Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 19 of 218

361Sunan Ibne-Majah

برتن ڈھانکنا

حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَضَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً إِنَاءً لِطَهُورِهِ، وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ، وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو تین برتن ڈھانپ کر رکھتی تھی، ایک برتن آپ کی طہارت (وضو) کے لیے، دوسرا آپ کی مسواک کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to cover three vessels for the Messenger of Allah ﷺ at night: A vessel (of water) for his ablution, a vessel for his tooth stick and a vessel for his drink."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٥٠) (آگے یہ کتاب الأشربہ میں آرہی ہے، (٣٤١٢) (ضعیف) (سند میں حريش بن الخريت ضعیف ہیں )
362Sunan Ibne-Majah

برتن ڈھانکنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُطَهَّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكِلُ طُهُورَهُ إِلَى أَحَدٍ، وَلَا صَدَقَتَهُ الَّتِي يَتَصَدَّقُ بِهَا يَكُونُ هُوَ الَّذِي يَتَوَلَّاهَا بِنَفْسِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے طہارت (وضو) کے برتن کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے، اور نہ اس چیز کو جس کو صدقہ کرنا ہوتا، بلکہ اس کا انتظام خود کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ never entrusted his purification to anyone or his charity that he had given to anyone; he would be the one to take care of these matters himself."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اکثر عادت ایسی ہی تھی کہ وضو کرنے میں اور پانی لانے اور کپڑے پاک کرنے میں کسی سے مدد نہ لیتے، اور اگر کوئی بخوشی نبی اکرم ﷺ کی خدمت بجا لاتا تو اس کو بھی منع نہ کرتے، چناچہ اوپر کی روایت میں ابھی گزرا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے وضو کا پانی رکھتیں، اور عبداللہ بن مسعود ؓ صاحب اداوہ و نعلین مشہور تھے، یعنی وضو کے وقت نبی اکرم ﷺ کے لیے پانی والی چھاگل لانے اور آپ کے لیے جوتے لا کر رکھنے والے صحابی کی حیثیت سے آپ کی شہرت تھی، اور ثوبان ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ١٥١) (ضعیف جدًا) (سند میں علقمہ مجہول اور مطہر بن الہیثم ضعیف ومتروک راوی ہے، ابن حبان کہتے ہیں کہ وہ ایسی حدیث روایت کرتا ہے، جس پر کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٢٥٠ )
363Sunan Ibne-Majah

کتا منہ ڈال دے تو برتن دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُونَ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ.

ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا: اے عراق والو! تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہوں تاکہ تم فائدے میں رہو اور میرے اوپر گناہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Razin said: I saw Abu Hurairah (RA) hitting his forehead with his hand and saying: "O people of Iraq! Do you claim that I would tell a lie against the Messenger of Allah ﷺ so that it may be more convenient for you and a sin upon me? I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If a dog licks the vessel of anyone of you, let him wash it seven times.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح احادیث سے سات بار دھونا ہی ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت معتبر نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کے برتن میں منہ ڈال دینے پر برتن تین بار دھونے سے پاک ہوجائے گا، لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے جو درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩)، سنن النسائی/الطہارة ٥٢ (٦٦)، المیاہ ٦ (٣٣٦)، ٧ (٣٣٩، ٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٤١، ١٤٦٠٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٧٢)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٧ (٧١)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٨ (٩١)، موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٣٥)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٦٥، ٢٧١، ٣١٤، ٣٦٠، ٣٥٨، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٤٠، ٤٨٠، ٤٨٢، ٥٠٨) (صحیح )
364Sunan Ibne-Majah

کتا منہ ڈال دے تو برتن دھونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a dog licks the vessel of anyone of you, let him wash it seven times."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٧٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩)، سنن النسائی/الطہارة ٥١ (٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٩) (صحیح )
365Sunan Ibne-Majah

کتا منہ ڈال دے تو برتن دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی لے تو اسے سات مرتبہ دھو ڈالو، اور آٹھویں مرتبہ مٹی مل کر دھوؤ ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ said: If a dog licks a vessel, wash it seven times and rub it with dust the eighth time."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے ظاہر سے ایسا معلوم ہوتا ہے آٹھویں بار دھونا بھی واجب ہے، بعض لوگوں نے تعارض دفع کرنے کے لئے ابوہریرہ ؓ کی روایت کو ترجیح دی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ترجیح اس وقت دی جاتی ہے جب تعارض ہو، اور یہاں تعارض نہیں ہے، عبداللہ بن مغفل ؓ کی حدیث پر عمل کرنے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث پر بھی عمل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٨٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٧ (٧٤)، سنن النسائی/الطہارة ٥٣ (٦٧)، المیاة ٧ (٣٣٧، ٣٣٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٩ (٧٦٤) (صحیح )
366Sunan Ibne-Majah

کتا منہ ڈال دے تو برتن دھونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If a dog licks the vessel of anyone of you, let him wash it seven times.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٣٥) (صحیح )
367Sunan Ibne-Majah

بلی کے جھوٹے سے وضو کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهَا صَبَّتْ لِأَبِي قَتَادَةَ مَاءً يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أَخِي أَتَعْجَبِينَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ، أَوِ الطَّوَّافَاتِ.

