Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 18 of 218

341Sunan Ibne-Majah

پیشاب، پاخانہ کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الشِّعْبِ فَبَالَ، حَتَّى أَنِّي آوِي لَهُ مِنْ فَكِّ وَرِكَيْهِ حِينَ بَالَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ ﷺ پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ turned towards a mountain pass and urinated, until I took pity on him because of the way he parted his legs when he urinated.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٤١) (ضعیف) (سند میں محمد بن ذکوان ضعیف و منکر الحدیث ہیں )
342Sunan Ibne-Majah

قضاء حاجت کے لئے جمع ہونا اور اس وقت گفتگو کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ عَلَى غَائِطِهِمَا، يَنْظُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَهُوَ الصَّوَابُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "No two people should converse while relieving themselves, each of them looking at the private parts of the other, for Allah, the Mighty and Sublime, hates that."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧ (١٥)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١٦، ٣٦) (صحیح) (اس کی سند میں کلام ہے، کیونکہ ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، اور عکرمہ بن عمار سے اس حدیث کی روایت میں سخت اضطراب کا شکار ہوئے، لیکن متابعت اور شاہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣١٢٠ ، و صحیح ابی داود: ١١ /م، و تراجع الالبانی، رقم: ٧ ) اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہلال بن عیاض کے بجائے عیاض بن ہلال ہے، محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یہی صحیح ہے۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے لیکن اس سند میں عیاض بن عبداللہ ہے۔
343Sunan Ibne-Majah

قضاء حاجت کے لئے جمع ہونا اور اس وقت گفتگو کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water

Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو نہر اور دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڑھا، جھیل اور تالاب وغیرہ کا پانی ان میں پیشاب کرنا منع ہے، تو پاخانہ کرنا بدرجہ اولیٰ منع ہوگا۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور وہ بدبودار ہوجاتا ہے، اگر اس میں مزید نجاست اور گندگی ڈال دی جائے، تو یہ پانی مزید بدبودار ہوجائے گا، اور اس کی سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی، اور صحت عامہ میں خلل پیدا ہوگا، اور ماحول آلودہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨١)، سنن النسائی/ الطہا رة ٣١ (٣٥)، (تحفة الأشراف: ٢٩١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٣٤١، ٣٥٠) (صحیح )
344Sunan Ibne-Majah

قضاء حاجت کے لئے جمع ہونا اور اس وقت گفتگو کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one among you should urinate into standing water."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٦ (٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو ٦٩ (٢٣٩)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨٢)، سنن النسائی/الطہارة ٤٦ (٥٨)، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٤٦، ٣٦٢، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٤ (٧٥٧) (حسن صحیح )
345Sunan Ibne-Majah

قضاء حاجت کے لئے جمع ہونا اور اس وقت گفتگو کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ النَّاقِعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one among you should urinate into standing water."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٢) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن عبداللہ أبی فروہ متروک ہیں، لیکن ابوہریرہ ؓ سے یہ الماء الدائم کے لفظ سے صحیح اور متفق علیہ ہے، کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: سنن ابی داود: ٦٩ -٧٠ )
346Sunan Ibne-Majah

پیشاب کے معاملے میں شدت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبدالرحمٰن بن حسنہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ ﷺ نے اسے رکھا اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، کچھ لوگوں نے (بطور استہزاء) کہا کہ انہیں دیکھو ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، نبی اکرم ﷺ نے سنا اور فرمایا: افسوس ہے تم پر، بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو مصیبت پہنچی، تمہیں اس کی خبر نہیں؟ ان کے کپڑوں میں پیشاب لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس عمل سے روک دیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔

. It was narrated that Abdur- Rahman bin Hasanah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us holding a small shield in his hand. He put it down, then he sat down and urinated towards it. Some of the people said: Look at him, he urinates like a woman! The Prophet ﷺ heard that and said: Woe to you! Do you not know what happened to one of the Children of Israel? If any urine touched any part of their clothes, they would cut that out with scissors. He told them not to do that, so he was tormented in his grave. "

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١١ (٢٢)، سنن النسائی/الطہارة ٢٦ (٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٣)، مسند احمد (٤/ ١٩٦) (صحیح ) اس سند سے بھی اعمش نے ایسی ہی حدیث ذکر کی ہے۔
347Sunan Ibne-Majah

پیشاب کے معاملے میں شدت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل تھا) ، ایک شخص تو پیشاب (کی چھینٹوں) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت (چغلی) کیا کرتا تھا ۔

