Allah has revealed.” (Maudu’)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ إن الذين يکتمون ما أنزل الله کی آیت جو اوپر گذری ہے اس کا مستحق ٹھہرا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٥١، ومصباح الزجاجة: ١٠٨) (ضعیف جدًا) (سند میں حسین بن أبی السری سخت ضعیف ہیں، اور عبد اللہ بن السری صدق وزہد سے متصف ہوتے ہوئے عجائب ومناکیر روایت کرنے میں منفرد ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥٠٧ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص سے دین کے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا، اور باوجود علم کے اس نے اسے چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔
Yousuf bin Ibrahim said: ‘I heared Anas bin Malik (RA) say: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever is asked about knowledge and conceals it, will be bridled on the Day of Resurrection with reins of fire.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٩) (صحیح) (اس کی سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٢٢٣ ، ٢٢٤ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی ایسا علم چھپایا جس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دینی امور میں نفع دیتا ہے، تو اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever conceals knowledge which Allah has made beneficial for mankind’s affairs of religion, Allah will bridle him with reins of fire on the Day of Resurrection.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٠) (ضعیف جدًا) (سند میں محمد بن داب سخت ضعیف ہیں، اور أبوزرعہ وغیرہ نے تکذیب کی ہے، اور وضع حدیث سے منسوب کیا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever is asked about knowledge that he has and he conceals it, will be bridled on the Day of Resurrection with reins of fire.’” (Hasan)
سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ١ ؎۔
It was narrated that Safinah said: ’The Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution with a Mudd (of water) and bath with a Sã’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صاع: ایک معروف شرعی پیمانہ ہے، یہاں مراد صاع نبوی یا صاع مدنی ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل اوزان سے تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا ہے، اور مد: جو صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس ( ٦٢٥ ) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
عقیل بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے (یعنی نبی اکرم ﷺ ) کو کافی ہوجاتا تھا ١ ؎۔
‘Abdullâh bin Muhammad bin ‘Aqil bin Abu Tâlib narrated from his father that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘A Mudd is sufficient for the ablution and a Sd’ is sufficient for the bath.’ A mansaid: ‘It is not sufficient for us.’” He (the narrator) said: “It was sufficient for one who is better than you and had more hair” meaning the Prophet ﷺ (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عقیل بن ابی طالب ؓ نے گویا یہ بتلایا کہ ایک مد اور ایک صاع پانی کا کافی نہ ہونا دو ہی وجہ سے ہوسکتا ہے، ایک تو احتیاط اور تقوی، دوسرے بالوں کی کثرت، تو اللہ تعالیٰ کے رسول تم سے زیادہ متقی اور محتاط تھے، اور آپ ﷺ کے بال بھی تم سے زیادہ تھے، جب آپ کو اتنا پانی کافی تھا تو تم کو کافی کیوں نہیں، سوائے اس کے کہ تم شکی مزاج ہو یا وسوسہ کا شکار، کوئی اور وجہ تو ہے نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٥، ومصباح الزجاجة: ١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٧٠) (صحیح) (حبان بن علی اور یزید بن أبی زیاد دونوں ضعیف ہیں، اس لئے یہ سند ضعیف ہے، لیکن مد و صاع سے متعلق ٹکڑا انس ؓ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، اور تابعی کی اس مسئلے میں صحابی سے گفتگو جابر ؓ کی حدیث سے ثابت ہے، اس لئے ان شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٩٩١ - ٢٤٤٧ )
اسامہ بن عمیر ہذلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated that Usâmah bin ‘Umair Al-Hudhali said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept any prayer without purification and He does not accept any charity from Ghulul.’ (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہا رة ٣١ (٥٩)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٤ (١٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٢١ (٧١٣) (صحیح )
شعبہ سے دوسرے راویوں نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر پاکی (وضو) کے اور کوئی بھی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں کرتا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept any prayer without purification, and He does not accept any charity from GhuIul.” (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی (وضو) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Allah does not accept any prayer without purification, and He does not accept any charity from GhuIul.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٢، ومصباح الزجاجة: ١١٢) (صحیح) (اس سند میں سنان بن سعد ضعیف اور مجہول راوی ہیں، صرف یزید بن أبی حبیب نے ان سے روایت کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، کما تقدم، نیز محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن لیث بن سعد نے ان کی متابعت کی ہے )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی (وضو) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Bakrah said: “The. Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept any Salat (prayer) without purification, and He does not accept any charity from Ghulul” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: غلول: مال غنیمت میں خیانت کو کہتے ہیں، یہاں مطلق حرام مال مراد ہے، یعنی حرام مال سے دیا ہوا صدقہ اللہ کی رضامندی کا باعث نہیں ہوتا، اور نہ اس پر ثواب ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٨، ومصباح الزجاجة: ١١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٤٦) (صحیح) (اس سند میں خلیل بن زکریا ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے کماتقدم )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت (وضو) ہے، اور (دوران نماز ممنوع چیزوں کو) حرام کردینے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے، اور (نماز سے باہر) امور کو حلال کردینے والی چیز سلام ہے ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Al-Hanafiyyah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The key to prayer is purification, its operdng is to say ‘Allahu Akbar’ and its closing is to say As-salamu alailkum” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبیر اولیٰ کہنے کے بعد وہ سارے افعال حرام ہوجاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام قرار دیا ہے، اور سلام پھیرنے کے بعد وہ سارے افعال حلال ہوجاتے ہیں، جنہیں نماز کے باہر اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی پاکی (وضو) ہے، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہوجاتی ہیں، اور اس (یعنی نماز) سے باہر امور کو حلال کردینے والی چیز سلام پھیرنا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: “The key to prayer is purification, its opening is to say Allahu Akbar and its closing is to say Assalamu ‘alaikum.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تحریم: نماز کی حرمت میں دخول اور تحلیل: نماز کی حرمت سے خروج کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے، یعنی نماز میں داخلہ تکبیر ہی سے اور نماز سے خروج تسلیم ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کا دروازہ بند ہوتا ہے بندہ اسے طہارت ہی سے کھول سکتا ہے، یعنی بغیر وضو اور طہارت کے نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح نماز میں آدمی اللہ اکبر ہی کہہ کر داخل ہوسکتا ہے، اور السلام علیکم ہی کہہ کر اس سے باہر نکل سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلا ة ٦٢ (٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٥٧) (صحیح) (یہ سند ابو سفیان طریف سعدی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث کی بناء پر یہ صحیح ہے )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو ١ ؎، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کرسکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے ۔
It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Adhere to righteousness even though you will not be able to do all acts of virtue. Know that the best of your deeds is Salat (prayer) and that no one maintains his ablution except a believer.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامرو نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٦، ومصباح الزجاجة: ١١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٢ (٦٨١) (صحیح) (سند میں سالم بن ابی الجعد اور ثوبان ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دارمی اور ابن حبان میں سند متصل ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤١٢ )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کرسکتے، اور جان لو کہ تمہارا سب سے افضل عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said: Adhere to righteousness even through you will not be able to do all acts of virtue. Know that among the best of your deeds is prayer and that no one maintains his ablution except a believer.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٣، ومصباح الزجاجة: ١١٥) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /١٣٧ )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
It was narrated that Abu Umâmah said, in a Marfu’ Hadifh:Adhere to righteousness and it is a blessing if you are able to do so. know that the best of your deeds is ryer and that no one maintains his ablution except a believer.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٦) (صحیح) (سند میں ابو حفص دمشقی مجہول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /١٣٧ )
ابومالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکمل وضو کرنا نصف ایمان ہے ١ ؎، اور الحمد لله میزان کو (ثواب سے) بھر دیتا ہے، اور سبحان الله، الله أكبر آسمان و زمین کو (ثواب سے) بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، اور زکاۃ برہان (دلیل و حجت) ہے، اور صبر (دل کی) روشنی ہے، اور قرآن دلیل و حجت ہے، ہر شخص صبح کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے، پھر وہ یا تو اسے (جہنم سے) آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Malik Ash’ari that the Messenger of Allah ﷺ said: “Performing ablution properly’ is half of faith, saying AI-Hamdu LiIIah fills the Scale (of good deeds), saying Subhan-Allâh and AIIahu Akbar fills the heavens and the earth, prayer is light, Zakât is proof, patience is brightness and the Qur’ân is proof for you or against you. Every person goes out in the morning to sell his soul, so he either frees it or destroys it.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو نصف (آدھا) ایمان ہے کیونکہ اس سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے، اور یہ طہارت نماز کے لئے شرط ہے اس لئے اسے آدھے ایمان یا آدھی نماز سے تعبیر کیا گیا اور باطنی طہارت ایمان و اقرار توحید سے حاصل ہوتی ہے، زکاۃ کی ادائیگی سے ایمان کی سچائی کا پتہ چلتا ہے، صبر باعث نور و ضیاء ہے، اور ممکن ہے صبر سے مراد یہاں روزہ ہو، کیونکہ شہوات کے توڑنے میں اس کی تاثیر قوی ہے، اور یہ دل کی نورانیت کا باعث ہوتا ہے، قرآن پر عمل کرنے سے نجات، اور اس کو چھوڑ دینے سے ہلاکت کا قوی اندیشہ ہے، ہر شخص اپنے کردار و عمل سے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگا کر اس کو عذاب سے آزاد کرانے والا ہے، یا شیطان کی فرمانبرداری سے اس کے عذاب میں گرفتار کرنے والا ہے، اس حدیث سے حمد باری تعالیٰ اور تسبیح و تحمید کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ اس کے اجر و ثواب سے اعمال کی میزان بھاری ہوجائے گی۔