کبشہ بنت کعب ؓ جو ابوقتادہ کی بہو تھیں کہتی ہیں کہ انہوں نے ابوقتادہ ؓ کے وضو کے لیے پانی نکالا تو ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، ابوقتادہ ؓ نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، میں ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا: بھتیجی! تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بلی ناپاک نہیں ہے وہ گھروں میں گھومنے پھرنے والوں یا والیوں میں سے ہے ۔

. It was narrated from Kabshah bint Kab, who was married to one of the sons of Abu Qatadah, that she poured water for Abu Qatadah to perform ablution. A cat came and drank the water, and he tilted the vessel for it. She started looking at it (in surprise) and he said: "O daughter of my brother, do you find it strange? The Messenger of Allah ﷺ said: They (cats) are not impure; they are of those who go around among you."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٨ (٧٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٩ (٩٢)، سنن النسائی/الطہارة ٥٤ (٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٣ (١٣)، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٨ (٧٦٣) (صحیح )
368Sunan Ibne-Majah

بلی کے جھوٹے سے وضو کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَتَوَضَّأُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ قَدْ أَصَابَتْ مِنْهُ الْهِرَّةُ قَبْلَ ذَلِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے وضو کیا کرتے تھے اور اس سے پہلے بلی اس میں سے پی چکی ہوتی تھی۔

. It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ and I used to perform ablution from a single vessel, when the cat had drunk from it beforehand."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٧، ومصباح الزجاجة: ١٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة ٣٨ (٧٦) (صحیح) (حدیث کی سند میں حارثہ بن ابی الرجال ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٦٩ ، ٧٠ )
369Sunan Ibne-Majah

بلی کے جھوٹے سے وضو کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْهِرَّةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ لِأَنَّهَا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلی نماز کو نہیں توڑتی، اس لیے کہ وہ گھر کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے ١ ؎۔

. It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Cats do not invalidate the prayer, because they are one of the things that are useful in the house."

Notes · وضاحت
١ ؎: عبیداللہ بن عبدالمجید کی کنیت ابوبکر نہیں بلکہ ابوعلی ہے، ابوبکر ان کے بھائی ہیں (ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٤، ومصباح الزجاجة: ١٥٣) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن أبی الزناد ضعیف اور مضطرب الحدیث ہیں، لیکن سنن کبری بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے موقوفا یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥١٢ )
370Sunan Ibne-Majah

عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے جواز میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ، أَوْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ: الْمَاءُ لَا يُجْنِبُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓن میں سے کسی نے لگن سے غسل کیا، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، اور اس بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو کرنا چاہا تو وہ بولیں: اے اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "One of the wives of the Prophet ﷺ took a bath from a large vessel, then the Prophet ﷺ came and had a bath or ablution, and she said: O Messenger of Allah, I was sexually impure. He said: Water does not become impure.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنبی مرد یا عورت اگر برتن میں ہاتھ دھو کر یا ہاتھ وغیرہ ڈال دیں یا اس میں سے نکال کر استعمال کریں تو باقی پانی ناپاک نہیں ہوتا، اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل جائز ہے تو وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٥ (٦٨)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٨ (٦٥)، سنن النسائی/المیاة (٣٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٨٤، ٣٠٨، ٣٣٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٧ (٧٦٢) (صحیح )
371Sunan Ibne-Majah

عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے جواز میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَتَوَضَّأَ، أَوِ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ازواج مطہرات ؓن میں سے کسی نے غسل جنابت کیا، پھر ان کے بچے ہوئے پانی سے نبی اکرم ﷺ نے وضو یا غسل کیا۔

It was narrated from Ibn Abbas that one of the wives of the Prophet ﷺ took a bath to cleanse herself from sexual impurity, then the Prophet ﷺ performed ablution and had a bath with the water left over from her ablution."

