Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 121 of 218

2398Sunan Ibne-Majah

عاریت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: عاریت (مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور جو جانور دودھ پینے کے لیے دیا جائے وہ لوٹا دیا جائے ۔

Shurahbil bin Muslim said: I heard Abu Umamah say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Borrowed items are to be returned and an animal borrowed for milking is to be returned.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٤، ومصباح الزجاجة: ٨٤٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٦٥)، (الشطر الأول فقط) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عیاش کی وجہ سے ضعف ہے )
2399Sunan Ibne-Majah

عاریت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: عاریت (منگنی لی ہوئی چیز، مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور دودھ پینے کے لیے دئیے گئے جانور کو واپس کردیا جائے ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Borrowed items are to be returned and an animal borrowed for milking is to be returned.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤١) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٥١٦ )
2400Sunan Ibne-Majah

عاریت کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے ۔

It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand that takes is responsible for what it has taken until it returns it."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦١)، سنن الترمذی/البیوع ٣٩ (١٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ١٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٦ (٢٦٣٨) (ضعیف) (سند میں حسن بصری ہیں، جنہوں نے سمرہ ؓ سے یہ حدیث نہیں سنی ہے، کیونکہ انہوں نے صرف سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ سنی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٥١٦ )۔
2401Sunan Ibne-Majah

امانت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُودِعَ وَدِيعَةً فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever is entrusted with an item for safekeeping, is not responsible for it (so long as he is not negligent)."

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر وہ بغیر اس کی کسی کوتاہی یا خیانت کے برباد ہوجائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ٨٤٢) (حسن) (سند میں ایوب بن سوید اور مثنی بن صباح ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣١٥ ، الإرواء: ١٥٤٧ ، و التعلیق علی الروضہ الندیہ )
2402Sunan Ibne-Majah

امین مال امانت سے تجارت کرے اور اس کو نفع ہوجائے تو

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ. قَالَ: فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ لِمَازَةُ بْنِ زَبَّارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَدِمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عروہ بارقی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو اس سے انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، راوی کہتے ہیں: (اس دعا کی برکت سے) ان (عروۃ) کا حال یہ ہوگیا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے۔

It was narrated from Urwah Al-Bariqi that the Prophet ﷺ gave rum a Dinar to buy him a sheep, and he bought two sheep for rum, then sold one of them for a Dinar, and brought a Dinar and a sheep to the Prophet. The Messenger of Allah ﷺ prayed for blessing for him. He (one of the narrators) said: "If he had bought dust, he would have made a profit from it." (Another chain) from, Urwah bin Abu jad Al-Bariqi who said: "Some trade arrived, so the Prophet ﷺ gave me a Dinar." And he mentioned similarly.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٨ (٣٦٤٠، ٣٦٤١، ٣٦٤٢)، سنن ابی داود/البیوع ٢٨ (٣٣٨٤، ٣٣٨٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦) (صحیح ) عروہ بن ابی الجعد بارقی ؓ کہتے ہیں کہ باہر سے بکنے کے لیے جانور آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے (ایک جانور خریدنے کے لیے) مجھے ایک دینار دیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ انظر ماقبلہ (حسن) (ملاحظہ ہو: الإ رواء: ٥/١٢٩ )
2403Sunan Ibne-Majah

حوالہ کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "(Wrongdoing) is when a rich man takes a long time to repay a debt, and if one of you is referred to a rich man (to collect a debt), he should accept that referral."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٩ (٤٦٩٥)، ١٠١ (٤٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحوالہ ١ (٢٢٨٨)، ٢ (٢٢٨٩)، الإستقراض ١٢ (٢٤٠٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (١٥٦٤)، سنن ابی داود/البیوع ١٠ (٣٣٤٥)، سنن الترمذی/البیوع ٦٨ (١٣٠٨)، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٤، ٢٦٠، ٣١٥، ٣٧٧، ٣٨٠، ٤٦٣، ٤٦٤، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح )
2404Sunan Ibne-Majah

حوالہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a rich man takes too long to repay a debt, this is wrongdoing, and if the debt is transferred to a rich man, you should accept it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مرجائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ٨٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧١) (صحیح) (سند میں یونس بن عبید اور نافع کے مابین انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے )
2405Sunan Ibne-Majah

ضمانت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الزَّعِيمُ غَارِمٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: (قرض کا) ضامن و کفیل (اس کی ادائیگی کا) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے ۔

Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani said: I heard Abu Umamah Al-Bahili say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The guarantor is responsible and the debt must be repaid.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٩ (١٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٤) (صحیح )
2406Sunan Ibne-Majah