. It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by two new graves, and he said: They are being punished, but they are not being punished for anything major. One of them was heedless about preventing urine from getting on his clothes, and the other used to walk about spreading malicious gossip."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٦ (٢١٦)، ٥٧ (٢١٨)، الجنائز ٨١ (١٣٦١)، ٨٨ (١٣٧٨)، الأدب ٤٦ (٦٥٥٢)، ٤٩ (٦٠٥٥)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٩٢)، سنن ابی داود/الطہارة ١١ (٢٠)، سنن الترمذی/الطہارة ٥٣ (٧٠)، سنن النسائی/الطہارة ٢٧ (٣١)، الجنائز ١١٦ (٢٠٧٠، ٢٠٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١ /٢٢٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٦١ (٧٦٦) (صحیح )
348Sunan Ibne-Majah

پیشاب کے معاملے میں شدت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے ۔

. It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger Allah said: Most of the torment of the grave is because of urine.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠١، ومصباح الزجاجة: ١٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٦، ٣٨٨، ٣٨٩) (صحیح )
349Sunan Ibne-Majah

پیشاب کے معاملے میں شدت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغَيْبَةِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (جس سے بچنا مشکل تھا) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت (چغلی) کرنے کی وجہ سے ۔

Bahr bin Marrar narrated that his grandfather Abu Bakrah said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by two graves, and he said: They are being punished, but they are not being punished for anything major. One of them is being punished because of urine, and the other is being punished because of backbiting."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥، ٣٩) (حسن صحیح )
350Sunan Ibne-Majah

جس کو سلام کیا جائے جبکہ وہ پیشاب کر رہا ہو

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ ﷺ وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا ۔

It was narrated that Muhajir bin Qunfudh bin (Umair) bin Judhan said: "I came to the Prophet ﷺ when he was performing ablution and greeted him with the Salam, but he did not return (the greeting). When he had finished his ablution he said: Nothing prevented me from returning your greeting but the fact that I did not have ablution:"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٧)، سنن النسائی/الطہارة ٣٤ (٣٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٥، ٥/٨٠)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٣ (٢٦٨٣) (صحیح ) اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے۔
351Sunan Ibne-Majah

جس کو سلام کیا جائے جبکہ وہ پیشاب کر رہا ہو

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَتَيَمَّمَ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ ﷺ پیشاب سے فارغ ہوگئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating, and greeted him with the Salam, but he did not return the greeting. When he finished, he struck the ground with his palms and did dry ablution (Tayamm"m), then he returned the greeting."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٠١، ومصباح الزجاجة: ١٤٥) (صحیح) (اس سند میں ضعف ہے اس لئے کہ مسلمہ بن علی ضعیف ہیں، ابی اور صحیحین میں الأرض کے بجائے الجدار کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٥٦ )
352Sunan Ibne-Majah

جس کو سلام کیا جائے جبکہ وہ پیشاب کر رہا ہو

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو سلام نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو میں جواب نہ دوں گا ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that a man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating, and greeted him with the Salam. The Messenger of Allah ﷺ said to him: If you see me in this situation, do not greet me with the Salam, for if you do that I will not respond to you:"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٦) (صحیح) (سوید بن سعید ضعیف راوی ہے، لیکن ان کی متابعت عیسیٰ بن یونس سے مسند أبی یعلی میں موجود ہے، اور منتقی ابن الجارود: ١ /٢٣، میں ابن عمر ؓ کا شاہد موجود ہے )
353Sunan Ibne-Majah

جس کو سلام کیا جائے جبکہ وہ پیشاب کر رہا ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ العسقلاني، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِالضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "A man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating and greeted him with the Salam, and he did not return the greeting."

Notes · وضاحت
١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر جواب نہیں دیا، نہ کہ مطلقاً جواب ہی نہیں دیا، کیونکہ حدیث نمبر ( ٣٥١ ) پر گزر چکا ہے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور تیمم کیا، اس کے بعد سلام کا جواب دیا، اور سنن نسائی میں مہاجر بن قنفذ ؓ کی روایت میں ہے فلم يرد عليه السلام حتى توضأ فلما توضأ رد عليه وضو کرنے تک آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، پھر جب وضو کرلیا تو سلام کا جواب دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحیض ٢٨ (٣٧٠)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨ (١٦)، سنن الترمذی/ الطہارة ٦٧ (٩٠)، الاستئذان ٢٧ (٢٧٢٠)، سنن النسائی/الطہارة ٣٣ (٣٧)، (تحفة الأشراف: ٧٦٩٦) (حسن صحیح )
354Sunan Ibne-Majah

پانی سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلَّا مَسَّ مَاءً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ come out of the toilet without first (cleansing himself) with water." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ ہمیشہ پانی سے استنجاء کرتے تھے، کیونکہ پانی سے بھر پور طہارت حاصل ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٠٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٧) (صحیح )
355Sunan Ibne-Majah

پانی سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ، فَمَا طُهُورُكُمْ؟ قَالُوا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ، قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ.

ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورة التوبة: 108) ، اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ١ ؎۔

Abu Sufyan (RA) said: "Abu Ayyub Al-Ansari , Jabir bin Abdullah, and Anas bin Malik (RA) told me that when this Verse: "In it (the Masjid) are men who love to clean and to purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure." was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: O Ansar! Allah has praised you for your cleanliness. What is the nature of your cleanliness? They said: We perform ablution for prayer and we take bath to cleanse ourselves of impurity due to sexual activity, and we clean ourselves with water (after urinating). He said: This is what it is. So adhere to it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آیت کا معنی یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ جل جلالہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور ضمیر اس آیت میں مسجد قبا، یا مسجد نبوی کی طرف لوٹ رہی ہے، شاید پانی سے استنجا کرنے سے ہی ان کی تعریف کی گئی ہے، ورنہ غسل جنابت اور وضو مہاجرین بھی کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٦، ٢٣٣٧، ٣٤٦٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦) (صحیح) (یہ سند ضعیف ہے، عتبہ بن أبی حکیم ضعیف راوی ہیں، اور طلحہ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے نہیں سنا، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٣٤ )
356Sunan Ibne-Majah

پانی سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْعَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَغْسِلُ مَقْعَدَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً وَطُهُورًا. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، نَحْوَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا۔

. It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ used to wash his private parts three times. Ibn Umar said, "We did that and we found it to be a healing and a means of purification.”’

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢١٠) (ضعیف) (اس سند میں زیدالعمی و جابر جعفی اور شریک القاضی ضعیف ہیں ) اس سند سے بھی اسی کے ہم معنی روایت آئی ہے۔ (مصباح الزجاجة: ٣٥٦، یہ سند بھی سابقہ سند کی طرح ضعیف ہے )
357Sunan Ibne-Majah

پانی سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ قُبَاءَ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108 قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ آیت کریمہ اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی: فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورة التوبة: 108) ، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: وہ پانی سے استنجاء کرتے تھے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The (following) was revealed about the people of Quba: In it (the Masjid) are men who love to clean and to purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure." He said: They used to clean themselves with water (after urinating), and this Verse was revealed concerning them."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٣ (٤٤)، سنن الترمذی/التفسیر سورة التوبة ١٠ (٣١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٩) (صحیح )
358Sunan Ibne-Majah

استنجا کے بعد ہاتھ زمین پر مل کر دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ اسْتَنْجَى مِنْ تَوْرٍ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ، نَحْوَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قضائے حاجت کی، پھر پانی کے برتن سے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر دھویا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ relieved himself, then he cleaned himself (with water) from a pot made of brass, then he wiped his hand on the ground.

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ پاخانہ کے بعد ہاتھ مٹی سے مل کر دھونا مسنون ہے، مقصد ہاتھوں کی صفائی و ستھرائی ہے جو مٹی صابن وغیرہ کے استعمال سے ہوجاتی ہے۔ اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٤ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ٤٣ (٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١١، ٤٥٤) (حسن) (سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣٥ )
359Sunan Ibne-Majah

استنجا کے بعد ہاتھ زمین پر مل کر دھونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ الْغَيْضَةَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَاسْتَنْجَى مِنْهَا، وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ.

جریر بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ درختوں کی ایک جھاڑی میں داخل ہوئے، اور قضائے حاجت کی، جریر ؓ آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن لے کر آئے تو آپ ﷺ نے اس سے استنجاء کیا، اور اپنا ہاتھ مٹی سے رگڑ کر دھویا ١ ؎۔

Ibrahim bin Jarir narrated from his father that the Prophet ﷺ of Allah entered a thicket and relieved himself, then Jarir brought him a small water skin from which he cleaned himself, then he wiped his hand in the dirt.

Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح سے صاف ہوجائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل اور ختم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٤٣ (٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٢٠٧)، وقد أخرجہ: دی/الطہارة ١٦ (٧٠٦) (حسن) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ابراہیم کا سماع ان کے والد جریر بن عبد اللہ بجلی ؓ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: اوپر کی حدیث نمبر: ٣٥٨ ، و صحیح ابی داود: ٣٥ )
360Sunan Ibne-Majah

برتن ڈھانکنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُوكِيَ أَسْقِيَتَنَا وَنُغَطِّيَ آنِيَتَنَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے مشکیزوں کے منہ باندھ کر اور برتنوں کو ڈھک کر رکھیں ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "The Prophet ﷺ commanded (us) to tie up our water skins and cover our vessels."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہیے تاکہ کھانے پینے کی چیز میں گرد و غبار نہ آنے پائے اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہے، نیز یہ حکم عام ہے، دن ہو یا رات، ٹھنڈی ہو یا گرمی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٣)، سنن ابی داود/الجہاد ٨٣ (٦٠٤)، مسند احمد (٣/٨٢) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٤١١) (صحیح )