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
372Sunan Ibne-Majah

عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے جواز میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْسِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔

It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah the wife of the Prophet ﷺ that the Prophet ﷺ performed ablution with the water left over after she had taken a bath to cleanse herself from sexual impurity.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٧١، ومصباح الزجاجة: ١٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دونوں کی متابعت موجود ہے، اس لئے کہ حاکم نے مستدرک ( ١ /١٥٩) میں اس حدیث کو محمد بن بکر سے، اور انہوں نے شعبہ سے، اور شعبہ نے سماک سے روایت کیا ہے، اور شعبہ اپنے مشائخ سے صرف صحیح احادیث ہی روایت کرتے ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری ( ١ /٣٠٠)، نیز محمد بن بکر نے شریک کی متابعت کی ہے۔
373Sunan Ibne-Majah

اس کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ.

حکم بن عمرو غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مرد کو عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Hakam bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ forbade men to perform ablution with the water left over by a woman.

Notes · وضاحت
١ ؎: مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کے جواز اور عدم جواز کے سلسلے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، لہٰذا ممانعت یا عدم جواز کی روایات کو اس پانی پر محمول کیا جائے، جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، یا ان میں وارد ممانعت نہی تنزیہی ہے، تحریمی نہیں، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے، جواز کی روایتوں کو برتن میں بچے ہوئے پانی پر محمول کیا جائے، اس صورت میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٠ (٨٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٧ (٦٤)، سنن النسائی/المیاہ ١١ (٣٤٤)، (تحفة الأشراف: ٣٤٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٣، ٥/٦٦) (صحیح )
374Sunan Ibne-Majah

اس کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلَكِنْ يَشْرَعَانِ جَمِيعًا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةْ: الصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ، وَالثَّانِي، وَهْمٌ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، نَحْوَهُ.

عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو ؓ کی ہے، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس ؓ کی وہم ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Sarjis said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade men to perform ablution with the water left over by a woman, and women to perform ablution with water left over by a man, however both (spouses) may start their ablutions at the same time."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اوپر کی حدیث ( ٣٧٣ ) صحیح ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے فرمایا: عبداللہ سرجس کی اس باب میں حدیث موقوف صحیح ہے، جس نے اسے مرفوع بیان کیا غلطی کی (سنن ترمذی: ١ / ١٩٣)۔ اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٥) (صحیح )
375Sunan Ibne-Majah

اس کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ and his wife would take a bath from one vessel, but neither of them would have a bath with the leftover water of the other."

Notes · وضاحت
١ ؎: ظاہر یہ ہے کہ غسل ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے جائز ہے، مگر نہی جو وارد ہوئی ہے تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥١، ومصباح الزجاجة: ١٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧) (ضعیف) (اس سند میں الحارث الاعور ضعیف راوی ہے )
376Sunan Ibne-Majah

مردو عورت کا ایک ہی برتن سے غسل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، نَبَّأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ and I would take a bath from a single vessel."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣١٩)، سنن النسائی/الطہارة ٥٨ (٧٢)، ١٤٤ (٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٩، ١٦٥٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢ (٢٥٠)، ١٩ (٢٦١)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٩ (٧٧)، الغسل ٨ (٤١١)، مسند احمد (٦/١٧١، ٢٦٥، ١٧٢، ٢٣٠)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٨ (٧٧٦)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٦٠٤) (صحیح )
377Sunan Ibne-Majah

مردو عورت کا ایک ہی برتن سے غسل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that his maternal aunt Maimunah said: "The Messenger of Allah ﷺ and I used to take a bath from a single vessel.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣١٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٦ (٦٢) سنن النسائی/الطہارة ١٤٦ (٢٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح )
378Sunan Ibne-Majah

مردو عورت کا ایک ہی برتن سے غسل

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاغْتَسَلَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ.

ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور میمونہ ؓ نے لگن جیسے ایک برتن سے غسل کیا جس میں آٹے کے اثرات تھے۔

It was narrated from Umm Hani that the Prophet ﷺ and Maimunah took a bath from a single vessel, a large bowl in which there were some traces of dough.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٤٩ (٢٤١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٢) (صحیح )
379Sunan Ibne-Majah

مردو عورت کا ایک ہی برتن سے غسل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓن ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔

. It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ and his wives used to take a bath from a single vessel.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧) (صحیح) (اس سند کی بوصیری نے تحسین کی ہے، اور اس میں شریک القاضی سئ الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
380Sunan Ibne-Majah

مردو عورت کا ایک ہی برتن سے غسل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَاكَانَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔

Zainab the daughter of Umm Salamah narrated from Umm Salamah that she and the Messenger of Allah ﷺ used to take a bath from a single vessel.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢١ (٣٢٢)، صحیح مسلم/الحیض ٤٩ (٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٢، ١١٦، ١٢٠٩، ١٢٤، ٢٠، ٢٤٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٨ (٧٧٧) (صحیح )