ضمانت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَجَرَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَسْتَنْظِرُهُ؟، فَقَالَ: شَهْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا أَحْمِلُ لَهُ، فَجَاءَهُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَاقَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ. قَالَ: لَا خَيْرَ فِيهَاوَقَضَاهَا عَنْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص ایک قرض دار کے پیچھے لگا رہا جس پر اس کا دس دینار قرض تھا، وہ کہہ رہا تھا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تجھے دوں، اور قرض خواہ کہہ رہا تھا: جب تک تم میرا قرض نہیں ادا کرو گے یا کوئی ضامن نہیں لاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا، چناچہ وہ اسے کھینچ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا، آپ ﷺ نے قرض خواہ سے پوچھا: تم اس کو کتنی مہلت دے سکتے ہو ؟ اس نے کہا: ایک مہینہ کی، آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں اس کا ضامن ہوتا ہوں ، پھر قرض دار نبی اکرم ﷺ کے دئیے ہوئے مقررہ وقت پر اپنا قرضہ لے کر آیا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تجھے یہ کہاں سے ملا ؟ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں بہتری نہیں ، اور آپ ﷺ نے اسے اپنی جانب سے ادا کردیا۔

It was narrated from Ibn Abbas that during the time of the Messenger of Allah, a man pursued a debtor who owed him ten Dinar, and he said: "I do not have anything to give you." He (the creditor) said: "No, by Allah, I will not leave you until you pay the debt or you bring me a guarantor." Then he dragged him to the Prophet ﷺ and the Prophet ﷺ said to him: "How long will you wait?" He said: "One month." The Messenger of Allah ﷺ said: "I will be a guarantor for him." Then he came to him at the time the Prophet ﷺ had said, and the Prophet ﷺ said to him: "Where did you get this from?" He said: "From a mine." He said: "There is nothing good in it," and he paid the debt for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٢ (٣٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٨) (صحیح )
2407Sunan Ibne-Majah

ضمانت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِالْوَفَاءِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ وَكَانَ الَّذِي عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) اس لیے کہ وہ قرض دار ہے ، ابوقتادہ ؓ نے عرض کیا: میں اس کے قرض کی ضمانت لیتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پورا ادا کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا: جی ہاں، پورا ادا کروں گا، اس پر اٹھارہ یا انیس درہم قرض تھے ١ ؎۔

It was narrated that Uthman bin Abdullah bin Mawhab said: "I heard Abdullah bin Abu Qatadah narrate from his father that a corpse was brought, to the Prophet ﷺ for him to offer the funeral prayer, and he said: Pray for your companion, for he, owes a debt: Abu Qatadah said: I will stand surety for him: The Prophet ﷺ said: In full? He said: In full: And the debt he owed was eighteen or nineteen Dirham.”

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ قرض بری بلا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس کی وجہ سے نماز جنازہ پڑھنے میں تامل کیا، بعضوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے تنبیہ کے لئے ایسا کیا تاکہ دوسرے لوگ قرض کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں، قرض وہ بلا ہے کہ شہید کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں پر قرض معاف نہیں ہوتا، وہ حقوق العباد ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کو جائز ہے کہ بعض مردوں پر جن سے گناہ سرزد ہوا ہو نماز جنازہ نہ پڑھے، دوسرے لوگوں کو ڈرانے کے لئے، لیکن دوسرے لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ میت کی طرف سے ضمانت درست ہے اگرچہ اس نے قرض کے موافق مال نہ چھوڑا ہو، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں: اگر قرض کے موافق اس نے مال نہ چھوڑا ہو تو ضمانت درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٦٩)، سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٢)، البیوع ١٠٠ (٤٦٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠٢، ٣١١)، سنن الدارمی/البیوع ٥٣ (٢٦٣٥) (صحیح )
2408Sunan Ibne-Majah

جوقرض اس نیت سے لے کہ (جلد) ادا کروں گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ، قَالَت: كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ١ ؎۔

It was narrated that the Mother of the Believers Maimunah used to take out loans frequently. and some of her family said: "Do not do that." And they denounced her for that. She said: "No, I heard my Prophet ﷺ and my close friend say: There is no Muslim who takes out a loan and Allah knows that he intends to pay it back, but Allah will pay it back for him in this world."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٧ (٤٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٧٧) (صحیح) (حدیث میں فِي الدُّنْيَا کا لفظ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٤٩٦ )۔
2409Sunan Ibne-Majah

جوقرض اس نیت سے لے کہ (جلد) ادا کروں گا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ، اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب کہ وہ قرض ایسی چیز کے لیے نہ ہو جس کو اللہ ناپسند کرتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر ؓ اپنے خازن سے کہتے کہ جاؤ میرے لیے قرض لے کر آؤ، اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی رات گزاروں اور اللہ تعالیٰ میرے ساتھ نہ ہو۔

