ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
It was narrated that Umm Subyah Al-Juhaniyyah said: "Often my hand would touch the hand of the Messenger of Allah ﷺ while performing ablution from a single vessel."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٩ (٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٦، ٣٦٧) (حسن صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے لیل ۃ الجن (جنوں سے ملاقات والی رات) میں فرمایا: کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ ، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے ، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا ١ ؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that on the night of the jinn, the Messenger of Allah ﷺ said to him: "Do you have water for ablution?" He said: "No, I have nothing but some Nabidh in a vessel." He said: "Good dates and pure water. (i.e., there is no harm from the mixing of the two)." So he performed ablution with it. This is the narration of Waki.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اور بعد کی حدیث تمام محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے، اور بقول امام طحاوی قابل استدلال نہیں، خود عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ وہ لیل ۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھے، لہذا نبیذ سے وضو درست نہیں، جمہور کا مذہب یہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٢ (٨٤)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٥ (٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٢، ٤٤٩، ٤٥٠، ٤٥٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں أبوزید مجہول راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعود ؓ سے لیل ۃ الجن میں فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، چھاگل (مشک) میں نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے، میرے اوپر ڈالو ، عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: میں نے انڈیلا اور آپ ﷺ نے وضو کیا ١ ؎۔
. It was narrated from Abdullah bin Abbas that on the Night of the jinn the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Masud: "Do you have water?" He said: "No, only some Nabidh in a large water skin." The Messenger of Allah ﷺ said: "Good dates and pure water," (i.e., there is no harm from the mixing of the two) pour it for me." He said: "So I poured it for him and he performed ablution with it."
Notes · وضاحت
١ ؎: نبیذ وہ پانی ہے جس میں کھجور ڈال کر رات بھر بھگو یا جائے، جس کی وجہ سے پانی قدرے میٹھا ہوجائے، اور اس کا رنگ بھی بدل جائے، وہ نبیذ کہلاتا ہے۔ لیل ۃ الجن: وہ رات ہے جس میں نبی اکرم ﷺ جنوں کو ہدایت کے لئے مکہ سے باہر تشریف لے گئے تھے، اور ان سے ملاقات کی، اور ان کو دعوت اسلام دی، اور وہ مشرف بہ اسلام ہوئے، رسول اللہ ﷺ کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا، اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ ابن مسعود ؓ نہیں تھے جیسا کہ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کے اندر سورة احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود ؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا، اس موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ زبیر بن العوام ؓ تھے، چھٹا واقعہ آپ ﷺ کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ بلال بن حارث ؓ تھے (ملاحظہ ہو: الکوکب الدری شرح الترمذی)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤١٦، ومصباح الزجاجة: ١٥٨) (ضعیف) (سند میں حنش ابن لہیعہ دونوں ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ١ ؎۔
. It was narrated that Mughirah bin Abu Burdah, who was from the tribe of Banu Abdud-Dar, said that he heard Abu Hurairah (RA) say: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, we travel by sea and carry a small amount of water with us. If we use it for ablution, we will become thirsty. Can we perform ablution with seawater?’ The Messenger of Allah ﷺ said: Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible, (i.e. the fish found dead in the sea)."
Notes · وضاحت
١ ؎: سمندر کا مردار حلال ہے: اس سے مراد حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مرگئے اور سمندر نے ان کو ساحل پر ڈال دیا، اسی کو آیت أحل لکم صيد البحر وطعامه (سورة المائدة: 96) میں طَعام سے تعبیر کیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ ہے جو خشکی پر زندہ نہ رہ سکے جیسے مچھلی، تو مچھلی تمام اقسام کی حلال ہیں، رہے دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں، اگر کسی جانور کا نص شرعی سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا کھانا مروی ہے، اور وہ ان کے زمانے میں موجود تھا، تو اس کے بارے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کرلیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔
It was narrated that Ibn Firasi said: "I was fishing and I had a vessel with me in which I kept water, and I used seawater for ablution. I mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٩) (صحیح) (مسلم بن مخشی نے فراسی سے نہیں سنا، ابن الفراسی سے سنا ہے، اور ابن الفراسی صحابی نہیں ہیں، اور دراصل یہ حدیث ابن الفراسی نے اپنے باب فراسی سے روایت کی ہے، جو لگتا ہے کہ اس طریق سے ساقط ہوگئے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ was asked about seawater, and he said: "Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٦٠) (حسن صحیح )
اس سند سے بھی جابر ؓ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑگئی، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔
. It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Prophet ﷺ went out to relieve himself and when he came back, I met him with a water skin and poured water for him. He washed his hands and his face, then he Went to wash his forearms but his garment was too tight, so he brought his arms out from underneath his garment and washed them, then he wiped over his leather socks, then he led us in prayer.
ربیع بنت معوذ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ڈالو ١ ؎، میں نے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔
. It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Prophet ﷺ went out to relieve himself and when he came back, I met him with a water skin and poured water for him. He washed his hands and his face, then he Went to wash his forearms but his garment was too tight, so he brought his arms out from underneath his garment and washed them, then he wiped over his leather socks, then he led us in prayer.……..… Some lines missing…… and he said: Pour it: so I poured it and he washed his face and forearms, then he took fresh water and wiped his head, front and back, and then he washed his feet. He washed each part three times."
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٢٧)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٥ (٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٤ (٧١٧) (حسن) (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے مَائً جَدِيداً کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١١٧ - ١٢٢ )
رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی لونڈی ام عیاش ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔
Umm Ayyash, the slave woman of Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah, said: "I used to help the Messenger of Allah ﷺ perform ablution, when I was standing and he was sitting."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٦٢) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الکریم بن روح ضعیف، اور روح بن عنبسہ مجہول راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ١ ؎۔
Saeed bin Musayyab and Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated that Abu Hurairah (RA) used to say: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night.”
Notes · وضاحت
١ ؎: دن کو سو کر اٹھے جب بھی یہی حکم ہے کہ دھوئے بغیر ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، اور یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی ہاتھ دھلنا فرض نہیں ہے، بلکہ اچھا اور مستحب ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے ۔
It was narrated from Salim from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has washed it."
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا ۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you gets up from sleep and wants to perform ablution, he should not put his hand into the vessel he used for ablution until he has washed it, because he does not know where his hand spent the night or where he put it.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٦٤) (منکر) (اس حدیث میںولا على ما وضعها کا لفظ منکر ہے، اور صحیح مسلم میں یہ حدیث اس کے بغیر موجود ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٩٣ )
حارث کہتے ہیں کہ علی ؓ نے پانی منگایا اور برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Harith said: " Ali called for water, and he washed his hands before putting them in the vessel, then he said: This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٢ ، ومصباح الزجاجة: ١٦٥ ) (صحیح) سند میں حارث ضعیف ہے، اور ابواسحاق ثقہ لیکن مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٩٤، ٩٧، ١٠٠، ١٠١، ١٠٦، ١٠٩، ١١١ )
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو وضو سے پہلے بسم اللہ نہ کہے اس کا وضو نہیں ۔
. It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before doing it).
سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔
. It was narrated that Abu Saeed bin Zaid said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it)."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٢٠ (٢٥)، دون قو لہ: ” لا صلاة لمن لا وضوء لہ “ (تحفة الأشراف: ٤٤٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٤٨ (١٠١)، مسند احمد (٤/٧٠، ٥/٣٨١، ٦/٣٨٢) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔
It was narrated that Abu-Hurairahh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٨ (١٠١)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٤١٨) (حسن )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جو وضو کے وقت بسم اللہ نہ پڑھے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو نبی اکرم ﷺ پہ درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو انصار سے محبت نہ کرے ١ ؎۔
. It was narrated by Abdul- Muhaimin bin Abbas bin Sahl bin Sad As-Saidi, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: "There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it). There is no prayer for one who does not send blessing, (SaIat) upon the Prophet, and there is no prayer for one who does not love the Ansar."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٦٨) (منکر) (سند میں عبدالمہیمن ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف اور منکر ہے، پہلا ٹکڑا شواہد کی بناء پر ثابت ہے، لیکن دوسرا ٹکڑا: لا صلاة لمن لا يصلي ۔۔۔ الخ منکر ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٦٦ ، ٤٨٠٦ )
اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