It was narrated from, Abdullah bin Jafar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah will be with the borrower until he pays off his debt, so long as it (the loan) is not for something that Allah dislikes." He (the narrator) said: " Abdullah bin Jafar used to say to his store keeper (i.e., the one entrusted with his wealth): Go and take out a loan for me, for I would hate to spend the night without Allah being with me, after I heard that from the Messenger of Allah"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٨، ومصباح الزجاجة: ٨٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٥٥ (٢٦٣٧) (صحیح )
2410Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ ادا نہ کرنے کی نیت سے لے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا صُهَيْبُ الْخَيْرِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ يَدِينُ دَيْنًا وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

صہیب الخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا ۔

Suhaib Al-Khair narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any man who takes out a loan, having resolved not to pay it back, will meet Allah as a thief."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٥) (حسن صحیح ) اس سند سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٠، ومصباح الزجاجة: ٨٤٦ )
2411Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ ادا نہ کرنے کی نیت سے لے۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: Whoever takes peoples wealth with the intention of destroying it, Allah will destroy him."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض وأداء الدیون ٢ (٢٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦١، ٤١٧) (صحیح )
2412Sunan Ibne-Majah

قرض کے بارے میں شدید وعید

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْمَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور (گھمنڈ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

It was narrated from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Anyone whose soul leaves his body and he is free of three things, will enter Paradise: Arrogance, stealing from the spoils of war, and debt."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢١ (١٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢١١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٨١، ٢٨٢)، سنن الدارمی/البیوع ٥٢ (٢٦٣٤) (صحیح )
2413Sunan Ibne-Majah

قرض کے بارے میں شدید وعید

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کردی جائے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The soul of the believer is attached to his debt until it is paid off."

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو آرام اس وقت تک نہ ملے گا، یا وہ جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ جب تک کہ وہ قرض ادا نہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٧٧ (١٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٠، ٤٧٥)، سنن الدارمی/البیوع ٥٢ (٢٦٣٣) (صحیح )
2414Sunan Ibne-Majah

قرض کے بارے میں شدید وعید

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا، عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مرجائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی دینار یا درہم ہو تو (قیامت میں) جہاں دینار اور درہم نہیں ہوگا، اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies owing a Dinar or a Dirham, it will be paid back from his good deeds, because then there will be no Dinar Or Dirham."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٧، ومصباح الزجاجة: ٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٢) (صحیح) (یہ سند حسن ہے لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
2415Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ یا بے سہارا بال بچے چھوڑے تو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ: هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟، فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ. وَإِنْ قَالُوا: لَا، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْفَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ ﷺ پوچھتے: کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ ﷺ فرماتے: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that if a believer died at the lime of the Messenger of Allah ﷺ and he had debts, the Messenger of Allah ﷺ would ask: "Did he leave anything with which to pay off his debt?" If they said yes, then he would offer the funeral prayer for him, but if they said no, then he would say: "Pray for your companion." When Allah granted His Prophet ﷺ the conquests, he said: "I am nearer to the believers than their own selves. Whoever dies owing a debt I will pay it off for him, and whoever, leaves behind wealth, it will be for his heirs.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اسلام کے ابتدائی عہد میں جب مال و دولت کی کمی تھی تو جب کوئی مقروض مرتا نبی کریم ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے، صحابہ کرام ؓ کو فرماتے وہ پڑھ لیتے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات دیں، اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپ نے حکم دیا کہ اب جو کوئی مسلمان مقروض مرے اس کا قرضہ میں ادا کروں گا، اسی طرح بےسہارا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کی پرورش کا ذمہ بھی میرے سر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفرائض ٤ (١٦١٩)، سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٣١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة ٥ (٢٢٩٨)، النفقات ١٥ (٥٣٧١)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٧٠)، حم (٢/٢٩٠، ٤٥٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٤ (٢٦٣٦) (صحیح )
2416Sunan Ibne-Majah

جوقرضہ یا بے سہارا بال بچے چھوڑے تو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said "Whoever leaves behind money, it is for his heirs and whoever leaves behind a debt or children, I am responsible for them and I am nearer to the believers.”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج ١٥ (٢٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٦، ٣٧١)، وھوطرف حدیث تقدم برقم: ٤٥) (صحیح )
2417Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said. Whoever is easy with (a debtor) who is in difficulty, Allah will be easy with him in this world and the Hereafter."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٦٧ (١٣٠٦) (صحیح )